16 جنوری 2019
تازہ ترین

سپریم کورٹ آف پاکستان نے جعلی اکاونٹس کیس کا تحریری حکم جاری کردیا جس کے مطابق چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے نام فی الحال ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کی ہدایت کی گئی ہے۔سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجازالاحسن نے جعلی اکاؤنٹس کیس کا تحریری حکم لکھا جس میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جےآئی ٹی) رپورٹ، جمع شدہ مواد اور شواہد فوری طور پر قومی احتساب بیورو (نیب) کو بھیجنے کا حکم دیا گیا ہے۔ تحریری حکم نامے میں بلاول بھٹو اور مراد علی شاہ کے نام ای سی ایل سے فی الحال نکالنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔تحریری حکم کے مطابق جےآئی ٹی تحقیقات میں نیب کی معاونت کرےگی، نیب دو ماہ کے اندر تحقیقات کرکے سپریم کورٹ میں جمع کرائے گا، بلاول، مرادعلی شاہ کیخلاف اگر ٹھوس شواہد ملتے ہیں تو وفاقی حکومت کو نام ای سی ایل میں ڈالنے کا اختیار ہوگا۔ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ نیب فاروق ایچ نائیک، ان کے بیٹے سے متعلق جے آئی ٹی کے مواد کا ازسرنو جائزہ لےگا اور اگر کیس نہیں بنتا تو فاروق نائیک اور ان کے بیٹے کے نام ای سی ایل سے ہٹا دیےجائیں۔ تحریری حکم میں یہ بھی کہا گیا کہ نیب انور منصور کے بھائی سے متعلق جےآئی ٹی کے مواد کا جائزہ لے گا، انور منصور کے بھائی سے متعلق کیس نہیں بنتا تو نام ای سی ایل سے نکال دیا جائے، تحقیقات مکمل ہونے تک نیب ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرے گا۔ تحریری حکم کے مطابق جےآئی ٹی زیر تفتیش مقدمات کی تفتیش کرکے رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائے گی جبکہ نیب ہر 15 دن بعد اپنی تحقیقاتی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائے گا۔تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں نیب ریفرنس اسلام آباد اور پنڈی کی احتساب عدالتوں میں دائر کرے گا، جے آئی ٹی اپنا تمام ریکارڈ نیب اسلام آباد کو جمع کرائے گی۔ حکم نامے کے مطابق چیئرمین نیب ریفرنس کی تیاری کیلئے کسی اہل ڈی جی نیب کو تعینات کریں گے، چیئرمین نیب ریفرنسز حتمی نتیجے تک پہنچانے کیلئے ڈی جی نیب کی سربراہی میں ٹیم تشکیل دیں گے۔ تحریری حکم کے مطابق نیب کی تحقیقاتی رپورٹ ہر 15 دن بعد عمل درآمد بینچ کے پاس جائے گی، چیف جسٹس آف پاکستان عمل درآمد بینچ تشکیل دیں گے، فی الحال اس مقدمے کونمٹایا جاتا ہے، ضرورت پڑنے پر معاملہ دوبارہ کھولا جاسکے گا۔  

مزید پڑھیں
ویڈیوز

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