Column

 فساد کا سرچشمہ …. قادر خان افغان

قادر خان افغان
عوام میںخلش و کاوش ، افسردگی و پژمردگی ، پریشانی اور دل گرفتگی بڑھتی جا رہی ہے ۔ اقتدار کے جبری حصول کے خاطر جو کھلواڑ کیا جارہا ہے، اس نے دنیا کے سامنے قوم کے سر شرم سے جھکا دیئے ہیں۔ ایک ایسے معاملے کا ذکر بڑی ہولناک ، عمیق اور تباہ کن انا پرست کی توسط سے ، آتش فشاں ہلاکت کے کنارے پر پہنچ چکا جو ملک وقوم کے لیے قطعی طور پر اچھا نہیں ، اس عمل سے مملکت خداد اد تباہی کے دہانے پر پہنچ سکتی تھی تاہم ریاست کے حفاظتی بند نے ایسے کف بردہاں مہیب سیلاب کو آگے بڑھنے سے احسن طریقے سے روک دیا ۔ قیام پاکستان کے خلاف روز اول سے ہی سازشیں ہوتی رہی اور انہیں طشت از بام ہونے سے قبل ریاستی ادارے ناکام بھی بناتے رہے اور رہیں گے ۔ لیکن اب جو کچھ ہو رہا ہے اسے سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ سینہ کوبی اور غوغا آرائی وطن سے محبت نہیں بلکہ خود پرستی ہے۔
سیاست میں کچھ ایسے بھیانک چہرے بے نقاب ہوئے ، جن کے قول و فعل کے تضاد نے خود کو ہی آشکارکیا ۔ اقتدار سے محروم ہونے تک سب کچھ انا پرست کی توقعات کے خلاف ہوا ، اس لیے اس پر خفقان کے دورے پڑ رہے ہیں ، اقتدار کو بچانے کے لیے جس قدر کذب و افترا ء سے کام لیا اور جس قدر بے سروپا افسانے نشر کئے ، فرضی داستانیں شائع کی ، جتنے جھوٹ بولے ہیں ، جس قدر دشنامی کی ہے ، وہ سب اس امر کی شہادت ہیں کہ کرسی سے محرومی کے جھٹکے کی تاب نہ لاکر ، حواس باختہ ہوچکے ہیں۔ دنیا کو یہ کماحقہ معلوم ہوچکا ہے کہ کرسی سے محبت کتنی گہری ہوتی ہے کہ اس کو بچانے کے لیے کس کا ہاتھ ، کس حد تک کارفرما رہا۔
واضح رہے کہ جو سیاسی جھکڑ لانے کی کوشش کی جا رہی ہے ، اس سے یہ بے نقاب ہو رہے ہیں ، سوشل میڈیا میں وضعی اور جھوٹی خبروں کا سو نامی آیا ہوا ہے ، اس تباہی کا ذمے دار کون ہے یہ کوئی ڈھکا چھپا نہیں ۔ درحقیقت یہ ایک اعصابی جنگ تھی جس کا بڑی ہمت اوراستقامت کے ساتھ مقابلہ کیا گیا اور ریاستی اداروں نے ایسے حوصلہ شکن حالات میں ، نہ تو ہمت ہاری اورنہ ہی دامن ِ ضبط و تحمل کو ہاتھ سے جانے دیا ۔ بدتر حالات میں بھی فتنہ سازوں کو اداروں نے ایسا دنداں شکن جواب دیاجس کے نقوش تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ مرتسم رہیں گے اور متشدد خلل کے نشان تو مٹ جائیںگے لیکن یاد رہے گا کہ ملکی سالمیت مضبوط ہاتھوں میں تھی اور ہے ۔ منافقین نے جہاں اپنی بد باطنی اور خباثت کا جو ثبوت دیا، اس پر ریاست نے جواباً مخلصانہ جذبے اور فرائض کا حق ادا کردیا ہے۔
