Column

پانی کا بحران: آخری گھنٹی سنائی دے رہی ہے

پانی کا بحران: آخری گھنٹی سنائی دے رہی ہے
تحریر: رفیع صحرائی
ہم ایسی نرالی قوم ہیں کہ پاکستان میں آنے والے بحرانوں پر اس وقت گفتگو شروع کرتے ہیں جب بحران ہمارے سروں پر منڈلانے لگتا ہے۔ بجلی کا بحران آیا تو بجلی بچانے کے مشورے شروع ہوئے، گیس کی قلت ہوئی تو متبادل تلاش کیے گئے ، مہنگائی بڑھی تو اجلاسوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ ہم بحران پیدا ہونے سے پہلے اس کے بارے میں سوچنے اور روک تھام کے پیشگی اقدامات کی یا تو صلاحیت نہیں رکھتے یا پھر ہماری نیت کا اس میں عمل دخل ہے۔ البتہ پانی کا بحران دیگر بحرانوں سے مختلف ہے۔ پانی ختم ہونے کے بعد اسے کسی دوسرے ملک سے درآمد نہیں کیا جا سکتا، نہ کوئی ایسا کارخانہ لگایا جا سکتا ہے جو چند ماہ میں نئی ندیاں بہا دے۔ یہی وجہ ہے کہ زیرِ زمین پانی کی مسلسل کمی کو معمولی ماحولیاتی مسئلہ سمجھنا دراصل اپنے مستقبل سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہے۔
حالیہ اعداد و شمار کے مطابق آٹھ برس میں پاکستان کے زیرِ زمین پانی میں 5.66فیصد کمی ہوئی ہے۔ پنجاب میں قریباً 22.84 فیصد رقبہ زیرِ زمین پانی سے محروم ہو چکا جبکہ مزید 36.17فیصد رقبہ شدید کمی کی زد میں ہے۔ خیبر پختونخوا میں بھی تقریباً ایک تہائی زمین کے نیچے پانی موجود نہیں اور ایک بڑی مقدار مستقبل قریب میں اس نعمت سے محروم ہونے کے خطرے سے دوچار ہے۔
یہ محض اعداد نہیں، مستقبل کی ایک خطرناک تصویر ہے۔ پاکستان کی سرکاری نیشنل واٹر کنزرویشن اسٹریٹیجی کے مطابق ملک کی فی کس پانی کی دستیابی 2010ء میں ہی 1000مکعب میٹر فی فرد کی قلت کی حد سے نیچے جا چکی تھی۔ اسی دستاویز میں زیرِ زمین پانی کے حد سے زیادہ اخراج، آبی ذخائر کی کمی اور پانی کے ناقص انتظام کو اہم چیلنجز قرار دیا گیا ہے۔
ہمارے سامنے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ہم زمین کے نیچے موجود پانی کو آخر کب تک ’’ مفت خزانہ‘‘ سمجھ کر نکالتے رہیں گے؟ پنجاب میں زرعی ٹیوب ویلوں کی تعداد 1994ء میں قریباً تین لاکھ 34ہزار سے بڑھ کر 2024ء میں 12 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ یہ اضافہ ہماری زرعی ضروریات کی نشاندہی ضرور کرتا ہے لیکن ساتھ ہی یہ سوال بھی اٹھاتا ہے کہ زمین کے اندر سے جتنا پانی نکالا جا رہا ہے، اس کا کتنا حصہ دوبارہ زمین میں پہنچ رہا ہے؟
مسئلہ صرف ٹیوب ویلوں کا نہیں۔ مسئلہ ہماری پوری آبی سوچ کا ہے۔
ہم بارش کو نعمت کے بجائے اکثر زحمت بنا دیتے ہیں۔ چند گھنٹے کی موسلادھار بارش آتی ہے، شہر ڈوبتے ہیں، سڑکیں ندی نالوں کا منظر پیش کرتی ہیں، پانی بہہ کر دریائوں اور بالآخر سمندر میں چلا جاتا ہے۔ دوسری طرف وہی زمین جسے زیرِ زمین پانی کی ضرورت ہے، پیاسی رہتی ہے۔
کیا بارش کے پانی کو بڑے پیمانے پر زمین میں اتارنے کا قومی پروگرام نہیں بنایا جا سکتا؟۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ پاکستان کونسل آف ریسرچ اِن واٹر ریسورسز نے بارش کے پانی کے ذخیرے، ایکویفر ری چارج اور شہری سیلاب کو کم کرنے کے منصوبوں پر عملی کام شروع کیا ہے۔ پنجاب میں کمیونٹی سطح پر بارش کے پانی کے ذخیرے اور زیرِ زمین پانی کی بحالی کے منصوبے بھی زیرِ عمل ہیں۔ مگر چند منصوبے کافی نہیں۔ ہمیں اسے قومی تحریک بنانا ہوگا۔ ہر نئی ہائوسنگ سوسائٹی میں بارش کے پانی کو زمین میں اتارنے کا نظام لازمی ہو۔ سرکاری عمارتوں، سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں، ہسپتالوں اور صنعتی یونٹس میں Rainwater Harvestingکے منصوبے بنائے جائیں۔ شہروں میں جہاں ممکن ہو وہاں ری چارج ویلز اور مصنوعی آبی ذخائر قائم کیے جائیں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ زراعت کے میدان میں بھی انقلابی فیصلے کیے جائیں۔ پانی کی قلت کے شکار ملک میں ہم کب تک پانی کے استعمال کو فصلوں کی منصوبہ بندی کا بنیادی معیار بنائے بغیر آگے بڑھتے رہیں گے؟۔ ہمیں کم پانی استعمال کرنے والی فصلوں، ڈرِپ اور اسپرنکلر آبپاشی، لیزر لینڈ لیولنگ اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کو محض منصوبوں کی فہرست میں نہیں بلکہ عملی زرعی پالیسی میں شامل کرنا ہوگا۔
