ColumnFayyaz Malik

اہل سیاست کی بدزبانیاں! ….. فیاض ملک

فیاض ملک

ملکی سیاست میں اس وقت گرما گرمی کی فضا چل رہی ہیں ، جس کو دیکھو وہ 22کروڑ عوام کی خدمت اور ان کو درپیش مسائل کے فوری حل کے دعوؤں کی آڑ لیتے ہوئے اپنے دکھ درد کا رونا روتا ہوا نظر آرہا ہے ،اس وقت اقتدار کی ہوس اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ قریباً ہر ٹی وی چینل کے ٹاک شوز سے لیکر سڑکوں اور چوراہوں پر ہونےوالے جلسے وجلوسوں میں اہل سیاست کی ایک دوسرے کے ساتھ بدتمیزیاں، بد تہذیبی عروج پر پہنچ گئی ہیں ، جلسوں میں یہ سیاستدان اخلاق سے گری ہوئی گفتگو کرتے ہوئے ذرا نہیں سوچتے کہ ان کی ان باتوں کے عوامی سطح پرکیا نقصانات ہوسکتے ہیں؟ فرض کرلیں اپنے جن سیاسی مخالفین کو وہ اپنی بندوق کی نوک پر رکھنے کی بات کرتے ہیں اللہ نہ کرے وہ واقعی کسی کی بندوق کی زد میں آجاتے ہیں، اِس کا الزام کس کے سر آئے گا؟ کیا اقتدار کی مسند پر بیٹھنے کے جنون نے ان کو ہر قسم کی اخلاقیات سے عاری کردیا ہے ؟یہ کیوں ملک کو خانہ جنگی کی طرف لے جانا چاہتے ہیں؟کیا انہیں اندازہ نہیں ان کے ایسے بیانات ملکی سیاست کو کس نہج کی جانب لےکر جارہے ہیں۔ خیر جہاں آوے کا آوہ بگڑا ہو وہاں ناعاقبت اندیشوں کو پوری دیگ ہی جلی محسوس ہوتی ہے۔
ایک وقت تھا کہ پاکستانی سیاست میں شرم وحیا تھی،

