CM RizwanColumn

مکہ معاہدہ، خودمختار عالم اسلام 

جگائے گا کون؟

مکہ معاہدہ، خودمختار عالم اسلام

تحریر: سی ایم رضوان

گزشتہ روز پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مکرمہ میں جو تاریخی معاہدہ طے پایا ہے، وہ بنیادی طور پر مشترکہ دفاعی اور اسٹریٹجک دفاعی معاہدہ ہے۔ اس کا مقصد تینوں ممالک کی اجتماعی، دفاعی صلاحیت، سکیورٹی اور فوجی ٹیکنالوجی میں تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔ عالمی میڈیا اور تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کی مجموعی سالانہ دفاعی، صنعتی پیداوار، صلاحیت اور معاشی جڑت اربوں ڈالر پر محیط ہے۔ تینوں ممالک کی مشترکہ جی ڈی پی 3000ارب ڈالر کے قریب ہے۔ اگرچہ مکہ معاہدہ ایک دفاعی اور سلامتی کا معاہدہ ہے، لیکن پاکستان کی معیشت پر اس کے براہِ راست اور بالواسطہ مثبت اثرات مرتب ہونے کی قوی امید کی جا سکتی ہے۔ سعودی عرب طویل عرصے سے خلیج کا سب سے بڑا معاشی مرکز ہے۔ جب پاکستان اس کے ساتھ مضبوط اور ناقابلِ تنسیخ دفاعی چھتری کا حصہ بنتا ہے، تو اس سے سعودی اور خلیجی سرمایہ کاروں کو پاکستان کے دیگر شعبوں ( مثلاً ریکوڈک، توانائی، زراعت، انفراسٹرکچر) میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعتماد مل سکتا ہے۔ اسی طرح پاکستان کی دفاعی صنعت ( مثلاً ڈرونز، آرٹلری، جے ایف۔17تھنڈر، اور گولہ بارود) مضبوط ہے۔ ترکیہ کی جدید ملٹری ٹیکنالوجی اور سعودی عرب کے مالی وسائل ملنے سے پاکستان دفاعی سامان تیار کرنے اور برآمد کرنے والا بڑا مرکز بن سکتا ہے، جس سے اربوں ڈالر کا زرِ مبادلہ پاکستان آ سکتا ہے۔

کسی بھی ملک کی معیشت کی بہتری کے لئے سکیورٹی اور سیاسی استحکام پہلی شرط ہوتا ہے۔ اس معاہدے کے بعد پاکستان کا خطے میں سکیورٹی اور سفارتی وزن بڑھے گا، جس سے عالمی مالیاتی اداروں، عالمی بینک اور بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیوں کا پاکستان پر اعتماد بحال ہو گا۔ یہ ٹھیک ہے کہ معاہدہ بنیادی طور پر دفاعی ہے، لیکن اگر پاکستان اس موقع کو استعمال کرتے ہوئے ترکیہ کی تکنیکی صلاحیت اور سعودی عرب کے مالیاتی تعاون سے اپنی ملٹری۔ صنعتی بنیاد کو مضبوط کرے اور داخلی سطح پر اصلاحات نافذ کرے، تو معاشی حالت میں پائیدار بہتری ممکن ہے۔

