ColumnImtiaz Ahmad Shad

تباہی سے کیسے بچا جائے؟ …. امتیاز احمد شاد

امتیاز احمد شاد
معاشرتی انفرادی و اجتماعی زندگی کے بنانے اور سنوارنے میں اخلاق کو نمایاں حیثیت حاصل ہے بلکہ معاشرت کی پہلی اینٹ اخلاقِ حسنہ ہی ہے۔ حسن اخلاق کے بغیر انسان نہ صرف یہ کہ انسان نہیں رہتابلکہ درندگی و بہیمیت پر اتر آتا ہے۔ انسانیت کا زیور حسنِ اخلاق ہے لیکن بدقسمتی سے اس وقت ہمارامعاشرہ اخلاقی اعتبار سے کنگال اوردیوالیہ ہوچکا ہے۔ انسانیت و شرافت کی بنیادیں ہل چکی ہیں۔ تہذیب و اخلاق کے ستون اپنی جگہ چھوڑ چکے۔ تہذیب و تمدن کے گہواروں میں خود سری، بے راہ روی اور اخلاقی پستی کا دور دورہ ہے۔ مرد عورت،بچے ،جوان اور بوڑھے بد اخلاقی میں سبھی ایک دوسرے سے سبقت لے جارہے ہیں۔ رشوت، ملاوٹ، سودی لین دین، بدکاری کی انتہا، کمزوروں کا استحصال اور پیسے کی پوجا ہمارا ایمان بن چکا۔ کوئی قوم ہم پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں۔ ہمارے قائدین ایک دوسرے کے بارے میں الزامات لگاکر زمانہ جاہلیت کو بھی مات دے رہے ہیں۔گالی گلوچ ہمارا کلچر بن چکی۔ہم کون لوگ ہیں؟اس حد تک جنونیت ہم پر کیسے سوا رہو گئی؟ایسی بدذات روش کا درس ہم نے کہاں سے لے لیا؟نہ ہمیں اسلام کا پاس ہے اور نہ مشرقی روایات کا۔ہمارا مذہب اور ہماری روایات ہمیں ایک دوسرے کے احترام کا درس دیتے ہیں مگر افسوس ہم تو جسے چاہتے ہیں بیچ چوراہے بغیر صنف کی تمیز کیے بے لباس کرنے پر اتر آتے ہیں۔
یوں تو ہر ملک و ملت اور عہد و زمانے میں معاشرہ و ماحول پر برا اثر ڈالنے والی عادات و اطوار کو پسندیدہ نگاہوں سے نہیں دیکھا گیابلکہ ہر مذہب اور سماج میں اس عمل کو جرم اور ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ چوری و ڈاکہ، قتل و خوں ریزی، غیبت و بد گوئی، کینہ و حسد، تکبر، حق تلفی وغیرہ افعال و عادات ہر مذہب وسماج میں مذموم ہیں،جب کہ وقارو سنجیدگی، خوش کلامی و نرمی، عدل و تواضع، امانت و دیانت وغیرہ ہر معاشرے میں اچھے اخلاق شمار کیے جاتے ہیں لیکن اسلام کے اخلاقی نظام اور دیگر اخلاقی قدروں میں کئی اعتبار سے بہت فرق پایاجاتا ہے۔ اسلام کے علاوہ دیگر نظاموں میں اچھے اور برے اخلاق کا معیار عقل سلیم، پاکیزہ شعور اور تجربہ ہے جب کہ اسلام میں ان سب سے بڑھ کر متعین ذات گرامی اللہ اور رسول ﷺ کی ذات اقدس ہے۔ اچھا اخلاق وہی ہے جسے اللہ او رسولﷺ نے اچھا قرار دیا ہو اور اسی طرح برے اخلاق وہ ہیں جسے اللہ اور رسول ﷺبرا کہہ دیں۔
اسلام میں اچھے اور برے اخلاق کا مسئلہ ایک طے شدہ مسئلہ ہے، وہ کسی انسانی عقل یا تجربہ کا محتاج نہیں۔ اسلام نے کسی طرز عمل کو اچھا یا برا اس لیے نہیں کہا کہ اسے لوگ ایسا ہی کہتے اور سمجھتے چلے آئے ہیں بلکہ خود اسے اپنے اصولوں کی
بنیاد پر اچھا یا برا کہا ہے۔ اسلامی اخلاقیات چوں کہ مستقل بنیاد وں پر قائم ہیںاس لیے وہ ناقابلِ تغیر اور مستقل ہیں۔جب بھی وطن عزیز میں بد اخلاقی،بہتان بازی ایسے بد کھیل کھیلے جاتے ہیںتو انتشار پسند طبقہ اسے اسلام کے ساتھ جوڑ کر اسلام اور پاکستان کو بدنام کرنے میں ہر حد پار کرتا ہے مگر جب انہیں کہا جائے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کا واحد حل اسلامی شریعت کا نفاذ ہے تو اسلاموفوبیا کا شکار یہ لوگ انسانی حقوق کا داغدارپرچم لہراتے ہوئے میدان میں نکل آتے ہیں۔ اگر غور کریں تو معلوم ہو گا کہ اسلام کا اخلاقی نظام مختلف دائروں میں تقسیم ہے اور اس کی ابتداء انسان کی انفرادی زندگی سے ہوتی ہے۔ معاشرہ کے ایک فرد کے بطور ایک انسان کی اخلاقی ذمہ داری کیا ہے،
