بے بسی!!

بے بسی!!
محمد مبشر انوار
پاکستان ایک طرف جہاں انوکھا ملک ہے تو اس کو انوکھا بنانے میں اس کی اشرافیہ کا بھرپور کردار کسی بھی طور نظر انداز نہیں کیا جا سکتا بلکہ حقیقت تو یہی ہے کہ اس خوبصورت ترین اور وسائل سے بھرپور ملک کو انوکھا بنانے میں اشرافیہ ( سول و ملٹری) کا کردار ہی ہے کہ اس ملک میں ایسے ایسے قوانین بن جاتے ہیں کہ جن کا جدید دور میں تصور تک نہیں کیا جا سکتا۔ باقی دنیا میں اب کسی فرد واحد کو سامنے رکھ کر قانون سازی قصہ پارینہ بن چکی حتی کہ ایسے ممالک جہاں آج بھی بادشاہت اپنے پورے کروفر کے ساتھ موجود ہے، کسی فرد واحد کو سامنے رکھتے ہوئے قانون سازی نہیں کی جاتی۔ دوسری طرف اس حقیقت سے بھی قطعا انکار نہیں کہ باقی دنیا میں بہت کم امتیازی قوانین دیکھنے کو ملتے ہیں جبکہ پاکستان میں ایسے امتیازی قوانین کی بھرمار دکھائی دیتی ہے یا پھر اشرافیہ پر قوانین لاگو ہی نہیں ہوتے اور انہیں آج کے دور میں بھی ’’ استثنیٰ‘‘ میسر ہے۔ جرائم کے حوالے سے بھی یہ ایک حقیقت ہے کہ قوانین ایسے ترتیب دئیے جاتے ہیں کہ جہاں کسی جرائم پیشہ کی نہ تو حوصلہ افزائی ہو اور نہ ہی معاشرے میں جرائم بڑھ سکیں اور کسی بھی مجرم کو قرار واقعی سزا دے کر معاشرے کو جرائم سے پاک کیا جا سکے لیکن پاکستان میں جرائم پیشہ افراد کے حوالے سے عجیب منطق دکھائی دیتی ہے کہ عموما جیل کی سلاخوں سے نکل کر براہ راست اقتدار کے ایوانوں تک جا پہنچتے ہیں یا پھر ’’ فرد جرم‘‘ لگنے سے ایک رات پہلے ہی اقتدار کی غلام گردشوں میں پہنچا دیا جاتا ہے اور اس سے بھی کہیں بڑھ کر کسی بھی سزا یافتہ قیدی کو عدالتی سہولیات فراہم کرنے کے لئے، عدالتی نظام ہی ایئرپورٹ پر حاضر ہوجاتا ہے، ایسی صورتحال میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے۔ اس سب کے پیچھے ، ریاستی مشینری کے علاوہ، جو سب سے کمزور فریق دکھائی دیتا ہے، وہ ملکی عدلیہ ہے، جس کے فیصلوں پر تو اعتراضات ہیں ہی البتہ جو فیصلے وہ دیتی ہے، اس پر عملدرآمد کروانا بھی جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔ حکومتی موقف کے حق میں اگر عدالتی فیصلہ ہو تو عملدرآمد کے لئے پوری ریاستی مشینری متحرک ہو جاتی ہے اور اگر فیصلہ حکومتی خواہش کے برعکس ہو، تب بھی فیصلے پر عملدرآمد میں حکومتی مشینری ٹال مٹول یا عدم تعمیل میں متحرک ہو جاتی ہے۔ 2024ء کے عام انتخابات کے بعد، ایسی ہی صورتحال دیکھنے کو ملی جب عدالت عظمی کی جانب سے مخصوص نشستوں کے کیس میں فیصلہ حکومتی امنگوں اور آقائوں کی منصوبہ بندی کے خلاف آیا تو حکومتی فریق سر جوڑ کر بیٹھ گئے کہ کس طرح اس فیصلے کو غیر موثر کیا جائے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پارلیمنٹ کی جانب سے ، اس فیصلے کو غیر موثر کرنے کی حکمت عملی اپناتے ہوئے، قواعدو ضوابط میں تبدیلی کی گئی اور فیصلے کو غیر موثر کرکے، عملدرآمد کے قابل ہی نہیں چھوڑا گیا، یعنی جو قوانین موجود تھے،جن کے مطابق فیصلہ آیا تھا،اس کو تسلیم نہیں کیا گیا بلکہ اس قانون کو ہی بدل دیا گیا۔ بقول علامہ اقبالؒ ’’ خود بدلتے نہیں قرآن کو بدل دیتے ہیں ۔۔ کس درجہ ہوئے فقیہان حرم بے توفیق‘‘۔ اس پس منظر میں یہ تصور کرنا کہ کسی عام شہری کو بھی انصاف مل سکے گا، خام خیالی ہے کہ اقتدار کو جونکوں کی مانند چمٹنے والے، کسی بھی صورت اقتدار سے الگ ہونے کے لئے تیار نہیں اور اس میں کسی بھی حد سے گزرنے کے لئے تیار ہیں۔
