Editorial

اقتدار ضرورت یا ملکی سلامتی؟

ترجمان پاک فوج نے ایک بار پھر بعض افراد کی طرف سے اشتعال انگیز بیانات پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاک فوج کو سیاسی گفتگو سے دور رکھیں، بعض سیاسی رہنمائوں، چند صحافیوں اورتجزیہ کاروںکے ریمارکس انتہائی نقصان دہ ہیں، مسلح افواج اور اس کی اعلیٰ لیڈر شپ کے بارے میں باتیں کی جارہی ہیں، پاک فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں اِس لیے غیرذمہ دارانہ بیانات سے اجتناب ضروری ہے۔فوج کو سب سے توقع ہے کہ وہ قانون کی پاسداری کریں گے اور مسلح افواج کو ملک کے بہترین مفاد کے لیے سیاست میں نہیں گھسیٹیں گے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ مسلح افواج کوسیاسی گفتگو میں گھسیٹنے کی کوشش کی جارہی ہے، ملک کے بہترین مفاد میں پاک فوج کوسیاسی گفتگوسے دور رکھاجائے ۔ ترجمان نے کہا کہ گزشتہ کچھ عرصے سے ملک میں جاری سیاسی گفتگو اور مباحثوں میں پاکستان کی مسلح افواج اور ان کی قیادت کو دانستہ طور پر گھسیٹنے کی کوششیں کی جارہی ہیں، مسلح افواج کے ساتھ ساتھ ان کی اعلیٰ قیادت کے حوالے سے براہ راست، واضح اور مختلف حوالوں سے باتیں کی جارہی ہیں، جس میں عوامی فورمز اور سوشل میڈیا سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر کچھ سیاسی شخصیات، بعض صحافی اور تجزیہ کار شامل ہیں، ان سیاسی مباحثوں اور گفتگو میں غیر مصدقہ، ہتک آمیز اور اشتعال انگیز بیانات اور ریمارکس مسلح افواج اور ان کی اعلیٰ قیادت کے بارے میں دیئے جارہے ہیں جو کہ انتہائی نقصان دہ ہیں، پاکستان کی مسلح افواج ایسے غیر قانونی اور غیر اخلاقی عمل کا حصہ نہیں ہوسکتیں۔
آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ فوج اور اس کی قیادت کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ، اسے سیاست میں گھسیٹنا غیر اخلاقی اور غیر قانونی ہے، ایسے غیرذمہ دارانہ بیانات سے اجتناب بہت ضروری ہے، مسلح افواج اور اس کی قیادت توقع کرتی ہے کہ سب افراد قانون کی پاسداری کریں گے اور مسلح افواج کو ملک کے بہترین مفاد میں سیاسی گفتگو سے دور رکھا جائے گا۔ ترجمان پاک فوج کی جانب سے ایک بار پھر اُن افراد کو مخاطب کیاگیا ہے جو قومی سلامتی کے ضامن اِس ادارے کو سیاسی مباحثوں اور گفتگو میں غیر مصدقہ اطلاعات اور مفروضوں کی بنیاد پر زیرِ بحث لائے ہوئے ہیں۔ عوامی اجتماعات میں ہتک آمیز اور اشتعال انگیز تقاریر کی جارہی ہیں اور مسلح افواج اور اِن کی اعلیٰ قیادت کو ایسے زیر بحث لایا جارہا ہے جیسے ہماری روایتی سیاست میں مخالف فریق کو لایاجاتا ہے یہ جانتے بوجھتے ہوئے بھی کہ اُن کا ایسا کرنا ملک و قوم کے لیے کتنا نقصان دہ ہے اور پاکستان دشمن ایسی زبان استعمال کرنے سے پہلے کئی بار سوچتے ہیں مگر انہوں نے اِس اہم ادارے اور اِس کی قیادت کے متعلق جس قسم کا رویہ اختیار کیا ہوا ہے،
انتہائی افسوسناک ہے اور فوری بدلنا
