Editorial

ہارس ٹریڈنگ جمہوریت اور نظام کیلئے خطرہ

سپریم کورٹ آف پاکستان میں آئین کے آرٹیکل63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت کے دوران جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ روایت بن گئی ہے کہ پیسوں سے حکومت گرائی جاتی ہے، چند لوگوں کی خرید و فروخت سے 22 کروڑ عوام کا مستقبل داؤپر ہوتا ہے، ارکان کی خرید و فروخت کے ذریعے حکومت گرانے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے ریفرنس کی سماعت کی تو سابق حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے وکیل بابر اعوان اور مسلم لیگ قاف کے وکیل اظہر صدیق نے دلائل دیئے ۔سماعت کے دوران جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ ہارس ٹریڈنگ جمہوریت اور نظام کے لیے خطرہ ہے، ایسا ممکن نہیں کہ غلط کام کریں اور اس کا فائدہ بھی اٹھائیں، جرم کرنے والوں کو اس کا فائدہ لینے کی اجازت کیسے دی جاسکتی ہے؟دوران سماعت جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ پارٹی پالیسی سے انحراف ملک کے فائدے میں بھی ہو سکتا ہے۔
آئین کے آرٹیکل 63اے تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت سپریم کورٹ آف پاکستان میں جاری ہے اور بلاشبہ عدالت عظمیٰ کی جانب سے جو رہنمائی کی گئی اِس کے ہماری ملکی سیاست اور آنے والی نسلوں پرتواثرات مرتب ہوں گے لیکن ساتھ ہی موجودہ سیاسی بحران بھی یقیناً کسی حد تک کم ہوگا۔ ویسے تو پی ٹی آئی حکومت کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کی سرگرمیاں حکومت کے پہلے دن سے ہی جاری تھیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اُن میں تیزی آتی گئی اور بالآخر پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے نام سے کثیر الجماعتی سیاسی اتحاد تشکیل پایااور قریباً دو ماہ قبل آٹھ مارچ کو اُنہوں نے عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد قومی اسمبلی کے سیکرٹریٹ میں جمع کرادی، حکمران جماعت کی توقع کے برعکس صورتحال سیاسی اتحاد کے حق میں ہوتی نظر آئی تو دونوں جانب سے لفظی جنگ کا آغاز ہوگیا تب تحریک انصاف کی حکومت کا موقف تھا کہ حزب اختلاف قانون ساز وں کے خلاف ہارس ٹریڈنگ میں ملوث ہے، پی ٹی آئی حکومت کو اشارہ ملا کہ حزب اختلاف کو اُس کی اتحادی جماعتوں اور اُس کے اپنے بعض اراکین اسمبلی کی حمایت حاصل ہے تو اُس نے اپنے منحرف اراکین اسمبلی کو حزب اختلاف کا ہتھیار بننے سے روکنے کے لیے واحد آپشن یہی سمجھی کہ اُن منحرف اراکین کو آئین کے آرٹیکل 63اے کی زد میں لاکر نااہل قرار دلوایا جائے تاکہ حزب اختلاف کے نمبر پورے نہ ہوسکیں لیکن اُس کے لیے قابل تشویش تھا کہ اس کی اتحادی جماعتیں اُس کا ساتھ چھوڑ کر حزب اختلاف کے ساتھ چلنے کو تیار تھیں،
اِس صورتحال میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف
علوی نے سپریم کورٹ آف پاکستان سے متذکرہ آرٹیکل کی تشریح کے لیے رجوع کیا جس کی  تاحال سماعت جاری ہے اور وکلا اپنے اپنے دلائل دے رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت اِس اہم معاملے کا تفصیلاً جائزہ لے رہی ہے، ہم دوبارہ کہنا چاہیں گے کہ اِس کے دور رس اثرات برآمد ہوںگے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آئندہ قانون سازی کرتے ہوئے کوئی پہلو مبہم نہ چھوڑنے کا سبق سیاسی جماعتوں کو ضرورملے گا جو جلدی میں قانون سازی تو کرلیتے ہیں لیکن اِس عجلت میں کئی اہم پہلو نظر انداز کردئیے جاتے ہیں جن کافائدہ بھی اٹھایا جاتا ہے ۔ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی اور نئی حکومت کی تشکیل کے بعد بھی آرٹیکل 63 اے پر ذرائع ابلاغ میں قانون سازوں کے درمیان شدید بحث چھڑ ی ہوئی ہے اور اس ریفرنس پر سماعت کے دوران بدھ کے روز چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ سمجھتے ہیں انحراف ایک سنگین غلطی ہے لیکن کسی کو تاحیات نااہل کرنا بہت سخت سزا ہے۔ تحریک عدم اعتماد پر بحث ہوتی تو سب سامنے آتا لیکن تحریک عدم اعتماد پر لیو گرانٹ ہونےکے بعد کوئی بحث نہیں کرائی گئی، بحث ہوتی توکوئی سوال پوچھتاکہ تحریک عدم اعتماد پیش کیوں کی گئی۔دوران سماعت جناب چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ملک کو مستحکم حکومت کی ضرورت ہے تا کہ ترقی ہوسکے، ملک میں 1970 سے اقتدار کی میوزیکل چیئرچل رہی ہے، کسی کو بھی غلط کام سے فائدہ اٹھانے نہیں دے سکتے۔
بلاشبہ ہماری جمہوریت اور سیاسی نظام میں بے شمار خامیاں موجود ہیں جن میں سے ایک خامی کی خاص طور پر جسٹس اعجاز الاحسن نے نشاندہی کی ہے کہ پیسوں سے حکومت گرائی جاتی ہے اور چند لوگوں کی خرید و فروخت سے 22 کروڑ عوام کا مستقبل داؤپر ہوتا ہے، ارکان کی خرید و فروخت کے ذریعے حکومت گرانے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ ہمارے سیاسی نظام کی ’’خوبصورتی‘‘ اور ہماری ’’سیاسی روایات‘‘ کا ہی نتیجہ ہے کہ آج تک کوئی بھی منتخب وزیراعظم پانچ سالہ آئینی مدت پوری نہیں کرسکا قریباً ایک دہائی پہلے تک تو کسی منتخب سیاسی جماعت کو اپنی پانچ سالہ آئینی مدت پوری کرنے کا موقعہ نہیں ملا جس کی بنیادی وجہ سیاستدانوں کے باہمی اختلافات اور ایک دوسرے کے مینڈیٹ کا احترام نہ کرنا تھا اور بدقسمتی سے یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے آج بھی اقتدار سے باہر رہ جانے والا برسراقتدار کا مینڈیٹ تسلیم نہیں کرتا اور اپنی تمام تر توانائیاں اِسے اقتدار سے باہر کرنے کے لیے صرف کردیتا ہے اِس مقصد کے لیے بعض سیاست دان غیر جمہوری حربے بھی استعمال کرتے ہیں اور ضرورت کے مطابق ایسے اراکین اسمبلی پر بھی نظر رکھتے ہیں جو اپنی سیاسی وفادار بدلنے کے لیے تیار بیٹھے ہوتے ہیں۔ آئین کا آرٹیکل 63اے اسی لیے بنایاگیا کہ ایسے ’’پرندوں‘‘ کو بے موسمی پرواز سے روکا جاسکے یعنی فلور کراسنگ، لیکن دلچسپ بات تو یہ ہے کہ قانون سازی کرنے والے اُس میں بعض ایسے نکات ضرور چھوڑ دیتے ہیں جن کے ذریعے وہ بوقت ضرورت فائدہ اٹھاسکیں، سیاسی جماعتوں نے جب فلور کراسنگ یا ہارس ٹریڈنگ کا راستہ بند کرنے کے لیے اِس آرٹیکل پر قانون سازی کی تو ایسے سقم کیوں چھوڑے جن کا فائدہ کسی جماعت لیکن نظام کو نقصان پہنچے، آج اسی لیے صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ سے رہنمائی کے لیے زیر بحث ہے۔
