Column

کھیل

کھیل
علیشبا بگٹی
پلس پوائنٹ
جاپان میں ایک بادشاہ تھا۔۔۔ اس نے اپنے محل کے دروازے پر سنہری حروف میں ایک جملہ لکھوایا تھا۔۔۔ جو قوم کھیلنا بھول جاتی ہے، وہ سوچنا بھی بھول جاتی ہے۔ درباری اس جملے پر ہنستے تھے۔ جرنیل کہتے تھے: سلطنتیں تلواروں سے بنتی ہیں، کھیلوں سے نہیں۔ وزرا کہتے تھے: معیشت کارخانوں سے چلتی ہے، کھلونوں سے نہیں۔ بادشاہ خاموش رہتا تھا۔ برسوں بعد سلطنت پر حملہ ہوا۔ فوج شکست کھا گئی۔ خزانے خالی ہوگئے۔ مگر ایک چیز باقی رہی، بچوں کے ذہن۔ وہ بچے جو کھیلتے کھیلتے تخیل سیکھ چکے تھے۔ انہی بچوں نے بعد میں نئی مشینیں بنائیں، نئی زبانیں ایجاد کیں، نئے خواب تخلیق کیے۔ سلطنت دوبارہ کھڑی ہوگئی۔
تاریخ ہمیں یہی بتاتی ہے۔ قومیں لوہے سے نہیں، تخیل اور تصور سے زندہ رہتی ہیں۔ ذہنی تخلیق کی قوت سے نئے خیالات پیدا ہوتے ہیں۔ جدید دنیا تخیل اور جدت پر چل رہی ہے۔
جاپان کی کمپنی نینٹینڈو بھی شاید اسی فلسفے کا نام ہے۔ انیسویں صدی کے آخر میں یہ کمپنی صرف تاش کے پتے بناتی تھی۔ پھر وقت بدلا۔ دنیا بدلی۔ بیسویں صدی کے وسط میں کمپنی نے ٹیکسیاں چلائیں، ہوٹل کھولے، مختلف کاروبار آزمائے، مگر ہر دروازہ ناکامی پر ختم ہوا۔ اگر یہ کمپنی محنت اور جدوجہد سے ناواقف ہوتی تو شاید وہیں مر جاتی۔ مگر جاپانی تہذیب شکست کو اختتام نہیں سمجھتی۔ وہ اسے دوسری شکل میں آغاز کہتی ہے۔
نینٹینڈو نے شکست کو اپنی شناخت نہیں بننے دیا۔ قومیں اور کمپنیاں تب مرتی ہیں، جب وہ اپنے پرانے تعارف سے چمٹ جاتی ہیں۔ 1980ء کی دہائی میں نینٹینڈو نے ویڈیو کھیلوں کی دنیا میں قدم رکھا۔ لوگ ہنسے۔ دانشوروں نے کہا۔
کھلونوں سے دنیا نہیں بدلتی۔ لیکن دنیا بدل گئی۔ آج انسان کے ہاتھ میں موبائل ہے مگر اس کے ذہن میں کھیل، یعنی گیم چل رہی ہے۔ سیاست کھیل کے نظریات بن چکی ہے، معیشت رویّاتی تشکیل میں تبدیل ہوچکی ہے، سماجی ذرائع ابلاغ خوشی کے کیمیائی نظام پر کھڑے ہیں۔ دنیا اب کارخانوں سے کم اور توجہ سے زیادہ چلتی ہے۔ اور توجہ کو اپنی طرف کھینچنے کا فن سب سے پہلے کھیلوں کی صنعت نے سیکھا۔
فریڈرک نطشے نے کہا تھا۔ جس انسان کے پاس جینے کی کوئی وجہ ہو، وہ تقریباً ہر حالت برداشت کر سکتا ہے۔
نینٹینڈو کے پاس بھی ’’ وجہ‘‘ تھی۔ وہ صرف مصنوعات نہیں بیچ رہے تھے، وہ انسانی اُکتاہٹ کا علاج بیچ رہے تھے۔
