Editorial

سیلاب سے تباہی ، امریکہ تعاون کیلئے تیار

 

پاکستان اور امریکا نے موسمیاتی تبدیلی سے متعلق تعاون پر اتفاق کیا ہے ، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف اورامریکی صدرجوبائیڈن کے نمائندہ خصوصی برائے موسمیاتی تبدیلی جان کیری کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں موسمیاتی تبدیلی کے مسئلہ سے نمٹنے اور توانائی کے شعبہ میں مذاکرات آگے بڑھانےپر اتفاق کیاگیاہے اور وزیراعظم پاکستان نے جان کیری کو سیلاب سے ہونے والی تباہی اور اِس کےنتیجے میں درپیش نئے اور مشکل چیلنجز سے متعلق بتایا۔دوسری طرف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 77ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا کہ دنیا میں مسائل بڑھ رہے ہیں، افریقہ میں خشک سالی کا سامنا ہے جبکہ پاکستان کا بڑا حصہ سیلاب میں ڈوبا ہوا ہے ، پاکستان کو اس وقت دنیا کی مدد کی ضرورت ہے۔ماحولیات کی تبدیلی کی قیمت انسانیت کو چکانا پڑ رہی ہے۔ امریکی صدر جوبائیڈن نے موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں دنیا بھرمیں پیدا ہونے والے مسائل اور ان میں اضافے پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو اس وقت دنیا کی مدد کی ضرورت ہے اور ماحولیات کی تبدیلی کی قیمت انسانیت کو چکانا پڑ رہی ہے۔ تو دوسری طرف اُن کے نمائندے نے وزیراعظم پاکستان کے ساتھ ملاقات میں موسمیاتی تبدیلی کے مسئلہ سے نمٹنے اور توانائی کے شعبہ میں مذاکرات آگے بڑھانے پر اتفاق کیاہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں موسمیاتی تبدیلی اور اِس کے نتیجے میں پاکستان پر مسلسل بارشوں اور سیلاب کی شکل میں آنے والی قیامت اور ہونے والی تباہی پر امریکی صدر جو بائیڈن کا بات کرنا اور امریکی صدر کے نمائندہ خصوصی جان کیری کا موسمیاتی تبدیلی کے مسئلہ سے نمٹنے اور توانائی کے شعبہ میں مذاکرات آگے بڑھانے پر اتفاق کرنا خوش آئند پیش رفت ہے پس ضرورت ہے کہ اِن تینوں ہی معاملات کو مذاکرات کی بجائے عمل کرنے کے مراحل میں لایا جائے تو زیادہ بہتر ہے، کیونکہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے پاکستان جس تباہی سے دوچار ہے اِس کی نظیر ماضی میں نہیں ملتی ، موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث تباہ کن سیلاب سے پاکستان کو شدید نقصان پہنچا ہے، پاکستان کو بدترین قدتی آفت کا سامنا ہے، تعمیر نو اور بحالی کیلئے عالمی برادری سے مسلسل تعاون کی ضرورت ہے ، اِس پر خوش آئند ہے کہ امریکی نمائندہ خصوصی جان کیری نے پاکستان میں انفراسٹرکچر کی تعمیر نو اور دیگر نوعیت کی مدد کے لیے رضامندی ظاہر کی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اِس وقت پاکستان جن حالات سے دوچار ہے،اِن حالات میں فی الفور عملی اقدامات کیے جانے چاہئیں تاکہ خدانخواستہ انسانی سانحہ نہ ہو۔ سیلاب سے متاثرہ افراد عارضی کیمپوں میں موجود ہیں اور
