تاریخی فتنوں کا تسلسل اور حرمتِ کعبہ کا لازوال تقدس

تاریخی فتنوں کا تسلسل اور حرمتِ کعبہ کا لازوال تقدس
قادر خان یوسف زئی
زمین پر جب بھی کبھی طاقت کے نشے میں چور کسی گروہ، فتنہ پرور قوت یا ظالم ٹولے نے کعبے کی سمت میلی آنکھ سے دیکھنے یا اس کے تقدس کو پامال کرنے کی جسارت کی ہے، تاریخ گواہ ہے کہ اس کا انجام عبرت کا نشان بن کر رہ گیا ہے۔ تاریخ کے دریچوں سے جھانکیں تو معلوم ہوگا کہ ارضِ مقدس کو نشانہ بنانے یا اس پر غاصبانہ قبضے کی مذموم کوششیں کوئی آج کی پیداوار نہیں ہیں، بلکہ اس فتنہ پروری کی جڑیں ماضی کے تلخ ترین اور دہلا دینے والے واقعات میں پیوست ہیں۔ اگر ہم اسلامی تاریخ کے سیاہ باب کا مطالعہ کریں تو ہمیں سنہ 317ہجری ( بحطری یا قرامطی تحریک کے دوران) ابو طاہر سلیمان القرامطی کا وہ ہولناک حملہ یاد آتا ہے جب اس نے مکہ مکرمہ پر حملہ کر کے قبضہ کیا، خون کی ندیاں بہائیں اور تاریخ کے سفاک ترین روپ میں حجر اسود کو خانہ کعبہ سے اکھاڑ کر اپنے ساتھ بحرین اٹھ لے گیا۔ وہ سیاہ دور تھا جب بائیس سال تک خانہ کعبہ حجر اسود سے خالی رہا، اور امتِ مسلمہ کا کلیجہ اس صدمے سے چھلنی رہا، یہاں تک کہ عباسی خلیفہ مقتدر باللہ کے دور میں بھاری فدیہ دے کر اسے واپس لایا گیا۔ قرامطیت کا وہ فرعون بھی مٹی میں مل گیا اور اس کی طاقت کا غرور بھی خاک ہو گیا، مگر کعبے کی عظمت پر آج تک کوئی حرف نہیں آ سکا۔
اس تاریخی تسلسل کو اگر ہم موجودہ دور کے تناظر میں دیکھیں تو یمن کے کوہستانوں سے اٹھنے والی شرارتیں اسی پرانے فکری ناسور کا جدید روپ معلوم ہوتی ہیں۔ اکتوبر 2016ء کا وہ دن کون بھول سکتا ہے جب یمن کے شمال مغربی صوبے صعدہ سے حوثی ملیشیا نے ایک’ برکان۔1‘ بیلسٹک میزائل داغا۔ دعویٰ یہ کیا گیا کہ نشانہ جدہ کا شاہ عبدالعزیز ہوائی اڈا ہے، مگر حقیقت کے پردے چاک ہوئے تو معلوم ہوا کہ اس بلا کا رخ سوئے حرم تھا، جسے سعودی فضائی دفاع نے مکہ مکرمہ سے 65کلومیٹر کے فاصلے پر فضا ہی میں راکھ کا ڈھیر بنا ڈالا۔ اس وقت بھی اللہ کے فضل سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا، مگر امتِ مسلمہ کے کلیجے ضرور منہ کو آ گئے تھے، کیونکہ بات براہِ راست کعبے کے تقدس کی تھی۔ یہی نہیں، بلکہ27جولائی 2017ء کو تاریخ نے خود کو پھر دہرایا جب حوثیوں کی طرف سے ایک اور بیلسٹک میزائل داغا گیا، جسے سعودی فضائی دفاعی نظام نے طائف کے قریب ’ الوسیلیا‘ کے مقام پر مکہ سے انہتر کلومیٹر کے فاصلے پر مار گرایا، اور اس بار بھی کمال مہارت سے بڑے سانحہ کو ٹال دیا گیا۔ وقت گزرتا گیا، مگر فتنہ پروروں کی ناپاک سوچ اور ہوسِ تخریب میں کوئی کمی واقع نہ ہوئی۔
اور پھر 16ستمبر 2026ء کا یہ دن ایک نیا، سنگین اور خطرناک باب لے کر طلوع ہوا۔ معاملہ صرف دور دراز سے داغے جانے والے کسی بھاری بھرکم بیلسٹک میزائل کا نہیں تھا، بلکہ ایک جدید اور سبک رفتار ڈرون کا تھا جو فضائوں کو چیرتا ہوا مکہ مکرمہ کی فضائی حدود اور حرمت کے دائرے میں گھسنے کی ناپاک کوشش کر رہا تھا۔ سعودی فضائی دفاعی نظام نے اس اڑتے ہوئے فتنے کو شہر کے جنوب میں ہی فضا میں تحلیل کر دیا۔ یہ صرف ایک جنگی ہتھیار کی تباہی نہیں تھی، بلکہ یہ اس بات کا غماز تھا کہ وقت کے ساتھ ساتھ دشمن کی تکنیکی صلاحیت، ڈرون ٹیکنالوجی اور ہدف تک پہنچنے کی مہارت میں واضح اضافہ ہو چکا ہے۔2016ء اور 17ء کے وہ بھاری میزائل اب جدید، غائر اور خاموش مسزیروں ( ڈرونز) میں بدل چکے ہیں، جنہیں روکنے کے لیے غفلت کی ایک ہلکی سی جنبش بھی کسی بڑے فکری و جانی سانحے کو جنم دے سکتی ہے۔ سعودی عرب کے سرکاری اور عسکری ترجمان ترکی المالکی نے اس موقع پر بالکل بجا اور دو ٹوک الفاظ میں واضح کر دیا ہے کہ اسلام کے دونوں مقدس ترین مقامات اور وہاں دنیا بھر سے کھنچے چلے آنے والے حجاجِ کرام اور معتمرین کی حفاظت ایک ایسی سرخ لکیر ہے جسے پار کرنے کی اجازت کسی کو نہیں دی جائے گی، اور اس حرمت پر آنچ آنے کی صورت میں جوابی کارروائی میں ذرا بھر بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی جائے گی۔
