Columnمحمد مبشر انوار

عدم استحکام! ۔۔ محمد مبشر انوار

محمد مبشر انوار

 

پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال کا موازنہ کسی بھی دور سے کیا جا سکتا ہے اور کم و بیش ہمیں حالات قریباً ایسے ہی نظر آتے ہیں کہ پاکستان کی سیاسی و معاشی و سماجی صورتحال قریباً ہر دور میں ایک جیسی نظر آتی ہے۔ تاہم ایک واضح تسلسل جو نظر آتا ہے وہ ماسوائے تنزلی کے اور کچھ بھی نہیں ہے جو پاکستانی معاشرت میں ایک مستقل کی حیثیت اختیار کر چکی ہے ۔کسی نہ کسی حوالے سے یہ تنزلی بہر صورت پاکستان میں جاری رہتی ہے اور اس وقت بھی بیشتر تجزیہ نگاروں کی رائے میں پاکستان میں تقسیم انتہائی زیادہ ہو چکی ہے جس کے باعث معاشرے میں عدم برداشت اور تشددکسی حد تک بڑھتا ہوا نظر آ رہا ہے۔معاشرے میں بڑھتا ہوا عدم برداشت اور تشدد کسی بھی صورت معاشرتی ترقی کا آئینہ دار قطعی نہیں بلکہ یہ اس حقیقت کا مظہر ہے کہ ہر گذرتے دن کے ساتھ بطور قوم معاملات کو سمجھنے اور ڈائیلاگ کی بجائے،دھونس اور جبر سے اپنی رائے مسلط کرنے کے درپے ہیں۔

یہ رویہ کسی بھی طور ایک مہذب یا پڑھے لکھے معاشرے کا عکس نہیں بلکہ اناؤں کے مارے اور ذاتی مفادات کے پیروکاروں کی تصویر کشی کرتا نظر آتا ہے کہ جہاں قانون نام کی کوئی چیز موجود نہیں بلکہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون آج بھی نافذ العمل ہے، تاہم اس روئیے میں ایک واضح تبدیلی بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ ایک مثبت تبدیلی کے آثار یوں واضح نظر آ رہے ہیں کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انتہائی مدبرانہ رویہ اختیار کیا اور اپنے مخالفین کے بچھائے جال کو انتہائی دانشمندی سے ناکام کیا ہے۔

حکومت گرنے کے بعد،بالعموم اقتدار سے محروم ہونے والی سیاسی جماعت اور اس کے قائدین کی جانب سے ،ایک ادارے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے اور ماضی قریب میں مسلم لیگ نون نے اس ضمن میں ادارے کے سربراہ پر نام لے کر جو تنقید کی، اس کی مثال بھی پاکستانی سیاست میں کہیں نہیں ملتی لیکن شو مئی قسمت کہ آج وہی جماعت برسر اقتدار ہے۔ حیرت اس پر نہیں کہ یہ جماعت اتنی شدید تنقید کرنے کے باوجود کس طرح برسراقتدار آ گئی ہے بلکہ حیرت اس بات پر ہے کہ جو باتیں اس جماعت نے ادارے اور اس کے سربراہ کے متعلق کی تھی،ان کو مد نظر رکھتے ہوئے کسی بھی ملکی قانون میں جنبش تک نہ ہوئی البتہ تحریک انصاف کے ایک رہنما کی بین السطور گفتگو قابل گرفت زنی قرار پائی اور انہیں قوانین کے برعکس گرفتار کر لیا گیا۔ان کا معاملہ تو خیر عدالتیں نپٹا لے گی لیکن ایسی حرکتوں سے موجودہ حکومت کے نامہ اعمال میں جو سیاہیاں لکھی جا رہی ہیں،وہ کبھی نہ کبھی اپنا اثر ضرور دکھائیں گی،

