آزاد کشمیر میں امن سب کی ضرورت

آزاد کشمیر میں امن سب کی ضرورت
آزاد کشمیر کے علاقے راولاکوٹ میں پیش آنے والا حالیہ افسوسناک واقعہ نہ صرف خطے کے امن و امان کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے بلکہ یہ ریاستی نظم و ضبط اور شہری سلامتی کے لیے بھی ایک خطرناک اشارہ ہے۔ اطلاعات کے مطابق کالعدم ایکشن کمیٹی سے وابستہ مسلح عناصر کی فائرنگ کے نتیجے میں قانون نافذ کرنے والے چار اہلکار شہید اور بیس سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ اس واقعے نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا اختلافِ رائے یا احتجاج کے نام پر ریاستی اداروں، شہریوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا کسی صورت قابلِ قبول ہو سکتا ہے؟ یہ واقعہ محض ایک احتجاجی مظاہرے کا تسلسل نہیں بلکہ بظاہر ایک منظم اور مسلح کارروائی کے طور پر سامنے آیا ہے، جس میں براہ راست قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔ مزید برآں، اطلاعات کے مطابق سی ایم ایچ راولاکوٹ جیسے اہم طبی ادارے پر حملہ بھی کیا گیا، جو نہ صرف بین الاقوامی انسانی اصولوں اور ملکی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے، بلکہ یہ انسانی ہمدردی کی تمام حدود کو بھی عبور کرتا ہے۔ ایسے اقدامات کسی بھی مہذب معاشرے میں قابلِ قبول نہیں ہوسکتے۔ پاکستان اور آزاد کشمیر کی حکومتوں کا موقف ہمیشہ سے واضح رہا ہے کہ شہریوں کے حقوق، آزادی اظہار اور پُرامن احتجاج کو مکمل تحفظ حاصل ہے، لیکن اس آزادی کی آڑ میں ریاستی رٹ کو چیلنج کرنا، مسلح کارروائیوں کا سہارا لینا یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنانا ہرگز برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ ریاست کی ذمے داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنائے اور اس ذمے داری سے کسی بھی صورت دستبردار نہیں ہوا جاسکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ کسی بھی معاشرے میں امن و استحکام اس وقت تک قائم نہیں رہ سکتا جب تک تمام فریقین آئین اور قانون کی حدود میں رہ کر اپنے مطالبات پیش نہ کریں۔ احتجاج جمہوری حق ہے، مگر جب یہی احتجاج تشدد، اسلحہ اور جانی نقصان میں تبدیل ہو جائے تو یہ حق اپنی اخلاقی اور قانونی حیثیت کھو دیتا ہے۔ راولاکوٹ کا واقعہ اسی خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتا ہے جسے فوری طور پر روکنا ناگزیر ہے۔ آزاد کشمیر پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے اس واقعے کی شدید مذمت اور اسے دہشت گردی قرار دینا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ریاست اپنے شہریوں اور اداروں کے تحفظ کے حوالے سے کسی بھی قسم کی نرمی یا کمزوری دکھانے کے موڈ میں نہیں ہے۔ یہ ایک فطری ردعمل بھی ہے کیونکہ جب ریاستی اداروں کو منظم حملوں کا سامنا ہو تو ان کا سخت موقف اختیار کرنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ تاہم انصاف، شفاف تحقیقات اور قانون کی بالادستی کو بھی یقینی بنانا ضروری ہے تاکہ کوئی بھی فریق احساسِ محرومی کا شکار نہ ہو۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ آزاد کشمیر ایک حساس خطہ ہے جہاں جغرافیائی، سیاسی اور سماجی عوامل ہمیشہ سے پیچیدگیوں کا باعث رہے ہیں۔ ایسے میں کسی بھی قسم کی بدامنی نہ صرف مقامی سطح پر مسائل پیدا کرتی ہے بلکہ اس کے اثرات پورے خطے پر پڑ سکتے ہیں۔ لہٰذا تمام سیاسی و سماجی قوتوں، سول سوسائٹی اور ریاستی اداروں کی مشترکہ ذمے داری ہے کہ وہ حالات کو مزید بگاڑنے کے بجائے استحکام کی طرف لے کر جائیں۔ پاکستانی ریاست کے تناظر میں یہ بات انتہائی اہم ہے کہ آزاد کشمیر کی حکومت اور اداروں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا جائے۔ پاکستان ہمیشہ آزاد کشمیر کے امن، ترقی اور استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرتا آیا ہے اور آئندہ بھی یہ تعاون جاری رہے گا۔ ریاستی اداروں کو کمزور کرنے یا ان پر حملے کرنے والے عناصر نہ صرف قانون کے خلاف ہیں بلکہ وہ خطے کے امن کے بھی دشمن ہیں۔ اس موقع پر سب سے زیادہ ضرورت تحمل، برداشت اور سیاسی بصیرت کی ہے۔ اشتعال انگیزی، نفرت انگیز بیانیہ اور تصادم پر مبنی حکمت عملی کسی بھی مسئلے کا حل نہیں بلکہ مسائل کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جہاں بھی طاقت کے استعمال کو ترجیح دی گئی وہاں نقصان صرف عوام کا ہوا جب کہ مذاکرات اور افہام و تفہیم ہمیشہ پائیدار حل کی طرف لے گئے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ شدت پسندی پر آمادہ قوتیں باز آجائیں اور تشدد کے راستے کو ترک کریں اور آئینی و قانونی دائرہ کار میں رہتے ہوئے مذاکرات کا آغاز کریں۔ ریاست کو بھی چاہیے کہ وہ انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائی، محرومیوں کو دور کرے اور عوامی اعتماد کو بحال کرے۔ آخر میں یہ بات دوبارہ دہرانا ضروری ہے کہ امن کسی بھی معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے۔ اگر امن ہوگا تو ترقی ہوگی، تعلیم ہوگی، روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور معاشرتی استحکام آئے گا۔ لیکن اگر تشدد اور بدامنی غالب آگئی تو اس کا نقصان صرف ایک گروہ یا ایک ادارے تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورا معاشرہ اس کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔ لہٰذا وقت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم سب مل کر امن، قانون کی بالادستی اور گفت و شنید کے راستے کو اپنائیں تاکہ آزاد کشمیر اور پاکستان میں پائیدار استحکام قائم ہو سکے۔
بچت کی گرتی شرح تشویشناک
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس ( پائیڈ) کی حالیہ رپورٹ نے ملکی معیشت کے ایک نہایت اہم مگر نظرانداز کیے جانے والے مسئلے کی نشاندہی کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بچت کی شرح گزشتہ تین دہائیوں کی کم ترین سطح یعنی 6.4فیصد تک گر چکی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستانی عوام اپنی ہر 100روپے آمدن میں سے صرف 6روپے بچا پا رہے ہیں۔ یہ صورت حال نہ صرف عوامی مالی مشکلات کی عکاسی کرتی ہے بلکہ ملکی معیشت کے مستقبل کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی ہے۔ بچت کسی بھی معیشت کی ترقی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ یہی بچتیں سرمایہ کاری، صنعتی ترقی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کا ذریعہ بنتی ہیں۔ جب بچت کی شرح کم ہوجائے تو ملک کو ترقیاتی منصوبوں اور معاشی ضروریات کے لیے بیرونی قرضوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ پائیڈ کی رپورٹ بھی اس حقیقت کی نشان دہی کرتی ہے کہ کم بچت کی وجہ سے پاکستان بار بار بیرونی قرضوں اور آئی ایم ایف پروگراموں کی طرف دھکیلا جارہا ہے۔ رپورٹ کے اعداد و شمار تشویش میں مزید اضافہ کرتے ہیں۔ بنگلادیش، بھارت اور ویتنام جیسے ممالک کی بچت کی شرح پاکستان کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے۔ اس فرق سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ خطے کے دیگر ممالک اپنی داخلی مالی صلاحیت کو کس طرح مضبوط بنارہے ہیں جب کہ پاکستان اس میدان میں پیچھے رہ گیا ہے۔مہنگائی، کم منافع اور معاشی بے یقینی صورت حال نے عوام کا اعتماد بینکاری نظام سے کم کر دیا ہے۔ لوگ اپنی رقوم بینکوں میں رکھنے کے بجائے سونا، جائیداد اور نقد رقم کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اگرچہ یہ انفرادی سطح پر ایک محفوظ حکمت عملی محسوس ہوسکتی ہے، لیکن قومی معیشت کے لیے یہ رجحان سرمایہ کاری کے بحران کو جنم دے سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت بچت کے فروغ کے لیے مثر اقدامات کرے۔ طویل مدتی بچت اسکیموں پر ٹیکس مراعات، خواتین اور پنشنرز کے لیے خصوصی سہولتیں اور قومی بچت اسکیموں کی ڈیجیٹل رسائی میں اضافہ مثبت اقدامات ثابت ہوسکتے ہیں۔ پائیدار معاشی استحکام کے لیے ضروری ہے کہ بچت کو محفوظ، منافع بخش اور آسان بنایا جائے۔ مضبوط بچت کلچر ہی پاکستان کو معاشی خود انحصاری کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے۔




