ColumnRoshan Lal

ملکہ برطانیہ کی رحلت .. روشن لعل

روشن لعل

تاج برطانیہ کو 25,782دنوں تک (72 سال 7 ماہ) اپنے سر پر سجانے والی ملکہ الزبتھ دوم کی رحلت پر راقم کے جذبات قطعاً ایسے نہیں ہیں کہ جن کے اظہار کیلئے مندرجہ ذیل قسم کے اشعارکا سہارا لینا پڑ جائے:
ماتم میں آرہے ہیں یہ ساماں کیے ہوئے
داغ جگر کو شمع شبستاں کیے ہوئے
برطانیہ تو آج گلے مل کے ہم سے رو
سامان بحر ریزی طوفاں کیے ہوئے
ملکہ برطانیہ کی وفات پر جذبات چاہے غم آلو د نہیں ہوئے مگر ایسا خاص احساس ضرور پیدا ہوا جس نے جی کو زیرنظر تحریر لکھنے پر آمادہ کیا۔اس احساس کے سبب ذہن میں اہم سوال پیدا ہوا کہ برطانوی عوام کی جمہوریت پسندی نہ صرف ہر قسم کے شک و شبہ سے پاک بلکہ اپنی مثال آپ بھی سمجھی جاتی ہے ، اس قسم کی جمہوریت پسندی کے باوجود وہاں کے عوام نے جمہوری عمل کے تحت منتخب کیے گئے وزیر اعظم ونسٹن چرچل کی وفات پرانہیں جتنی بڑی تعداد میں خراج تحسین پیش کیا تھا آخر کیوں اس سے کہیں بڑھ کر اس ملکہ کیلئے عقیدت کا اظہار کیا جو اپنے حسب نسب کی وجہ سے تحت پر براجمان ہوئی ۔ یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ ملکہ برطانیہ کے انتقال سے پہلے 1965 میں وفات پانے والے سا بق برطانوی وزیر اعظم ونسٹن چرچل کے جنازے کو برطانیہ یا کم ازکم لندن کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ کہا جاتا تھا۔ریکارڈ کے مطابق چرچل کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے اس کے جنازے کے جلوس کا لندن کی سڑکوں کے دونوں طرف 320000 شہریوں نے کئی گھنٹوں تک انتظار کیا تھا۔ اب جب ملکہ کے جنازے کا جلوس لندن کے ویسٹ منسٹر ایریا سے ونڈسرکاسل کی طرف گیا تو مختلف سڑکوں پر ان کی عقیدت میں چرچل کے جنازے کی نسبت کئی گنا زیادہ لوگ موجود تھے۔ ملکہ کی آخری رسومات کے سلسلہ میں ویسٹ منسٹر ہال میں جو تقریب منعقد ہوئی اس میں جن 2000لوگوں نے شرکت کی، ان میں دنیا کے 90 ممالک کے سربراہان مملکت و ریاست سمیت مزید 110 ملکوں کے نمائندے بھی شامل تھے۔ غیر متزلزل جمہوری رجحانات رکھنے والے ملک میں ایک مرحومہ ملکہ کیلئے اس قدر عقیدت و احترام کا آخر کیا سبب ہے۔ اس سوال کے پیدا ہونے کے ساتھ ہی ذہن میں یہ خیال بھی آیا کہ ہمارے خطے میں بھی تو کبھی بادشاہتیں قائم تھیں ، آخر ہمارے تمام بادشاہوں ، راجوں اور مہاراجوں کے اقتدار کا خاتمہ ذلت و رسوائی سمیٹنے کے بعد ہی کیوں ہوتا رہا۔
ملکہ برطانیہ جیسے شاہی سربراہان مملکت اگر آج بھی طویل عرصہ تک تخت پر براجمان رہنے کے باوجود انتہائی عزت و احترام کے ساتھ دنیا سے رخصت کیے جارہے ہیں تو اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جس میگنا کارٹا کے بنیادی مفہوم کو ہمارے خطے کے لوگ آج بھی سمجھنے سے قاصر ہیں ،اسے انگلینڈ کے ایک بادشاہ نے1215 میں تسلیم کر لیا تھا۔’’میگنا کارٹا‘‘ 807برس قبل انگلینڈ کے بادشاہ جان اور وہاں کے جاگیر داروں کے درمیان طے ہونے والا ایسا معاہدہ تھا، جس میں دیگر باتوں کے علاوہ یہ بھی اقرار کیا گیا تھا کہ آئندہ جاگیر داروں کو کسی مقدمہ کے اندراج اور فیصلے کے بغیر محض بادشاہ کے حکم پر گرفتارکر کے قید میں نہیں رکھا جاسکے گا۔گوکہ میگنا کارٹا عام شہریوں کا نہیں بلکہ بادشاہ ، چرچ اور جاگیر داروں کے اختیارات اور حقوق کے تحفظ کا معاہدہ تھا مگر اس معاہدے کے بعد ہی عام لوگوں میں یہ شعور پیدا ہونا شروع ہوا کہ ان کے بھی طے شدہ حقوق ہونے چاہئیں، ان کی شخصی آزادیوں کا بھی تحفظ ہونا چاہیے اور انہیں بھی مقدمات کے اندراج اور فیصلوں سے پہلے جیلوں میں قید رکھے جانے پر پابندی عائد ہونی چاہیے۔