سب سے دردناک اور گہرا پہلو یہ ہے کہ مذہب یا مظلومیت کے نام پر ہتھیار اٹھانے والے یہ عناصر اپنے ہی کلمہ گو بھائیوں اور خطے کے امن کو روندنے کے لیے کس قدر نچلی سطح تک گر چکے ہیں۔ ایک طرف حرمِ کعبہ کی وہ عظمت ہے جہاں کا ادنیٰ سا ذرہ بھی کائنات کے تمام خزانوں سے قیمتی ہے، اور دوسری طرف وہ سفاک ہٹ دھرمی ہے جو سیاسی مفادات، بیرونی آقاں کی خوشنودی اور فرقہ وارانہ ایجنڈے کے تحت دنیا کے اس مقدس ترین مرکز کو جنگ کا اکھاڑا بنانے سے بھی دریغ نہیں کرتی۔ جب طاقت کے ان ایوانوں میں جھانکتا ہوں جہاں بیٹھ کر یہ ناپاک کھیل کھیلے جاتے ہیں، تو ہنسی بھی آتی ہے اور نوحہ کناں ہونے کو دل بھی چاہتا ہے کہ کیسا عجب دور ہے جہاں مسجدوں، مقدس مقامات اور مکہ و مدینہ کی حرمت کو بھی بلیک میلنگ اور سیاسی جنگوں کا حربہ بنا لیا گیا ہے۔ حوثیوں کی طرف سے اگرچہ اس نوعیت کے حملوں کے بعد روایتی تردیدیں بھی سامنے آتی رہی ہیں، جن میں وہ اپنے اوپر لگنے والے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہیں، مگر زمینی حقائق، عسکری شواہد اور ماضی کے تلخ واقعات اس بات کا بین ثبوت کہ ان کا ہدف ہمیشہ سے امتِ مسلمہ کے جذبات اور مقدس مراکز رہے ہیں۔ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ دنیا کا ہر مسلمان دن میں پانچ بار مکہ کی طرف رخ کر کے سجدہ کرتا ہے، اور عین اسی مرکز پر ضرب لگانا دراصل پوری امتِ مسلمہ کے قلب و روح پر وار کرنے کے مترادف ہے۔
اب یہاں ایک دوسرا یا مخالف نقطہ نظر بھی سامنے لایا جا سکتا ہے، جسے ’’ ٹو بی شور‘‘ (To Be Sure)کہا جاتا ہے۔ کچھ حلقے، سیاسی مصلحتوں کے اسیر تجزیہ کار یا فریقِ مقابل کے حامی یہ دلیل دیتے ہیں کہ تمام کارروائیاں کسی وسیع تر علاقائی کشمکش، یمن کی جنگ اور سیاسی رسہ کشی کا عسکری شاسانہ ہیں، اور اس تنازع کو براہِ راست مذہب یا حرمتِ کعبہ کے ساتھ نتھی کر کے جذبات کو بھڑکانا زمینی حقائق سے چشم پوشی کے مترادف ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ جنگ کے اپنے اصول ہوتے ہیں اور فریقین ایک دوسرے کے تزویراتی و عسکری مقامات کو نشانہ بناتے ہیں، لہٰذا اسے کسی مذہبی جنگ یا حجر اسود اٹھانے والے قرامطی تاریخی استعاروں کا رنگ دینا حالات کو مزید بگاڑ سکتا ہے۔ بظاہر یہ دلیل بڑی پرسکون، تکنیکی اور مدبرانہ محسوس ہوتی ہے، اور امن کے نام نہاد داعی اس قسم کے بیانیے کو سراہتے بھی ہیں، مگر تاریخ کی سنگلاخ زمین اور عقیدے کے پردے پر یہ فکری لچک بالکل دم توڑ جاتی ہے۔ جب بات مکہ مکرمہ، خانہ کعبہ اور مدینہ منورہ کے تقدس کی ہو، تو وہاں سیاسی مباحثے، سفارتی مصلحتیں اور جنگی اصولوں کی لچک دار کتابیں ایک طرف رکھ دی جاتی ہیں۔ کعبے کی حرمت کوئی عام جغرافیائی سرحد یا عسکری چوکی نہیں ہے کہ اس پر کوئی سودے بازی کی جا سکے۔
مکہ مکرمہ کی سلامتی اور حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہ کل قرامطی دور میں ممکن تھا اور نہ آج حوثی ڈرون حملوں کے سامنے رو رو کر یا ڈر کر قبول کیا جا سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ امتِ مسلمہ کو اس نازک موڑ پر کسی ابہام یا سیاسی مصلحت کا شکار ہونے کے بجائے دوٹوک انداز میں اس عزم کا اعادہ کرنا ہوگا کہ اسلام کے مراکزِ مقدسہ پر میلی آنکھ رکھنے والوں کے لیے زمین تنگ کر دی جائے۔