جس کا اظہار گذشتہ ضمنی انتخابات میں ہو چکا ہے البتہ یہاں اس حقیقت سے قطعی انکار ممکن نہیں کہ اقتدار کی شاہراہ میں موجودہ سیاسی جماعت ہمیشہ کسی نہ کسی طرح اپنا راستہ بنا ہی لیتی ہے۔
بہرکیف اس سیاسی کشمکش میں ایک طرف سیاسی درجہ حرارت اپنے عروج پر پہنچ چکا ہے تو دوسری طرف اس کے نتیجہ میں ملکی سیاسی و معاشی استحکام میں غیر یقینی کی سی صورتحال برقرار ہے۔ابتدا ء میں جس مسلسل غیر یقینی صورتحال کا ذکر کیا اس کے پس منظر مرحوم جنرل حمید گل سے کئے گئے ایک انٹرویو کا حوالہ مستقلاً دماغ پر ابھر رہا ہے،گو کہ ایسے حقائق کبھی دماغ سے اوجھل نہیں ہوتے لیکن موجودہ صورتحال میں اس کا برمحل اور متعلق ہونا نہ صرف پریشان کن ہے بلکہ افسوسناک بھی ہے کہ ہمارے حالات کیونکر نہیں بدل رہے۔

جنرل حمید گل مرحوم سے انٹرویو کا ایک مختصر اور متعلق اقتباس قارئین کی نذر کررہا ہوں،قارئین خود اندازہ کر لیں کہ پاکستان میں جاری عدم استحکام ابھی تک کیوں موجود ہے اور اس کا اثر کب تک رہے گا،انٹرویو کے دوران جنرل صاحب سے سوال کیا کہ امریکہ کو پاکستان کی ضرورت ہے مگر کیا مستحکم پاکستان کی؟

جواب:مستحکم پاکستان کی ضرورت ایک حد تک کیونکہ یہ ایک Relative Termہے ایک استحکام امریکہ خود انجوائے کرتا ہے یا عالمی سطح پر ترقی یافتہ جمہوری حکومتیںکرتی ہیں۔ ایک وہ استحکام ہے جو انڈیا کے اندر موجود ہے جو بظاہر نظر آتی ہے مگر در حقیقت نہیں ہے،جیسے کشمیر،نکسلائٹ وغیرہ کی تحریکیں ہیں، انڈیا کا پانچواں حصہ ان تحریکوں کی نذر ہے اور یہ استحکام دکھاوے کا ہے۔ استحکام کی ایک شکل پاکستان میں ہے جہاں ہم مستحکم بھی رہے ہیں اور غیر مستحکم بھی سو Stabilityایک Relative Termہے کتنی Stabilityوہ چاہتے ہیں صرف اتنی Stabilityکہ پاکستان ان کا دست نگر رہے ۔ معاشی لحاظ سے ان کی طرف دیکھتا رہے تا کہ پاکستان کے چین کے ساتھ تجارتی و معاشی روابط ایک حد تک رہیں اور وہ اسے کنٹرول کر سکیں۔

سوال : عدلیہ اور فوج کا کردار فی الوقت پاکستان کے استحکام میں مثبت ہے؟
جواب: بہت مثبت ہے اور یہی ہماری امید کی ایک شمع ہے جسے ہمیں بجھنے نہیں دینا کیونکہ عدلیہ گند صاف کرسکتی ہے بجائے اس کے کہ فوج آ کر کوششیں کرے کیونکہ ماضی میں جب بھی فوج آئی تو بجائے گند صاف کرنے کے اور گند ڈال کر چلی گئی۔

یہ ہمارا ایک تاریخی تجربہ ہے پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ عدلیہ آزاد ملی ہے لیکن انتظامیہ اس کے احکامات، فیصلوں کو قبول نہیں کر رہی،جس دن یہ مسئلہ حل ہو گیا، انشاء اللہ پاکستان اس دن صحیح راستے پر چڑھ جائے گا۔ اس کے بعد بہت سے کام کرنے والے ہوں گے اور اس کیلئے انتہائی دانشمندی کی ضرورت ہو گی۔

عدلیہ اور پارلیمنٹ کی آزادی لازم و ملزوم ہیں اگر عدلیہ آزاد ہو گی تو پارلیمنٹ بھی آزاد ہو گی، فی الوقت پارلیمنٹ آزاد نہیں ہے جب عدلیہ آزاد ہو گی تب نہ صرف پارلیمنٹ آزاد ہو گی بلکہ جمہوریت بھی پروان چڑھے گی۔

