Editorial

معیشت ،مہنگائی اور اسحق ڈار

 

وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے استعفیٰ پیش کردیا ہےجبکہ سینیٹر اسحاق ڈار کو وزیرِ خزانہ نامزد کردیا گیا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ نون کے قائد محمد نوازشریف کی زیرصدارت لندن میں اہم پارٹی اجلاس ہوا،جس میں وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے اپنا استعفیٰ قائد محمد نوازشریف کو پیش کیااور قیادت نے سینیٹر اسحاق ڈار کو وزیر خزانہ کے لیے نامزد کیا۔اجلاس میں موقف اختیار کیاگیاکہ سابق حکومت کی لگائی معاشی تباہی کی آگ موجودہ حکومت کوبجھانا پڑی ہے، یوں مفتاح اسماعیل نے استعفیٰ دے کر اسحاق ڈارکے لیے جگہ خالی کی ہے تاکہ وہ پاکستان کی گرتی ہوئی معیشت کو بحال کرنے کی راہ ہموار کریں۔ذرائع ابلاغ کے مطابق مفتاح اسماعیل حکومت کی اقتصادی ٹیم کا حصہ رہیں گے۔نامزد وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے وطن واپسی سےقبل کہا ہے کہ پاکستان کو دوبارہ اسی بلندی پر لے جائیں گے جس پر نواز شریف کے دور حکومت میں تھا۔ہم دنیا کی 18 ویں معیشت بننے جارہے تھے، خدا مجھے توفیق دے تو پاکستان کو دوبارہ اسی بلندی پر لے جائیں۔نواز شریف کے دور میں کم شرح سود تھی، شرح نمو بلند تھی، روپیہ مستحکم تھا، ہماری کوشش ہوگی کہ ہم معیشت کو نیچے سے اوپر لے جائیں، جس کے لیے پہلے گرتی ہوئی اکانومی کو روکیں گے پھر اس کی سمت تبدیل کریں گے۔ اتحادی حکومت اور دراصل مسلم لیگ نون کی قیادت نے سینیٹر اسحق ڈار کو مفتاح اسماعیل کی جگہ اب میدان میں اُتارا ہے اور سینیٹر اسحق ڈار بھی پراُمید ہیں کہ وہ معیشت کو نیچے سے اوپر لے کر جائیں گے لیکن کیا موجودہ تمام معاشی مسائل کا حل اُن کے پاس ہے یا عام انتخابات سے قبل وہ ایسے اقدامات کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے جن کے نتیجے میں نہ صرف معیشت بہتراور نیچے سے اوپر جائے گی بلکہ مہنگائی کم اور لوگ خوش حال ہوجائیں گے ؟ کیونکہ بازگشت یہی رہی ہے کہ مفتاح اسماعیل کو بطور وزیرخزانہ اسحق ڈار کی ہمیشہ رہنمائی اور مشاورت میسر رہی ہے۔ گزشتہ روز اوپن مارکیٹ میں ڈالر 6 روپے 90 پیسے سستا ہواتو دوسری جانب انٹربینک میں ڈالر 2 روپے 63 پیسےکمی کے بعد 237 روپے 2 پیسے ہوگیا۔پاکستان سٹاک ایکسچینج میں بھی کاروبار کا مثبت دن رہا اور 100 انڈیکس 531 پوائنٹس اضافے سے 41 ہزار 151 پر بند ہوا ،کاروباری دن میں 100 انڈیکس 576 پوائنٹس کے بینڈ میں رہا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سینیٹر اسحق ڈار کو بطوروزیر خزانہ اِس بار صورت حال ماضی جیسی نہیں ملے گی کیونکہ ماہر معیشت ہونے کے باوجود طویل عرصے کے بعد قومی خزانے کا اہم قلمدان سنبھال رہے ہیں۔ اگرچہ ڈالر کی قیمت میں معمولی کمی اور سٹاک مارکیٹ میں معمولی تیزی کو اسحق ڈار کی وطن واپسی سے جوڑا جارہا ہے لیکن کیا ڈالر کی قیمت وہاں تک واپس لائی جاسکتی ہے جتنی پچھلی حکومت یا پھر خود اُن
