Column

مکہ معاہدہ: سعودیہ کی سلامتی، پاکستان و ترکیہ کی مشترکہ ذمے داری

اداریہ۔۔۔۔
مکہ معاہدہ: سعودیہ کی سلامتی، پاکستان و ترکیہ کی مشترکہ ذمے داری
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ محض دو شہر نہیں، کروڑوں مسلمانوں کے دلوں کی دھڑکن ہیں۔ ان مقدس شہروں کی طرف اٹھنے والی کوئی انگلی صرف ایک ملک کی سلامتی کو چیلنج نہیں کرتی بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرتی ہے۔ ایسے وقت میں جب سعودی عرب کو سلامتی کے سنگین خطرات کا سامنا ہے، پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا ایک صف میں کھڑا ہونا محض سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ اخوت، اعتماد اور مشترکہ ذمے داری کا ایک واضح اظہار ہے۔ 5اکتوبر 2026ء کو ریاض میں مکہ دفاعی اتحاد کی تزویراتی، سیاسی و دفاعی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس اسی پس منظر میں ہوا۔ اجلاس میں تینوں ممالک نے سعودی عرب کے خلاف حملوں اور مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے کی کوششوں کی شدید مذمت کی اور اجتماعی دفاعی وعدوں کو عملی شکل دینے پر اتفاق کیا۔ مشترکہ اعلامیے کے مطابق طے شدہ عسکری افواج اور مطلوبہ صلاحیتوں کو سعودی عرب میں تیزی سے تعینات کرنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔ یہ فیصلہ دراصل 7اگست 2026ء کو مکہ مکرمہ میں ہونے والے اُس تاریخی معاہدے کی عملی پیش رفت ہے جس پر پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے دستخط کیے تھے۔ معاہدے میں واضح کیا گیا تھا کہ تینوں میں سے کسی ایک ملک پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا اور اس کے تحت اجتماعی دفاع اور دفاعی تعاون کو مضبوط بنایا جائے گا۔ پاکستان نے اس معاہدے کو دفاعی نوعیت کا قرار دیتے ہوئے واضح کیا تھا کہ یہ کسی ملک کے خلاف محاذ آرائی نہیں بلکہ خودمختاری، علاقائی سالمیت اور اجتماعی سلامتی کے تحفظ کا انتظام ہے۔ دنیا کی تاریخ میں بعض معاہدے کاغذ پر لکھے جاتے ہیں اور وقت کے ساتھ ان کی سیاہی مدھم پڑ جاتی ہے، مگر کچھ معاہدے ایسے ہوتے ہیں جن کی بنیاد مفادات سے زیادہ اعتماد پر قائم ہوتی ہے۔ مکہ دفاعی معاہدہ اسی دوسری قسم کی مثال بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات محض حکومتوں کے درمیان تعلقات نہیں، ان کے پیچھے دہائیوں پر محیط عوامی محبت، مذہبی وابستگی، دفاعی تعاون اور مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دینے کی روایت موجود ہے۔ ترکیہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات بھی سیاسی اور دفاعی تعاون سے آگے بڑھ کر تاریخی اور برادرانہ رشتے کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔ اس اتحاد کی خوبصورتی یہ ہے کہ یہ طاقت کے اظہار کے ساتھ امن کا پیغام بھی دیتا ہے۔ تینوں ممالک نے پہلے ہی علاقائی امن، کشیدگی میں کمی اور بحرانوں کے پُرامن حل کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ اگست میں ہونے والے پہلے اجلاس میں بھی دفاعی تعاون کو ادارہ جاتی بنانے، مشترکہ دفاعی صلاحیت بڑھانے اور خطے میں پائیدار امن کے لیے کام کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔ یعنی پیغام واضح ہے، امن کمزوری سے نہیں، ذمے دارانہ طاقت اور باہمی اعتماد سے محفوظ ہوتا ہے۔ یہاں پاکستان کا کردار خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان کی عسکری قیادت اور سیاسی قیادت نے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے جب کہ تازہ اجلاس میں ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود کو مکہ دفاعی اتحاد کا پہلا سیکریٹری جنرل مقرر کیا گیا ہے۔ یہ تقرری پاکستان کے لیے اعتماد کا اظہار بھی ہے اور اس اتحاد کی تنظیمی بنیاد مضبوط کرنے کا موقع بھی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان اس اعتماد کو محض عسکری سطح تک محدود نہ رکھے بلکہ سفارتی، اقتصادی، تکنیکی اور انسانی تعاون کے وسیع تر دائرے میں بھی تبدیل کرے۔ سعودی عرب پاکستان کے لیے ایک اہم برادر ملک اور معاشی شراکت دار ہے جبکہ ترکیہ دفاعی صنعت، ٹیکنالوجی اور مختلف شعبوں میں پاکستان کے ساتھ تعاون کا اہم مرکز بن چکا ہے۔ تینوں ممالک اگر اپنی صلاحیتوں کو ایک مربوط سمت میں آگے بڑھائیں تو دفاعی تعاون کے ساتھ معاشی اور تکنیکی شراکت داری کے نئے راستے بھی کھل سکتے ہیں۔ تاہم اس اتحاد کی اصل طاقت صرف ہتھیار نہیں بلکہ اس کی اخلاقی بنیاد ہونی چاہیے۔ مکہ اور مدینہ کی سلامتی کا دفاع کرتے ہوئے شہریوں کے تحفظ، بین الاقوامی قانون، ریاستی خودمختاری اور خطے میں امن کے اصولوں کو بھی مقدم رکھنا ہوگا۔ دشمنی کے جواب میں غیر ضروری کشیدگی پیدا کرنا کسی مسئلے کا حل نہیں۔ مضبوط دفاع کا سب سے بلند مقصد یہی ہونا چاہیے کہ جنگ کا راستہ روکا جائے اور امن کی گنجائش پیدا کی جائے۔ آج جب مشرقِ وسطیٰ مسلسل بے یقینی اور کشیدگی کے دور سے گزر رہا ہے، ایسے میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا باہمی اعتماد ایک اہم سفارتی پیغام ہے۔ یہ اتحاد کسی قوم کے خلاف نفرت کا اعلان نہیں بلکہ اپنے گھروں، اپنی خودمختاری اور اپنے مقدس مقامات کے تحفظ کا عزم ہونا چاہیے۔ سعودی عرب نے جن خطرات کا سامنا کیا ہے، ان کے مقابلے میں پاکستان اور ترکیہ کا ساتھ محض ایک سیاسی بیان نہیں رہنا چاہیے، اسے منظم، ذمہ دار اور واضح عملی تعاون میں ڈھلنا چاہیے۔ اسی طرح سعودی عرب کی سلامتی کو پاکستان اور ترکیہ کی سلامتی سے جوڑنے والا یہ تصور باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر آگے بڑھنا چاہیے۔ مکہ مکرمہ سے شروع ہونے والا یہ عہد اگر اخلاص، تدبر اور ذمے داری کے ساتھ نبھایا گیا تو اس کی آواز صرف ریاض، اسلام آباد اور انقرہ تک محدود نہیں رہے گی۔ یہ دنیا کو بتائے گی کہ برادر ممالک مشکل گھڑی میں ایک دوسرے کا ہاتھ تھام سکتے ہیں، دفاع کو امن کا ذریعہ بنا سکتے ہیں اور طاقت کو تصادم کے بجائے تحفظ کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ مکہ کا نام ہی دلوں کو جوڑنے کے لیے کافی ہے، اب اس معاہدے کی روح بھی تین ملکوں کو ایک ایسی صف میں کھڑا کرے، جہاں دفاع مضبوط، ارادے متحد اور منزل امن ہو۔
شذرہ۔۔۔
قرضوں کا بوجھ
پاکستان کے سرکاری قرضوں میں گزشتہ دس برس کے دوران 340فیصد اضافہ محض ایک معاشی عدد نہیں، بلکہ ہماری مالیاتی ترجیحات کا ایسا آئینہ ہے جس میں مستقبل کی پریشان کن تصویر صاف دکھائی دیتی ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق جون 2016ء میں ملکی قرضوں کا مجموعی حجم 19ہزار 700ارب روپے تھا، جو اَب بڑھ کر 86ہزار 700ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ یعنی دس برس میں قرضوں کا بوجھ 67ہزار ارب روپے بڑھ گیا۔ اعداد کا یہ سفر بھی خاصا معنی خیز ہے۔ 2017ء میں قرض 21ہزار 400ارب، 2018ء میں 24ہزار 900ارب، 2019ء میں 32ہزار 700ارب، 2020ء میں 36ہزار 400ارب اور 2021ء میں 39ہزار 900ارب روپے تک پہنچ گیا۔ آج مقامی قرضہ 59ہزار 400ارب جبکہ غیر ملکی قرضہ 27ہزار 300ارب روپے ہے۔ یہ سوال اب محض ماہرینِ معیشت کا نہیں بلکہ ہر شہری کا ہے کہ آخر ہم کب تک قرض لے کر موجودہ اخراجات پورے کرتے رہیں گے؟ قرض اگر صنعت، برآمدات، توانائی، تعلیم اور پیداواری شعبوں میں ایسی سرمایہ کاری کے لیے لیا جائے جو مستقبل میں آمدن پیدا کرے تو اسے معاشی حکمتِ عملی کہا جا سکتا ہے، لیکن اگر قرض کا بڑا حصہ پرانے قرض کی ادائیگی، سود اور روزمرہ حکومتی اخراجات میں کھپ جائے تو یہ ترقی نہیں، مالیاتی دلدل ہے۔ قرضوں کا بڑھتا ہوا حجم حکومت کے بجٹ پر سود کی ادائیگی کا دبائو بڑھاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ تعلیم، صحت، روزگار، انفرا اسٹرکچر اور عوامی بہبود کے لیے وسائل محدود ہوجاتے ہیں۔ عام آدمی مہنگائی، ٹیکس اور کم ہوتی قوتِ خرید کی صورت میں اس قرض کی قیمت ادا کرتا ہے جبکہ آنے والی نسلیں اس کے بوجھ کی وارث بنتی ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ حکومتیں قرض لینے کو کامیابی اور مزید قرض حاصل کرنے کو معاشی کارنامہ سمجھنے کے بجائے بنیادی مالیاتی اصلاحات کریں۔ غیر ضروری اخراجات کم ہوں، ٹیکس کا دائرہ وسیع ہو، سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنائی جائے، برآمدات بڑھائی جائیں اور ایسی معاشی پالیسی تشکیل دی جائے جو قرض نہیں، آمدن پیدا کرے۔ ورنہ سوال یہی رہے گا کہ ہم ملک چلا رہے ہیں یا قرض؟۔

جواب دیں

Back to top button