Column

سندھ کے یہ ہسپتال ….. علی حسن  

 علی حسن

ضلع سانگھڑ کی تحصیل میں شہداد پور انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے اچانک دورے کے دوران صوبائی وزیر صحت نے صورت حال کا جائزہ لینے کے بعد سخت قسم کی برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ اِتنی بڑی رقم فراہم کرنے کے باوجود ہسپتال کی حالت یوں لگتی ہے کہ جیسے یہاں انسانوں کا نہیں بلکہ بھیڑ بکریوں کا علاج ہوتا ہے۔ صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عزرا پے چو ہو صوبہ سندھ میں2008سے برسر اقتدار پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئر پرسن آصف علی زرداری کی ہمشیرہ ہیں۔ وہ خود بھی 2018سے وزیر صحت ہیں۔ وزیر صحت اکثر وزراءکے مقابلے میں کہیں زیادہ ہی با اختیار ہیں۔ محکمہ صحت میں انتظامی سربراہوں کی تبدیلی ہوتی رہتی ہے لیکن سندھ کے سرکاری ہسپتالوں کے حالات کار میں محسوس کی جانے والی کوئی تبدیلی محسوس نہیں کی جاتی ۔

ضلع لاڑ کانہ کے شیخ زیدہسپتا ل میں زچگی کے وارڈ کی حالت ویڈیو کسی نے سوشل میڈیا پر ڈال دی ۔ ایک اور ہسپتال کے وارڈ کی وڈیو بھی ڈالی گئی جہاں بیک وقت کئی کتے دندناتے پھر رہے ہیں۔ وسائل کے مارے ہوئے انسانوں کا جم غفیر صحت کی اپنی ضرورتوں کے لیے سرکاری ہسپتالوں کا ہی رخ کرتے ہیں ۔ البتہ جن لوگوں کے پاس وسائل ہیں وہ نجی ڈاکٹروں اور ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں۔ اِن میں وہ لوگ بھی شامل ہو تے ہیں جنہیں ذہنوں میں یہ سما گیا ہے کہ جیسے تیسے ہو، قرضہ ہی لینا پڑے، نجی ڈاکٹروں اور ہسپتالوں سے ہی علاج کرانا چاہئے۔ نجی ہسپتالوں میں بھی غریبوں کا حلیہ دیکھ کر ہی توجہ دی جاتی ہے۔ امیر و غریب کے درمیاں تفریق ایک ایسا مائنڈ سیٹ ہے جس کی وجہ سے پاکستان بھر کے اکثر علاقوں میں غریب عوام ہی متاثر ہو رہے ہوتے ہیں۔ لیکن اِس مائنڈ سیٹ کو تبدیل کرنے کی سیاستدان اور عدالتیں ضرورت ہی محسوس نہیں کرتی ہیں۔ حالات کار کیوں تبدیل نہیں ہو سکتے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ڈاکٹروں کی کھیپ کی کھیپ سفارش کی بنیاد پر تقرری پاتی ہے ، اِس کے بعد وہ من مانی ہی کرتے ہیں۔ اِن ڈاکٹروں کو یہ خیال کیوں نہیں آتا کہ جن علاقوں کی بنیاد پر اِنہیں سرکاری ملازمت مہیا کی گئی ہے ،اِس کا تقاضہ ہے کہ اِس علاقے کے لوگوں کی بھرپور خدمت کی جائے۔ کہیں بھی غریب لوگوں کے ساتھ کھلی کچہری ، معمول کی گفتگو اور تبادلہ خیال ہی نہیں کیا جاتا۔ اِس کے بغیر تو مائنڈ سیٹ تبدیل ہی نہیں ہونا ۔ دوسری بنیادی خرابی یہ ہے کہ سرکاری ڈاکٹروں کی بھاری بھاری تنخواہوں کے باوجود نجی پر یکٹس پر ذمہ داراداروں کے حکام آنکھیں بند رکھتے ہیں۔ کیوں نہیں اِس قانون پر عمل کرایا جا سکتا ہے کہ جس کے تحت سرکاری ڈاکٹروں کے نجی پریکٹس پر پابندی عائد کی جائے۔
مائنڈسیٹ کا شکار سب سے زیادہ شعبہ صحت میں ڈاکٹر حضرات ہی ہیں۔ انسانوں کے درمیاں تفریق اِن کا ایسا رویہ ہے جس کی وجہ سے غریب لوگ اپنے عزیزوں کی موت کو ” خدا کی رضا“ قرار دے کر خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ ڈاکٹر یا ہسپتالوں کے سربراہ در اصل اپنے معاملات میں اِس قدر الجھے ہوئے ہوتے ہیں کہ کسی اور طرف توجہ ہی نہیں دے پاتے ہیں لیکن اِسی دور میں ایسے افراد بھی تو ہیں جو کراچی میں گردوں کے علاج معالجہ اور تبدیلی اور ضلع خیر پور کے علاقے گمبٹ میں جگر کے علاج اور تبدیلی کے کام کے ساتھ ہمہ وقت جتے ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر ادیب الحسن کے نام سے کون واقف نہیں ہے۔ کراچی میں اُنہوں نے گردوں کی تبدیلی اور علاج کا ملک کا سب سے بڑا ہسپتال قائم کر دیا ہے۔ کسی رنگ اور نسل، علاقہ یا سفارش کے بغیر علاج کیا جاتا ہے۔ مریض کاہسپتال پہنچنا شرط ہے۔ باقی کام ہسپتال کے ذمہ داران کی ذمہ داری ہے۔ یہ ضابطہ کہئے یا اصول ، ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی اور اِن کے ساتھیوں نے ہی قائم کیا ہے۔ ڈاکٹر ادیب الحسن پر تو طلباءکی تنظیم ڈیمو کریٹک سٹودنٹس فیڈریشن کی ابتدائی زمانہ کی تربیت کا نتیجہ ہے۔ علاج کے دوران دوا یا کوئی اور ضرورت کی چیزہسپتال مہیا کرتا ہے۔ ہسپتال کو حکومت سندھ کی جانب سے ضرورت کی رقم مہیا کی جاتی ہے لیکن عمارتوں کی تعمیر کی ضرورتیں مخیر حضرات پوری کرتے ہیں۔ یہ تو گردوں کی تبدیلی اور علاج کی سہولت کی بات ہوئی۔ حیدرآباد میں دل کے علاج کا ہسپتال ڈاکٹر راحیل حسین نے تنہا قائم کیا تھا جب اِنہیں لیاقت میڈیکل ہسپتال میں مقرر کیا گیا تھا ۔ اِنہوں نے ذاتی کوششوں سے دل اور جگر کے علاج کا یونٹ قائم کیا لیکن اِس وقت کے وزیر صحت ڈاکٹر سکندر مہندرو نے اِسے پوری طرح قائم ہونے ہی نہیں دیا۔ قدم قدم پر رکاوٹوں نے ڈاکٹر راحیل حسین کو دل برداشتہ کر دیا اور انہوں نے سرکاری ملا زمت کو ہی خیر آباد کہا دیا حالانکہ وہ بیرون ملک سے اپنی ملازمت چھوڑ کر پاکستان آئے اور یہاں اُنہوں نے حیدرآباد میں خدمات انجام دینے کو ترجیح دی تھی۔
گمبٹ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز ضلع خیر پور میں قائم ہے۔ سندھ کا ضلع خیر پور قیام پاکستان سے قبل تالپوروں کی ایک ریاست تھاجو اپنے وقت میں اپنی مالی ضرورتوں کے حوالے سے کسی کی بھی ماتحت تصور نہیں کی جاتی تھی۔ریاست میں مختلف قسم کی صنعتکاری کا جال بچھا ہو ا تھا حالانکہ ریاست کے طول و عرض میں درگاہوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گمبٹ بھی ایسے ہی علاقوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ گمبٹ میں ڈاکٹر رحیم بخش بھٹی نے دو کمروں کے ایک سرکاری ہسپتال سے کام شروع کیا۔ ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی کی طرح ڈاکٹر بھٹی بھی اپنے کام سے اِس حد تک مخلص ہیں کہ وہ دو کمروں کی ڈسپنسری آج ملک کا ایک ایسا ہسپتال بن گیا ہے جہاں جگر کے علاج اور جگر کی تبدیل کا کام ہمہ وقت کیا جاتا ہے۔ گمبٹ کے اِس ہسپتال میں بلا معاوضہ علاج کرانے کے لیے پاکستان کے مختلف شہروں سے عوام گمبٹ آتی ہے۔ ہسپتال میں محدود بستروں کی وجہ سے مریضوں کا وقت تو لگتا ہے لیکن نمبر آنے پر اِن کا علاج ہو جاتا ہے۔ سندھ میں اِن دوہسپتالوں کی مثال ایسی ہے جو اندھیرے میں رو شنی کا سبب ہیں۔ سندھ میں ڈاکٹر رضوی اور ڈاکٹر بھٹی کے ہسپتال کیوں روشنی کا مینارہ ہیں۔ دوسرے ہسپتال کیوں نہیں ” پاور ہاﺅس“ بن سکتے ہیں۔ ڈاکٹر ادیب، ڈاکٹر بھٹی، ڈاکٹر راحیل جیسے لوگوں کو تلاش کیا جائے اور اِنہیں ذمہ داری سونپی جائے تو کچھ امید بندھے گی۔ شہداد پور کاہسپتال ہو یا کسی اور علاقے کا ہسپتال ہو، وہ کیوں نہیں خدمت انجام دینے کا سبب بن سکتا ہے۔ دوسری بات جو وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پے چو ہو نے خود سوال کیا کہ خطیر رقم ہسپتال کو فراہم کی جاتی ہے، وہ کہاں جاتی ہے؟ ڈاکٹر صاحبہ ذمہ داروں کو تلاش کریں جو علاج معالجہ کے پیسے تک اپنی جیبوں میں رکھ لیتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button