Editorial

ہیجان خیز سیاسی صورتحال کب ختم ہوگی؟

سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری کی رولنگ غیر آئینی قرار دینے کے فیصلے اور احکامات کی روشنی میں ہفتہ کے روز قومی اسمبلی کا اجلاس منعقد ہوا لیکن مقررہ وقت پر اجلاس کے آغاز سے لیکر تادم تحریروزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر کارروائی کا آغاز نہ ہوسکا حکمران جماعت نے ایک بار پھرحزب اختلاف کو لیٹرگیٹ سکینڈل پر ان کیمرہ سیشن کے لیے دعوت دی۔ حزب اختلاف کے رہنمائوں آصف علی زرداری، خواجہ سعد رفیق، بلاول زرداری اور راجہ پرویزاشرف نے چیئرکی توجہ ایجنڈے کی جانب دلوائی تو سپیکر اسدقیصر نے یقین دلایا کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر اس کی روح کے مطابق عمل درآمد کروائیں گے۔ قومی اسمبلی کے طویل دورانیہ کے اِس اجلاس میں حزب اقتدار اور حزب اختلاف کی جانب سے دن بھر تقاریر کا سلسلہ جاری رہا اِسی دوران ذرائع ابلاغ کے ذریعے سامنے آیا کہ قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد پر ووٹنگ 11 اپریل جبکہ ڈپٹی سپیکر قاسم خان سوری کے خلاف ووٹنگ 16 اپریل کو متوقع ہے ، متحدہ حزب اختلاف نے سپیکر اورڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد جمع کروا ئی تھی۔اسی دوران پاکستان تحریک انصاف نے اپنے منحرف اراکین کے خلاف ریفرنس سپیکر قومی اسمبلی کے پاس جمع کروا دیاہے ریفرنس پی ٹی آئی کے چیف وہیب عامر ڈوگر نے سپیکر اسد قیصر کو 20 منحرف اراکین کے خلاف ریفرنس آرٹیکل 63 اے کے تحت جمع کروایااور الیکشن کمیشن کو بھی درخواست دائر کرتے ہوئے استدعا کی گئی ہے کہ منحرف اراکین کو رائے شماری کا حصہ بننے سے روکا جائے۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے پانچ روز مقدمہ کی سماعت کرکے ازخود نوٹس کیس کا مختصر فیصلہ سنایا تو توقع کی جارہی تھی کہ اب سیاسی بحران کا جلد از جلد خاتمہ ہوگا اور زندگی معمول کی جانب لوٹ آئے گی لیکن بظاہر یہی لگتا ہے کہ ابھی سیاسی بحران کا خاتمہ نہیں ہوا بلکہ جس طرح وزیراعظم عمران خان نے جمعہ کے روز قوم سے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ کسی صورت امپورٹڈ حکومت کو تسلیم نہیں کروں گا ، جدوجہد جاری رکھوں گا اور عوام میں نکلوں گا، اتوارکو عشاء کے بعد عوام سڑکوں پر نکلیں اور پرامن احتجاج کریں، یہ جمہوریت کے نام پر جو ڈرامہ ہو رہا ہے اس کو بے نقاب کریں۔ ذرائع ابلاغ کا دعویٰ ہے کہ حکمران جماعت کی طرف سے سپریم کورٹ کے لارجر بینچ کے ازخود نوٹس کیس پر فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست جمع کروائی جارہی ہے جس میں سپریم کورٹ سے 5 رکنی بینچ کے 7 اپریل کے فیصلے پر نظرثانی کی استدعا کی جائے گی اور پیپلز پارٹی، مسلم لیگ نون، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن، سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور سندھ بار کونسل کو فریق بنایا جائے گا ۔ پٹیشن میں سپریم کورٹ سے درخواست کی جائے گی کہ براہ کرم 7 اپریل کے متنازع حکم نامے کا جائزہ لیں اور اس حکم کو واپس لیں جس میں کچھ غلطیاں نمایاں ہیں اور ساتھ ہی اس حکم کا عمل معطل کر دیا جائے۔ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے مستعفی ہونے کے بعد یہاں وزیر اعلیٰ کا انتخاب ہونا باقی ہے یہاں بھی حزب اقتدار اور حزب اختلاف ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں اور حالات و حکمت عملی کم و بیش وہی نظرآتی ہے جو مرکز میں سبھی نے دیکھی۔ پنجاب میں حزب اختلاف کی جانب سے ہائی کورٹ سے وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے لیے رجوع بھی کیا جاچکا ہےتو خیبر پختونخوا میں بھی پاکستان تحریک انصاف کے وزیراعلیٰ محمود خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع ہوچکی ہے ۔ یہ ساری صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ ابھی سیاسی بحران کا خاتمہ نہیں ہوا بلکہ ہر نئے دن کے ساتھ جو پیش رفت سامنے آرہی ہے اِس سے سیاسی بحران مزید بڑھے گا جو کسی بھی صورت ملک و قوم اور خصوصاً جمہوریت وسیاست کے لیے سود مند نہیں۔ سیاسی قیادت ایک دوسرے کو برداشت کرنے کے لیے تیار نظر نہیں آتی جبکہ جا بجا نظریہ ضرورت کی مثالیں نظر آرہی ہیں درحقیقت اِس وقت ملک کے داخلی اور خارجی چیلنجز تو اپنی جگہ موجود ہیں ہی لیکن عوام اس ہیجانی سیاسی صورت حال کی وجہ سے انتہائی مضطرب ہوکرآسمان کی طرف دیکھنے پر مجبور ہیںمگر  محسوس ہوتا ہے کہ سیاسی قیادت صورت حال کا ادراک نہیں کررہی۔ آئین و قانون کی پاسداری اور سیاسی روایات کی باتیں کرنے والے بھی اِس بحران کو ختم کرنے کے لیے تیار نظرنہیں آئے تو کیا ماضی میں ایسے سیاسی بحران پیدا نہیں ہوتے رہے اور اُن کے نتائج بھی ہم بھول گئے ہیں؟ آئین و قانون اور ووٹ کے تقدس کی بات کرنے والے دیکھ رہے ہیں کہ اِس وقت کیا ہورہا ہے اور آنے والے دن ملک و قوم اور معیشت کے لیے کیسے ہوں گے؟ کیوں کہ اب سیاسی تنائو میں مزید اضافہ ہوتا نظر آرہا ہے۔ عمران خان قوم سے خطاب میں بڑے واضح طریقے سے اپنی سیاسی حکمت عملی کے خد و خال واضح کرچکے ہیں جو چیزیں قوم کو اِس خطاب میں سننے کو ملیں یقیناًعام انتخابات تک اور شاید اِس کے بعد بھی طویل عرصے تک یہ تمام چیزیں سننے کو ملیں۔ قومی اسمبلی سے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا نتیجہ جو بھی نکلے لیکن یہ تو واضح ہورہا ہے کہ آنے والے دن سیاسی تنائو اور گرما گرمی سے بھرپور ہوں گے۔ ابھی پنجاب میں وزیراعلیٰ کا انتخاب ہونا ہے اور خیبر پختونخوا میں بھی وزیراعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع ہوچکی ہے۔ ہم توقع کررہے تھے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سیاسی تنائو کا خاتمہ ہوگا اور عدالتی فیصلے کا احترام کرتے ہوئے سیاسی قیادت آئندہ کی سیاست کے لیے اپنا اپنا لائحہ عمل طے کرے گی مگر ایسا ہوتا قطعی نظر نہیں آرہا کیوں کہ قائدین اپنے ارادوں پر اٹل نظر آرہے ہیں کہیں سے لچک کا مظاہرہ نہیں ہورہا اس لیے عام پاکستانی کی تشویش میں اضافہ ہورہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button