اس مشترکہ مکہ معاہدہ کو اگر 1974ء کی لاہور اسلامک سمٹ کانفرنس کے پس منظر میں دیکھا جائے، تو شاہ فیصل مرحوم، ذوالفقار علی بھٹو شہید اور اس قبیل کے دیگر عالمی اسلامی حکمرانوں کا وہ خواب ابھی جزوی طور پر پورا ہوا ہے۔ ماضی کے ان عظیم مسلم رہنماں کا اصل خواب صرف ایک کاغذی معاہدہ یا وقتی یکجہتی نہیں تھا، بلکہ امت مسلمہ کا ایک بلاک، مشترکہ معاشی پاور ہاس اور متحد سیاسی فورس بننا تھا۔ اگر سوال یہ ہو کہ اس خواب کا کون سا حصہ پورا ہوا تو جواب یہ ہے کہ 1974ء کی اسلامی سربراہی کانفرنس ( لاہور) کے بعد اسلامی تعاون تنظیم اور اسلامک ڈویلپمنٹ بینک ( آئی ڈی بی) جیسے ادارے قائم ہوئے جن کا تصور شاہ فیصل اور ذوالفقار علی بھٹو نے پیش کیا تھا۔ تب مسئلہ فلسطین اور حقوقِ مسلمین پر بیداری بھی ہوئی تھی۔ دونوں رہنمائوں نے عالم اسلام کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر کے عالمی سطح پر مسلمانوں، بالخصوص فلسطین اور یروشلم کے مسئلے کو اجاگر کیا۔ اس دور میں پہلی بار بلاک نان الائنمنٹ سے ہٹ کر ’’ اسلامی بلاک‘‘ کا تصور ابھرا، جس نے مغربی طاقتوں پر تیل کی بندش کی شکل میں اپنا اثر و رسوخ دکھایا۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ خواب کہاں ادھورا رہ گیا؟ اس کا جواب آج کے اسلامی ممالک کی سیاسی اور معاشی حقیقت ہے جو مسلم ممالک کی آج کی خودی اور دفاعی خودکفالت کی کمی کا رونا رو رہی ہے کیونکہ شاہ فیصل اور بھٹو کا خواب تھا کہ عالمِ اسلام اپنے فیصلے خود کرے اور کسی مغربی یا مشرقی طاقت کا محتاج نہ رہے۔ مگر آج بھی اکثر مسلم ممالک بیرونی طاقتوں پر انحصار کرتے ہیں۔ افسوس کہ شاہ فیصل (1975ئ) اور بھٹو (1979ئ) کی شہادت اور پھانسی کے بعد مسلم دنیا کے پاس عالمی قد کاٹھ کی حامل جرات مند قیادت کا بحران پیدا ہو گیا جسے بعد میں پُر نہ کیا جا سکا۔ خوش قسمتی سے آج کے وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل پاکستان جنرل سید عاصم منیر نے اس خلا کو پر کیا اور عالمی سفارت و سیاست میں اپنا اعتماد اور اثر حاصل کیا۔ تاہم پچھلے سالوں میں میثاقِ مکہ اور مختلف اسلامی معاہدوں کے باوجود مسلم ممالک کے مابین برادر کشی، علاقائی جنگیں اور مسلکی اختلافات میں وہ مستقل یکجہتی قائم نہ ہو سکی جس کا خواب ان دونوں نے دیکھا تھا۔ اگر شاہ فیصل اور بھٹو کے ویژن کو دیکھا جائے تو انہوں نے عالمِ اسلام کو ایک راہ دکھائی اور بنیاد رکھ دی۔ لیکن اگر ان کے حتمی مقصد یعنی ایک خود مختار اور مضبوط عالمِ اسلام کو دیکھا جائے، تو وہ خواب آج بھی شرمندہ تعبیر ہونے کا منتظر ہے۔ جبکہ آج کے مکہ معاہدہ سے یہ امید پھر سے روشن ہوئی ہے۔