قارئین!مذکورہ انٹرویو جنرل صاحب سے 2010 اکتوبر میں کیا گیا تھاجس میں جنرل صاحب نے واضح طور پر بتایا کہ پاکستان نہ صرف اپنے جغرافیائی محل وقوع کے اعتبار سے امریکہ کیلئے ہمیشہ اہم رہا ہے بلکہ امریکی مفادات کیلئے پاکستان کا امریکہ کے دست نگر رہنا انتہائی ضروری ہے۔

امریکہ اپنے مفادات کے تحفظ میں کس حد تک جاتا ہے،یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ ماضی و حال میں اس کے ثبوت واضح ملتے ہیں کہ امریکی حکام ٹارگٹ قتل سے حکومتوں کی تبدیلی تک کے اقدامات میں نہ کوئی عار سمجھتے ہیں او رنہ کوئی شرم محسوس کرتے ہیں کہ ان کے نزدیک سب سے اہم اور اولین ترجیح بذات خود امریکی اختیار ہے۔ اس پس منظر میں پاکستان کی موجودہ سیاسی و معاشی صورتحال کو بغور دیکھیں تو یہ بہت سے معاملات ایسے ہیںجو اس امریکی سازش؍مداخلت کی رائے کو تقویت فراہم کرتے ہیں کہ پاکستان میں تبدیلی حکومت کے پس پردہ امریکی ہاتھ موجود ہے۔ گو کہ سازش کے حوالے سے نیشنل سکیورٹی کمیٹی انکار کرتی ہے لیکن مداخلت کا اقرار موجود ہے مراد یہ ہے کہ تبدیلی حکومت میں بہرطور ناقابل تردیدامریکی کردارموجود ہے۔ بعد ازاں تبدیلی حکومت یہ حقیقت بھی واضح نظر آتی ہے کہ امریکی ترجیحات کے عین مطابق پاکستانی سیاست میں جو کشیدگی عود آئی ہے،وہ صد فیصد امریکی منصوبہ کی کامیابی میں اہم کردار کی حامل ہے کہ اگر پاکستانی سیاست میں کشیدگی رہتی ہے،

حکومت دباؤ میں آتی ہے تو امریکہ کیلئے یہ انتہائی آسان ہے کہ ایسی حکومت سے اپنی شرائط پر معاملات طے کرے،جو بہرطور کسی نہ کسی سطح یا انداز میںہو رہے ہیں۔عمران خان نے اپنی پریس گفتگو میں تحریک طالبان کے حوالے سے جو نکتہ اٹھایا ہے وہ انتہائی قابل غور ہے کہ افواج پاکستان اور پاکستانی عوام نے جانوں کے نذرانے دے کر،پاکستان میں جس امن کو قائم کیا تھا،تحریک طالبان کو شہری آبادی سے دور دھکیلا تھا ،وہ دوبارہ کیوں اور کیسے پاکستان کی شہری آبادی میں وارد ہوئی ہیں؟

تبدیلی حکومت کا یہ ایک حصہ ہو سکتا ہے جبکہ اس کے علاوہ اور نجانے کتنے ایسے منصوبوں وقت کے ساتھ ساتھ منظر عام پر آئیں گے۔ بہرکیف عمران خان کے اس نکتے کو اٹھانے سے ایک حقیقت واضح ہوتی ہے کہ عمران خان کی نظر درون حالات استحکام پاکستان پر ہے اور اس پریس گفتگو میں جو لائن عمران خان نے اختیار کی ہے،اس سے واضح ہوتا ہے کہ عمران خان عدم استحکام پاکستان کے اس بیرونی ایجنڈے سے الگ ہیں اور پاکستان کو مستحکم دیکھنا چاہتے ہیں،اب یہ موجودہ حکومت اور دیگر اداروں کو سوچنا چاہیے کہ ایک مقبول ترین جماعت کے رہنما کی اس ہوشمندانہ پالیسی کے جواب میں وہ کیا لائحہ عمل اختیار کرتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button