معاشرے کو جرائم سے پاک رکھنے کے لئی سب سے اہم ترین کردار، عدالتوں کا ہے کہ عدلیہ کے آئین و قانون کے مطابق کئے گئے فیصلوں سے ہی یہ ممکن ہوتا ہے کہ ہر شہری کو اس کا حق مل سکے، اس کے حقوق کی ضمانت ایک طرف ملکی آئین و قانون فراہم کرتا ہے تو دوسری طرف ان حقوق کے سلب ہونے پر عدالتیں مظلوم کی داد رسی کرتے ہوئے، اس کے حقوق یقینی بناتی ہیں بشرطیکہ عدالتیں آزاد ہوں اور ان میں بیٹھے ہوئے منصف نہ صرف آئین و قانون سے بخوبی واقف ہوں بلکہ ان کا کردار بھی کسی شک و شبہ سے بالا تر ہو۔ سائلین کو یہ یقین ہو کہ منصب پر بیٹھا منصف صرف قابل ہی نہیں بلکہ اس کی شخصیت غیر جانبدار، اعلیٰ کردار اور ظرف کی مالک ہے جو کسی بھی طور کسی مظلوم کی حق تلفی نہیں ہونے دیگی، اور منصب پر بیٹھا شخص اپنے فرض سے کماحقہ انصاف کرے گا اور آئین و قانون کے تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے داد رسی کرے گا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ساری دنیا میں یہ مسلمہ اصول ہے کہ عدالتیں بہرحال کسی بھی سیاسی دباؤ یا مداخلت سے آزاد ہوتی ہیں اور عدالتی امور میں خودمختار ہوتی ہیں لیکن پاکستان میں یہ اصول کہیں دکھائی نہیں دیتا گو کہ سابق چیف جسٹس سجاد علی شاہ نے عدلیہ میں تقرریوں کے حوالے سے ایک تاریخی فیصلہ دیا تھا، جس کا سب سے پہلے شکار وہ خود ہوئے لیکن عدلیہ کی سمت کا تعین کر گئے۔ بعد ازاں گزشتہ برس تک یہ اصول کارفرما رہا تاآنکہ فارم 47کی مدد سے معرض وجود میں آنے والی پارلیمنٹ نے 27ویں آئینی ترمیم منظور کر کے، عدلیہ کی آزادی و خود مختاری ہی سلب نہیں کی بلکہ وفاقی آئینی عدالت کی صورت ایک متوازی نظام بھی قائم کر دیا جو بہرحال آج سپریم کورٹ سے برتر اور بالا نظر آیا ہے۔ 26ویں ترمیم کے بعد پہلی واردات عدلیہ میں چیف جسٹس کے تقرر کے حوالے سے کی گئی اور جسٹس سید منصور علی شاہ کی تقرری بطور چیف جسٹس کو روکا گیا، جسٹس سید منصور علی شاہ چونکہ آئین و قانون پسند شخصیت ہیں، انہوں نے پارلیمنٹ کے اس استحقاق کو تسلیم کرتے ہوئے، جسٹس یحییٰ آفریدی کو بطور چیف جسٹس قبول کرلیا اور اپنے فرائض سر انجام دیتے رہے۔ البتہ27ویں ترمیم کے بعد، جس میں عدلیہ کی اختیارات سلب کئے گئے اور ایک متوازی عدالتی نظام ترتیب دیا گیا تو احتجاجا جسٹس سید منصور علی شاہ اور ان کے رفیق جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا کہ اس ترمیم کے بعد، جو جدوجہد سید منصور علی شاہ، ادارے کے اندر رہتے ہوئے کر رہے تھے، اس کا امکان ہی ختم ہو گیا۔ جسٹس سید منصور علی شاہ مسلسل اس کوشش میں رہے کہ کسی طرح چیف جسٹس یحی آفریدی فل کورٹ کا اجلاس بلوائیں اور 26ویں آئینی ترمیم کی آئینی حیثیت کا جائزہ لیا جائے مگر جسٹس یحی آفریدی کے جانب سے اس پر ٹال مٹول سے کام لیا گیا تا آنکہ 27ویں آئینی ترمیم منظور نہ ہوگئی، جس کے بعد عملا فل کورٹ کا اجلاس بے معنی دیکھ کر جسٹس منصور علی شاہ اپنے عہدے سے الگ ہو گئے۔
