ColumnTajamul Hussain Hashmi

سندھ حکومت اپنے ہی سایوں کے زیر اثر

سندھ حکومت اپنے ہی سایوں کے زیر اثر
تجمّل حسین ہاشمی
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا ۃ؁ کہ ’’ ہمارے پاس منصوبوں کی ایک لمبی فہرست ہے، وقت نہیں کہ ان کا افتتاح کریں، اگر افتتاح کرنے لگ گئے تو کام نہیں کر سکیں گے‘‘۔ کراچی کے موجودہ ترقیاتی منظرنامے کے تناظر میں ان کا بیان خاصی اہمیت رکھتا ہے۔ واقعی کراچی میں اس وقت سڑکوں، فلائی اوورز، انڈر پاسز، پانی، سیوریج ، صفائی، پبلک ٹرانسپورٹ اور بنیادی ڈھانچے کے متعدد بڑے منصوبے جاری ہیں۔ سندھ حکومت نے کراچی کے لیے ترقیاتی منصوبوں کا ایک بڑا پروگرام ترتیب دیا ہے۔ اب ان کی رفتار تیز کرنے، معیار برقرار رکھنے اور مقررہ مدت میں تکمیل یقینی بنائی جائے تو بہتر، ورنہ منصوبے عوام کیلئے درد سر بن رہے ہیں ۔
سندھ حکومت کے 2026۔27ٗ کے بجٹ کے مطابق کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کا مجموعی تخمینہ 644ارب 30کروڑ روپے ہے، اور شہر کے لیے 816ترقیاتی سکیمیں شامل ہیں ۔ ان میں 167ایسے جاری منصوبے ہیں جن میں ہر منصوبے کی لاگت کم از کم 50کروڑ روپے سے زیادہ ہے، جبکہ 110بڑے منصوبے ایک ارب روپے سے زائد مالیت کے ہیں جبکہ شہر بھر کی مختلف اسکیموں کو شامل کیا جائے تو مجموعی مختص رقم 108ارب 10کروڑ روپے بنتی ہے۔ ویسے یہ اعداد و شمار معمولی نہیں۔ کراچی جیسے بڑے شہر کے لیے 816ترقیاتی اسکیموں کا پورٹ فولیو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ شہر کے بنیادی مسائل کو مختلف شعبوں میں حل کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر کام کیا جارہا ہے، لیکن کام کی رفتار شہریوں کے لیے درد سر بن چکی ہے۔ حفاظتی اقدامات کی کمی، ٹریفک کے انتظامات میں لاپرواہی عام نظر آتی ہے۔ شاہراہِ بھٹو، کورنگی کاز وے جنکشن، عظیم پورہ فلائی اوور، ملیر ایکسپریس وے سے منسلک نئے انٹرچینجز، ایئرپورٹ روڈ سے اسٹار گیٹ تک فلائی اوور، ملیر ہالٹ سے شاہراہِ فیصل رائٹ ٹرن انڈر پاس اور سر شاہ سلیمان روڈ پر گجر نالہ کے مقام پر فلائی اوور جیسے منصوبے کراچی کے ٹریفک نظام میں بہتری کی بنیاد بن سکتے ہیں، اگر ان کو بر وقت مکمل کیا جا سکے۔ خیابانِ شہباز اور خیابانِ اتحاد کے انڈر پاسز بھی شہری آمدورفت کو بہتر بنانے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔ دوسری طرف کراچی کا سب سے مسئلہ میٹھے پانی کی فراہمی ہے۔ پانی کے شعبے میں کے فور میں اضافے کا منصوبہ، ڈملوٹی سے ڈیفنس تک پانی کی پائپ لائن شہر کے مرکزی پانی کے نظام کی بحالی، مشرقی اور وسطی اضلاع کے پمپنگ اسٹیشنوں کی بہتری جیسے منصوبے کراچی کے سب سے بنیادی مسئلے سے نمٹنے کی کوشش ہیں۔ سیوریج کے لیے گریٹر کراچی سیوریج پلان بھی انتہائی اہم منصوبہ ہے۔ یہ سب منصوبے اون ہیں یا پھر ٹھیکیداروں کے منتظر ہیں۔ حکومت نے 2026۔27میں اس منصوبے کے لیے ایک ارب روپے مختص کیے، جبکہ کے فور میں اضافے کے کام کے لیے 57کروڑ 56لاکھ روپے رکھے گئے ہیں۔ کراچی کے ٹرانسپورٹ نظام میں ریڈ لائن بس تیز رفتار نقل و حمل منصوبہ اور یلو لائن بس تیز رفتار نقل و حمل منصوبہ بھی اہم پیشرفت ہیں۔ بجٹ میں ریڈ لائن کے لیے 13 ارب 20کروڑ روپے جبکہ یلو لائن کے لیے ساڑھے تین ارب روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ پیپلز بس سروس میں توسیع، برقی بسوں اور ڈبل ڈیکر بسوں کی شمولیت بھی شہری سفری سہولتوں میں اضافے کی طرف قدم ہے۔ صفائی کے شعبے کو بھی نظر انداز نہیں کیا گیا۔ کراچی میں جدید کچرا منتقلی مراکز کا قیام جام چاکرو اور گونڈ پاس کچرا دفن کرنے کے مقامات کی بہتری اور شہری بلدیاتی نظام میں اصلاحات کے منصوبے بھی اسی وسیع ترقیاتی پروگرام کا حصہ ہیں ۔ اسی طرح کراچی کے بلدیاتی اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے اور شہری بنیادی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے کراچی کو مسابقتی اور رہنے کے قابل شہر بنانے کا منصوبہ بھی جاری ہے۔ سندھ حکومت کے مطابق اس منصوبے کے لیے 57ارب 63کروڑ روپے کی مجموعی رقم مختص کی گئی ہے، جبکہ ٹھوس کچرے کے انتظام سے متعلق پروگرام کے لیے اربوں روپے مختص ہیں۔
یہ منصوبے محض سڑکیں، پل پانی کی لائنیں یا بسیں نہیں، بلکہ کراچی کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہیں۔ ایک ایسے شہر میں جہاں آبادی مسلسل بڑھ رہی ہے، ٹریفک کا دبائو بڑھ رہا ہے، پانی کی طلب میں اضافہ ہورہا ہے اور شہری سہولتوں پر بوجھ بڑھتا جارہا ہے، وہاں بڑے ترقیاتی منصوبوں کی ضرورت سے انکار نہیں لیکن سندھ حکومت کی کارکردگی پر کئی سوال ہیں۔ ایک بنیادی سوال بھی ہے جب منصوبے اتنے زیادہ ہیں تو ان کی رفتار بھی اتنی ہی تیز کیوں نہ ہو رہی؟، ایسی کیا مشکلات ہیں جس کی وجہ سے سندھ حکومت کو تنقید کا سامنا ہے۔ حکومت پر تنقید برائے تنقید نہیں بلکہ عوامی مفاد کا سوال ہے۔ اگر کسی منصوبے کو مکمل ہونے میں غیر ضروری تاخیر ہوتی ہے تو اس کا نقصان صرف سرکاری خزانے کو نہیں بلکہ براہ راست شہریوں کو ہوتا ہے۔ سڑک زیر تعمیر رہتی ہے تو ٹریفک متاثر ہوتا ہے، فلائی اوور تاخیر کا شکار ہو تو سفر کا وقت بڑھتا ہے۔ پانی کی اسکیم سست ہو تو شہری پانی کے مسئلے سے دوچار رہتے ہیں، اور سیوریج کا منصوبہ تاخیر کا شکار ہو تو شہری مشکلات برقرار رہتی ہیں۔ سندھ حکومت اس نقصان کو کیوں نہیں روک رہی۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو اپنی نگرانی میں یہ واضح نظام بنانا چاہیے کہ ہر بڑے منصوبے کی تکمیل کے لیے مقررہ مدت ہو۔ اس کی پیش رفت کا جائزہ لیا جاءے اور جہاں کام کی رفتار مقررہ معیار سے کم ہو وہاں ذمہ دار افسروں اور متعلقہ ٹھیکیدار سے جواب طلبی کی جائے۔ اگر کہیں نااہلی غفلت یا جان بوجھ کر تاخیر ثابت ہو تو کارروائی بھی ہونی چاہیے۔ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دال میں کالا زیادہ ہے۔ سب سے اہم مسئلہ کرپشن اور کمیشن کا ہے۔ ترقیاتی منصوبوں میں اگر کسی بھی سطح پر کمیشن، کک بیکس، غیر شفاف ٹھیکے، ناقص تعمیر یا مالی بے ضابطگی کے شواہد واضح ہیں، تو اس معاملے پر خاموشی اختیار کرنے سے سوالات، تنقید میں اضافہ ہے، جس کی وجہ سے عوام کو خدمات نہیں کرپشن نظر آ رہی ہے۔ عوام کے پیسے کا معاملہ ہے۔ کسی منصوبے کی لاگت بڑھانے، غیر ضروری ادائیگی کرنے یا معیار پر سمجھوتہ کرنے والے کسی بھی ذمہ دار شخص کے خلاف بلا امتیاز کارروائی ہونی چاہیے جو کہ نہیں ہوتی ، اپنے اپنے محکمے کے ٹھیکے اور سرکاری ملازمین کو تحفظ دیا جاتا ہے۔ کراچی میں سرکاری ملازمین کم پرائیویٹ لوگ زیادہ دفتر چلاتے نظر آتے ہیں، یہ ایک غیر آئینی عمل ہے، جس پر سندھ حکومت خاموش ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ اگر خود ان معاملات کی نگرانی کریں اور واضح کر دیں کہ ترقیاتی منصوبوں میں بدعنوانی ، بلا تاخیری حربے کسی صورت برداشت نہیں کئے جائیں گے تو اس سے نہ صرف سرکاری خزانے کا تحفظ ہوگا بلکہ حکومت کے ترقیاتی پروگرام پر عوام کا اعتماد بھی مزید مضبوط ہوگا۔ ویسے وزیراعلیٰ سندھ خود بھی ترقیاتی منصوبوں کی رفتار اور معیار پر زور دے چکے ہیں، لیکن ابھی تک عمل درآمد ہوتا نظر نہیں آتا۔
سرکاری ریکارڈ کے مطابق 2008ء سے 2026ء کے دوران سندھ میں 13ہزار سے زائد ترقیاتی اسکیمیں شروع کی گئیں جن میں سے 9193مکمل ہوچکی ہیں۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ یہی نگرانی کراچی کے موجودہ بڑے منصوبوں پر بھی پوری سختی کے ساتھ نظر آئے تو بات بنے گی۔ حکومت نے اگر منصوبے جاری کئے ہیں تو افسروں اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ انہیں وقت پر مکمل کریں۔ جہاں رفتار اچھی ہو وہاں حوصلہ افزائی ہونی چاہیے، جہاں غفلت ہو وہاں جواب طلبی ہونی چاہیے، اور جہاں مالی بے ضابطگی یا کمیشن کا معاملہ سامنے آئے وہاں قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے، لیکن ایسا کہنی نظر نہیں آتا۔ کراچی والوں کو محض افتتاحی تختیاں نہیں چاہئیں، انہیں مکمل منصوبے چاہئیں۔ انہیں ایسی سڑکیں چاہئیں جو سفر آسان کریں، ایسے فلائی اوور اور انڈر پاسز چاہئیں جو ٹریفک کا دبائو کم کریں، پانی کے ایسے منصوبے چاہئیں جو گھروں تک پانی پہنچانے میں مدد دیں، سیوریج کا ایسا نظام چاہیے جو بارش اور روزمرہ کے دبائو کو برداشت کر سکے، اور ایسی پبلک ٹرانسپورٹ چاہیے جس میں عام شہری عزت اور سہولت کے ساتھ سفر کر سکے۔ سابق میئر مصطفیٰ کمال جیسی نگرانی چاہئے۔ وزیراعلیٰ سندھ کا یہ کہنا کہ ’’ وقت نہیں، بہت منصوبے ہیں‘‘، دراصل ایک مثبت موقع بھی ہے۔ افتتاحی تقریبات میں وقت صرف کرنے کے بجائے اگر حکومت منصوبوں کی تکمیل، رفتار، معیار اور شفافیت پر زیادہ وقت دے تو یہ کراچی کے لیے زیادہ اہم ہوگا۔
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ان امیدوں کو رفتار دی جائے، سست روی ختم کی جائے، نااہلی پر ایکشن ہو اور کرپشن و کمیشن کے دروازے بند کیے جائیں۔ مراد علی شاہ اگر واقعی یہ سمجھتے ہیں کہ افتتاح کے لیے وقت کم ہے اور منصوبے بہت زیادہ ہیں تو پھر یہ وقت افتتاح سے زیادہ نگرانی کا ہے۔ منصوبے بہت ہیں تو رفتار بھی تیز ہونی چاہیے، معیار بھی برقرار رہنا چاہیے اور جو شخص عوام کے پیسے اور ترقی کے راستے میں رکاوٹ بنے، اس کے خلاف بلا امتیاز کارروائی بھی ہونی چاہیے۔ کراچی یہی چاہتا ہے لیکن کوئی ایسا نظر نہیں آ رہا اسی بات کو لے کر عوامی جذبات منتشر ہیں۔

جواب دیں

Back to top button