رومی نے کہا تھا۔ کل میں ہوشیار تھا، دنیا بدلنا چاہتا تھا۔ آج میں دانا ہوں، خود کو بدل رہا ہوں۔ یہی بقا کا قانون ہے۔ ڈائنو سار طاقتور تھے، مگر ختم ہوگئے۔ چیونٹیاں کمزور تھیں، مگر بچ گئیں۔ قدرت طاقت کو نہیں، خود کو حالات کے مطابق ڈھالنے کی صلاحیت کو زندہ رکھتی ہے۔ چارلس ڈارون نے اسی لیے کہا تھا۔ بقا طاقتور ترین کی نہیں، بلکہ سب سے زیادہ خود کو حالات کے مطابق ڈھال لینے والے کی ہوتی ہے۔ افلاطون نے اپنی ’’ جمہوریہ‘‘ میں لکھا تھا کہ بچوں کے کھیل دراصل مستقبل کی سیاست طے کرتے ہیں۔ ارسطو نے انسان کو کھیلنے والا جاندار کہا۔ کارل یونگ کے مطابق انسان کے لاشعور میں بنیادی نفسیاتی خاکے چھپے ہوتے ہیں، اور کہانیاں و کھیل ان خاکوں کو بیدار کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماریو صرف ایک کردار نہیں، وہ انسان کے اندر موجود ابدی بچے کی علامت ہے۔ دنیا کی بڑی تہذیبیں ہمیشہ کہانی سنانے والوں نے بنائی ہیں۔ ہومر نے یونان بنایا۔ فردوسی نے ایران بنایا۔ اقبالؒ نے خواب دیا۔ اور جدید دنیا میں ڈزنی، نینٹینڈو اور پکسر نے تخیل کی نئی سلطنتیں۔ ہم سمجھتے ہیں دنیا ایٹم بم سے چلتی ہے۔ نہیں۔ دنیا بیانیے سے چلتی ہے۔ جارج اورویل نے کہا تھا۔ جو ماضی کو قابو میں رکھتا ہے، وہ مستقبل کو قابو میں رکھتا ہے، اور جو حال کو قابو میں رکھتا ہے، وہ ماضی کو قابو میں رکھتا ہے۔ آج بیانیے کی سب سے بڑی جنگ اسکرین پر لڑی جا رہی ہے۔ یہاں ایک عجیب نفسیاتی حقیقت ہے۔ انسان جب حقیقت سے تھک جاتا ہے تو وہ کھیل بناتا ہے۔ بچہ مٹی سے گھر بناتا ہے۔ بادشاہ جنگ کو فتح کا کھیل بناتا ہے۔ سیاستدان قوموں کو شطرنج کی بساط سمجھتے ہیں۔ سرمایہ دار منڈی کو اجارہ داری کے کھیل میں بدل دیتے ہیں۔ یہ پوری دنیا دراصل تہہ در تہہ کھیلوں کا مجموعہ ہے۔ انسان بے چینی سے بچنے کے لیے کھیل، کہانیاں، نظریات، اور خواب تخلیق کرتا ہے۔ رات کے بعد دن، خزاں کے بعد بہار، شکست کے بعد ارتقا، یہی کائنات کا اصول ہے۔ نینٹینڈو کی کہانی بھی اسی اصول کا حصہ ہے۔
کارل یونگ کہتا تھا۔ درخت جتنا آسمان کی طرف بڑھتا ہے، اس کی جڑیں اتنی ہی گہرائی میں تاریکی میں جاتی ہیں۔
