20 اکتوبر 2018

وزیراعظم عمران خان نے بیوروکریسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ انتظامی سطح پر ہمارے کیلئے مشکلات پیدا کی جا رہی ہیں۔ وزیراعظم سے اسلام آباد میں صحافیوں نے ملاقات کی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے انکشاف کیا کہ کہ انتظامی سطح پر ہمارے لئے مشکلات پیدا کی جا رہی ہیں، بیورو کریسی میں پرانی حکومت کے لوگ ہر جگہ بیٹھے ہیں، سیاسی بیورو کریسی اور پولیس ہمارا کام خراب کر رہی ہے۔ عمران خان نے قرض کے مسئلے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پچھلی حکومتوں نے قرضہ کو 36 ٹریلین تک پہنچا دیا ، اگلے دو ماہ میں اگر حکومت پیسے نہ لیتی تو ملک دیوالیہ ہوجاتا، آئی ایم ایف کا اصل مسئلہ ان کی شرائط ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو پتہ ہے کرپشن کے الزام میں ان میں سے کوئی نہیں بچے گا، اس لئے وہ شور مچا رہی ہے، پارلیمنٹ کے پہلے سیشن سے ہی انہوں نے شور مچانا شروع کر دیا تھا،وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سیاستدانوں میں سے اکثر مجرم ہیں اور اتنے ثبوت موجود ہیں کہ مجرم بچ نہیں سکتے۔  وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ آئی ایم ایف کے پاس جانا مسئلہ نہیں بلکہ آئی ایم ایف کی شرائط مسئلہ ہیں، عوام پر پہلے ہی بہت بوجھ ڈال چکے ہیں، مزید نہیں ڈالنا چاہتے، ہم چاہتے ہیں عوام پر کم سے کم بوجھ پڑے۔ انہوں نے کہا کہ سیاستدانوں میں سے اکثر مجرم ہیں، اتنے ثبوت موجود ہیں کہ مجرم بچ نہیں سکتے، میں کسی دباؤ میں نہیں آئوں گا اور آخر تک جاؤں گا، کسی چور، ڈاکو اور مجرم کو نہیں چھوڑوں گا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ موجودہ اپوزیشن حقیقی اپوزیشن نہیں ہے، موجودہ اپوزیشن اپنی جائیدادیں بچانے کے لیے اکٹھی ہوئی ہے۔ عمران خان نے شہباز شریف کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف نیلسن منڈیلا بننے کی کوشش کر رہے تھے ۔ ہماری نیب پر براہ راست کوئی مداخلت نہیں، بجلی کی قیمت میں اضافے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔

مزید پڑھیں
ویڈیوز

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