نہ کھلی جنگ، نہ مکمل امن: یہ تزویراتی جمود کب ٹوٹے گا؟

نہ کھلی جنگ، نہ مکمل امن: یہ تزویراتی جمود کب ٹوٹے گا؟
پیامبر
قادر خان یوسف زئی
عالمی سیاست کی بساط پر جب طاقت کا توازن بگڑتا ہے تو جنگ اور امن کے درمیان کی لکیر اس قدر دھندلی ہو جاتی ہے کہ فائر بندی اور تزویراتی تعطل میں فرق کرنا ایک عام آدمی تو کیا، بڑے بڑے تجزیہ نگاروں کے لیے بھی دشوار ہو جاتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے سلگتے ہوئے منظر نامے میں امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان اٹھائیس فروری دو ہزار چھبیس کو شروع ہونے والی یہ جنگ ایک ایسے ہی نازک موڑ پر آ کھڑی ہوئی ہے جہاں روایتی امن معاہدوں کے مروجہ اصول بے معنی ہو جاتے ہیں اور طاقت کا کھیل نئے اور پیچیدہ قوانین کے تحت کھیلا جانے لگتا ہے۔
اپریل کے اوائل میں جب جنگ کی آگ پوری شدت سے بھڑک رہی تھی اور خطے کا امن تباہی کے دہانے پر تھا، تب اسلام آباد کی اعصاب شکن سفارتی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی عارضی فائر بندی پر اتفاق ہوا۔ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ایران پر حملوں کا سلسلہ اس شرط پر روکا جائے گا کہ تہران آبنائے ہرمز دوبارہ کھولے گا اور مذاکرات کے لیے اپنے وفود اسلام آباد بھیجے گا۔ وہ ابتدائی دو ہفتہ وار جنگ بندی اپنی مقررہ مدت میں ختم تو ہو گئی لیکن کسی حتمی اور جامع امن معاہدے کی عدم موجودگی میں ایک غیر اعلانیہ مفاہمت کے تحت یہ کمزور فائر بندی آج بھی کسی نہ کسی صورت قائم ہے۔ یہ ایک ایسی فائر بندی ہے، جسے خاموشی سے طول دیا جا رہا ہے تاکہ کسی طویل المدتی انتظام پر مذاکرات ممکن ہو سکیں، نہ کہ اسے کسی باقاعدہ دستاویزی معاہدے کی صورت دی جائے جس سے پیچھے ہٹنا دونوں فریقین کے لیے سیاسی طور پر ناممکن ہو جائے۔
زمینی حقائق اس امر کی گواہی دیتے ہیں کہ جنگ کے طویل دورانیے میں کوئی بھی فریق اپنے مکمل مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوا، جس نے میدانِ جنگ میں ایک تھکا دینے والا تزویراتی تعطل پیدا کر دیا ہے۔ ایران نے امریکی اور اسرائیلی حملوں میں بھاری نقصان اٹھایا، اس کی تنصیبات تباہ کی گئیں، لیکن اس کے باوجود اس کی جوابی کارروائی کی صلاحیت پوری طرح ختم نہیں کی جا سکی۔ تہران آج بھی آبنائے ہرمز میں رکاوٹ پیدا کرنے اور میزائلوں کے ذریعے علاقائی اہداف کو نشانہ بنانے کی پوزیشن میں ہے۔ دوسری جانب امریکا نے بحری ناکہ بندی نافذ کر رکھی ہے اور طیارہ بردار جہازوں کے ذریعے فوجی طاقت کا مظاہرہ کیا ہے، لیکن وہ اپنی تمام تر عسکری اور معاشی برتری کے باوجود تہران کو یورینیم کی افزودگی، علاقائی سرگرمیوں اور آبنائے ہرمز کے کنٹرول کے معاملے میں اپنے بنیادی مطالبات منوانے میں ناکام رہا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں طاقت کا توازن ایک شدید جمود کا شکار ہے اور دونوں فریق ایک دوسرے کو تھکانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔
اس تزویراتی تعطل کے سائے میں نفسیاتی دبا اور سیاسی بیانیے کا کھیل اپنے عروج پر ہے۔ واشنگٹن ایک طرف مذاکرات کے لیے فائر بندی میں توسیع کرتا دکھائی دیتا ہے اور دوسری طرف تباہ کن نتائج کی دھمکیاں بھی دیتا ہے۔ بحری ناکہ بندی پوری سختی سے برقرار ہے۔ یہ بظاہر متضاد حکمت عملی سفارتی سودے بازی کے ہتھیار کے طور پر بھی کام آتی ہے اور امریکی عوام کو طاقت اور برتری کا احساس دلانے کے لیے بھی۔ ایرانی قیادت بھی قومی مزاحمت اور خودمختاری کا بیانیہ مسلسل دہراتی ہے، حریف پر بدنیتی اور وعدہ خلافی کے الزامات عائد کرتی ہے اور بحری ناکہ بندی میں کسی بھی معمولی خامی کو اپنی قومی لچک اور فتح کے طور پر پیش کرتی ہے تاکہ ملک کے اندر موجود شدید معاشی دبا اور عوامی مشکلات پر پردہ ڈالا جا سکے۔ یہ صورتحال دونوں جانب سے متضاد پیغامات اور بیانیے کی جنگ کی عکاسی کرتی ہے جس کا واحد مقصد ایک دوسرے کے اعصاب کا امتحان لینا ہے۔
