29 اکتوبر 2020
تازہ ترین

 دی یونیورسٹی آف لاہورمیں پاکستان چلڈرنز ہارٹ فائونڈیشن کے زیر اہتمام پاکستان کے پہلے چلڈرن ہسپتال اینڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی بنیاد رکھنے کی تقریب کا انعقا دکیا گیا جس کے مہمان خصوصی وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان تھے جبکہ تقریب میں پیٹرن انچیف یونیورسٹی آف لاہور ایم اے رئوف ، چیئرمین بورڈ آف گورنرز اویس رئوف ، ڈپٹی چیئرمین عزیر رئوف ، ڈائریکٹر ایچ ایم ایل شہناز رئوف ، ڈائریکٹر سٹوڈنٹس آفیئرز عمارہ اویس پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ و ممبر پاکستان چلڈرنز ہارٹ فائونڈیشن مصباح الحق ،کرکٹرز مشتاق احمد، وہاب ریاض ، اظہر علی ، محمد حفیظ،محمد عباس ،عابد علی ،احمد شہزاد ،ریکٹر مجاہدکامران ،ایم ایس زاہد پرویز،رئوف اعظم ،ڈین چلڈرن ہسپتال پروفیسر ڈاکٹر مسعود صادق اور سی ای او پی سی ایچ ایف فرحان احمد نے شرکت کی ۔ تقریب سے خطاب کر تے ہوئے وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ پاکستان میں بچوںکے دل کا پہلا ہسپتال بنانے پر ایم اے رئوف ، مصباح الحق اور فرحان احمد مبارکباد کے مستحق ہیں ۔ یہ صدقہ جاریہ اور ایسا نیک کام ہے جس کا اجر صرف اللہ تعالی ہی دےگا۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا پروجیکٹ ہے ۔ اس طرح کے پروجیکٹ سے یہ تاثر ملتا ہے کہ معاشرہ کمزور لوگوں کا سہارا بن رہا ہے ۔اس فلاحی کام میں جو بھی کرکٹرز ، پروفیشنلز اور ڈونرز خدما ت سرانجام دے رہے ہیں وہ قابل ستائش ہے ۔آپ لوگ جو بھی قدم اٹھائیں گے ہر کام آسان ہوتا جائے گا۔کمزور کو آگے لیکر چلنا اور سپشلائزڈ ہیلتھ میں بہتری وزیر اعظم کا ویږن ہے ۔کسی بھی حکومت نے اس سے قبل پرائمری اور میڈیکل ایجوکیشن کے شعبے کی طرف توجہ نہیں دی ۔بیماریوں سے ہزاروں کی تعداد میں بچے مر رہے ہیں ۔ ہم ٹرشری کیئر کو بہتری کی طرف لیکر جارہے ہیں۔صحت اگرچہ صوبوں کا سبجیکٹ ہے لیکن وفاق تما م صوبائی حکومتوں کے ساتھ ملکر ہیلتھ سسٹم کو بہتر بنانے میں کوشاں ہے ۔اس کے لیے نئی ٹیکنیکس ،میڈیکل کالجز کو بہتر فریم میں لانا ضروری ہے ۔ ادویات اور آلات کی ریگولیشن بھی ضروری ہے ۔ملک میں ادویات اور آلات کی پروڈکشن کو اگلے مرحلے میں لیکر جانے کی ضرورت ہے ۔اسکے علاوہ نرسنگ کے شعبے میں بہتری کی گنجائش ہے ۔نئے ایکٹ اور ریگولیشن آپ نے پہلے بھی دیکھے ہیں اور مستقبل میںمزید دیکھیں گے ۔حکومت اکیلے بوجھ نہیں اٹھا سکتی اس کے لیے پرائیویٹ سیکٹر کو بھی اپنا کردار اد ا کرنا ہوگا۔ تقریب سے خطاب کر تے ہوئے پیٹرن انچیف ایم اے رئوف نے کہا کہ جب اس پروجیکٹ کے بارے میں چیئرمین اویس رئوف نے ان سے ڈسکس کیا تو انکو خوش آمدید کہا ۔ یونیورسٹی آف لاہور کی اس منصوبے میں بے تحاشہ کنٹری بیوشن ہے ۔انکا کہنا تھا کہ وہ خوش قسمت ہیں کہ انکے بیٹے اویس رئوف نے ان سے بہتر کام کیا۔ہم نے یونیورسٹی کی بنیاد بھی انسانیت سے محبت پررکھی تھی اور بچوں کے دل کا ہسپتال بھی اسی کی کڑی ہے ۔ اللہ کے فضل سے ہم نے جو بھی پروجیکٹ شروع کیا وہ کامیابی سے ہمکنار ہوا اور اللہ سے پوری امید ہے کہ یہ ہسپتال بھی جلد بنے گا اور کامیابی کی منازل طے کرے گا۔اس پرو جیکٹ کے لیے تمام لوگ کام جاری رکھیں انشائ اللہ کامیابی ملے گی۔