 اسے اسلام نے اپنی جامع اخلاقی تعلیمات میں سمیٹ دیا ہے۔ جھوٹ و بہتان طرازی، کبر و نخوت، ظلم و ستم، بدسلوکی و بے رحمی، فریب و دھوکہ دہی، شراب نوشی و جوا بازی، زناکاری و بے حیائی، جنگ و جدال وغیرہ امور کو برا ئی قرار دیا گیا،جبکہ اس کے بالمقابل عمدہ اخلاق کی ہمت افزائی کی گئی۔ انفرادی دائرہ کے بعد گھریلو سطح پر والدین کے ساتھ حسنِ سلوک و خدمت گزاری کی تعلیم دی گئی۔ بھائی بہنوں اور رشتہ داروں کے ساتھ احسان و صلہ رحمی، بیوی بچوں کے ساتھ محبت وشفقت کی تعلیم دی گئی۔ پھر گھریلو سطح سے اٹھ کر معاشرتی سطح پر پڑوسیوں کے ساتھ اچھا برتاؤ اور لوگوں کے ساتھ انسانی سلوک اور احترام کا درس دیا گیا۔ تمام مسلمانوں
کے ساتھ ہمدردی اور خیر خواہی اور تمام انسانوں کے ساتھ ہر حال میں عدل و انصاف، رواداری اور مساوات کا برتاؤ۔ اسلام کے نظامِ اخلاق کا حاصل یہ ہے کہ انسانی زندگی کے ہر پہلو اور ہر مرحلہ میں اعلیٰ کردار کو اپنایا جائے۔
اسلام نے باہمی معاملات کو ہمدردی و خیر خواہی کے جذبہ سے انجام دینے کی تعلیم دی۔ اسلام کی اخلاقی تعلیمات کی روح ہمدردی و خیر خواہی، عدل و انصاف اور مساوات و احترامِ نفس ہے۔ اسلام کی خصوصیت یہ ہے کہ اس نے یہ اعلیٰ اخلاقی اصول وضع کیے اور معاشرے میں اسے صد فی صد لاگو کرکے دکھا یا۔اس سلسلے میں اسلام کی آواز اتنی موثر تھی کہ محض قرآن کے اس اعلان سے کہ شراب گندگی اور شیطانی عمل ہے ، مدینہ کی گلیوں میں شراب بہنے لگی۔یہ کوئی افسانے یا قصے نہیں بلکہ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام کی پوری زندگی اسلام کے اسی انقلاب آفریں اخلاقی نظام کا آئینہ ہے۔نبی اکرم ﷺ نے تاریخ انسانی کے سب سے اعلیٰ اخلاقی معیار قائم کیے۔ آپ ﷺ کی صدق گوئی اور سچائی کا یہ عالم تھا کہ کفار مکہ کے سردار ابو سفیان کو ہرقل کے دربار میں اس کے اس سوال پر کہ کیا تم نے کبھی محمد ﷺسے کچھ جھوٹ سنا ہے، یہ گواہی دینی پڑی کہ نہیں۔ آپ ﷺ کی امانت و دیانت کا یہ حال ہے کہ پورا مکہ آپ ﷺکا دشمن، آپﷺکی دعوت سے ان کو انکار لیکن امانتوں کے لیے اگر کوئی محفوظ جگہ تھی جو اسی نبی ﷺ کا مکان۔
فتح مکہ کے موقع پر آپ ﷺ نے جس عفو و درگذر اور تواضع و شفقت کا ثبوت دیا، کیا اس کی نظیر کسی تاریخ میں ملنی ممکن ہے؟غرض آپ ﷺ کی پوری زندگی اعلیٰ ترین اخلاق و اوصاف کا ایسا نمونہ ہے کہ اس سے بہتر نمونہ پیش نہیں کیا جاسکتا۔ اگر ہم اپنے معاشرے کو ایسی غلاظتوں سے پاک کرنا چاہتے ہیں تو سوائے رسول اکرم ﷺکے اخلاق کی پیروی کے ہمارے پاس دوسرا کوئی راستہ نہیں۔ یاد رکھیں اقوام بھوک و ننگ سے تباہ و برباد نہیں ہوتیں،اخلاقی پستی اقوام کو اس قدر برباد کر دیتی ہے کہ پھر داستاں تک نہیں ملتی داستانوں میں۔ہمارے قائدین کو اخلاقیات کا دامن تھامنا ہوگا ، ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے پورے معاشرے کی اخلاقیات کو تباہ کرنے سے گریز کرنا ہوگا،وگرنا یقینی تباہی سے ہمیں کوئی نہیں بچا سکتا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button