یہاں ایک منطقی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب فریقین کے درمیان کوئی رسمی معاہدہ ہی موجود نہیں تو فائر بندی کی خلاف ورزی کے الزامات کس بنیاد پر عائد کیے جا رہے ہیں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ دونوں کے درمیان جو کچھ موجود ہے وہ مفاہمت کی یادداشتوں کے غیر حتمی مسودے ہیں جن پر بات چیت تو ہوئی ہے لیکن اعلیٰ قیادت کی حتمی توثیق نہیں ملی۔ یہ انتظامات تفصیلی قانونی دستاویزات نہیں بلکہ محض سیاسی اور مبہم نوعیت کے ہیں، اس لیے ہر فریق ان کی اپنے مفاد کے مطابق تشریح کرتا ہے۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ فائر بندی کا دائرہ لبنان سمیت دیگر محاذوں اور یورینیم افزودگی کے حق کو تسلیم کرنے تک وسیع ہونا چاہیے، جب کہ امریکا اور اسرائیل اس تشریح کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ جب ایک فریق فوجی کارروائی کرتا ہے تو اسے اپنا جائز دفاعی حق قرار دیتا ہے اور دوسرا اسے معاہدی کی خلاف ورزی کہتا ہے۔ اس صورتحال نے عالمی سیاست میں ایک ایسا سفارتی ابہام پیدا کر دیا ہے جو کسی بھی وقت نئے تصادم کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔
پاکستان کا کردار اس پوری کشمکش میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے لیکن وہ ایک متحرک سفارتی چینل اور قابلِ اعتماد رابطے کا پل ہے، کسی خفیہ فائر بندی کا آزاد ضامن نہیں۔ اسلام آباد کی پختہ سفارتی مہارت اور فریقین کے ساتھ متوازن تعلقات نے ہی دونوں اطراف کو ابتدائی فائر بندی قبول کرنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے پر آمادہ کیا۔ پاکستان نے ’’ اسلام آباد اکارڈ‘‘ کے نام سے جانے جانے والے فریم ورک سمیت کئی مسودے تیار کیے جن میں فوری فائر بندی کو مستحکم کرنے، آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور جوہری امور پر جامع مذاکرات کی تجاویز شامل ہیں۔ اس کے ساتھ فائر بندی میں ساٹھ دن کی توسیع کے لیے مفاہمت کی یادداشت کا مسودہ بھی تقریباً طے پا چکا ہے لیکن ٹرمپ کی حتمی منظوری اور ایران کی اعلیٰ قیادت کی توثیق کا انتظار ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ سفارتی مسودوں کی زبان اور ترجمے میں اختلافات، خاص طور پر ایران کی دس نکاتی تجاویز کے فارسی اور انگریزی متن میں یورینیم افزودگی سے متعلق شق کے حوالے سے جو تضاد سامنے آیا، اس نے اعتماد کی کمی کو اور گہرا کر دیا ہے۔
یہ حقیقت آشکار ہے کہ موجودہ صورتحال عالمی طاقتوں کی ایک انتہائی محتاط اور اعصاب شکن بساط ہے۔ امریکا بحری ناکہ بندی اور معاشی پابندیوں کو دبائو کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا ہے تاکہ ایران کو بنیادی شرائط ماننے پر مجبور کرے۔ ایران آبنائے ہرمز کی بندش کے عالمی معاشی خدشات اور اپنی زمینی مزاحمتی قوت سے اس دبائو کو توازن دینے کی کوشش کرتا ہے۔ دونوں فریق بڑے پیمانے کی تباہی سے بچنے کے لیے عارضی فائر بندی کو قائم رکھتے ہیں، حاشیوں پر دبائو کا تبادلہ کرتے ہیں اور اپنی اپنی ابلاغی مہمات کے ذریعے خود کو فاتح ثابت کرنے میں مصروف ہیں۔ پاکستان کی سفارتکاری نے اس خطرناک کھیل میں ایک اہم اور تعمیری کردار ادا کیا ہے لیکن حتمی فیصلہ واشنگٹن اور تہران کی قیادت کے ہاتھ میں ہے۔ دنیا ابھی صرف اس اعصاب شکن کھیل کے انجام کی منتظر ہی۔