چاہیے، پاک فوج جس نے بے شمارقربانیوں اور اپنی صلاحیتوں کی بنا پر دنیا کی بڑی اور جدید ہتھیاروں سے مسلح افواج میں اپنا مقام بنایا ہے اور اُمت مسلمہ پاک فوج پر فخر کرتی ہے مگر ریاست کی سلامتی کا ذمہ دار یہی ادارہ ہماری ملکی سیاست میں حالیہ کچھ عرصے سے بار بار زیر بحث لایا جارہا ہے جو انتہائی افسوس ناک رویہ ہے ایسا پاکستان دشمن طاقتیں کریں تو بھی سمجھ آتی ہے لیکن بدقسمتی سے وہی کررہے ہیں جنہیں قومی سلامتی کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اِس ادارے کو مضبوط بنانا اور اِس کا دفاع کرنا ہوتا ہے، خصوصاً حالیہ دنوں میں پاکستان تحریک انصاف کی قیادت اور حکمران جماعت کے بعض رہنما اشاروں میں یا براہ راست نام لیکر پاک فوج کی قیادت کو مخاطب کررہے ہیں جو انتہائی افسوس ناک عمل ہے حالانکہ ایسا پہلی بار نہیں ہوا لیکن اِس سے پہلے اتنی شدت کے ساتھ اورانداز سے بھی نہیں ہوا جتنا اب ہورہا ہے۔
ٹیلی ویژن پر چلنے والے مباحثوں میں ، سیاسی گفتگو میں، جلسوں اور جلوسوں میں اور سوشل میڈیا پر غرضیکہ ذرائع ابلاغ کا کوئی بھی ذریعہ ایسا نہیں رہ گیا جس پر قومی سلامتی کے ادارے کو زبردستی ملکی سیاست میں گھسیٹا نہ گیا ہو یا کوشش نہ کی گئی ہو لیکن سوشل میڈیا پر تو اس غیر ذمہ داری اور افسوسناک رویے کا حد سے زیادہ مظاہرہ کیا جارہا ہے کیوں کہ جن سیاست دانوں نے اپنے کارکنوں کو ایسے مذموم کام سے روکنا ہے وہ خود یہ کام پورے اہتمام کے ساتھ کرتے نظر آرہے ہیںجو انتہائی افسوس ناک اور ذمہ دارانہ طرز عمل ہے اور سیاست میں تو اِس کی قطعی ضرورت اور اجازت نہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے دورِ حکومت میں جب ایسے پروپیگنڈے عروج پرتھے کہ بعض سیاست دان سیاسی معاملات کے سلسلے پاک فوج سے رابطے میں ہیںتو ترجمان پاک فوج کو سامنے آکر واضح کرنا پڑا تھا کہ پاک فوج کا ملکی سیاست سے کوئی تعلق نہیں اور فوج کے اپنے کرنے والے بے شمار کام ہیں لہٰذا انہیں سیاست میں مت زیر بحث لایا جائے، مختصر عرصے کے بعد بعض سیاسی رہنمائوں نے پھر ایسا تاثر دینا شروع کردیا جیسے انہیں اقتدار ملنے والا ہے،
اِس بار بھی میجر جنرل بابر افتخار کو سامنے آکر کہنا پڑا کہ اگر کوئی ایسا دعویدار ہے تو اُس سے ثبوت طلب کیے جائیں تب بھی ترجمان پاک فوج نے واضح طور پر کہا تھا کہ افواج پاکستان کو سیاست میں مت گھسیٹیں لیکن حالیہ دنوں میں سیاسی جلسوں، سوشل میڈیا اور عام مباحثوں میں جس طرح ایک بار پھر قومی سلامتی کے ادارے کو زیر بحث لایا جارہا ہے جو انتہائی افسوس ناک طرز عمل ، ایک طرف ملک دشمن طاقتیں ہماری کمزوریوں پر نظریں گاڑے ہوئے ہیں تو دوسری طرف ازخود اپنی داخلی صورت حال کو دشمن طاقتوں کے لیے موزوں بنانے کے لیے درپے ہیں۔ عجیب صورتحال ہے کہ ہم ففتھ جنریشن وار کو سمجھے بغیر اُس کا حصہ بنے ہوئے ہیں اور جنہوں نے اِس نادانی سے ہمیں روکنا ہے وہی ایسا ماحول بنارہے ہیں جو کسی بھی قوم بالخصوص قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے لیے درکار ہوتا ہے۔ ہم اپنی سیاسی قیادت سے گذارش کرتے ہیں کہ خدارا اپنی سیاست میں ملکی سلامتی کے اداروں کو مت زیر بحث لائیں ، یہی ملک و قوم کے بہترین مفاد میں ہے، خدارا وہ سب کچھ مت کریںاور  مت کہیں جو پاکستان دشمن کرنے یا کہنے کی ہمت نہیں رکھتے۔ خدارا ریاست کی سلامتی کو خطرے میں مت ڈالیں اور دفاع کو کمزور مت کریں، جن جوانوں کی حوصلہ افزائی کرنی ہے اُن کے حوصلے بلند کریں اُن کے مورال کو اپنی باتوں سے نیچے مت لائیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button