گندم کی امدادی قیمت، کسان سے ناانصافی نہ کی جائے

گندم کی امدادی قیمت، کسان سے ناانصافی نہ کی جائے
تحریر: رفیع صحرائی
پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے اور ہماری معیشت کی بنیاد آج بھی زراعت کے ساتھ مضبوطی سے جڑی ہوئی ہے۔ لاکھوں بالخصوص دیہات کے رہنے والے خاندان براہِ راست یا بالواسطہ زراعت سے وابستہ ہیں، جن کی معیشت کا زیادہ تر دارومدار زراعت پر ہے۔ زراعت میں بھی سب سے اہم فصل گندم ہے جو ہماری غذائی ضروریات میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کے باوجود ہمارے ہاں سب سے زیادہ بے یقینی کا شکار اگر کوئی طبقہ ہے تو وہ کسان ہے۔ وہ کسان جو سال بھر دھوپ، سردی، بارش اور موسمی خطرات برداشت کرکے زمین سے اناج پیدا کرتا ہے، ہمارے دیس کے اس مان یعنی کسان کو فصل تیار ہونے پر اپنی محنت کی مناسب قیمت کے حصول کے لیے پھر ایک نئے امتحان سے گزرنا پڑتا ہے۔
اس تناظر میں گندم کی امدادی قیمت کا معاملہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ حکومت کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ امدادی قیمت کسان پر کوئی احسان نہیں بلکہ اس کی سال بھر کی محنت، سرمایہ کاری اور خطرات کا کم از کم معاوضہ ہے۔ اگر کاشتکار کو اس کی فصل کی ایسی قیمت بھی نہ ملے جو اس کے پیداواری اخراجات پورے کرنے کے بعد اسے معقول منافع دے سکے تو وہ آخر کب تک گندم کاشت کرتا رہے گا؟۔
گزشتہ چند برسوں کے تجربات کسان کے لیے خاصے تلخ رہے ہیں۔ کبھی حکومت گندم کی پیداوار بڑھانے کے لیے کاشتکاروں کو ترغیب دیتی ہے اور کبھی فصل تیار ہونے کے بعد سرکاری خریداری کے معاملات میں ایسی بے یقینی پیدا ہوجاتی ہے کہ کسان اپنی فصل فوری طور پر فروخت کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ ملکِ عزیز میں باردانے کے حصول، سرکاری مراکز پر خریداری، ادائیگیوں میں تاخیر اور مڈل مین کے کردار نے چھوٹے کاشتکار کے مسائل میں بہت زیادہ اضافہ کیا ہے۔ ایسے حالات میں سب سے زیادہ فائدہ اس شخص کو ہوتا ہے جو کسان کی مجبوری سے فائدہ اٹھا کر کم قیمت پر گندم خریدتا اور بعد میں زیادہ نرخ پر فروخت کرتا ہے۔
دوسری طرف گزشتہ چند سالوں میں کسان کے پیداواری اخراجات میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ ڈیزل، بجلی، ٹیوب ویل کے اخراجات، کھاد، معیاری بیج، زرعی ادویات، زرعی مشینری، مزدوری اور زمین کی تیاری کے اخراجات سب پہلے کی نسبت کہیں زیادہ ہیں۔ یوریا اور ڈی اے پی جیسی بنیادی کھادیں مہنگی ہوں، بجلی اور ڈیزل کے نرخ بڑھتے رہیں اور زرعی ادویات کی قیمتیں بھی کسان کی پہنچ سے باہر ہوتی جائیں تو محض یہ توقع کرنا کہ وہ سستی گندم پیدا کرتا رہی، حقیقت پسندانہ پالیسی نہیں۔
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: اگر حکومت قیمت مقرر کرتے وقت صنعت، تجارت اور مختلف شعبوں کے اخراجات کو مدنظر رکھتی ہے تو کسان کے پیداواری اخراجات کا حقیقی حساب کیوں نہیں کیا جاتا؟ گندم کی امدادی قیمت مقرر کرنے کے لیے محض سرکاری دفاتر میں بیٹھ کر تخمینہ لگانا کافی نہیں۔ اس میں بیج، کھاد، پانی، بجلی، ڈیزل، زرعی ادویات، مشینری، مزدوری، زمین کے کرائے، بینک قرضوں کے مارک اپ اور موسمی خطرات سمیت تمام اخراجات کو شامل کرنا چاہیے اور اس کے بعد کسان کے لیے مناسب منافع بھی یقینی بنانا چاہیے۔
