Editorial

 وزیراعظم شہبازشریف کا موثر اور مدلل خطاب

وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے اپنے پہلے خطاب میں کہا ہے کہ لیٹرگیٹ سکینڈل کی انکوائری کرائی جائے گی۔ قومی سلامتی کمیٹی میں مسلح افواج کے سربراہان اور ڈی جی آئی ایس آئی کی موجودگی میں خط کے معاملے پر ان کیمرہ بریفنگ دی جائے۔ اگر اس معاملے میں ہمارے ملوث ہونے کے ثبوت کا شائبہ تک ملا تو سب کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائوں گا۔وزیراعظم میاں محمد شہبازشریف نے اپنے خطاب میں واضح طور پر کہا کہ ہم بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں لیکن مسئلہ کشمیر کے حل تک خطے میں پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا۔ وزیراعظم مودی سمجھیں دونوں طرف غربت، بیروزگاری، بیماریاں ہیں۔ بھارتی وزیراعظم آئیں مسئلہ کشمیر کو کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق حل کریں۔ پاکستان اور بھارت دونوں طرف غربت ختم کریں۔ ترقی اور خوشحالی لے کر آئیں۔ چین سے دوستی کو مستحکم اور سی پیک پر کام کو مزیدتیز کیاجائے گا۔ معیشت کو پائوں پر کھڑاکریں گے ۔ جمہوریت اور معیشت کو آگے بڑھانے کے لیے ڈیڈ لاک کی بجائے ڈائیلاگ اور مخاصمت کی بجائے مفاہمت سے کام لینا پڑے گاکیوں کہ نہ کوئی غدار ہے اور نہ کوئی غدار تھا۔ بلاشبہ کسی ریاست کے سربراہ کا پہلا خطاب عالمی سطح پر انتہائی اہمیت کا اعتبار ہوتا ہے اور عالمی سطح پر اُس خطاب سے نئی حکومت کی خارجہ اور داخلی پالیسی واضح ہوتی ہے۔ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں جہاں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو دونوں ملکوں سے غربت کے خاتمے ، ترقی اور خوشحالی کا صائب نسخہ پیش کیا وہیں انہوں نے دوطرفہ تعلقات میں بہتری کے لیے مسئلہ کشمیر کو کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق حل کرنے کا راستہ بھی دکھایا یوں میاں محمد شہبازشریف نے دونوں ملکوں کی عوام کی فلاح وبہبود کو مسئلہ کشمیر کے پرامن حل سے منسوب کرکے درحقیقت واضح پیغام دیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو حل کیے بغیر بھارت اور پاکستان کے تعلقات دوستانہ ہوسکتے ہیں اور نہ ہی دونوں ممالک ترقی اور خوشحالی کی طرف بڑھ سکتے ہیں اور اگر نریندر مودی گولہ بارود کے ڈھیر لگانے کی بجائے بھارتی عوام کے حق میں بہتر کرنا چاہتے ہیں تو وہ پہلے مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی اُمنگوں کے عین مطابق یعنی اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کریں تاکہ یہ دیرینہ تنازعے حل ہو اور جو سرمایہ انسانیت کی تباہی کا سامان خریدنے پر خرچ کیا جارہا ہے وہی بھارتی عوام کی غربت، صحت اور تعلیم جیسے بنیادی مسائل پر خرچ کیا جاسکے اسی طرح پاکستان بھی وہ سرمایہ جو بھارتی جنگی تیاریوں سے نمٹنے کے لیے خرچ کررہا ہے وہ پاکستانی عوام کی فلاح و بہبود کے لیے خرچ کرے۔
وزیراعظم میاں محمد شہبازشریف نے اپنے خطاب میں پنشنرز کو فوری ریلیف دینے کے لیے سول اور آرمی کے پنشنرز کی پنشن میں یکم اپریل سے 10 فیصد اضافہ کا اعلان کیا اور کہا کہ نجی شعبہ بھی ایک لاکھ تک تنخواہ وصول کرنے والے اپنے ملازمین کی تنخواہوں میں
