Column

مذاکرات، احتجاج اور حکومت

مذاکرات، احتجاج اور حکومت
حروف بے زباں
مرزا رضوان
جمہوریت محض چند سالوں بعد ووٹ ڈالنے، اقتدار کے ایوانوں میں چہرے تبدیل کرنے یا پارلیمان کی عمارت میں تقریریں جھاڑنے کے عمل کا نام نہیں ہے۔ یہ ایک مسلسل، زندہ اور متحرک معاشی، سیاسی اور سماجی سفر ہے۔ اس سفر کی خوبصورتی اس بات میں پنہاں ہے کہ اس میں عوام کو اپنے جذبات، احساسات اور تحفظات کا اظہار کرنے کی کامل آزادی ہوتی ہے، جبکہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھنے والوں پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ عوامی آواز کو نہ صرف سنیں بلکہ اس کا مثبت اور عملی جواب بھی دیں۔ موجودہ سیاسی تناظر اور عالمی جمہوری تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ مذاکرات جمہوریت کا تقاضا، احتجاج عوام کا حق اور جائز مطالبات ماننا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ یہی وہ بنیادی فارمولا ہے جو کسی بھی معاشرے کو انتشار، قطبیت اور انارکی کی دلدل سے نکال کر استحکام اور خوشحالی کی شاہراہ پر گامزن کر سکتا ہے۔
جمہوری نظام میں’’ احتجاج‘‘ عوام کا وہ بنیادی اور آئینی حق ہے جو انہیں اپنی محرومیوں، ناانصافیوں اور حکومتی پالیسیوں کی خامیوں کے خلاف آواز بلند کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ جب آئینی راستے مسدود نظر آئیں، جب مہنگائی، بے روزگاری، ناانصافی یا معاشی مسائل کی وجہ سے عام آدمی کا جینا دو بھر ہو جائے، تو پرامن احتجاج ہی وہ واحد ہتھیار بچتا ہے جس کے ذریعے عوام ایوانِ اقتدار کے بند دروازوں کو کھٹکھٹاتے ہیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ دنیا بھر میں آنے والی مثبت سیاسی اور سماجی تبدیلیاں ہمیشہ پرامن عوامی تحریکوں کی مرہونِ منت رہی ہیں۔ اگر کسی معاشرے میں احتجاج کا حق سلب کر لیا جائے یا عوامی تحرک کو جبر، لاٹھی اور گیس کے ذریعے دبانے کی کوشش کی جائے تو اس کا نتیجہ بالآخر شدید سیاسی و سماجی بے چینی، زیرِ زمین نفرت اور خوفناک دھماکے کی صورت میں نکلتا ہے۔ پرامن احتجاج دراصل ایک ایسا "سیفٹی والو” ہے جو ریاست کے اندر پکنے والے غصے کو تباہ کن دھماکے سے بچاتا ہے۔ اس لیے کسی بھی جمہوری ریاست میں عوامی احتجاج کو بغاوت یا دشمنی پر محمول کرنے کے بجائے اسے عوام کے آئینی حق کے طور پر تسلیم کرنا لازمی ہے۔
تاہم، جہاں پرامن احتجاج عوام کا بنیادی حق ہے، وہاں پیدا ہونے والے بحران کے پائیدار اور منطقی حل کے لیے ’’ مذاکرات‘‘ ہی واحد راستہ ہیں۔ جمہوریت کی روح تعطل اور ضد میں نہیں بلکہ افہام و تفہیم، صبر اور مکالمے میں پوشیدہ ہے۔ سیاست کو کہا ہی ’’ ممکنات کا کھیل‘‘ جاتا ہے اور اس کھیل میں حتمی فتح ہمیشہ بات چیت کی ہوتی ہے۔ چاہے کتنے ہی شدید سیاسی اختلافات کیوں نہ ہوں، کتنے ہی طویل دھرنے یا مظاہرے کیوں نہ ہوں، بالآخر ہر بحران کا خاتمہ میز کے گرد بیٹھ کر ہی ممکن ہوتا ہے۔ تاریخ میں کبھی کوئی بڑا سیاسی یا سماجی مسئلہ طاقت کے اندھے استعمال یا ہٹ دھرمی سے حل نہیں ہوا۔ طاقت کا استعمال عارضی طور پر تو خاموشی لا سکتا ہے لیکن وہ تلخیوں کو اور گہرا کر دیتا ہے۔ مذاکرات وہ ذریعہ ہیں جہاں فریقین اپنے اپنے موقف میں لچک پیدا کرتے ہیں، دوسرے کا نقطہ نظر سنتے ہیں اور باہمی اتفاقِ رائے سے درمیانی راستہ تلاش کرتے ہیں۔ سیاسی پختگی کا تقاضا یہ ہے کہ تمام سیاسی دھارے اور احتجاجی گروہ اپنے ذاتی و جماعتی مفادات پر قومی و عوامی مفاد کو ترجیح دیں اور بات چیت کے دروازے کبھی بند نہ ہونے دیں۔
