سیاسی مکالمے کی ضرورت

اداریہ۔۔۔۔
سیاسی مکالمے کی ضرورت
پاکستان اس وقت ایسے سیاسی اور معاشی حالات سے گزر رہا ہے جہاں کسی بھی نئی محاذ آرائی کی گنجائش انتہائی محدود ہے۔ عوام پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری، معاشی دبائو اور دہشت گردی جیسے سنگین مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے میں سیاسی کشیدگی کو سڑکوں تک لے جانا نہ جمہوریت کے مفاد میں ہے اور نہ ہی ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں۔ اختلافِ رائے جمہوری حق ہے، احتجاج بھی آئینی دائرے میں سیاسی عمل کا حصہ ہے، لیکن ایسا احتجاج جو ریاستی نظام، معمولاتِ زندگی اور امن و امان کو متاثر کرنے لگے، اس کے نتائج پر سنجیدگی سے غور کرنا ضروری ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان حالیہ مذاکرات میں بظاہر کئی اہم نکات پر پیش رفت ہوئی۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے مطابق طویل مذاکرات کے دوران معاہدے کا مسودہ کئی مرتبہ حتمی شکل اختیار کر چکا تھا اور 99فیصد نکات پر اتفاق ہوگیا تھا، تاہم بعض معاملات پر اختلاف کے باعث معاملہ آگے نہ بڑھ سکا۔ اگر واقعی اتنی بڑی حد تک اتفاق رائے پیدا ہوچکا تھا تو اسے ناکامی کے بجائے مذاکراتی عمل کی بنیاد سمجھا جانا چاہیے۔ حکومت کا موقف ہے کہ مذاکرات کو سبوتاژ کرنے اور حتمی معاہدے میں تبدیلیوں کے باعث بات چیت نتیجہ خیز نہ ہوسکی جب کہ سیاسی مخالفین کے اپنے تحفظات اور مطالبات ہیں۔ جمہوری معاشرے میں دونوں موقف سنے جانے چاہئیں۔ کسی ایک فریق کو مکمل طور پر حق پر اور دوسرے کو مکمل طور پر غلط قرار دینے کے بجائے اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ قومی معاملات کا حل کس راستے سے نکل سکتا ہے۔ جواب واضح ہے۔ مذاکرات، پارلیمانی مکالمے اور آئینی طریقہ کار سے۔ لانگ مارچ کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے عوامی طاقت کے اظہار کا ذریعہ ہوسکتا ہے، مگر پاکستان جیسے ملک میں اس کے ممکنہ اثرات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ سیاسی کشیدگی بڑھنے سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں، عام شہریوں کی نقل و حرکت مشکل ہوتی ہے، ریاستی اداروں پر دبا بڑھتا ہے اور سب سے بڑھ کر سیاسی تقسیم معاشرتی تقسیم میں تبدیل ہونے کا خطرہ پیدا ہوجاتا ہے۔ جب ملک کو دہشت گردی کے خلاف قومی یکجہتی کی ضرورت ہو، ایسے وقت میں اندرونی محاذ آرائی کسی کے مفاد میں نہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ نے بھی واضح کیا ہے کہ حکومت کی ترجیح خیبر پختونخوا میں دہشت گردی پر قابو پانا ہے۔ پولیس ایکٹ، افغان شہریوں، سابق فاٹا اضلاع، نیشنل ایکشن پلان اور ٹی ٹی پی جیسے حساس معاملات پر بات چیت ہونا اس امر کی نشان دہی کرتا ہے کہ صوبے اور ملک کو درپیش حقیقی مسائل سیاسی نعروں سے کہیں زیادہ اہم ہیں۔ خیبر پختونخوا پہلے ہی دہشت گردی کی بھاری قیمت ادا کر چکا ہے۔ ایسے صوبے کو مزید سیاسی تصادم کی طرف دھکیلنے کے بجائے امن، استحکام اور ترقی کی طرف لے جانا قومی ذمے داری ہے۔ یہاں حکومت پر بھی ایک بڑی ذمے داری عائد ہوتی ہے۔ مذاکرات اگر کسی مرحلے پر ناکام ہوگئے ہیں تو دروازے بند نہیں ہونے چاہئیں۔ حکومت کو سیاسی جماعتوں کے ساتھ رابطے کا سلسلہ برقرار رکھنا چاہیے اور ایسے تمام مطالبات جو آئین و قانون کے دائرے میں ہیں، ان پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ اسی طرح اپوزیشن کو بھی احتجاج کے حق کے ساتھ قومی ذمے داری کو پیش نظر رکھنا ہوگا۔ اختلاف حکومت سے ہوسکتا ہے، ریاست سے نہیں، سیاسی مقابلہ جماعتوں کے درمیان ہونا چاہیے، معاشرے کے درمیان نہیں۔ 9مئی جیسے واقعات نے پاکستان کے سیاسی ماحول، ریاستی اداروں اور معاشرتی امن پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ مستقبل میں ایسے کسی واقعے کی تکرار ملک کے لیے مزید نقصان دہ ہوگی۔ وفاقی وزیر داخلہ کا یہ کہنا کہ 9مئی کو دوبارہ نہیں ہونے دیا جائے گا، اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ تاہم اس عزم کے ساتھ ساتھ تمام سیاسی فریقوں کو بھی یہ ضمانت دینی چاہیے کہ احتجاج پُرامن رہے گا، سرکاری و نجی املاک محفوظ رہیں گی اور قانون ہاتھ میں نہیں لیا جائے گا۔ آج پاکستان کو ایک دوسرے کے خلاف صف بندی کی نہیں بلکہ ایک دوسرے سے بات کرنے کی ضرورت ہے۔ سیاسی اختلاف جمہوریت کی خوبصورتی ہے، لیکن ضد، انا اور محاذ آرائی جمہوریت کو کمزور کرتی ہے۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اقتدار عارضی ہے، ریاست اور ملک مستقل ہیں۔ آج جو جماعت حکومت میں ہے، کل اپوزیشن میں ہوسکتی ہے اور جو آج اپوزیشن میں ہے، وہ کل حکومت کا حصہ بن سکتی ہے۔ لانگ مارچ شروع ہوچکا ہے تو بھی واپسی کا راستہ موجود ہے۔ سیاسی قیادت اگر ایک قدم پیچھے ہٹ کر قومی مفاد کو ایک قدم آگے رکھے تو مذاکرات دوبارہ شروع ہوسکتے ہیں۔ وزیراعظم، صدر، وفاقی حکومت، خیبر پختونخوا حکومت اور اپوزیشن قیادت کو ایک مشترکہ سیاسی فریم ورک تشکیل دینا چاہیے جس میں تمام متنازع امور پر مرحلہ وار بات ہو اور کسی بھی فریق کو اپنی سیاسی عزتِ نفس مجروح ہونے کا احساس نہ ہو۔پاکستان کو اس وقت سیاسی فتح نہیں، قومی کامیابی درکار ہے۔ سڑک پر طاقت دکھانے کے بجائے مذاکرات کی میز پر دلیل اور برداشت کا مظاہرہ زیادہ بڑی سیاسی کامیابی ہوگی۔ ملک پہلے ہی دہشت گردی، معاشی مشکلات اور علاقائی چیلنجز سے نبرد آزما ہے۔ اسے مزید سیاسی کشیدگی کا متحمل نہیں بنایا جاسکتا۔ وقت کا تقاضا یہی ہے کہ حکومت اور اپوزیشن اپنے اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کریں، لانگ مارچ اور تصادم سے گریز کریں اور قومی مفاد کو جماعتی مفاد پر ترجیح دیں۔ یہی جمہوریت کا راستہ ہے، یہی ریاستی استحکام کی ضمانت اور یہی پاکستان و قوم کے وسیع تر مفاد کا تقاضا ہے۔
شذرہ۔۔۔
ڈیجیٹل دنیا میں فراڈ کا بڑھتا خطرہ
پاکستان میں ڈیجیٹل معیشت کے فروغ اور آن لائن کاروبار کے بڑھتے رجحان کے ساتھ سائبر جرائم بھی ایک سنگین چیلنج بنتے جارہے ہیں۔ لاہور میں قومی سائبر کرائم تحقیقاتی ادارے کی جانب سے غیرقانونی کال سینٹرز کے خلاف کارروائی اور 36ملزمان کی گرفتاری اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ سائبر فراڈ اب محدود نوعیت کا جرم نہیں رہا، بلکہ ایک منظم کاروباری شکل اختیار کرچکا ہے۔ فیصل ٹان اور جوہر ٹان میں کارروائی کے دوران کمپیوٹرز، لیپ ٹاپس، موبائل فونز، فراڈ سے متعلق سافٹ ویئر، ڈیٹا اور جرائم کی آمدن سے خریدی گئی گاڑیوں کی برآمدگی معاملے کی سنگینی ظاہر کرتی ہے۔ اس سے قبل راولپنڈی میں بھی غیر قانونی کال سینٹر سے 61افراد کی گرفتاری اور بڑی تعداد میں موبائل فونز و لیپ ٹاپس کی برآمدگی اس امر کی نشان دہی کرتی ہے کہ ایسے نیٹ ورک مختلف شہروں میں پھیل چکے ہیں۔ غیر ملکی شہریوں کو دھوکہ دے کر یا دھمکا کر رقم بٹورنے والے عناصر صرف اپنے متاثرین کو مالی نقصان نہیں پہنچاتے بلکہ پاکستان کے نام اور ڈیجیٹل ساکھ کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔ ایک طرف ملک دنیا کو آئی ٹی، فری لانسنگ اور ڈیجیٹل خدمات کی جانب متوجہ کرنا چاہتا ہے، دوسری جانب اگر پاکستان سے ہونے والے سائبر فراڈ کے واقعات بڑھتے رہے تو عالمی سطح پر پاکستانی آن لائن خدمات پر اعتماد متاثر ہوسکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے مراکز کے خلاف کارروائی محض چھاپوں تک محدود نہ رہے بلکہ ان کے مالی ذرائع، سہولت کاروں، سافٹ ویئر سپلائرز اور سرپرستوں تک بھی قانون کا ہاتھ پہنچے۔ ساتھ ہی نوجوانوں کو جائز ڈیجیٹل روزگار کے مواقع فراہم کرنا بھی ضروری ہے تاکہ وہ غیرقانونی سرگرمیوں کا حصہ بننے کے بجائے باعزت طریقے سے اپنی صلاحیتیں استعمال کرسکیں۔ این سی سی آئی اے کی کارروائیاں قابلِ تحسین ہیں، تاہم مستقل کامیابی کے لیے جدید تفتیشی نظام، مضبوط قانونی کارروائی، بین الاقوامی تعاون اور ڈیجیٹل آگاہی ناگزیر ہے۔ پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کا مستقبل اعتماد سے وابستہ ہے اور اس اعتماد کا تحفظ ریاست، اداروں اور معاشرے کی مشترکہ ذمے داری ہے۔





