Column

مکہ معاہدہ: اجتماعی دفاع اور حکمتِ عملی

مکہ معاہدہ: اجتماعی دفاع اور حکمتِ عملی
حروف بے زباں
مرزا رضوان
عالمگیر جیو پولیٹکس اس وقت ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں روایتی سیکیورٹی ڈھانچے اور عالمی طاقتوں کے یکطرفہ اثر و رسوخ کے مقابلے میں علاقائی تعاون اور دفاعی توازن کی اہمیت روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے مشرقِ وسطیٰ اور جنو بی ایشیا میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے اور علاقائی امن کو ممکن بنانے کے لیے غیر معمولی پیش رفت دیکھنے میں آ رہی ہے۔ اس سلسلے کی سب سے اہم کڑی رواں برس 7اگست کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والا تاریخی ’’ مکہ معاہدہ‘‘ ہے۔ اس معاہدے نے نہ صرف تینوں مسلم برادر ممالک کے دیرینہ تاریخی تعلقات کو ایک باضابطہ قانونی و دفاعی فریم ورک میں ڈھالا ہے بلکہ خطے کی سیکیورٹی میں ایک نیا باب رقم کیا ہے۔ اس تاریخی معاہدے کے خدوخال اور اس کے عملی پہلوں کے حوالے سے حال ہی میں پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل، لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کا ’’ العربیہ انگلش‘‘ کو دیا گیا انٹرویو انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ان کا یہ انٹرویو ان تمام سوالات، ابہامات اور غلط فہمیوں کا دوٹوک جواب فراہم کرتا ہے جو بعض بین الاقوامی تجزیہ کار اس معاہدے سے متعلق قائم کر رہے تھے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بنیادی نقطے کی وضاحت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ مکہ معاہدہ خالصتاً عدم جارحیت اور اجتماعی دفاع پر مبنی ایک سیکیورٹی فریم ورک ہے۔ یہ معاہدہ کسی چوتھے ملک کی خلاف کوئی بلاک یا محاذ قائم کرنے کے لیے نہیں، بلکہ خطے میں جارحیت کے سدِ باب (Deterrence)اور باہمی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے تشکیل دیا گیا ہے۔ عالمی تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ جب تک امن پسند ریاستیں اپنے دفاع کو مضبوط اور مشترکہ حکمتِ عملی سے لیس نہیں کرتیں، تب تک خطے کو بدامنی اور جارحیت کے خطرات سے محفوظ رکھنا ممکن نہیں ہوتا۔
انٹرویو کے دوران جب یہ سوال اٹھایا گیا کہ اگر معاہدے میں شامل کسی ایک ملک پر باہر سے حملہ ہوتا ہے تو پاکستان اور دیگر شریک ممالک کا عملی ردِعمل کیا ہوگا؟ اس پر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کا جواب ایک بالغ نظر فوجی حکمتِ عملی کا آئینہ دار تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ دفاعی و سیکیورٹی معاہدوں کی عملی اور آپریشنل تفصیلات کبھی بھی عام نہیں کی جاتیں۔ دنیا کا کوئی بھی ملک اپنی فوجی حکمتِ عملی اور ہنگامی ردِعمل کے تفصیلی منصوبے عوامی سطح پر ظاہر نہیں کرتا، کیونکہ یہ ’’ آپریشنل سیکیورٹی‘‘ کا بنیادی تقاضا ہے۔ تاہم، اصل اصول طے شدہ ہے: معاہدے کے تحت کسی ایک فریق پر حملہ تمام فریقین پر حملہ تصور ہوگا، اور اس کا حتمی، جامع اور موثر ردِعمل کیا ہوگا، اس کی نوعیت کا فیصلہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی قیادت مل بیٹھ کر، حالات کے باریک بینی سے جائزے کے بعد مشترکہ طور پر کرے گی۔ ایک اور انتہائی اہم اور بین الاقوامی اہمیت کا حامل نکتہ بیجنگ کے ساتھ پاکستان کے تزویراتی تعلقات پر اس معاہدے کا اثر تھا۔ مغربی اور بعض علاقائی ذرائع ابلاغ میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی تھی کہ شاید یہ معاہدہ چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کا نعم البدل یا حریف ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس تاثر کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ مکہ معاہدہ چین اور پاکستان کی قائم شدہ سٹریٹجک شراکت داری کی نفی نہیں کرتا بلکہ اس کی تکمیل کرتا ہے۔ پاکستان کی خارجہ و دفاعی پالیسی کسی ایک بلاک کی سیاست تک محدود نہیں، بلکہ یہ کثیرالجہتی توازن (Multi-alignment)پر مبنی ہے جو خطے میں پائیدار امن کی ضمانت فراہم کرتی ہے۔
اس معاہدے کی ایک اور منفرد خصوصیت اس کا نظریاتی یا مذہبی خول سے بالاتر ہو کر عملی علاقائی سیکیورٹی پر توجہ مرکوز کرنا ہے۔ اگرچہ یہ معاہدہ تین اہم مسلم ممالک کے درمیان ہے، لیکن ڈی جی آئی ایس پی آر نے وضاحت کی کہ اسے روایتی ’ مسلم اتحاد‘ کے جذباتی نعرے کے طور پر دیکھنے کے بجائے علاقائی استحکام اور عدمِ جارحیت کے ایک حقیقت پسندانہ اقدام کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ اس معاہدے کے دروازے مستقبل میں دیگر ریاستوں کی شمولیت کے لیے بھی کھلے ہیں، جس کا فیصلہ تینوں بانی ممالک کی اعلیٰ ترین قیادت باہمی مشاورت سے کرے گی۔’’ مکہ معاہدہ ‘‘ اکیسویں صدی کے تبدیل ہوتے ہوئے جیو پولیٹیکل منظرنامے میں ایک گیم چینجر کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ معاہدہ نہ صرف پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین دفاعی پیداوار، انٹیلی جنس شیئرنگ اور مشترکہ حکمتِ عملی کو ایک نئی بلندی پر لے جائے گا، بلکہ یہ خطے میں کسی بھی غیر متوقع جارحیت کے سامنے ایک مضبوط دیوار ثابت ہوگا۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کی وضاحتوں نے ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان اپنی قومی سلامتی، دفاعی ذمہ داریوں اور بین الاقوامی تعلقات میں کامل بصیرت اور پختگی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔

جواب دیں

Back to top button