Editorial

صدر مملکت کے صائب مشورے

 

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ ملک میں جلد انتخابات کے لیے وزیراعظم شہباز شریف اور چیئر مین تحریک انصاف عمران خان سے بات کرنے کو تیار ہوں،سیاستدانوں کو اپنی انا ختم کر کے ایک میز پر بیٹھنے کی ضرورت ہے، صدر کا کردار آئینی ہوتا ہے لیکن میری خواہش ہے ملک کے لیے اپنا کردارادا کروں،میں نے سیاستدانوں کو ہمیشہ اداروں پر تنقید کرنے سے روکا ہے۔ تمام سٹیک ہولڈرز کو کہتا رہتا ہوں چیزیں ٹھیک نہیں ہیں،

مجھے کوئی کامیابی نظر آئی تو ضرور کہوں گا کہ ایک میز پر بیٹھ جائیں، صدر کی حیثیت سے خود اکٹھا نہیں کرسکتا، کہہ ہی سکتا ہوں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنا فوج کا ہی کام تھا، ان کا احترام کرنا چاہیے،ملک کا آئینی سربراہ ہوں اور تمام ادارے میرے ہیں، سب کا احترام ہے، عدلیہ اور آرمی چیف کی تقرری پر بھی باتیں ہو رہی ہیں۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے اِن خیالات کا اظہار گورنر ہائوس لاہور میں ملک کے سنیئر ترین صحافیوں سے گفتگو کے دوران کیا۔ تین سنیئر ترین صحافیوں نے ملک میں جاری موجودہ سیاسی عدم استحکام پر توجہ مبذول کراتے ہوئے صدر مملکت سے اپنا کردار ادا کرنے کی اپیل کی تاکہ ملک میں سیاسی کشیدگی کا خاتمہ ہو اور قومی قیادت کی پوری توجہ معاشی بحران اور عوامی مسائل پر مرکوز ہوسکے۔

اسی کے جواب میں صدر مملکت نے جو کہا کہ وہ گذشتہ روز تمام اخبارات کی شہ سرخیوں کی زینت بنا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ صدر مملکت کی کہی گئی ہر بات اپنی جگہ اہمیت اور وزن رکھتی ہے۔ ریاست کے سربراہ کے طور پر انہوں نے وزیراعظم محمد شہبازشریف اور سابق وزیر اعظم عمران خان اور باقی سیاسی قیادت کو ایک میز پر لانے کی فوری ضرورت پر زور دیا اور بلاشبہ ہر محب وطن پاکستانی یہ محسوس کرتا ہے کہ سیاسی قیادت کو مذاکرات کی میز پر آنا چاہیے تاکہ سیاسی مسائل
ختم ہوں اور قیادت ملک و قوم کے حقیقی مسائل کی جانب متوجہ ہو کیونکہ سیاسی عدم استحکام ، کھینچا تانی اور کج بحثی نے ملک و قوم کو پیچھے اور سیاسی اختلافات کو آگے رکھا ہوا ہے اور صدر مملکت کا یہ کہنا بھی صد فی فیصد بجا ہے کہ ملک میں چیزیں ٹھیک نہیں ہورہیں بلکہ الجھا رہی ہیں اور حالات ظاہر کرتے ہیں کہ اُن کو سُلجھانے کی بظاہر کوئی کوشش نہیں ہورہی۔

ہر عمل کا ردعمل پوری طاقت کے ساتھ دیا جارہا ہے اور شاید کسی موقع پر محسوس نہیں کیا جارہا ہے کہ عوام اس وقت کس حال میں ہیں اور کیا سوچ رہے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں سیاسی استحکام تو کبھی رہا ہی نہیں انتخابات میں جو کامیابی حاصل کرے اُس کا مینڈیٹ ہارنے والے تسلیم نہیں کرتے اور سڑکوں پر آجاتے ہیں ،

اس کے برعکس ایوان میں مفاد عامہ کی خاطر حکومت کو قانون سازی پر مجبوربھی کیا جاسکتا ہے جو درحقیقت حزب اختلاف کا کام ہوتا ہے مگرملک و قوم کی مجموعی بدقسمتی ہے کہ ہمارے قائدین ملک و قوم سے ہمیشہ لاتعلق نظر آئے ہیں ، ملکی تاریخ میں ایسا کوئی دور حکومت نہیںگزرا جب حزب اقتدار اور حزب اختلاف نے عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا ہو یا ملک میں سیاسی استحکام نظر آیا ہو۔ حصول اقتدار کے لیے ہر حربہ جمہوری قرار دے دیا جاتا ہے، کوئی حکومت مسائل پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے قریب پہنچتی ہے تو اس کو چلتا کردیا جاتا ہے،