موسم سرما کی آمد آمد ہے، لہٰذا انہیں عارضی کیمپوں سے نکال کر اِن کے گھروں میں منتقل کرنا ضروری ہے۔ تینوں صوبوں میں سیلاب سے انفراسٹرکچر تباہ و برباد ہوچکا ہے، ہر عمارت ملیامیٹ ہوچکی ہے۔ ماسوائے زمین اور کیچڑ کے ، کچھ نہیں اور پھر چرند و پرند کی باقیات اور گندگی سے متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض پھوٹ چکے ہیں لہٰذا اِس وقت مزید انتظار کرنے کی بجائے عالمی برادری کو پہل کرتے ہوئے متاثرین کی بحالی کے لیے آگے آنا چاہیے اور یہی قرین انصاف ہے کہ ماحولیاتی آلودگی پیدا کرنے والے ممالک اپنی ذمہ داری کا ادراک کرتے ہوئے فوراً مدد کو پہنچیں۔ وزیراعظم پاکستان نے ایک روز قبل اپنے ٹویٹ میں کہا تھا کہ وہ عالمی برادری کے سامنے پاکستان کا مقدمہ پیش کریں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ فضائی آلودگی کے نتیجے میں موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے جن حالات سے پاکستان دوچار ہے ، عالمی برادری کی طرف سے اِس ضمن میں فوری پہل کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے خطے میں جو ممالک فضائی آلودگی پیدا کرنے کا سبب بن رہے ہیں اُن میں بھارت سب سے نمایاں ہے اور یہی وجہ ہے کہ پورے خطے میں فضائی آلودگی کی وجہ سے نہ صرف انسانوں کی اوسط عمر کم ہورہی ہے بلکہ جنگلی حیات کو بھی شدید خطرات لاحق ہیں۔ ایک طرف بھارت جنوبی ایشیا میں فضائی آلودگی پیدا کرنے میں سرفہرست ہے تو دوسری طرف وہ آلودگی کو ختم کرنے کے لیے قطعی تیار نہیں اور نہ ہی بھارت کی جانب سے آلودگی کے خاتمے کے لیے ایسے عملی اقدامات سامنے آرہے ہیں یہی وجہ ہے کہ بھارت دہشت گردی پھیلانے کے بعد ماحول کو آلودہ کرکے خطے میں تباہی پھیلارہا ہے اور اِس کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے متاثرہ ممالک میں پاکستان سرفہرست ہے۔ امریکی صدر جوبائیڈن نے اپنے خطاب میں عالمی برادری کو یہ باور کرایا ہے کہ پاکستان کو موجودہ حالات میں فوری امداد کی ضرورت ہے، قبل ازیں اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری انتونیو گوتریس بھی پاکستان میں تباہی کے مناظر دیکھ کر کہہ چکے ہیں کہ فضائی آلودگی پیدا کرنے والے ممالک کی غفلت کی سزا پاکستان کو بدترین سیلاب اور اِس کے نتیجے میں ہونےوالی تباہی کی صورت میں بھگتنا پڑ رہی ہے۔ امریکہ کی جانب سے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں انفراسٹرکچر سمیت دیگر معاملات میں تعاون کی پیشکش کی گئی ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ دیگر ممالک کو بھی موجودہ حالات میں آگے بڑھ کر دکھی انسانیت کی مدد کرنی چاہیے جو بے قصور لیکن ترقی یافتہ ممالک کی ترقی کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں نہ صرف متاثرین کی فوری بحالی کے لیے عالمی برادری عملی اقدامات کا آغاز کرے تاکہ سردی کے موسم سے قبل لوگ دوبارہ اپنے علاقوں میں آباد ہو سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ فضائی آلودگی پیدا کرنے والے ممالک کوبھی پابند کیا جائے کہ آلودگی کے خاتمے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کارروائی کا آغازکریں اور آلودگی سے متاثر ہونے والے تمام ممالک جن میں پاکستان سرفہرست ہے، اِس عفریت سے نمٹنے کے لیے بھرپور وسائل اور مدد فراہم کریں تاکہ بارشوں، سیلاب، غذائی بحران اور ایسے چیلنجز سے بخوبی نمٹا جاسکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button