18 اکتوبر 2018
تازہ ترین

فاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے کراچی کی ترقی کے لیے گورنر سندھ کی سربراہی میں ٹاسک فورس بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے  ہوئے وزیراطلاعات  نے کہا کہ کراچی کے مسائل کو حل کرنا  پی ٹی آئی کا اہم ایجنڈا ہے، کراچی پہلی بار لسانی سیاست سے باہر آیا ہے جب کہ عام انتخابات میں شہر قائد کے عوام نے تحریک انصاف کو بھرپور مینڈیٹ دیا اور پھر ضمنی الیکشن میں بھی پی ٹی آئی پر اعتماد کیا  ہے، اس لیے کراچی سے وفاق  میں بھرپور نمائندگی دی گئی ہے اور 12 اہم ترین عہدوں پر کراچی کے لوگوں کو فائز کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے فنڈز سے متعلق شکایات ہیں  کہ ٹھیک خرچ نہیں ہورہےاگر سیکورٹی اور انفراسٹرکچر میں وفاق سپورٹ نہ کرے تو حالات مزید خراب ہوں گئے اس لیے وفاقی کابینہ نے کراچی کی ترقی کے لیے ایک ٹاسک فورس بنانے کا فیصلہ کیا ہے جس کی سربراہی گورنر سندھ کریں گے جب کہ کمشنر کراچی وفاق کے فنڈز کی نگرانی کریں گے۔ فواد چوہدری نے کہا کہ فاٹا کے انضمام کی جانب ہم بڑھ  رہےہیں فاٹا سیکریٹریٹ ختم ہوجائے گا انتظامی ڈھانچہ چیف منسٹر سیکریٹریٹ کےماتحت ہوجائے گا، این ایف سی ایوارڈ میں چاروں صوبوں کی ایڈجسٹمنٹ کرنی ہے، این ایف سی ایوارڈ میں تمام صوبوں کو حصہ فاٹا کیلیے دینا پڑے گا اور این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کا اپنا حصہ کم کریں گے اور فاٹا کو 3 فیصد دیں گے۔ اسلحے لائسنس سے متعلق وفاقی وزیر نے بتایا کہ پچھلی حکومت نے خودکاراسلحے اور ممنوعہ بور کے اسلحہ لائسنز ختم کردیے تھے اب صوبوں کو  فیصلہ کرنا ہے کہ اسلحہ لائسنس سے متعلق ان کی کیا پالیسی ہوگی جب کہ اسلحہ لائسنس سے متعلق وزارت قانون سپریم کورٹ میں دائر رٹ پٹیشن واپس لے گی۔وزیراطلاعات نے کہا کہ وزار کے بیرون ممالک دوروں کے حوالے سے نئے قوانین بنائے گئے ہیں اب کوئی بھی وزیر سال میں تین سے زائد بیرون ممالک کے دورے نہیں کرسکیں گے قبل ازیں وزیرِاعظم عمران خان کے زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں 10 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا۔ وزیراعظم کی مشیر ڈاکٹر عشرت حسین نے کابینہ کو حکومت کے 100 روزہ پلان پر بریفنگ دی، انہوں نے کفایت شعاری اور اصلاحات سے متعلق کابینہ کو آگاہ کیا۔ وزیراعظم نے تمام وزرا کو آئندہ 40 روزہ پلان تیار کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔ وفاقی کابینہ نے ممنوعہ بورکے اسلحہ لائسنس منسوخ کا نوٹیفیکشن واپس لینے پر کمیٹی قائم کر دی۔ وزیرِ مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی کمیٹی کے سربراہ ہوں گے۔ کمیٹی ممنوعہ بور کے اسلحہ لائسنس بحالی کے معاملے کا جائزہ لے گی۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں گنے کا کرشنگ سیزن 15 نومبر سے شروع کرنے کی منظوری دی گئی۔

مزید پڑھیں
ویڈیوز

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