ہیڈ کو چ و ممبر پی سی ایچ ایف مصباح الحق نے تقریب سے خطا ب کر تے ہوئے کہا کہ اللہ کا شکر گزار ہوں جو اس نیک کام کا حصہ بنا ہوں۔ اس پروجیکٹ کے پیچھے فرحان احمد اور ایم اے رئوف جیسی شخصیات ہیں ۔یونیورسٹی آف لاہور نے پہلے بھی بچوں کے آپریشن کے لیے بہت تعاون کیا ہے اور اب اس پروجیکٹ کے لیے زمین دی ہے جسکا صلہ ہمارے بس میں نہیں اللہ تعالی ہی دے گا۔مصباح الحق کا کہنا تھا کہ وہ سابق ٹیسٹ کرکٹر مشتاق احمد ، محمد حفیظ ، وہاب ریاض ، اظہر علی ،شاہد آفریدی ،بابر اعظم اور احمد شہزاد سمیت تمام کھلاڑیوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں جو انکے بلانے پر اس نیک کام کے لیے ہر جگہ پہنچتے ہیں۔اگر پاکستان میں موجود ایک لاکھ افراد ہر ماہ ایک ہزار روپے اس ہسپتال کو عطیہ کرنے کا فیصلہ کر لیں تو بہت جلد ہسپتال تعمیر ہوکر بچوں کے آپریشن بھی شروع کر دے گا۔ڈاکٹر طارق چیمہ نے تقریب سے گفتگو کر تے ہوئے کہا کہ چیریٹی ہسپتال کے لیے ڈونرز کو دعوت دیتا ہوں کہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیں ۔ہسپتال کی تعمیر میں فنڈز کی ضرورت ہوگی ۔ہم لانگ ٹرم منصوبہ بندی کر رہے ہیں تعمیر کے بعد علاج پر بھی سالانہ کروڑوں روپے خرچ ہوں گے ۔اس ہسپتال میں ان بچوں کا علاج مفت نہیں ہوگا جو اخراجات برداشت کر سکتے ہوں گے ۔ اس سٹیٹ آف دی آرٹ ہسپتال سے آمدنی کما کر بھی غریب بچوں کا علاج کیا جائے گا۔ چیف ایگزیکٹو پی سی ایچ ایف فرحان احمد نے شرکا ئ سے گفتگو کر تے ہوئے کہا کہ ہمارا مشن ہے کہ پاکستان میں کوئی بھی دل کا مریض بچہ بغیر علاج کے نہ رہے ۔ 300 سے زائد بچوں کا علاج کروانے میں یونیورسٹی آف لاہور نے پورا تعاون کیا ہے ۔بچوں کے دل کے ہسپتال کے لیے فیز ون میں 75بیڈز فعال کیے جائیں گے بیسمنٹ اور پانچ فلو رتعمیر کیے جائیں گے ۔ڈونر کی مدد سے جلد ہسپتال تعمیر ہوگا اور بچوں کے داخلے شروع کر دیے جائیں گے ۔کوئی بھی شخص آپریشن تھیٹر یا آئی سی یو کا نام اپنے کسی عزیز کے پر رکھ سکتا ہے جس کے لیے فنڈز عطیہ کرنا ہوں گے ۔ چلڈرن ہسپتال لاہو رکے ڈین پروفیسر ڈاکٹر مسعودصادق کا کہنا تھا کہ گزشتہ 8سال سے ہم اس پروجیکٹ پر کام کر رہے اور آج سنگ بنیاد رکھنے کا دن بھی آگیا جو ہم سب کے لیے باعث مسرت ہے ۔ہم چلڈرن ہسپتال میں سالانہ 1500کے لگ بھگ سرجری کرتے ہیں ہسپتالوں کی کمی کے باعث ہمارے ہاں ہزاروں بچے انتظار کرنے پر مجبور ہیں ۔صرف ایک چلڈرن ہسپتال پورے پنجاب کو بوجھ اٹھاتا ہے۔اس نئے ہسپتال میں بچوں کے دل کے آپریشن ،پروفیشنلز کی ٹریننگ اور الائیڈ ہیلتھ کی سہولیات بہترین انداز میں پیش کی جائیں گی ۔ایک بچے کے علاج پر چار سے پانچ لاکھ کا خرچ آتا ہے جو ہم فری کریں گے تاہم اس کے لیے ڈونرز کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔انکا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں 50سے 60ہزار سالانہ دل میں سوراخ کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں ۔جن میں سے 25فیصد کو فوری علاج کی ضرورت ہوتی ہے ۔پی سی ایچ ایف نے ابتک 2100غریب بچوں کو دل کا مفت علاج فراہم کیا ہے جس پر 760ملین کے اخراجات آئے ۔تقریب میں مہمان خصوصی ڈاکٹر فیصل سلطان اور مصباح الحق کو اطہر عمران کی جانب سے سالانہ رپورٹ پیش کی گئی ۔

مزید پڑھیں
ویڈیوز

عوامی سروے

سوال: کیا آپ کووڈ 19 کے حوالے سے حکومتی اقدامات سے مطمئن ہیں؟