یہاں ڈیموں کی اہمیت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی۔ ڈیم صرف بجلی پیدا کرنے کے منصوبے نہیں، پانی ذخیرہ کرنے، سیلاب کے اثرات کم کرنے اور خشک موسم میں آبپاشی کے لیے پانی فراہم کرنے کا ذریعہ بھی ہیں۔ مثال کے طور پر WAPDA کے مطابق 2025ء میں منگلا، تربیلا اور چشمہ تینوں ذخائر مکمل سطح تک پہنچے تو ان میں مجموعی قابلِ استعمال ذخیرہ 13.316ملین ایکڑ فٹ تھا۔
دیا مر بھاشا ڈیم بھی اسی وسیع حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ WAPDAکے مطابق اس منصوبے میں قریباً 6.40ملین ایکڑ فٹ لائیو اسٹوریج اور 4500میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی گنجائش ہے، جبکہ تکمیل کی موجودہ مقررہ تاریخ اکتوبر 2030ء ہے۔
لیکن یہاں ایک بنیادی بات سمجھنے کی ضرورت ہے۔ صرف بڑے ڈیم پانی کے بحران کا مکمل حل نہیں۔ بڑے ذخائر کے ساتھ چھوٹے ڈیم، بارانی علاقوں کے تالاب، ری چارج ویلز، واٹرشیڈ مینجمنٹ، شہری بارش کے پانی کا تحفظ اور زیرِ زمین پانی کی باقاعدہ نگرانی بھی ضروری ہے۔
موسمیاتی تبدیلی نے معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ عالمی بینک کے مطابق پاکستان کے پہاڑی گلیشیئرز مستقبل میں بھی سکڑتے رہنے کا امکان رکھتے ہیں، جس کے اثرات پانی کی دستیابی اور قدرتی نظام پر پڑ سکتے ہیں۔
ہمیں سمجھنا چاہیے کہ آنے والے برسوں میں ہمیں ایک طرف شدید بارشوں اور سیلابوں کا سامنا ہو سکتا ہے اور دوسری طرف خشک سالی اور پانی کی قلت کا بھی۔ یہ بظاہر متضاد صورتِ حال دراصل موسمیاتی تبدیلی کا بڑا چیلنج ہے۔ ہمارے پاس پانی زیادہ بھی ہو سکتا ہے مگر ضرورت کے وقت اس کی دستیابی میں کمی بھی ہو سکتی ہے۔
ہمارے پانی کا ایک بڑا حصہ دریائے سندھ کے نظام سے وابستہ ہے۔ بھارت کے ساتھ سندھ طاس معاہدہ بھی پاکستان کی آبی سلامتی کا اہم پہلو ہے۔ اگست 2026ء میں ہیگ کی ثالثی عدالت نے قرار دیا کہ معاہدہ بدستور نافذ اور بھارت اس پر عمل کرنے کا قانونی طور پر پابند ہے، جبکہ بھارت نے اس فیصلے کو تسلیم نہیں کیا۔ اس معاملے کی آئندہ قانونی و سفارتی پیش رفت اپنی جگہ اہم ہے، مگر اس سے ایک بنیادی سبق ضرور ملتا ہے کہ جو ملک اپنے اندرونی آبی وسائل کا بہتر انتظام نہیں کرتا، وہ بیرونی آبی خطرات کے مقابلے میں بھی زیادہ کمزور ہو جاتا ہے۔
پاکستان کو پانی کے لیے صرف خارجہ پالیسی نہیں بلکہ اندرونی واٹر سیکیورٹی پالیسی بھی درکار ہے۔ اس کے لیے ٹیوب ویلوں کی رجسٹریشن ہو، بڑے صارفین کے پانی کے اخراج کی نگرانی ہو، زیرِ زمین پانی کی سطح کا مسلسل ڈیجیٹل ریکارڈ تیار کیا جائے، پانی چوسنے والے علاقوں کی نشاندہی ہو اور جہاں ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہوں وہاں اخراج کو منظم کیا جائے۔
ایک سوال حکومت سے بھی ہے، اداروں سے بھی، زمینداروں سے بھی اور عوام سے بھی کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لیے کیا چھوڑ رہے ہیں؟ مکانات، زمینیں، سڑکیں اور عمارتیں؟۔
اگر زیرِ زمین پانی ختم ہوگیا تو ان سب کی قدر کتنی رہ جائے گی؟۔ ہمیں آج یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ پانی کو صرف محکمہ آبپاشی کا مسئلہ نہیں بلکہ قومی بقا کا مسئلہ سمجھا جائے۔ کیونکہ پٹرول مہنگا ہو تو سفر کم کیا جا سکتا ہے، بجلی مہنگی ہو تو استعمال کم کیا جا سکتا ہے، مگر پانی کے بغیر زندگی کا تصور ہی ممکن نہیں۔
وقت ہمارے پاس ابھی ہے، مگر شاید ہمیشہ نہیں رہے گا۔ پانی کی ہر بوند جو آج محفوظ ہوگی، وہ کل ایک فصل، ایک گھر، ایک خاندان اور ممکن ہے ایک پوری نسل کی زندگی بچائے۔ پانی بچانا اب انتخاب نہیں، قومی ضرورت ہے۔

جواب دیں

Back to top button