اس وقت سپریم کورٹ کی کیا حالت ہے، اس کا اندازہ وفاقی آئینی عدالت کے اقدامات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ ماہ سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے عمران خان کی صحت کے حوالے سے دائر درخواست پر عبوری فیصلہ کماحقہ عملدرآمد تو نہیں کروایا گیا لیکن اس فیصلے کو بنیاد بناتے ہوئے، اڈیالہ جیل کے تین قیدیوں کی درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی جاتی ہے، جس کی سماعت انتہائی سرعت کے ساتھ، دس دن کے اندر، کرکے فیصلہ بھی سنا دیا جاتا ہے گو کہ فیصلے میں استدعا کو مسترد کر دیا جاتا ہے۔ استدعا کو مسترد کرنے کا فیصلہ انتہائی سوچا سمجھا ہے کہ ابتداء میں ہی اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس درخواست کی لارجر بینچ میں سماعت کی کہ اس کے فوری بعد اگلا فورم براہ راست وفاقی آئینی عدالت کا ہو، جو اس وقت ہوا بھی ہے ۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے دس دن کے اندر سماعت و فیصلے کے بعد، اڈیالہ جیل کے متاثرین اپنی اپیل وفاقی آئینی عدالت میں کر چکے ہیں حالانکہ سپریم کورٹ کا عمران خان کے حوالے سے فیصلہ عبوری تھا اور اس پر کماحقہ عمل بھی نہیں کروایا گیا لیکن ان قیدیوں کو اس عبوری فیصلے کی بنیاد پر ہی نہ صرف ان کی درخواست سنی گئی بلکہ انہیں یہ موقع بھی فراہم کیا گیا کہ وہ عمران خان کیس کی اگلی سماعت سے قبل یقینی طور پر وفاقی آئینی عدالت تک پہنچ جائیں کہ کسی بنیادی حق کی تلفی پر ہائی کورٹ میں ہونے والے فیصلے کے خلاف اپیل براہ راست وفاقی آئینی عدالت کا فورم ہے۔ وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے نہ صرف اس اپیل کو فوری طور پر سماعت کے لئے مقرر کیا گیا بلکہ اس کیس کے لگتے ہی، وفاقی آئینی عدالت نے عمران خان کا کیس بھی وفاقی آئینی عدالت میں طلب کر لیا ہے کہ چونکہ یہ بنیادی حق کا معاملہ ہے، لہذا وفاقی آئینی عدالت کے دائرہ اختیار میں آتا ہے یوں 16ستمبر کو ہونے والی سماعت اب بظاہر ہوتی دکھائی نہیں دیتی ۔ اس سارے معاملے کے بعد، معاملہ اب چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے لئے ایک چیلنج بنتا دکھائی دیتا ہے، جو اس تحریر کے شائع ہونے تک سامنے آ چکا ہو گا کہ ان کا موقف اس صورتحال میں کیا ہوگا مگر ابھی تک یہ واضح ہے کہ وفاقی آئینی عدالت برتر و بالا دکھائی دے رہی ہے، اگر 26ویں آئینی ترمیم کے بعد، سپریم کورٹ اپنے اختیارات کو بچانے کی کوشش کرتی، اپنا نظر ثانی کا اختیار استعمال کرتی، آئین کے بنیادی ڈھانچہ کو مدنظر رکھتی، آئین کے محافظ کا کردار ادا کرتی تو ممکنہ طور پر یہ آئینی ترامیم ماورائے آئین قرار دے کر کالعدم قرار دے سکتی تھی لیکن اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیا چگ گئی کھیت، اب تو صرف بے بسی ہی دکھائی دیتی ہے۔





