Editorial

مہنگائی اور کرنٹ اکائونٹ خسارہ

آئی ایم ایف نے رواں مالی سال 2021-22میں پاکستان کی اقتصادی شرح نمو 4فیصد رہنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ آئی ایم ایف کی مشرق وسطیٰ اور وسط ایشیا کی علاقائی معاشی آئوٹ لک رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے 5.8فیصد اور آئندہ مالی سال 4.2فیصد رہے گااور کرنٹ اکائونٹ خسارہ رواں مالی سال 5.3فیصداور آئندہ مالی سال کم ہو کر 4.1فیصد ہونے کی توقع ہے،رواں مالی سال مجموعی ریونیو گروتھ 12.5فیصد رہنے کی توقع ہے جبکہ آئندہ برس12.9فیصد رہے گی ،پاکستان کا رواں مالی سال مجموعی قرضہ جی ڈی پی کے 71.3فیصداور نیٹ قرضہ 65.4فیصد ہے جو آئندہ برس 66.3فیصد اور نیٹ قرضہ 61.7فیصد متوقع ہے،رواں مالی سال پاکستان کی اشیاء اور خدمات کی برآمدات 37.8ارب ڈالر رہیں گی جبکہ آئندہ مالی سال بڑھ کر 40.8ارب ڈالر متوقع ہیں،اشیاء اور خدمات کی درآمدات 85ارب ڈالر اور آئندہ برس بڑھ کر 86.5ارب ڈالر ہو جائیں گی ،
آئی ایم ایف کے مشرق وسطیٰ اور وسط ایشیا کے ڈائریکٹر جہاد آذورنے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ پاکستان کو کرنٹ اکائونٹ خسارے پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔یوکرائن بحران کی وجہ سے خطے میں غیر یقینی صورتحال ہے، جس کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور مہنگائی بڑھی اور جو اب بھی زیادہ ہے۔ آئی ایم ایف کی وسط ایشیا اور مشرق وسط کے متعلق رپورٹ کی روشنی میں ہم اپنی بات کریں تو ہمیں عالمی مالیاتی ادارے نے کرنٹ اکائونٹ خسارے پر قابو پانے کا مشورہ دیا ہے وگرنہ ہمارے لیے معاشی لحاظ سے مزید مسائل پیدا ہوں گے ۔ معاشی منظر نامے پر بات کی جائے تو چند ماہ پہلے تک پی ٹی آئی حکومت کے لیے مہنگائی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو پورا کرنا دو بڑے چیلنجز تھے لیکن حکومت کا دعویٰ تھا کہ ملکی طلب کو اعتدال پر لانے کے لیے جو زوردار اور بروقت اقدامات کیے گئے ہیں ،
ان کے نتیجے میں پاکستان مستقبل میں مذکورہ چیلنجوں پر جرأت مندی کے ساتھ قابو پا لے گا لیکن آئی ایم ایف کی حالیہ رپورٹ میں ہمیں کرنٹ اکائونٹ خسارے پر قابو پانے کی تلقین کی گئی ہے ۔مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھنے کی اہم وجہ درآمدات میں اضافے کے ساتھ بڑھتی درآمدی قیمتیں ہیںجو کم ہونے کی بجائے بتدریج بڑھ رہی ہیں اور اِن میں پٹرولیم مصنوعات قابل ذکر ہیں جن کی قیمتوں میں روس یوکرین تنازع کی وجہ سے مسلسل اضافہ ہورہاہے یوں برآمدی شعبے کی بہتر کارکردگی کے باوجود کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ ترسیلات زر بھی برقرار ہیں۔ جتنی کوشش برآمدات بڑھانے کے لیے کی جاتی ہے وہ سبھی کرنٹ اکائونٹ خسارے کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں اسی لیے حکومت کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے
بڑھتے ہوئے حجم سے مایوس ہوکربیرونی کھاتوں کے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے مزید قرض لینے پر مجبور ہوجاتی ہے ۔
ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری گزشتہ کئی برسوں سے بتدریج کم رہی ہے، بڑے تجارتی فرق کا مقابلہ کرنے کے لیے برآمدات کو بھی کسی قابل قدر رقم تک نہیں بڑھایاجا سکااور قرضوں کے بھاری بوجھ، بڑھتے ہوئے درآمدی بل اور بڑھتے ہوئے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے علاوہ آئی ایم ایف کے شکنجے میں پھنسی حکومت کے لیے قرض کی ادائیگی ایک سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ ہم زرمبادلہ کےذخائر میں اضافہ اور مہنگائی کم کرکے جائیں گے، ہمیں مشکل فیصلے کرنا ہوں گے۔وزیر خزانہ نے مثال دی کہ میں گاڑی میں پٹرول ڈلواتا ہوں تو1600روپے کی سبسڈی حکومت پاکستان دیتی ہے، کیا گاڑی رکھنے والے کو سبسڈی ملنی چاہئے؟حکومت یہ بوجھ برداشت نہیں کرسکتی۔ وزیرخزانہ کی اِس بات اور مثال سے بخوبی سمجھا جاسکتا ہے کہ عام پاکستان کو پٹرول، بجلی، گیس اور دیگر مدات پر جو سبسڈیز حکومت کی طرف سے مل رہی ہیں وہ نہیں ملنی چاہئیں اور یہی رقم کرنٹ اکائونٹ خسارے میں کمی کے لیے استعمال کی جانی چاہیے،
اسی طرح درآمدات کو کم سے کم کی سطح پر لاکر برآمدات کو زیادہ سے زیادہ فروغ دیا جائے تو ہی کرنٹ اکائونٹ خسارہ کہیں رُک سکتا ہے۔ حکومت اور آئی ایم ایف حکام کے درمیان حالیہ مذاکرات میں بھی غیر فنڈ شدہ سبسڈیز کو واپس لینے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیاگیا ہے لہٰذا جہاں عالمی مالیاتی ادارے کا نام آتا ہے ہم سبھی کے کان اِس لیے کھڑے ہوجاتے ہیں کیونکہ آئی ایم ایف سب سے پہلے اور ہمیشہ کرنٹ اکائونٹ خسارے ختم کرنے کا کہتا ہے اور ہماری موجودہ معاشی صورتحال اِس قابل ہی نہیں کہ ہم کرنٹ اکائونٹ خسارہ ختم کرنے کے لیے حکومت کی طرف سے اٹھائے جانے والے اقدامات کو برداشت کرسکیں۔ مثال کے طور پر اگر پٹرولیم مصنوعات سے ہی سبسڈی واپس لے لی جاتی ہے تو کیا ملک میں مہنگائی کا طوفان نہیں آئے گا اور لوگ سڑکوں پر نہیں نکل آئیں گے؟ اسی طرح بجلی اور گیس کا معاملہ ہے کیونکہ اِن کی قیمتیں عام پاکستانی کی معاشی قوت سے کہیں زیادہ ہیں اور کوئی عام پاکستانی پٹرول، بجلی اور گیس اُن نرخوں پرخریدنا برداشت ہی نہیں کرسکتا جو نرخ سبسڈی کے بغیر ہوں،
لہٰذا یہ انتہائی مشکل قدم ہے جو حکومتیں اُٹھانے سے گریزاں رہی ہیں اور آئندہ بھی یقیناً ایسا ہی ہوگا کیونکہ عام پاکستانی کی اوسط آمدن اور اخراجات کے درمیان توازن نام کی کوئی چیز ہے ہی نہیں، بیرونی وجوہات یا خود ساختہ مہنگائی کی وجہ سے ہر گھر کی آمدن کا نصف سے زائد حصہ اشیائے خورونوش کی خریداری اور باقی بجلی، گیس، پٹرول جیسی بنیادی ضروریات کی مد میں ادائیگی میں خرچ ہوجاتا ہے،تنخواہیں بڑھانے کے زبانی اعلانات کی بجائے عملاً ہر پاکستانی کی کم سے کم آمدن میں اضافے کی ضرورت ہے اور جو دیہاڑی دار طبقہ ہے اُس کو معاشی لحاظ سے بھی اُوپر اُٹھانے کے لیے حکمت عملی تیار کرنی چاہیے جبھی ہم کرنٹ اکائونٹ خسارہ ختم کرنے کی پوزیشن میں آسکتے ہیں، وگرنہ جب تک عام پاکستانی معاشی لحاظ سے مضبوط نہیں ہوتا تب تک اُسے اِن مدات میں سبسڈی کی شکل میں ڈرپ کی ہمیشہ ضرورت رہے گی۔ کرنٹ اکائونٹ خسارہ کم یا ختم کرنے کے لیے درآمدات اور برآمدات کے درمیان بڑے فرق کی ضرورت ہوتی ہے لیکن وہ فرق درآمدات کم سے کم یا نہ ہونے کے برابر اور درآمدات زیادہ سے زیادہ ہونے کاہو۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں توانائی کے ذرائع یعنی بجلی اور گیس ہی اتنے مہنگے ہیں کہ ہماری تیار مصنوعات کی لاگت ہر مہینے میں ایک دو بار ضرور بڑھ جاتی ہے، کیونکہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مدمیں بجلی مہنگی ہوجاتی ہے یا پھر گیس کی قیمت میں اضافہ ہوجاتا ہے تو ایسی صورت میں ہم کیا درآمد کریں گے، مقامی اور غیر ملکی خام مال پر ٹیکس اور مقامی ٹیکس شامل کریں تو مقامی مصنوعات کی قیمتیں پڑوسی ممالک کی مصنوعات کے مقابلے میں حیران کن طور پر مہنگی ہوتی ہیں اسی لیے اِن مصنوعات کا اندرون ملک کوئی خریدار ملتا ہے اور نہ ہی بیرون ملک۔اِس کے برعکس دیگر ممالک کی مصنوعات یہاں انتہائی کم داموں دستیاب ہونے کی وجہ سے مقامی صنعتوں کو نقصان پہنچاتی ہیں ۔
ہم سمجھتے ہیں کہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہمیں مالیاتی ایمرجنسی جیسے اقدامات کرنا ہوں گی جبھی ہم معاشی مشکلات سے باہر نکل سکتے ہیں۔ اگر سبسڈیز واپس لینی ہیں تو کسی اور مد میں عوام کو ریلیف دینا پڑے گا اور یقیناً وہ خزانے پر بوجھ ہوگا۔ درآمدی بل کم سے کم کرنے کے لیے مقامی صنعتوں کو آسانیاں دینے کے ساتھ عوام کو بھی قائل کرنا پڑے گا کہ وہ ملکی مصنوعات کو ترجیح دیں۔ درآمدی بل کم سے کم کرنے کے لیے ہمیں امرا کو حقیقی معنوں میں ٹیکس نیٹ میں لانا ہوگا خصوصاً وہ اشیا جو امرا کے شوق پورے کرنے کے لیے بیرون ملک سے درآمد کی جاتی ہیں انہیں روکنا ہوگا یا پھر ٹیکس بڑھانا ہوگا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پٹرول ، بجلی اور گیس جیسے بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں درجہ بندی کرکے عام اور غریب پاکستانی کو ریلیف دیا جاسکتا ہے ان اشیا ضروریہ کے نرخ سفید پوش اور امرا کے لیے مختلف مختلف کیے جاسکتے ہیں یوں سبسڈی صرف حقدار لوگوں تک محدود ہوجائے گی اور جن پاکستانیوں کا مسئلہ مہنگائی یا سبسڈی نہیں ہے اُن سے پوری قیمت اور پورا ٹیکس وصول کرکے عام پاکستانیوں پر خرچ کیا جاسکتا ہے۔
اگرچہ یہ تجاویز کسی حکومت کے لیے کبھی قابل عمل نہیں رہیں لیکن یہی حل ہیں جن کے ذریعے معاشی چیلنجز پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ موجودہ حکومت چونکہ پہلی حکومت پر معاشی بدحالی کا الزام لگاتی رہی ہے اِس لیے حکومت کو اپنے دعوے کے مطابق عام پاکستانیوں کو ریلیف بھی دینا پڑے گا اور معیشت کے لیے ایسے سخت فیصلے بھی کرنا پڑیں گے جو بھلے مخصوص طبقے کے لیے ناقابل قبول اور ناپسندیدہ ہوں لیکن اُن فیصلوں پر عملدرآمد یقیناً ملک و قوم بالخصوص معیشت کے لیے ضروری ہے۔ بظاہر معیشت کی حالت اور بین الاقوامی حالات کو دیکھتے ہوئے عوام کو ریلیف دینے کی کوئی راہ سُجھائی نہیں دیتی لیکن پھر بھی موجودہ حکومت کو یہ دعویٰ تو پورا کرنا پڑے گا ہی، جو سابقہ حکومت کی معاشی ناکامی پر کیا جاتا رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button