چند لوگوں کی خریدوفروخت سے پہلے سیاسی نظام پر انگلیاں اُٹھتی ہیں پھر سیاسی فریقین آمنے سامنے آجاتے ہیں اور یہ سلسلہ گلی محلے کی سطح تک پہنچ جاتا ہے، معاشی سرگرمیاں کم ہونا شروع ہوجاتی ہیں اور رویے خراب سے خراب ہوتے جاتے ہیں۔ ہمارے اسلاف ملک و قوم کو متفقہ آئین دے سکتے ہیں تو ہمارے قائدین کیوں آئینی موشگافیوں سے فائدہ اُٹھاکر جمہوری نظام کو عامۃ الناس میں زیربحث لانے کے اسباب مہیا کرتے ہیں۔ آج ملک میں جیسا عدم استحکام نظر آرہا ہے کیا سیاسی قیادت کو اِس کا ادراک نہیں تھا؟ ہمارے ہاں حصول اقتدار کے لیے جمہوریت کے نام پر جو غیر جمہوری حربے اختیار کیے جاتے ہیں کیا انہیں جائز قرار دیکر ملک و قوم کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا مناسب ہوگا؟ کیا ہماری سیاسی قیادت کو آئین میں موجود خامیوں سے فائدہ اٹھانے کی بجائے ان خامیوں کو دور نہیں کرنا چاہیے؟ کیا ایسے گھوڑوں کو مستقلاً اصطبل میں نہیں باندھ دینا چاہیے جو ہر وقت بکنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ کیا سیاست اور جمہوریت میں پیسے کا استعمال روک کر جمہوری اقدار کو پاکیزہ نہیں بنانا چاہیے؟ کیا گھی کے ڈبوں اور آٹے کے تھیلوں اور نوٹوں کے عوض ووٹ لینے والے خود کو بیچنے کے لیے ہمہ وقت دستیاب نہیں ہوں گے؟ بدقسمتی سے یونین کونسل جس کو ہم جمہوریت کی نرسری قرار دیتے ہیں وہاں سے سیاست میں پیسے کا استعمال شروع ہوتا ہے اور کوئی منتخب ایوان ایسا نہیں جس کے اراکین پر خریدوفروخت کا الزام نہ آتا ہو۔
آج ایسی شخصیات سے پوچھا جانا چاہیے کہ کیا ہمارا آئین نوٹوں کے عوض ووٹ کی خریدوفروخت کی اجازت دیتا ہے؟ کیا ملکی حالات اور زمینی حقائق کو دیکھتے ہوئے بھی ایسے بیانیے کی ضرورت موجود رہتی ہے جو قوم کو انتشار میں مبتلا کرے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ حلال اور حرام کی تمیز سبھی کے لیے ایک سی ہوتی ہے۔ اگر کسی کے لیے ہارس ٹریڈنگ جائز ہے تو دوسرے کے لیے بھی یقیناً وہ جائز ہوگی مگر خدشہ ہے کہ اِس سوچ کے نتیجے میں ہارس ٹریڈنگ کو فروغ ملے گا اور سیاسی جماعتیں تنظیم سازی کے جھنجٹ اور انتخابی عمل کی مشکلات میں پڑنے کی بجائے ہارس ٹریڈنگ کے ذریعے حکومت بنانے یا گرانے کو ترجیح نہ دینے لگ جائیں کیوں کہ پیسے کے استعمال سے مخالف حکومت گرائی اور دوسری بنائی جاسکتی ہے تو پھر یہ آپشن سبھی کے لیے دستیاب ہوگا صرف ملک و قوم، جمہوریت اور جمہوری اقدار کو اِس کا نقصان پہنچے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button