حکومت اور اپوزیشن میں موجود سیاستدان ایک دوسرے کی رائے کا احترام کرتے تھے،کسی کے اختلاف کو ذاتی د شمنی نہیں سمجھ لیا جاتا تھابلکہ اس وقت تواگر کوئی جلسے میں دوران تقریراپنے مخالف کےخلاف غیر دانستہ طور کوئی غیر شائستہ الفاظ بول بھی دیتا تو اس کا جواب بھی گالی کی بجائے شائستگی سے دینے کی کوشش کی جاتی تھی، بزرگوں کا ادب اور لحاظ ہوتا تھا،اوئے توئے کی گفتگو کرنےوالوں کو سخت ناپسند کیا جاتا تھا ، وضع داری کا یہ عالم تھا کہ اپنے مخالفین کی باتوں پر یہ نہیں کہا جاتا تھاکہ وہ میری بندوق کی نوک پر ہے، اِس ’’نئے پاکستان‘‘کے ادھیڑ عمر کے( مستریوں)نے ہماری نوجوان نسل کی اخلاقیات کا بیڑا غرق کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، اور حد یہ ہے کہ اب یہاں کوئی اپنی غلطی تسلیم کرنے کےلیے تیار ہی نہیں،بھلا ہو کچھ مخصوص سیاستدانوں کا جنہوں نے نوجوان طبقے کو اپنے جلسے جلوسوں میں تبدیلی کے راگ کے ساتھ ٹھمکے ، ڈانس اوربدتمیزیاں سکھا دی ہیں،تبدیلی کے دعویدار سیاستدانوں کے جلسوں میں ڈانس کرنےوالی یہ قوم گزشتہ کئی سالوں سے پیدا شدہ معاشی و اقتصادی بحران،مہنگائی،معاشی بدحالی،دہشت گردی، بیروزگاری سے نالاں توہے مگر اس کے باوجود پھر بھی زندہ باد اور مردہ باد کے نعرے لگانے والے یہ لوگ ہر وقت ان کے لیے خوار ہورہے ہیں ، ویسے بھی جس معاشرے میں اقتدارکی خاطر ایک دوسرے پہ سبقت لےجانے کی دوڑ شروع ہو جائے وہاں پر رہنماؤں میں عوامی فلاح کےلیے اصلاح کی فکر باقی نہیں رہتی۔
ایک عام شہری ہونے کے ناطے میں اکثر سوچتا ہوں کہ ہم کتنے احمق، کتنے پاگل ، کتنے گدھے تھے نئے پاکستان کے نعرے کی کشش کا شکار ہوگئے اور اس کےلیے جدوجہد کرنے لگے، اصل میں جدوجہد ہمیں ’’پرانے پاکستان‘‘ یا بہت پرانے پاکستان کی واپسی کےلیے کرنی چاہیے تھی جو اخلاقی لحاظ سے اس نئے پاکستان سے ہزاردرجے بہترتھا بدزبانیوں اور بدکلامیوں میں مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے کچھ رہنما ہمیشہ سے اول درجے پر فائز رہے ، مگر اب جو بد زبانیاں،بدکلامیاںاور بدتمیزیاں اہل یوتھ اور ان کے رہنما کررہے ہیں وہ صرف اپنے لیے نہیں، اپنے چاہنے والوں کےلیے بھی باعث شرمندگی کا سبب ہے۔ موجودہ صورتحال میں اب یہ اندازہ لگانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے کہ بدکلامیوں، بدزبانیوں اور بدتمیزیوں میں نون لیگ کے کچھ رہنما آگے ہیں یا پی ٹی آئی کے ؟انہوں نے تو ’’تبدیلی‘‘ لانی تھی، مگر یہ تو یہ اخلاقی گرواٹ کی تباہی لے آئے؟ ہم کسی معاملے میں ان کا دفاع کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہے، کیونکہ کہیں کوئی اصول، کوئی عزت آبرو، کوئی شرم وحیا دکھائی نہیں دیتے، اب تو یہ عالم ہے کہ سیاست پر بحث اور مخالفت تمام دوستیاں اور رشتے توڑ دیتی ہے،آج کی سیاست اس بدترین اور غلیظ مقام پر ہے جس کی نشاندہی مرحوم آغاشورش کاشمیری نے اپنے ایک خوبصورت شعر کی صورت میں کئی برس قبل کردی تھی۔
میرے وطن کی سیاست کا حال مت پوچھو
گھری ہوئی ہے طوائف تماش بینوںمیں
پاکستانی سیاست میں حالیہ دنوں میں عجیب و غریب تنائو پیدا ہوچکا ہے مگر یہ کوئی نئی بات نہیں، اس سے قبل اس سے بھی بڑی بڑی سیاسی آفتیں اس ملک پر مسلط ہوتی رہی ہیں۔ یہ سیاستدانوں کی ہی غلطیاں تھیں جو ملک کو مارشل لاءکی طرف لے جاتی رہی ہیں،سیاستدان ایک دوسرے کےخلاف بڑے بڑے محاذ کھڑے کرتے رہے، ایک دوسرے کے اقتدار کو ختم کرنے کے لیے بڑی بڑی سازشیں ہوئیں لیکن حالیہ دنوں جو کچھ ہورہا ہے اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔
اسلام آباد کے سندھ ہائوس پر حملہ ہوا، پشاور اور فیصل آباد کے منحرف اراکین کے گھروں اور دفاتر پر حملے کرکے ان کے اہل خانہ تک کو پریشان کرنے کی کوشش کی گئی، پنجاب اسمبلی میںقائد ایوان کے انتخاب کے موقع پر ڈپٹی سپیکر پر ارکان اسمبلی کے حملے اور لندن میں مخالف سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں کے دفاتر پر بھی حملے کیے گئے،اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ جس طرح انہوں نے پاکستان اور لندن میں لوگوں کو سیاسی مخالفین پر جسمانی حملے اور تشددپراُکسایا، گزشتہ دنوں سعودی عرب کی مقدس سرزمین پر بھی ایک ایسا ہی ناخوشگوار واقعہ رونما ہوا ، ذراسوچئے کہ اس افسوسناک واقعے کی وجہ سے دنیا بھر میں ملک پاکستان کی کتنی بدنامی ہوئی اور اس کی وجہ سے وہاں پر مقیم پاکستانیوں کو سعودی عرب کی طرف سے کس طرح کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ ا ہے یہ الگ داستان ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ تحریک انصاف کے رہنمائوں نے عوام کو سیاست دانوں پر حملوں کے لیے اکسانا شروع کردیا ہے، جنہوں نے اشتعال میں آکر مخالفین پر حملے بھی کرڈالے، تسلسل سے ہونےوالے ان واقعات میں کمی آنے کی بجائے اب مزید تیزی آنے کا بھی امکان واضح نظر آرہا ہے اور صورتحال یہ ہے کہ یہ رہنما اب بھی باز نہیں آرہے اور اپنے بیانات میں لوگوں کو مخالف سیاستدانوں پراخلاق سے گرے ہوئے جملے کسنے اور حملہ کرنے پر اکسا رہے ہیں۔ اس تمام تر صورتحال کا ذمے دار کون ہوگا؟
یہ تو پھر بھی مخالفین پر ہی ذمے داری ڈالیں گے لیکن ان پرُتشدد واقعات کے پیچھے صرف یہی چند ایک سیاسی رہنما ہیں جو لوگوں کو مسلسل مخالفین کے خلاف بھڑکا رہے ہیں۔ میری ان تمام سیاستدانوں سے گزارش ہے کہ سیاسی اختلافات کو سیاسی ہی رکھیں۔ میری تحریر کا مقصد کسی ایک جماعت یا ایک سیاستدان کو تنقید کا نشانہ بنانا نہیں، چونکہ حالیہ دنوں ایک جماعت کی طرف سے سیاسی مخالفین پر حملے کرائے جارہے ہیں تو ان سے مودبانہ گزارش ہے کہ برائے مہربانی سیاست میں لڑائی جھگڑے اور مار دھاڑ والا کلچر نہ لےکر آئیں۔ سیاسی اختلافات کو سیاست دان کی نظر سے ہی دیکھئے اور انہیں سیاسی طریقے سے ہی حل کیجئے، کیونکہ اگر دیگر جماعتوں کے کارکنوں نے بھی اس طریقہ کار کو اپنا لیاتو پھر کوئی سیاستدان، اس کا گھر اور دفتر محفوظ نہیں رہے گا۔ ملک خانہ جنگی کی طرف جائے گا جس کا فائدہ صرف اور ور صرف ملک دشمن عناصر کو ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button