دس فیصد اضافہ کرے، بلاشبہ اِس اعلان سے سرکاری ملازمین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے لیکن وزیراعظم کا یہ اعلان آیا وفاقی محکموں تک ہی محدود رہے گا یا پھر صوبائی حکومتیں بھی اِس اعلان کے مطابق اپنے سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بڑھائیں گے؟ نجی شعبے سے منسلک افراد کی اُجرت پر بات کرنے سے پہلے ہم وزیراعظم سے گذارش کرنا چاہیں گے کہ ریلوے اور کئی ایک بینکوں کے ملازمین اپنی پنشن کے معاملے پر آج بھی سڑکوں پر سراپا احتجاج ہیں، ان کے مطالبات کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیے کیونکہ جن لوگوںنے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ اِن اداروں کے لیے وقف کیے رکھا وہ اِس عمر میں اب اپنا حق پنشن کے حصول کے لیے دربدر ٹھوکریں کھاکررہے ہیں، یقیناً کچھ معاملات ایسے بھی ہوں گے جن پر ایسے ملازمین کے موقف کو صد فیصد درست تسلیم نہ کیا جائے اور کچھ دوسری طرف سے بھی ایسے ہوں لیکن گذارش کا مقصد یہی ہے کہ عمر کے اِس حصے میں پنشنرز کو عزت و احترام سے نوازا جائے اور ان کے پنشن کے مسائل فی الفور حل کردیئے جائیں تو یہ اُن پراحسان ہوگا۔ صوبائی حکومتوں کے ملازمین بھی چاہیں گے کہ وزیراعظم کے اعلان کی روشنی میں اُن کی تنخواہوں اور پنشن و دیگر مراعات میں اضافہ ہو تو اِس معاملے پر بھی صوبائی حکومتوں سے کہاجانا چاہیے تاکہ وفاقی اور صوبائی ملازمین میں تفریق پیدا نہ ہو کیوں کہ ماضی میں ایسا ہوتا رہا ہے کہ صوبائی ملازمین وفاقی ملازمین کو ملنے والی مراعات کو بنیاد بناکر سالہا سال سراپا احتجاج رہے ہیں۔ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ رمضان پیکیج کے تحت عوام کو سستا آٹا ملے گا۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام دوبارہ لے کر آئیں گے اور بطور خادم پاکستان چاروں صوبوں کو لے کر چلوں گا اور پورے ملک کو یکساں ترقی کے راستے پر ڈالیں گے اور طلباء کو مزید لیپ ٹاپ دیں گے۔ بلاشبہ وزیراعظم میاں محمد شہبازشریف کے یہ اعلانات پورے ملک کی عوام کے لیے خوشخبری سے کم نہیں مگر ہم چاہتے ہیں کہ موجودہ معاشی صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے جس حد تک ممکن ہو اشیائے خورونوش کی قیمتیں اعتدال یعنی عام آدمی کی پہنچ میں لائی جائیں کیونکہ کرونا وائرس، طلب ورسد اور دیگر وجوہات کی وجہ سے آج مہنگائی کا ایسا طوفان چہار سو بپا ہے کہ اِس کا اندازہ ایوان میں بیٹھ کر نہیں کیا جاسکتا۔ لوگوں کے لیے سفرِ زیست انتہائی کٹھن ہوچکا ہے اور رہی سہی کسر یوٹیلٹی بلز کی ادائیگی میں نکل جاتی ہے، چونکہ بطور وزیراعلیٰ پنجاب آپ انتظامی امور میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں اور آپ کو دنیا بھر میں بہترین ایڈمنسٹریٹر کے طور پر جانا جاتا ہے اِس لیے آپ سے عوام کو بڑی توقع ہے کہ آپ نہ صرف مہنگائی کو کنٹرول کریں گے بلکہ خودساختہ مہنگائی ، گراں فروشی اور زخیرہ اندوزی کرنے والوں کو بھی سبق سکھادیں گے۔ عام تاثر یہی تھا کہ سرکاری انتظامی مشینری نے پی ٹی آئی حکومت کے ساتھ تعاون نہیں کیا اِس لیے وہ بہتر پرفارم نہیں کرسکے لیکن آپ انتظامی مشینری سے کام لینے کا بہترین اور وسیع تجربہ رکھتے ہیں اِس لیے آپ سے زیادہ توقعات ہیں کہ آپ انتظامی افسران کے ذریعے عوام کو اُن عفریتوں سے نجات دلائیں گے جن کا کئی سال سے عامۃ الناس کو سامنا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اب صرف عوام پاکستان ہی نہیں بلکہ اتحاد میں شامل تمام جماعتوں نے آپ پر نگاہیں مرکوز رکھی ہوئی ہیں آپ کم وقت میں اپنے وسیع تجربے سے جتنا ڈیلیور کریں گے اِتنا ہی آپ کی سیاسی جماعت مسلم لیگ نون اور اتحادیوں کو سیاسی فائدہ ہوگا چونکہ سبھی اتحادی جماعتوں نے آپ کو وزیراعظم کے اہم منصب کے لیے متفقہ طور پر منتخب کیا ہے اِس لیے اب آپ پر دوہری نہیں بلکہ کہیں زیادہ ذمہ داری آچکی ہے ، جناب وزیراعظم جیسے آپ وزیراعلیٰ پنجاب کے طور پر باقی وزرائے اعلیٰ کے لیے ایک بڑی مثال تھے اب بطور وزیراعظم پاکستان آپ نے سابق اور آنے والے وزرائے اعظم کے لیے مثال بننا ہے، سابق وزرائے اعظم کے ساتھ آپ کے انتظامی امور کا موازنہ کیا جائے گا تو آپ کے بعض اقدامات بعد میں آنے والے وزرائے اعظم کے لیے مشعل راہ ہوں گے اور وہ اُن کی تقلید کریں گے۔ جناب وزیراعظم آپ سے توقع کی جارہی ہے کہ عام پاکستانی کے مسائل کو آپ اولین ترجیح کے طور پر سامنے رکھیں گے کیوں کہ عام پاکستانی کا مسئلہ ہی روٹی، کپڑا اور مکان رہا ہے۔ اگرچہ بظاہر آپ کے پاس آئینی مدت کے حوالے سے وقت کم ہے لیکن ہمیں یقین ہے کہ آپ اِس دوران ایسے کام کردیں گے جو ہمیشہ بطور وزیراعظم آپ کی ضرورت محسوس کرائیں گے۔
وزیراعظم میاں محمد شہبازشریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ قرض کی زندگی کوئی زندگی نہیں ہے، اگر ہم نے زندہ رہنا ہے تو ایک باوقار اور خودمختار قوم کی طرح رہنا ہے، اس کے بغیر ہم کھویا ہوا مقام حاصل نہیں کر سکتے۔ اللہ جانے کیسی تبدیلی کی ہوا چلی معیشت اور معاشرہ تباہ ہوگئے اور معاشرے کے اندر اتنا زہر پھیل گیا کہ سالہا سال زہر آلود پانی نکالنے میں لگ جائیں گے۔ ہم نے حالات کا درست ادراک نہ کیا تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔ معیشت کی صورتحال انتہائی گھمبیر ہو چکی ہے،اِس لیے ہم نے ملک کی ڈوبتی کشتی کو پار لگانا ہے تو اس کے لیے اتحاد کے علاوہ کوئی نسخہ کارگر ثابت نہیں ہو سکتا۔اگر اللہ نے چاہا تو انتھک محنت سے صورتحال بہتری میں بدل جائے گی۔اس وقت پاکستان کو تاریخ کے سب سے بڑے بجٹ خسارہ کا سامنا ہے۔ کرنٹ اکائونٹ خسارہ ، دو کروڑ لوگ بیروزگار اور کروڑوں پاکستانی مہنگائی کا شکار ہیں۔ لاکھوں کروڑوں بچے بھوک سے روٹی کے بغیر سوتے رہے۔ پتہ نہیں ان کو نیند کیسے آ?تی تھی۔پونے چار سال میں کھربوں کے قرضے لیے گئے۔ ملک میں ہم ترقی کے نئے دور کا آغاز کر رہے ہیں۔ ’’بیگرز کین ناٹ بھی چوزرز‘‘ کہنے والے اپنے گریبانوں میں جھانک کر دیکھیں۔وزیراعظم نے بھارتی ہم منصب کو دعوت دی کہ خطے میں غربت ، بیروزگاری کے خاتمے اور خوشحالی کے لیے مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرنا چاہیے۔ ہمیں پاکستان میں تقسیم در تقسیم کو ختم کرنا ہے۔ ہمیں اختلافات کی لکیر کو ختم کرنا ہوگا اور اتفاق سے مسائل حل کرنا ہوں گے۔ وزیراعظم میاں محمد شہبازشریف نے واضح طور پر کہا کہ ہمیں برابری کی سطح پر امریکہ کے ساتھ تعلقات استوار کرنا ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button