Column

  صحت کارڈ پہلاقطرہ ہے جو دریا بنے گا ….. عقیل انجم اعوان

عقیل انجم اعوان

(ن) لیگ اور پی پی کی حکومتوں میںپاکستان کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب میں صحت کے مسائل ہمیشہ سے گمبھیر رہے ہیں۔بدقسمتی سے ماضی کی حکومتوں کے دوران صحت کے مسائل کو ترجیحاً حل کرنے کے لیے ٹھوس منصوبہ بندی نہ ہو سکی اور ڈنگ ٹپاﺅ پالیسیوں کے باعث عوام کو درپیش مسائل میں مسلسل اضافہ ہوا۔ آبادی مسلسل بڑھنے سے صورت حال اور بھی خراب ہوئی چنانچہ جب تحریک انصاف کو اقتدار ملا تو دوسرے شعبوں کی طرح صحت کا شعبہ بھی بُری طرح درہم برہم ہو چکا تھا۔ وزیراعظم عمران خان کے وژن کے تحت وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے شعبہ صحت کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کرنے اور شہروں سے دیہات تک اور ترقی یافتہ مراکز سے جنوبی پنجاب سمیت پنجاب کے دور دراز کے علاقوں تک عوام کو صحت کی زیادہ سے زیادہ سہولتیں پہنچانے کا چیلنج قبول کیا۔

 

گزشتہ تین برسوں کے دوران صوبہ پنجاب میں صحت کے شعبہ میں جس جانفشانی سے کام کیا گیا اِس کے نتائج بھی سب کے سامنے ہیں۔پوری دنیا کی طرح جب پاکستان اور صوبہ پنجاب میں کرونا کی وبا نے سر اٹھایا تو وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے کامیاب حکمت عملی سے اِس وبا سے عوام کو بچانے کے اقدامات کئے۔ ہسپتالوں میں خصوصی انتظامات کے ساتھ ساتھ ایکسپو سنٹرلاہور اور دوسرے مقامات پر تمام سہولتوں کے ساتھ ساتھ خصوصی سینٹرز کے قیام اور مریضوں کے علاج کے ساتھ ساتھ لاک ڈاﺅن کی منصوبہ بندی کے حوالے سے وفاقی حکومت کی پالیسی پر سو فیصد عمل کرکے دکھایا، جس سے پہلی، دوسری، تیسری اور چوتھی لہر کے دوران صوبہ پنجاب کے عوام کی جان کا تحفظ کیا گیا اور معمولات زندگی بھی زیادہ متاثر نہیں کیے گئے۔ اِسی طرح کرونا ویکسی نیشن کے حوالے سے بھی پنجاب صوبہ پاکستان کی نیک نامی کا باعث بنا۔ ڈینگی اور ٹڈی دل کی آزمائش بھی آئی، اللہ تعالی کے فضل و کرم اور وزیر اعظم عمران خان کی ویژنری قیادت میں پنجاب اِن آزمائشوںسے سرخرو ہو کر نکلا ۔ بزدار سرکار نے صحت کی سہولتو ں کو بہتر بنانے پر سب سے زیادہ توجہ دی ، ماضی میں شعبہ صحت کو نظر انداز کیا گیا۔ سابق حکومت کے دور میں شعبہ صحت کا بجٹ 169 ارب روپے تھا لیکن موجودہ پنجاب حکومت نے صحت کے بجٹ کو بڑھا کر 399

 

ارب روپے کر دیا ۔
پنجاب حکومت کا سب سے بڑا کارنامہ صحت کارڈ ہے جو پنجاب کے ہر شہری کو ملے گا۔ اِس کارڈ کے ذریعے ہر خاندان کو 10 لاکھ روپے سالانہ مفت علاج کی سہولت میسر ہو گی۔ جنوری سے اِس کارڈ کو پورے پنجاب میں لانچ کر دیا گیاہے، ڈیرہ غازی خان ڈویژن اور ساہیوال ڈویژن میں یہ کارڈ پہلے ہی دیا جا چکا ہے۔ پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار لاہور سمیت پس ماندہ اضلاع میں 8مدراینڈ چائلڈ ہسپتال بن رہے ہیں، ملتان نشتر ٹو، ڈی جی خان میں کارڈیالوجی انسٹیٹیوٹ، رحیم یار خان میں شیخ زید ہسپتال ٹواور راولپنڈی میں انسٹیٹیوٹ آف یورالوجی بن رہے ہیں ، راولپنڈی اور بہاولپور میں ڈینٹل کالج بنائے جارہے ہیں، لاہور میں فیروزپور روڈ پر ایک ہزار بیڈ کے نیا ہسپتال کے قیام کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ لاہور میں 3 ہسپتالوں کی 4 سو بیڈز کی نئی ایمرجنسیز بنے گی۔ پنجاب حکومت نے 3 برس میں 25 ہسپتال بنائے ، 158 مراکز صحت کو اَپ گریڈ کیا، چنیوٹ ، حافظ آباد اور چکوال میں نئے ڈسٹرکٹ ہسپتالوں کے ساتھ ساتھ منڈی بہائوالدین کے ڈی ایچ کیو ہسپتال کے نامکمل منصوبے کوتحریک انصاف کی حکومت نے پایہ تکمیل کو پہنچایا۔ 3 سال میں صحت کی نئی 78 سہولیات فراہم کی گئیں۔ ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ پیکیج میں ہیلتھ کے 91نئے ترقیاتی منصوبے شامل کئے گئے ہیں۔

 

مزدور اور محنت کش طبقے کو علاج معالجے کی بہترین سہولتیںفراہم کرنے کے لیے نئے ہسپتال بنانے پر بھی توجہ دی گئی۔ PESSI کے آغازسے52سال یعنی2018ءتک پنجاب میں 14سوشل سکیورٹی ہسپتال تھے۔وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے صرف تین سال میں 9نئے ہسپتال بنائے ہیں۔ اب صوبہ میں 23سوشل سیکورٹی ہسپتال ہیںجہاںہررجسٹرڈ مزدور اور محنت کش کو مفت علاج معالجے کی بہترین سہولتیں میسر ہیں۔اگر غور کیا جائے تو پاکستان سمیت دیگر بڑے بڑے ممالک بھی صحت کارڈ جیسی سہولت نہیں دے رہے۔ انشاءاللہ تحریک انصاف کی حکومت لوگوں کو غربت کی سطح سے اوپر لے کر آئے گی۔پنجاب حکومت اپنے عوام کو صحت عامہ کی سہولت دے کر سرخرو ہوچکی اورجو وعدے کیے تھے، اب اِن کی تکمیل ہو رہی ہے۔ وہ وقت دورنہیں جب حقیقی معنوں میں عام آدمی ریلیف محسوس کرے گا اور یہ صرف وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی انتھک محنت کا نتیجہ ہے کہ پنجاب میں عام آدمی کو صحت کی وہ سہولیات دی جارہی ہے جو 75برس میں کوئی بھی حکومت نہ دے سکی ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button