کے اپنے دور میں تھی، یقیناً ایسا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی نظر آتا ہے۔ آئی ایم ایف سے فنڈز ریلیف ہونے کی خبرآنے کے ساتھ ہی ڈالر کی قیمت میں معمولی کمی اور سٹاک مارکیٹ میں تیزی دیکھی گئی تھی لیکن چند روز بعد ہی پھر وہی صورت حال تھی۔ بطور وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل انتہائی مشکل فیصلے تو کرچکے ہیں اور اُن فیصلوں پر اُنہیں پارٹی قیادت اور اتحادیوں کی طرف سے تنقید کا سامنا بھی رہا ہے لیکن وہ اُن فیصلوں کے نتیجے میں آئی ایم ایف سے فنڈز حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں اور مستقبل قریب میں کہیں اور سے فنڈز ملنے کا دور تک امکان نہیں اِس لیے موجودہ معاشی بحران میں جہاں معیشت کومختصر وقت میں سنبھالا دینا ہے وہیں عوام کو بھی ریلیف دینا ہےکیونکہ موجودہ اتحادی حکومت نے معیشت بچانے اور عوام کو خوشحال کرنے کا نعرہ لگاکر ہی سابقہ حکومت کو اقتدار سے ہٹایا تھا لیکن تب سے حال تک صرف یہی کہا جارہا ہے کہ ملک کو ڈیفالٹ سے بچالیاگیا ہے لیکن اس کے عوض ملک میں مہنگائی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ پٹرول، بجلی، گیس اور اشیائے خورونوش سمیت کوئی ایک چیز ایسی نہیں جس کی قیمت دُگنا یا اُس سے زیادہ نہ بڑھی ہو اور بعض فیصلوں میں اتحادی جماعتیں بالخصوص مسلم لیگ نون کی قیادت بھی ناخوش نظر آئی ہے۔ سینیٹر اسحق ڈار کو بطور وزیر خزانہ کون کونسے چیلنجز درپیش ہوں گے تو اُن میں سرفہرست ہم مہنگائی اور مہنگے یوٹیلٹی سمجھتے ہیں کیونکہ عوام کی اکثریت شدید مہنگائی کی لپیٹ میں ہے، ایک طرف ڈالر کی قیمت بڑھنے سے درآمدات مہنگی ہورہی ہیں اور ڈالر باہر جارہا ہے جو ہم نے ناک سے لکیریں نکالنے کے بعد حاصل کئے تھے تو سیلاب کے باعث آنے والے وقت میں ڈالرز مزید باہر جاتے نظر آتے ہیں کیونکہ ایک طرف ٹیکسٹائل انڈسٹری مہنگی بجلی اور کپاس کی وجہ سے تالہ بندی کے قریب ہے تو دوسری طرف سیلاب نے رہی سہی کسر نکال دی ہے اور یقیناً ہمیں درآمدی گندم پر ہی انحصار کرنا پڑے گا، پھر دوسری اجناس اورمعاشی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی ہمیں ڈالر خرچ کرنا پڑیں گے اور ماہرین معیشت خدشہ ظاہر کررہے ہیں کہ آنے والا دور معیشت اور مہنگائی کے لحاظ سے انتہائی سخت ہوگاکیونکہ تب ہمارے ہاتھ ، پلے کچھ نہیں ہوگا۔پھر آئی ایم ایف نے ہم پر کڑی نظر رکھی ہوئی ہے اور کسی بھی طرف سے عوام کو ریلیف دینے کے لیے قطعی تیار نظر آتا تو دوسری طرف دوسری طرف سٹیٹ بینک بھی اب آزاد ہے ، یوں شاید ماضی کی طرح کوئی جادو کی چھڑی کام نہ کرسکے، لیکن موجودہ حکومت بالخصوص بطور وزیرخزانہ اسحق ڈار کے لیے بڑا چیلنج ہوگا کہ وہ معیشت کو اوپر لیجانے کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی ریلیف دیں جن پر معاشی بوجھ لاد کر ڈیفالٹ کے خطرے سے نکلا گیا ہے ۔ اس لیے امید کی جاسکتی ہے کہ اسحق ڈار موجودہ معاشی بحران میں اپنی قیادت اور عوام کو مایوس نہیں کریں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button