اس سارے عمل میں سب سے اہم، سنگین اور کلیدی کردار ’’ حکومت‘‘ کا ہوتا ہے۔ حکومت ریاست کی سرپرست ہوتی ہے اور سرپرست کا کام اپنے ہی شہریوں کو حریف یا دشمن بنانا نہیں بلکہ ان کے زخموں پر مرہم رکھنا ہوتا ہے۔ حکمرانوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ انا، تکبر اور سیاسی ہٹ دھرمی کا خول اتار کر عوامی مطالبات کا سنجیدگی سے جائزہ لیں۔ اگر احتجاج کرنے والوں کے مطالبات جائز ہیں، آئین اور قانون کے دائرے میں ہیں، اور عوام کی فلاح سے مربوط ہیں، تو انہیں فوری طور پر قبول کرنا حکومت کی اخلاقی، سیاسی اور آئینی ذمہ داری ہے۔ جب حکومت عوام کے جائز مطالبات ماننے میں تاخیری حربے استعمال کرتی ہے یا انہیں نظر انداز کرتی ہے، تو اس سے حکومتی رعب نہیں بلکہ اس کی نااہلی اور عوامی بیزاری ظاہر ہوتی ہے۔ ریاست کا وجود اپنے شہریوں کی فلاح و بہبود کے لیے ہے؛ اگر شہری ہی پریشان ہوں اور ان کی فریاد نہ سنی جائے تو ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ ٹوٹنے لگتا ہے۔
آج کے دور میں جہاں دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور عوامی شعور کی سطح پہلے سے کہیں بلند ہو چکی ہے، وہاں پرانے اور جابرانہ اسالیبِ حکمرانی کی کوئی گنجائش نہیں بچی۔ اگر حکومتیں اس بنیادی حقیقت کو تسلیم کر لیں کہ احتجاج کا مقصد ریاست کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ حکومت کو اس کی غفلت یاد دلانا ہے، تو آدھے سے زیادہ مسائل خود بخود حل ہو جائیں۔ اسی طرح مظاہرین کی بھی یہ اخلاقی اور قانون کی پابند ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے احتجاج کو پرامن رکھیں، عمومی زندگی کے نظام کو مفلوج نہ کریں اور قومی املاک کو نقصان نہ پہنچائیں۔ حقوق کی طلب اور ذمہ داریوں کا احساس ہمیشہ ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ ایک پائیدار، سچے اور متحرک جمہوری معاشرے کی بنیاد تین بنیادی ستونوں پر قائم ہوتی ہے: عوام کا پرامن احتجاج کا حق، تمام فریقین کا مذاکرات اور مکالمے پر یقین، اور حکومت کا کھلے دل اور کشادہ پیشانی کے ساتھ جائز مطالبات کی منظوری۔ اگر ان تینوں عناصر میں سے ایک بھی غائب ہو جائے تو جمہوریت کی عمارت لڑکھڑانے لگتی ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ملک کے تمام بااختیار طبقات، سیاسی قیادت اور حکمران اس مثلث کی اہمیت کو سمجھیں تاکہ ملک کو سیاسی عدم استحکام، روز روز کی تکرار اور معاشی بحرانوں کے بھنور سے نکال کر امن، ترقی اور حقیقی جمہوریت کی روشن راہ پر گامزن کیا جا سکے، کیونکہ اسی میں عوام کی بھلائی اور ریاست کی بقا کا راز مضمر ہے۔

جواب دیں

Back to top button