پھر نئے سرے سے سیاسی عدم استحکام، پھر انتخابات اور نئی حکومت کو پھر وہی درپیش مسائل۔ عوام ہمیشہ سے منتظر رہی ہے کہ سیاست دان آپس کے اختلافات سے باہر نکلیں تو ہمارا سوچیں مگر شاید سیاسی قیادت عوام کی اِس سوچ تک پہنچنے سے قاصر ہے۔ آج وطن عزیز جس خطرناک دوراہے پر کھڑا ہے اس کی ذمہ دار قطعی طور پر عوام نہیں ، عوام تو حکومتوں کے اٹھائے قرض اُتارنے اور اُن کی غلطیوں کی سزائیں بھگتنے کے لیے ہیں۔ قیادت کی ملک و قوم سے لاتعلقی نے آج ملک و قوم کو اس نہج پر پہنچادیا ہے۔ سیاسی قیادت کو سوچنا چاہیے کہ کیا ملک ایسے ہی چلانا ہے یا قوم کے سامنے سرخرو بھی ہونا ہے، ہمارے بعد آزاد ہونے والے ملک آج عالمی سطح پر رونما ہونے والی تبدیلیوں اور فیصلوں پر اثر انداز ہورہے ہیں مگر ہمیں آئی ایم ایف سے مزید قرض کا انتظار ہے،

آج قوم مہنگائی اور بے روزگاری کی وجہ سے سراپا احتجاج ہے، لوگ پیٹ بھر کر روٹی کے لیے ترس رہے ہیں، عام پاکستانی کا معیار زندگی افغانیوں کے معیار زندگی کے قریب قریب پہنچ چکا ہے لیکن سیاسی قیادت کو عوامی مشکلات کا ادرا ک نہیں ہے۔

سیاست دان جن مسائل کو قوم کی مسائل قرار دیتے ہیں وہ کبھی عوام کے مسائل نہیں رہے، بدقسمتی سے آج بھی اسلامی جمہوریہ پاکستان کی عوام کا اصل مسئلہ روٹی، کپڑا اور مکان رہا ہے اور آج بھی سیاسی قیادت اسی نعرے پر عوام سے ووٹ لیتے ہیں۔ صدر مملکت نے اپنی گفتگو کے دوران واضح طور پر کہا ہے کہ انہوں نے سیاستدانوں کو ہمیشہ اداروں پر تنقید کرنے سے روکا ہے، اور یقیناً یہ بھی ناقابل تردید بات ہے کہ سیاست دانوں کو سیاسی معاملات میں قومی اداروں پر تنقید نہیں کرنی چاہیے، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اس کے بغیر ہماری سیاست چلتی ہی نہیں، فیصلہ حق میں آئے تو عدلیہ غیر جانبدار لیکن فیصلہ خلاف آئے تو عدلیہ پر تنقید، ایسا ہی قومی سلامتی کے اداروں کے ساتھ رویہ روا رکھاجاتا ہے۔

یہ بدقسمتی نہیں تو اورکیا ہے کہ سیاست دان اپنے معاملات ایوان میں جمہوری طریقے سے حل کرنے میں ناکام رہے ہیں اور جب بھی کوئی نیا معاملہ اٹھتا ہے ایوان کی بجائے سڑکوں پر نکل آتے ہیں ان مسائل پر جتنا کہا جائے یا لکھاجائے، کم ہے لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی تجویز پر ہر محب وطن سیاست دان کو غور بھی کرنا چاہیے اور دیگر قائدین کو بھی قائل کرنا چاہیے کہ وہ ملک و قوم کے بہترین مفاد اور داخلی و خارجی حالات کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک میز پر آئیں اور ایک نیا میثاق جمہوریت کریں جس میں مینڈیٹ کے احترام، اداروں کی عزت و تکریم اور مفاد عامہ سرفہرست ہو تااورسبھی عدم برداشت کے لبادے اُتار پھینکیں

کیونکہ حالات ٹھیک ہیں اور نہ ہی چیزیں ٹھیک ہورہی ہیں، قوم الجھنوں کا شکار ہوکر تقسیم ہوچکی ہے، سیاسی قیادت کو اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کرتے ہوئے ملک و قوم کے بہترین مفاد میں ایک میز پر آنا ہی ہوگا وگرنہ جلسے ،جلوسوں اور تلخ بیانات سے بحران ختم ہونے والے نہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button