ColumnImtiaz Aasi

ایئر لائنز کی لوٹ مار اور حجاج کی مشکلات

ایئر لائنز کی لوٹ مار اور حجاج کی مشکلات
نقارہ خلق
امتیاز عاصی
اس خاکسار کو حج پالیسی ساز کمیٹی کے اجلاس میں مشاورت کے لئے کئی برس تک جانے کا موقع ملا۔ تنظیم بہبود حجاج پاکستان کے سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے مجھے حج امور سے متعلق سیکرٹری صاحبان عام طور پر مشاورت کے لئے بلا لیا کرتے تھے۔ جب کبھی حج واجبات کی بات ہوئی ہم نے ہوائی جہاز کے کرایوں کو کم کرنے پر زور دیا، لیکن قومی ایئر لائنز پی آئی اے کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے عازمین حج کو جدہ پہنچانے کے بعد جہاز سعودی عرب سے خالی واپس لوٹتے ہیں لہذا وہ کرایوں میں کمی نہیں کر سکتے۔ وزارت مذہبی امور کا بھی یہ اصول رہا ہے وہ حج درخواستیں وصول کرتے وقت ڈالرکا جو ریٹ ہوا کرتا تھا اسی ریٹ پر عازمین حج کے واجبات کا تعین کر لیا جاتا تھا۔ مجھے نہیں معلوم آج کل یہی طریقہ کار رائج ہے یا اس میں کوئی تبدیلی آئی ہے ہاں البتہ ایئر لائنز نے ایک تبدیلی ضرور کی ہے اگر حجاج کے پاس وطن واپسی کے وقت ایک کلو سامان بھی زیادہ ہوا ان سے پچاس سے ساٹھ ریال کرایہ وصول کر لیا گیا۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے حجاج کے پاس وطن واپسی کے وقت اتنی رقم نہیں ہوتی وہ ریالوں میں زائد سامان کا کرایہ ادا کر سکیں۔ ایک دوست جو سعودی عرب سے حج کی سعادت کے بعد لوٹے تھے بتا رہے تھے ایئر لائنز سے اس مرتبہ حجاج کے ساتھ بہت زیادتی کی ہے۔ اگر مقررہ وزن سے ایک کلو گرام زائد سامان ہوا تو حجاج کو کرایہ ادا کرنا پڑا۔ ایئر لائنز ہمیشہ سے عازمین حج سے ڈرامہ بازی کرتی آئی ہیں عازمین حج کو سعودی عرب پہنچانے سے فیول چارجز پوری نہیں ہوتے ہیں۔ سوال ہے اگر ایئر لائنز کو خسارہ اٹھانا پڑتا ہے پھر عازمین حج کو کیوں لے کر جاتی ہیں۔ امسال حجاج کرام کی واپسی پر انہیں ان کا سامان تلاش کرنے میں مشکلات پیش آرہی ہیں جس کی بڑی وجہ یہ ہے ان کا سامان سعودی عرب سے نہیں لایا گیا جس کی وجہ سے وہ اپنے سامان کے حصول کے لئے در بدر ہو رہے ہیں۔ حجاج کرام کی دیکھ بھال کے لئے پندرہ سو سرکاری ملازمین کو سعودی عرب بھیجا گیا جن میں سے نصف اپنی فرائض سے غیر حاضر پائے گئے۔ سوال ہے حجاج کرام کی نگہداشت کرنے والے سب سے پہلے مناسک حج کی ادائیگی کے لئے تیار ہوتے ہیں۔ حج کے دوران اور پھر سفری مشکلات کے باوجود حاجیوں کو ان کا سامان نہ ملے ان کی حالت کیا ہوتی ہے اس کا اندازہ عام آدمی نہیں لگا سکتا۔ پاکستان سے روانگی کے وقت عازمین حج کا سامان نئے نظام کے تحت ان کی قیام گاہوں تک پہنچایا گیا جو احسن اقدام تھا لیکن ایسے عازمین حج کو نجی گروپس میں سعودی عرب بھیجے گئے انہیں اپنے سامان کی تلاش میں بہت زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ جیسا کہ میں پوسٹ حج پر پہلے بھی کالم لکھ چکا ہوں تاہم بہت سی باتیں کالم کا حصہ نہیں بن سکی لہذا وہ باتیں جو رہ گئیں انہیں کالم میں شامل کیا جا رہا ہے تاکہ آئندہ سال حج انتظامات میں مزید بہتری آسکے۔ سعودی حکومت کی طرف سے عازمین حج کی کیٹگری ڈی کے خاتمے کے اعلان کے بعد پاکستان سے سرکاری اسکیم میں جانے والے عازمین حج کے حج واجبات میں اضافہ یقینی ہے۔ دراصل سعودی حکومت نے حج و عمرہ کو خدمت کی بجائے ایک طرح سے سیاحت کا درجہ دے دیا ہے جس میں ان کا مقصد زیادہ سے زیادہ ریونیو جمع کرنا مقصود ہے۔ ایک وقت تھا جب سعودی معلمین حاجیوں کی خدمت اپنے لئے اعزاز سمجھتے تھے مگر معلمین کا نظام ختم کرکے نجی کمپنیوں کا آکشن کے ذریعے حج کا کام دے کر اربوں ریال جمع کئے گئے۔ مشاعر مقدسہ میں خیموں اور کیٹرنگ کا کام دے کر کتنا سرمایہ جمع کیا جاتا ہے۔ تعجب ہے ہر سال سعودی وزارت حج عمرہ زائرین کے واجبات میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق حجاج کرام کو وطن واپسی پر جو سامان وصول ہو رہا ہے اس میں سے قیمتی اشیاء کے غائب ہونے کی خبریں ہیں جس سے حجاج کرام میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ عازمین حج میں تربیت کا بھی بڑا فقدان ہے سوشل میڈیا پر ہوائی اڈے پر سامان وصول کرتے ہوئے جو مناظر دکھائی دیئے قابل افسوس ہیں۔ ایک دوسرے کے زمزم کی بوتلیں لے جانا کون سی عبادت ہے ۔ جو لوگ دوسروں کی اشیاء لے جاتے ہیں ان کا حج مشکوک ہو جاتا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے وہ محروم ہو جاتے ہیں۔ قبل ازیں ہم ایئر لائنز کی طرف سے حجاج سے ایک کلو زائد سامان کا کرایہ وصول کرنے کی بات ہے اگر ایئر لائنز ایک کلوگرام کرایہ وصول نہ کرتیں تو کیا انہیں مالی خسارہ برداشت کرنا پڑتا؟ وطن واپسی پر حاجیوں کی جیبیں ویسے بھی خالی ہوتی ہیں وہ اپنی اپنی رقوم حج کے دوران اور خریداری پر خرچ کر چکے ہوتے ہیں ایسے میں ان سے زائد سامان کا کرایہ طلب کیا جائے تو ان پر کیا گزرتی ہوگی۔ عام طور پر ایئر لائنز سے معاملات طے کرتے وقت جن امور کا ذکر کیا گیا ہے پہلے سے طے کر لئے جاتے تھے نہیں معلوم آج کل ان معاملات کو کیسے دیکھا جا رہا ہے۔ اب حاجیوں کو جو سامان واپسی پر مل رہا ہے اس میں سے ان کی اشیاء غائب ہیں اس کا ذمہ دار کون ہوگا۔ میری ناقص رائے میں سامان کی گمشدگی کی ذمہ دار ایئر لائنز ہوں گی جن سے حاجیوں نے سفر اختیار کیا ہوگا۔ سامان کی گمشدگی کی ذمہ دار متعلقہ ایئر لائنز کو ٹھہرایا جائے گا ۔ سوشل میڈیا پر وفاقی وزیر مذہبی امور سعودی حکومت کی مداح سرائی کا کوئی موقع خالی نہیں جانے دے رہے ہیں، لیکن حاجیوں کے گمشدہ سامان کا ذمہ دار کون ہے؟ ہمارے خیال میں حجاج کی وطن واپسی پر سامان کی گمشدگی کی ذمہ دار متعلقہ ایئر لائنز ہوگی۔ اگر سامان نہیں ملتا تو اس کا معاوضہ متعلقہ ایئر لائنز کو ادا کرنا پڑے گا ۔

جواب دیں

Back to top button