Column

دفاع مضبوط، امن اولین ترجیح

اداریہ۔۔۔۔
دفاع مضبوط، امن اولین ترجیح
دنیا کے موجودہ حالات میں کسی ملک کی اصل طاقت صرف اس کے ہتھیاروں، فوجی سازوسامان یا دفاعی بجٹ سے نہیں ناپی جاتی۔ اصل طاقت یہ بھی ہے کہ وہ بحران کے وقت اپنے دفاع کی صلاحیت برقرار رکھتے ہوئے جنگ کے بجائے امن کا راستہ تلاش کرے۔ پاکستان کا حالیہ سفارتی اور دفاعی کردار اسی سوچ کی عکاسی کرتا دکھائی دیتا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کے عرب میڈیا کو دئیے گئے انٹرویو میں پاکستان کی دفاعی پالیسی اور علاقائی امن کے حوالے سے اہم نکات سامنے آئے۔ ان کے مطابق پاکستان کی دفاعی صلاحیتیں دفاعی نوعیت کی ہیں، کسی ملک کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں، تاہم ملک اپنے دفاع کے ساتھ جواب دینے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ یہ پیغام دراصل ایک ذمے دار ریاست کے اس اصول کو ظاہر کرتا ہے کہ امن کی خواہش کمزوری نہیں، بلکہ امن کے تحفظ کے لیی موثر دفاع بھی ضروری ہے۔ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ بھی اسی تناظر میں اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے 7اگست 2026ء کو مکہ مکرمہ میں اس معاہدے پر دستخط کیے، جس کے تحت تینوں ممالک نے مشترکہ دفاعی تعاون اور اجتماعی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانے کا عزم کیا۔ معاہدے میں کسی ایک ملک پر مسلح حملے کو تینوں پر حملہ تصور کرنے کی شق بھی شامل ہے۔ پاکستانی وزارت خارجہ نے واضح کیا ہے کہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور کسی ملک کے خلاف نہیں۔ یہاں پاکستان کے کردار کا ایک اہم پہلو سامنے آتا ہے۔ پاکستان صرف دفاعی تعاون کی بات نہیں کر رہا بلکہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور بات چیت کے راستے کھلے رکھنے کی بھی حمایت کر رہا ہے۔ 31اگست کو مکہ معاہدے کے تحت قائم اسٹرٹیجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے مشترکہ بیان میں تینوں ممالک نے پائیدار امن و استحکام، کشیدگی میں کمی اور بحرانوں کے پُرامن حل کے لیے کوششیں جاری رکھنے کا عزم کیا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان کی سفارت کاری کو ایک مختلف زاویے سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے لیے امن محض ایک نعرہ نہیں۔ یہ ملک کئی دہائیوں سے خطے کے پیچیدہ حالات کا سامنا کرتا آیا ہے۔ اس لیے پاکستان بخوبی جانتا ہے کہ جنگ شروع کرنا آسان اور اسے ختم کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ جنگ کا نقصان صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتا بلکہ معیشت، تجارت، توانائی، روزگار اور عام شہری کی زندگی بھی اس کی زد میں آتی ہے۔ چنانچہ پاکستان کا یہ موقف قابلِ توجہ ہے کہ دفاعی صلاحیت مضبوط ہو، مگر اسے جارحیت کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔ اسی سوچ کا دوسرا پہلو ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں پاکستان کی ثالثی کی خواہش ہے۔ اگر پاکستان مختلف فریقوں کے درمیان رابطے، مکالمے اور کشیدگی میں کمی کے لیے اپنا کردار ادا کر سکتا ہے تو یہ اس کے سفارتی وزن کا اظہار ہوگا۔ ایک ایسا ملک جو اپنے دفاع کے معاملے میں واضح ہو لیکن اختلافات کے حل کے لیے مذاکرات کا راستہ تجویز کرے، خطے میں اعتماد سازی میں کردار ادا کر سکتا ہے۔ افغانستان کے معاملے میں بھی پاکستان کا بنیادی مطالبہ یہی بتایا گیا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کی خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو۔ یہ مطالبہ کسی جارحانہ پالیسی کے بجائے ریاست کی سلامتی سے متعلق ایک بنیادی تشویش کے طور پر سامنے آتا ہے۔ پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ اسے بیک وقت کئی سمتوں میں توازن قائم رکھنا پڑتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ تاریخی تعلقات، ترکیہ کے ساتھ اسٹرٹیجک شراکت داری، ایران کے ساتھ ہمسائیگی، چین کے ساتھ اہم تعلقات اور دیگر عالمی طاقتوں سے روابط، یہ سب پاکستان کی خارجہ پالیسی کو پیچیدہ بناتے ہیں، لیکن یہی پیچیدگی پاکستان کے لیے سفارت کاری کا موقع بھی پیدا کرتی ہے۔ پاکستان اگر اپنے تمام دوست ممالک کے ساتھ روابط برقرار رکھتے ہوئے کسی ایک فریق کی کشیدگی کا حصہ بننے کے بجائے مکالمے اور امن کا پُل بننے کی کوشش کرے تو یہ اس کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک اہم اثاثہ ہوسکتا ہے۔ مکہ معاہدہ بھی اسی وسیع تر تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ سرکاری موقف کے مطابق اس کا مقصد اجتماعی دفاعی صلاحیت اور مزاحمت کو مضبوط بنانا ہے جب کہ اس کی سیاسی و دفاعی کمیٹی نے علاقائی امن اور بحرانوں کے پُرامن حل کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ دنیا کو آج ایسے ہی توازن کی ضرورت ہے۔ ایسی طاقت جو جنگ کو دعوت نہ دے، مگر جارحیت کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ ایسی سفارت کاری جو کسی ایک فریق کی ترجمان نہ بنے، بلکہ ممکن ہو تو فریقین کو میز پر لانے کی کوشش کرے۔ اور ایسی ریاست جو اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے ساتھ خطے کے امن کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل رکھے۔ پاکستان کے لیے سب سے بڑا اعزاز یہی ہوسکتا ہے کہ اسے صرف ایک دفاعی قوت کے طور پر نہیں بلکہ امن کے لیے قابلِ اعتماد آواز کے طور پر بھی پہچانا جائے۔ آج دنیا کو مزید محاذوں کی نہیں، مزید مکالموں کی ضرورت ہے۔ مزید تصادم کی نہیں، مزید رابطوں کی ضرورت ہے۔ پاکستان اپنی دفاعی صلاحیت، سفارتی روابط اور خطی میں موجود تاریخی تعلقات کو بروئے کار لا کر اس سمت میں اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔ امن کمزوری سے نہیں، ذمے دار طاقت سے محفوظ ہوتا ہے۔ اور پاکستان کا پیغام واضح ہونا چاہیے، ہم جنگ نہیں چاہتے، لیکن اپنے دفاع سے غافل بھی نہیں۔ ہم کسی ملک کے خلاف جارحیت نہیں چاہتے، لیکن اپنی خودمختاری کا تحفظ ضرور کریں گے اور جہاں ممکن ہو، بندوق کے بجائے مذاکرات کی میز کو ترجیح دیں گے۔ یہی پاکستان کے لیے ایک مضبوط، متوازن اور باوقار راستہ ہوسکتا ہے۔
شذرہ۔۔۔
معیشت کو دستاویزی بنانے کی مثبت پیشرفت
پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا ناگزیر ہے، تاہم اس عمل کی کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب چھوٹے تاجروں اور دکانداروں کو خوف کے بجائے سہولت، اعتماد اور آسان طریقہ کار فراہم کیا جائے۔ حکومت کی جانب سے ’’ آسان ٹیکس اسکیم‘‘ کے ذریعے چھوٹے کاروباری طبقے کو ٹیکس نظام میں شامل کرنے کی کوشش اسی سمت ایک اہم قدم ہے۔ ایف بی آر کی جانب سے چھوٹے تاجروں کے لیے آسان ریٹرن فائلنگ کے حوالے سے حالیہ آگاہی سرگرمیاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ حکومت محض ٹیکس وصولی کے بجائے تاجروں کو طریقہ کار سمجھانے اور انہیں سہولت فراہم کرنے پر بھی توجہ دے رہی ہے۔ اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں منعقدہ آگاہی سیمینار میں 100سے زائد چھوٹے تاجروں نے شرکت کی، جہاں ایف بی آر حکام نے ریٹرن فائل کرنے کے مراحل کی وضاحت اور موقع پر رہنمائی فراہم کی۔ اس اسکیم کا بنیادی فائدہ یہ ہے کہ چھوٹے کاروبار کو پیچیدہ ٹیکس نظام سے جوڑنے کے بجائے نسبتاً آسان راستہ فراہم کیا جائے۔ اگر دکاندار کو معلوم ہو کہ رجسٹریشن کیسے ہوگی، ٹیکس کس بنیاد پر ہوگا، ریٹرن کیسے جمع کرانا ہے اور ایف بی آر سے رابطے کا طریقہ کیا ہے تو ٹیکس نظام میں شمولیت کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے رجسٹرڈ دکانداروں کے لیے مخصوص سبز اسمارٹ پلیٹ کا تصور بھی اعتماد سازی کی کوشش کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اگر اس اقدام کے تحت دکاندار کو غیر ضروری مداخلت سے تحفظ اور واضح قواعد فراہم کیے جاتے ہیں تو یہ کاروباری طبقے کے تحفظات کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ پاکستان میں ٹیکس نظام کو وسعت دینے کی ضرورت اس لیے بھی اہم ہے کہ سرکاری محصولات میں اضافہ ملکی ترقی، عوامی خدمات اور معاشی استحکام کے لیے وسائل فراہم کرتا ہے۔ ایف بی آر کے اعدادوشمار کے مطابق اگست 2026ء تک 13ہزار 731ریٹیلرز کی 37ہزار 770برانچز ایف بی آر کے نظام سے مربوط ہوچکی تھیں، جو کاروباری سرگرمیوں کو دستاویزی بنانے کے بڑھتے ہوئے عمل کی نشان دہی کرتی ہیں۔ تاہم اسکیم کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ حکومت تاجر برادری کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھے، شکایات کے فوری ازالے کا مثر نظام قائم کرے اور قانون پر عمل درآمد کے ساتھ حقیقی مشکلات رکھنے والے کاروباری افراد کو سہولت فراہم کرے۔ ایف بی آر پہلے ہی کاروباری برادری کو زیادہ سے زیادہ ممکنہ سہولت دینے اور حقیقی مشکلات کے کیسز کو خصوصی طور پر دیکھنے کی یقین دہانی کرا چکا ہے۔ آسان ٹیکس اسکیم اگر سہولت، شفافیت، ڈیجیٹلائزیشن اور اعتماد کے اصولوں کے ساتھ آگے بڑھائی جائے تو یہ صرف ٹیکس وصولی کا ذریعہ نہیں بلکہ معیشت کو دستاویزی، کاروبار کو منظم اور ریاست و تاجر کے تعلق کو مضبوط بنانے کی بنیاد بن سکتی ہے۔ یہی وہ اصلاحات ہیں جن سے پاکستان کا ٹیکس نظام وسیع اور معیشت زیادہ مستحکم ہوسکتی ہے۔

جواب دیں

Back to top button