انگلینڈ کے بہت زیادہ طاقت کے حامل بادشاہ نے خود سے نسبتاًکمزور جاگیر داروں کے ساتھ میگنا کارٹا خوشدلی سے طے نہیں کیا تھا۔ آزردہ دلی کے باوجود بادشاہ اس وجہ سے معاہدہ کرنے پر آمادہ ہوا تھا کیونکہ اسے احساس ہو چکا تھا کہ ظاہری طور پر تووہ انتہائی طاقتورہے مگر حقیقت میں سامنے بیٹھے لوگوں کی مخفی طاقت سے اس کی ظاہری طاقت کا کوئی مقابلہ نہیں۔ اس احساس کی وجہ سے اپنے اقتدار و اختیار سے مکمل ہاتھ دھونے جیسے امکان کے ساتھ کوئی جوا کھیلنے کی بجائے،بادشاہ نے میگنا کارٹا کی شکل میں شراکت اقتدار کا فارمولا قبول کیا۔ یورپ میں بادشاہتوں کی طرف سے اس قسم کے فارمولے قبول کرنے کی وجہ سے وہاں جمہوری نظام اپنی موجودہ حالت تک آنے کیلئے بتدریج تشکیل پاتے رہے ۔ آج ہمیں دنیا میں کانگریس، سینیٹ،سینوڈ، ہائوس آف لارڈز اور ہائوس آف کامنز جیسے ناموں سے جو
پارلیمانی ادارے دیکھنے کو ملتے ہیں ان میں سے اکثر ایسے ہیںجو بادشاہوں کے ہی قائم کردہ ہیں ۔یہ ادارے بادشاہوں کو اس وقت مجبوراً قائم کرنا پڑے جب عوام یا خواص نے ان کے وسیع تر آمرانہ اختیارات کو چیلنج کرنا شروع کیا۔ ایسے مواقع پر بادشاہوں نے لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے اپنے نامزد افراد پر مشتمل مشاورتی مجالس قائم کر کے مخالفین کو شراکت اقتدار کا تاثردینے کی کوشش کی۔گو کہ آغاز میں اس طرح کی مشاورتی مجالس کا کردار رسمی تھا مگر رفتہ رفتہ آمروں کے اختیارات تحلیل ہو کر ان مجالس کے سپرد ہونے لگے جن میں بادشاہوں کو عوامی جدوجہد کی وجہ سے مجبور ہو کر نامزد لوگوں کے ساتھ ساتھ منتخب عوامی نمائندوںکا کوٹہ بھی مقرر کرنا پڑا۔ تاریخ کے ارتقائی سفر کے دوران پھر یہ ہوا کہ ان ایوانوں میں شاہوں کے نامزد کردہ افراد کا کوٹہ یا تو ہمیشہ کیلئے ختم ہوگیا یا کسی علیحدہ ایوان میں ان کو ماضی کی یادگار بنا کر رکھ دیا گیا۔ اسی طرح بادشاہ اور ملکائیں یا تو ناپید ہو گئیں یا ان کے کردار کو رسمی بنا کر رکھ دیا گیا ۔ یوں بادشاہوں کے نامزد لوگوں کے ایوانوں کی جگہ مکمل طور پر عوام کے منتخب نمائندوں کے ایوانوں نے لے لی۔اس طرح جمہوری عمل کے ذریعے منتخب ہونے والی پارلیمنٹ کو نہ صرف قانون سازی بلکہ اکثریتی رائے کی بنیاد پر خاص مدت کیلئے ملک کا حکمران منتخب کرنے کا اختیار بھی مل گیا۔ پارلیمنٹ کی بات کی جائے تو اس کا ہر ظہور کسی نہ کسی جمہوری نظام کا مرہون منت ہوتا ہے۔ برطانیہ کو دنیامیں رائج تمام جمہوری نظاموں کی پیدائش گاہ کہا جاتا ہے۔ برطانیہ میں رسمی طورپر ریاست کی سربراہ کا اعزاز رکھنے والی مرحومہ ملکہ سمیت ہائوس آف لارڈزاور ہائوس آف کامنز کو مشترکہ طور پر پارلیمنٹ کہا جاتا رہا۔
برطانیہ کی مرحومہ ملکہ پارلیمان کا حصہ ہونے کی حیثیت سے اگر اپنے طے شدہ کردار سے تجاوز کی کوشش کرتیں تو کسی صورت بھی ان کی موت پر ان کیلئے اس قدر عزت احترام دیکھنے کو نہ ملتا ۔ ملکہ برطانیہ کیلئے اگر ان کی موت کے بعد بھی عقیدت کا مظاہرے دیکھنے کو ملے ہیں تو اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ملکہ ہونے کے باوجود وہ تمام عمر جمہوریت اور اپنے ملک کے جمہوری نظام کی تابع رہیں۔ اگر کوئی جمہوریت کے بنیادی مفہوم کو سمجھنا چاہتا ہے تو یاد رکھے کہ اگر جمہوریت کی اطاعت ہوتی رہے تو بادشاہتوں کا رسمی وجود بھی قابل برداشت ہو سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button