ایک بااثر، خود مختار اور مضبوط عالمِ اسلام کو آج کے دور میں حقیقت بنانے کے لئے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کی تکون انتہائی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ اس کا مقصد کسی کے خلاف جنگ چھیڑنا نہیں بلکہ عالمِ اسلام کی سالمیت، تحفظ اور خود مختارانہ وجود کو یقینی بنانا ہے۔ اس دفاعی اتحاد کو طاقتور، جرات مندانہ اور اثر انگیز بنانے کے لئے ان تینوں ممالک کو سب سے پہلے تو دفاعی صنعتی خود کفالت حاصل کرنا ہو گی۔ محض ہتھیار خرید کر دفاعی اتحاد قاءم نہیں ہو سکتا۔ اصلی دفاعی طاقت تب آتی ہے جب آپ اپنے ہتھیار خود بنائیں۔ دوسرا یہ کہ مشترکہ دفاعی ٹیکنالوجی کی بھی ضرورت ہے۔ ترکی کے پاس ڈرونز اور جدید دفاعی صنعت ہے، پاکستان کے پاس اینٹی شپ، بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی اور نیوکلیئر پس منظر ہے، جبکہ سعودی عرب کے پاس مالی وسائل ہیں۔ ان تینوں کو مل کر مشترکہ دفاعی کمپلیکس قائم کرنا چاہیے۔ تیسرا یہ کہ مغربی یا غیر ملکی ہتھیاروں کی سپلائی لائن پر انحصار کم سے کم کیا جائے تاکہ بحران کی صورت میں کوئی بیرونی طاقت بلیک میل نہ کر سکے۔ ساتھ ہی ساتھ معاشی یکجہتی اور اسلامک بلاک کا قیام بھی اک اہم ضرورت ہے۔ دفاع کی اصل بنیاد معاشی مضبوطی پر ہوتی ہے۔ مثال سامنے ہے کہ شاہ فیصل مرحوم نے ’’ تیل کے ہتھیار‘‘ کا استعمال کر کے دنیا کو اپنی معاشی طاقت دکھائی تھی۔ اگر آج کے اس معاہدے کو عالم اسلام کے پہلے نیٹو ٹائپ اتحاد کا دعویٰ حقیقی طور پر پورا کرنا ہے تو اسلامک ڈویلپمنٹ اور سرمایہ کاری کا وجود بنانا اور منوانا ہو گا۔ سعودی عرب کا سرمایہ، پاکستان کی زرعی و انسانی طاقت اور ترکی کی جدید ٹیکنالوجی و تجارتی منڈی مل کر ایک مضبوط معاشی بلاک بنا سکتے ہیں۔ مقامی کرنسی میں تجارت کا آغاز کرنا ہو گا۔ تینوں ممالک باہمی تجارت کے لئے ڈالر کے بجائے اپنی قومی کرنسیوں یا ایک مشترکہ اسلامی تجارتی نظام کا استعمال شروع کریں تاکہ عالمی معاشی پابندیوں سے محفوظ رہ سکیں۔ اس دفاعی معاہدے کا فریم ورک مضبوط ہونا چاہیے کیونکہ کسی بھی دفاعی اتحاد کو متحرک بنانے کے لئے واضح قانونی اور عملی فریم ورک ضروری ہے۔ جیسا کہ اس معاہدے میں مشترکہ دفاعی شق بھی شامل ہے۔ جیسے نیٹو کا آرٹیکل 5ہے ویسے ہی ان تینوں ممالک کے ساتھ ساتھ دیگر اسلامی ممالک کو بھی شامل کیا جائے جن کے درمیان ایک واضح معاہدہ ہونا چاہیے کہ ’’ کسی بھی ایک رکن ملک پر غیر ملکی جارحیت کو تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جائے گا‘‘۔ مشترکہ ملٹری مشقیں اور انٹیلی جنس شیئرنگ بھی ضروری ہے پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کی افواج کے درمیان مستقل بنیادوں پر مشترکہ مشقیں ہوں اور دہشت گردی و بیرونی خطرات کے خلاف انٹیلی جنس کا تبادلہ جاری رہنا چاہیے۔ ساتھ ہی مشترکہ سفارتی و سیاسی بلاک بھی قائم ہو۔ عالمِ اسلام کا ایک الگ سیاسی وزن ہو۔ اس اتحاد کا عالمی تنازعات پر ایک موقف ہو۔ فلسطین، کشمیر اور اسلاموفوبیا جیسے مسائل پر پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا سفارتی موقف بالکل یکساں اور بے باک ہونا چاہیے۔ اگر یہ تینوں ممالک معاشی اور سیاسی طور پر یک زبان ہو کر بات کریں تو اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی طاقتیں اسلامی دنیا کے خدشات کو نظر انداز نہیں کر سکیں گی۔ یہ ٹھیک ہے کہ اس دفاعی معاہدے کو زور دار بنانے کا مطلب جنگ کرنا نہیں، بلکہ اتنی طاقت حاصل کرنا ہے کہ کوئی دشمن حملہ کرنے کی جرات نہ کر سکے۔ جب پاکستان کی فوجی میزائل طاقت، ترکی کی جدید صنعت اور سعودی عرب کی معاشی و مذہبی قیادت ایک نکتہ پر اکٹھی ہوں گی تو عالمِ اسلام مکمل خود مختاری حاصل کر سکتا ہے، تاہم روایتی نعروں اور جذباتی بیانیے سے ہٹ کر عملی، معاشی اور تیکنیکی حکمتِ عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔

موجودہ عالمی منظر نامہ ملٹی پولر یعنی کثیر القطبٰی ہو رہا ہے، جہاں امریکہ کے علاوہ چین، روس اور دیگر ابھرتی ہوئی طاقتیں موجود ہیں۔ یہ تبدیلی عالمِ اسلام کے لئے ایک بہترین موقع ہے کہ وہ کسی ایک طاقت پر انحصار کرنے کے بجائے اپنی خود مختاری قائم کرے کیونکہ معاشی غلامی میں رہتے ہوئے سیاسی یا دفاعی خودمختاری ممکن نہیں ہوتی۔ مسلم ممالک ( خاص طور پر خلیجی ممالک) کا کھربوں ڈالر کا سرمایہ مغربی بینکوں اور اثاثوں میں پڑا ہے۔ اس سرمائے کو اسلامی دنیا کے اندر بنیادی ڈھانچے، انڈسٹری اور ٹیکنالوجی کی ترقی میں لگانا چاہیے۔ مسلم دنیا کے پاس دنیا کا بڑا تیل اور گیس کا ذخیرہ ہے، جبکہ پاکستان، سوڈان اور ترکی جیسے ممالک کے پاس زرعی صلاحیت ہے۔ توانائی اور خوراک میں خود کفالت پہلی شرط ہے۔ موجودہ دور میں جنم لینے والی جنگیں اور خود مختاری کا انحصار سافٹ ویئر، آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور جدید ٹیکنالوجی پر ہے۔ جب تک مسلم ممالک سیمی کنڈکٹرز، مائیکرو چپس، کلائوڈ ڈیٹا اور اے آئی پروسیسرز کے لئے غیر ملکی کمپنیوں کے مرہونِ منت رہیں گے، وہ حقیقی معنوں میں خود مختار نہیں ہو سکتے۔ اس وقت عالمِ اسلام کا سب سے بڑا المیہ تعلیم اور تحقیق پر جی ڈی پی کا انتہائی کم حصہ خرچ کرنا ہے۔ شاہ فیصل اور دیگر مفکرین کے خواب کی روح یہی تھی کہ مسلم دنیا علم کا مرکز بنے۔ سائنس، میڈیکل اور انجینئرنگ کے لئے اعلیٰ ترین تحقیقی ادارے اور یونیورسٹیاں قائم کی جائیں تاکہ مسلم دماغ مغرب کی طرف ہجرت کرنے کی بجائے اپنے خطے کی خدمت کریں۔ یاد رہے خود مختاری کا سفر گھر کے اندر سے شروع ہوتا ہے۔ جن ممالک میں داخلی بدامنی، کرپشن اور عوامی بد دلی ہوگی، وہ بیرونی مداخلت کا آسانی سے شکار ہو جائیں گے۔ قانون کی حکمرانی اور معاشی استحکام ہی کسی بھی ملک کو بیرونی دبا کے خلاف ڈھال فراہم کرتا ہے۔ عالمِ اسلام کے پاس جغرافیہ ( اہم تجارتی راستے)، معدنیات ( تیل، گیس، لیتھیم) اور نوجوان آبادی کی شکل میں تمام تر قدرتی وسائل موجود ہیں۔ ان وسائل کی موجودگی میں خودمختاری کا حصول ناممکن نہیں ہے، لیکن اس کے لئے مسلم حکمرانوں کا سیاسی عزم اور اپنے ذاتی، علاقائی مفادات سے اوپر اٹھ کر ہمہ گیر اور طویل المدتی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔

جواب دیں

Back to top button