اقتدار کے لیے جس طرح آئین کو روندا گیا اور ریاست کی رٹ کو لتاڑا گیا ، اس کا ایسا ردعمل آیا کہ ابھی تک جھرجھری لے رہے ہیں۔ دکن کے غدار میر صادق اور بنگال کے میر جعفرؔ کی سازشیں تو ابھی کل کی بات ہے ، ان دونوں نے مسلمانوں کی دو عظیم سلطنتوں کو جس طرح تباہ کرایا تھا وہ بھی ہماری تاریخ کا عبرت ناک المیہ ہے ۔ لیکن اب شہر در شہر در بدر پھرنے اور فساد فی الارض پھیلانے والے کی کرب انگیز ، اضطراب خیز اور صد ہزار عبرت ٓامیز حالت کا نقشہ ملاحظہ کیجئے کہ قوم کو گمراہ اور نوجوان نسل کو مزید تباہی کا دوچار کرنے کے لیے جھوٹ و مناقت کا لبادہ اوڑھ کر وطن عزیز میں آگ لگانے کی اصل و مذموم سازش کررہے ہیں ۔ عدم برداشت کے ایسے کلچر کو متعارف کرادیا کہ اب اس کی بیخ کنی کیسے ہوگی شاید وہ خود بھی نہیں جانتے ۔
ملک کو بحرانوں میں مبتلا کرنے والوں نے جو کچھ کیا اور جو ان کے عزائم تھے ، اس کے پیش نظر ان کے جرم کے اثبات کے لیے کسی مزید شہادت کی ضرورت باقی نہیں رہتی ، اس لیے ضروری ہے کہ ان کی چہروں سے جلد ازجلد نقاب اتاری جائے کیونکہ بے بنیاد پروپیگنڈا سے نوجوان نسل بری طرح متاثر ہو رہی ہے ، اقتدار سے محروم طبقے کے سر خیل اپنے رفقا کے نام ایسی ایسی ہدایات جاری کرتے ہیں کہ
جس میں اب کوئی شبہ نہیں کہ فساد فی الارض کے لیے فروعی مفروضوں کے اخترا ح کی خبریں وضعی اور جھوٹی ہیں ۔ ملک میں جو بھی خلفشار رونما ہوا اس میں شبہ نہیںرہا کہ ان کا براہ راست تعلق اُس پارٹی سے ہے جس کی اپنی صفوں میں کرپٹ ، اقربا پرور اور عوام کو معاشی تباہی کا شکار کرنے والے شامل ہیں ، بڑے بڑے نام نہاد ذمے داران جس قسم کے بیانات دے رہے ہیں ، اس کے بعد ریاست کو مزید چوکنا ہونے کی ضرور ت ہے کہ حب الوطنی کے لبادے میں ملک دشمن عناصر موجود ہیں اور ان کی طرف سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے ۔ پہلے جب وہ خود ارباب ِ نظم و نسق کے ذمے دار تھے، تب بھی اس قسم کے بیانات منصہ مشہود پر آتے رہے جو مسند اقتدار پر ایسے عناصربراجمان موجود تھے جنہیں خارجی قوتوں کی طرف سے ہر قسم کی امداد ملتی رہی ۔
قوم کو سمجھنا اور پس پردہ حقائق کو جاننا ہوگا ،اگر یہی حال رہا اور اس ضمن میں کوئی موثر تدابیر اختیار نہ کی گئیں تو اس کو بڑھنے اور پھیلنے کی مہلت سے موجودہ خلفشار کی مکروہ شکل ناقابل تلافی نقصان کا سبب بن جائے گی ، قوم ریاستی اداروں کی شکر گذار ہے کہ اس نے ، ان کا جس عزم اور حزم سے مقابلہ کیا ، اس سے ملک تباہی سے بچ گیا لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ اب ملک کو پوری طرح کنگھالا جائے اور ایسے عناصر اور ان کے سرپرستوں کی سرکوبی کی جائے جنہوں نے اداروں کے تقدس کو پامال کیا ، اس کے ساتھ ہی اس قسم کی تدابیر اختیار کی جائیں کہ شر پسند مذموم عناصر پھر سے زمین گیر نہ ہونے پائیں ،خواہ اس کے لیے کیسی ہی بطشِ شاید سے کیوں نہ کام لینا پڑے ، حاضرہ فتنے کی سرکوبی کے لیے ہر قسم کی تدابیر اختیار کی جائیں۔ یاد رکھئے نہ کوئی جماعت ساری کی ساری خراب ہوتی ہے اور نہ ہی وہ از خود فساد انگیزیوں پر آمادہ ہوتی ہے ، یہ چند افراد ہوتے ہیں جو قوم کو بگاڑ دیتے ہیں اور انہیں پابند کردینے سے فساد کا سرچشمہ بند ہوجاتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button