ایک اور اہم مسئلہ حکومتی پالیسی میں تسلسل کا فقدان ہے۔ اگر بوائی کے وقت کسان کو معلوم ہی نہ ہو کہ فصل تیار ہونے پر حکومت کی خریداری پالیسی کیا ہوگی اور اسے اپنی گندم کس قیمت پر فروخت کرنا پڑے گی تو وہ مستقبل کی منصوبہ بندی کیسے کرے گا؟، زرعی معیشت قیاس آرائی نہیں بلکہ طویل المدت منصوبہ بندی کا تقاضا کرتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ گندم کی امدادی قیمت یا کم از کم قیمت کا واضح اعلان فصل کی بوائی سے پہلے کرے تاکہ کسان اسی حساب سے فیصلہ کر سکے کہ اسے گندم کاشت کرنی ہے یا کوئی دوسری فصل بونی ہے۔
یہ بات بھی نظرانداز نہیں کی جاسکتی کہ اگر کسان مسلسل خسارے کا شکار رہا تو وہ گندم سے منہ موڑ سکتا ہے۔ یہی صورت حال مستقبل میں پاکستان کے لیے غذائی تحفظ کا سنگین مسئلہ پیدا کر سکتی ہے۔ آج اگر مقامی کسان کی فصل مناسب قیمت پر نہیں خریدی جائے گی اور کل ملک کو گندم درآمد کرنا پڑی تو عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھائو، زرِمبادلہ کی قلت اور درآمدی اخراجات کا بوجھ بالآخر عام صارف ہی کو برداشت کرنا پڑے گا۔ لہٰذا کسان کو مناسب قیمت دینا دراصل صارف کو مستقبل کے غذائی بحران سے محفوظ رکھنے کی پالیسی بھی ہے۔
حکومت کو صرف امدادی قیمت مقرر کرکے مطمئن نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس پر عملی طور پر عملدرآمد بھی یقینی بنانا ہوگا۔ پاسکو اور صوبائی محکمہ خوراک کے خریداری مراکز بروقت فعال کیے جائیں، نہ صرف فعال کیے جائیں بلکہ ان کی تعداد میں بھی خاطر خواہ اضافہ کیا جائے۔ باردانے کی تقسیم مکمل شفاف بنائی جائے، چھوٹے کسانوں کو ترجیح دی جائے اور ادائیگی کا نظام تیز کیا جائے۔ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے کسان کی رجسٹریشن اور براہِ راست ادائیگی کا نظام وضع کیا جاسکتا ہے تاکہ مڈل مین اور غیر ضروری کمیشن کا کردار محدود ہو۔
اس معاملے کا ایک طویل المدت پہلو زرعی زمین کا تیزی سے سکڑتا ہوا رقبہ بھی ہے۔ شہروں کے پھیلائو، ہائوسنگ سوسائٹیوں اور ریئل اسٹیٹ کے بڑھتے ہوئے کاروبار نے زرعی زمین کو بھی کاروباری اثاثہ بنا دیا ہے۔ جب ایک کسان کو کئی ماہ کی محنت، مہنگی کھاد، پانی، بجلی، ڈیزل اور مزدوری کے بعد چند ہزار روپے فی ایکڑ بچت یا کبھی نقصان ہو، جبکہ یہی زمین بیچ کر اسے ایک ہی وقت میں بڑی رقم حاصل ہوسکتی ہو تو اس کا زراعت سے بددل ہونا فطری امر ہے۔ وہ زراعت کو خیرباد کہہ کر تجارت کی طرف راغب ہو گا اور زراعت جو پہلے ہی مشکل حالات سے دوچار ہے، تباہی کی طرف گامزن ہو گی۔ اگر زراعت سے حکومتی عدم توجہی کا یہی رجحان جاری رہا تو کل ہم یہ ضرور کہیں گے کہ ملک میں زرعی زمین کم ہوگئی، گندم کی پیداوار متاثر ہوگئی اور خوراک درآمد کرنا پڑ رہی ہے، مگر اس وقت بہت دیر ہوچکی ہوگی۔ زرعی زمین کو غیر ضروری ہائوسنگ اسکیموں کی نذر ہونے سے بچانا بھی قومی غذائی سلامتی کا حصہ ہونا چاہیے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت گندم کو محض ایک فصل نہیں بلکہ قومی غذائی تحفظ کا معاملہ سمجھے۔ کسان کو بروقت اور مناسب قیمت، معیاری بیج و کھاد کی دستیابی، سستی زرعی توانائی، آسان قرضوں اور منڈی تک براہِ راست رسائی فراہم کی جائے۔ کسان خوشحال ہوگا تو دیہی معیشت مضبوط ہوگی، دیہی معیشت مضبوط ہوگی تو قومی معیشت کو سہارا ملے گا۔
حکومت کو ایئر کنڈیشنڈ دفاتر سے نکل کر کھیتوں تک جانا ہوگا، کسان کی مشکلات سننا ہوں گی اور پالیسی کاغذوں کے بجائے زمینی حقائق کی بنیاد پر بنانا ہوگی۔ آخرکار گندم صرف کسان کی فصل نہیں، پاکستان کے ہر گھر کے چولہے کا سوال ہے۔ کسان کو اس کی محنت کا جائز معاوضہ دینا دراصل ملک کے مستقبل کو محفوظ بنانا ہے۔ اگر آج بھی کسان کے ساتھ ناانصافی جاری رہی تو کل گندم کی قیمت ہی نہیں، غذائی خودکفالت کی قیمت بھی بہت بھاری ہوسکتی ہے۔