ہر عظیم کامیابی کے پیچھے ناکامیوں کا زیرزمین قبرستان ہوتا ہے۔ ہم صرف کامیابیاں دیکھتے ہیں، قربانیاں، محنت، اور تکالیف نہیں۔ قدرت جدوجہد دیکھتی ہے۔ فلم آپ کو کہانی دکھاتی ہے، مگر کھیل آپ کو کہانی کا کردار بنا دیتا ہے۔ نینٹینڈو نے اسی خواہشِ زندگی کو سمجھ لیا تھا۔ وہ جان گئے تھے کہ انسان صرف زندہ نہیں رہنا چاہتا، وہ حیرت محسوس کرنا چاہتا ہے۔ آنے والی دنیا تخیلاتی معیشت کی دنیا ہے۔ مستقبل کی جنگیں ٹینکوں سے کم اور الگورتھم سے زیادہ جیتی جائیں گی۔ نئی سلطنتیں زمینوں پر نہیں، ذہنوں پر قائم ہوں گی۔ اور ذہن صرف تعلیم سے نہیں، تخیل سے فتح ہوتے ہیں۔ رابندرناتھ ٹیگور نے کہا تھا: جہاں ذہن خوف سے آزاد ہو، وہیں جنت شروع ہوتی ہے۔ مگر خوف زدہ معاشرے تخلیق نہیں کرتے، وہ صرف نقل کرتے ہیں۔
نینٹینڈو نے خود کو بدلنا سیکھا، اور یہی اسے امر کر گیا۔ نوکیا نے یہ نہیں سیکھا، اس لیے وہ ختم ہوگئی۔ نوکیا کی کہانی دراصل صرف ایک کمپنی کی ناکامی نہیں، بلکہ وقت کے ساتھ نہ بدلنے کی سزا ہے۔ نوکیا کبھی دنیا کی سب سے بڑی موبائل کمپنی تھی۔ 2000ء کی دہائی میں اس کے فون ہر ہاتھ میں تھے۔ لوگ سمجھتے تھے کہ نوکیا ناقابلِ شکست ہے۔ اس کے موبائل مضبوط، بیٹری طاقتور، اور مارکیٹ پر اس کی حکمرانی مکمل تھی۔ پھر دنیا بدل گئی۔ 2007 ء میں ایپل نے آئی فون متعارف کرایا۔ بعد میں گوگل کا اینڈرائیڈ آیا۔ موبائل صرف فون نہیں رہا، وہ ایک ٹچ سکرین سے گلوبل ولیج اور ذہین دنیا بن گیا۔ نوکیا کے پاس ٹیکنالوجی تھی، سرمایہ تھا، تجربہ تھا، مگر ایک چیز نہیں تھی، خود کو حالات کے مطابق ڈھالنے کی صلاحیت۔ وہ اپنے پرانے ورژن، پرانے نظام، پرانے سافٹ ویئر، اور پرانی کامیابی سے چمٹی رہی۔ کمپنی یہ ماننے کے لیے تیار نہیں تھی کہ دنیا بدل چکی ہے۔ اندرونی خوف، سست فیصلہ سازی، اور تبدیلی سے ہچکچاہٹ نے اسے کمزور کر دیا۔ آخرکار وہ کمپنی جو کبھی موبائل دنیا کی بادشاہ تھی، مارکیٹ سے تقریباً غائب ہوگئی۔ نوکیا کے ایک سابق عہدیدار نے کمپنی کے زوال پر کہا تھا۔ ہم نے کچھ غلط نہیں کیا، لیکن پھر بھی ہم ہار گئے۔ حقیقت میں وہ ہارے نہیں تھے، وہ بدلنے میں دیر کرگئے تھے۔
قدرت کا قانون یہی ہے۔ جو وقت کے ساتھ خود کو نہیں بدلتا، وقت اسے بدل دیتا ہے۔ نینٹینڈو کی اصل کامیابی ٹیکنالوجی نہیں تھی۔ اس کی اصل کامیابی یہ تھی کہ اس نے اپنی ناکامیوں کو اپنی قسمت بننے نہیں دیا۔ خود کو وقت کے ساتھ بدلنے کی کوشش کی۔ اور یہی زندگی کا سب سے بڑا فلسفہ ہے کہ کامیابی کبھی بھی سیدھی لکیر نہیں ہوتی۔ وہ ایک بھول بھلیاں ہے، جہاں بڑے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔

جواب دیں

Back to top button