قوم رسول ہاشمیؐ

قوم رسول ہاشمیؐ
محمد مبشر انوار
اللہ رب العزت کی کائنات میں بنائی گئی مخلوق ایک مخصوص نظام کے اندر رہتے ہوئے زندگی گزارتی ہے ماسوائے خلیفہ اللہ کے، کہ جسے مختلف اوقات میں ایک احکامات الٰہی سے متعلق اطلاع پہنچانے کے لئے، انبیائٌ و رسولٌ مبعوث کئے گئے، لیکن چونکہ بنی آدم کرہ ارض پر اللہ کے خلیفہ کی حیثیت پر فائز ہے اور اسے اللہ رب العزت کی جانب سے عقل سلیم سے بھی نوازا گیا ہے، اس لئے بالعموم بنی آدم، اپنے اس اختیار کے باعث، حکم باری تعالیٰ سے روگردانی بھی کرتا ہے اور اس کا خمیازہ بھی بھگتتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ رب العزت نے، بنی آدم کی فلاح کے لئے اپنے محبوبؐ اور آخری رسولؐ کے ذریعہ قیامت تک کے لئے، اپنے احکامات قرآن کریم کی صورت میں انسان کے لئے ایک ضابطہ حیات کی صورت کرہ ارض پر، انسانوں کی ہدایت کے لئے ایسے چھوڑے ہیں کہ اس ضابطہ حیات کی حفاظت کا ذمہ بھی خود اپنے تک محدود کر لیا ہے، لہذا کوئی بھی دنیاوی طاقت اس آخری الہامی کتاب میں زیر، زبر پیش تک کی تحریف نہیں کر سکتی البتہ اس کا ترجمہ و تفسیر کرنے میں انسان اپنے علم و سوچ کے مطابق آزاد ہے۔ اسی آخری الہامی کتاب میں جہاں زندگی گزارنے کے اصول، ضابطہ حیات کی صورت انسان کے لئے وضع کئے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ اللہ رب العزت نے انہی اصولوں کی بنیاد پر سورہ آل عمران کی آیت نمبر 140میں یہ بھی واضح ارشاد فرمایا ہے کہ اگر تمہیں زخم پہنچا ہے تو انہیں بھی ایسا ہی زخم پہنچ چکا ہے اور ہم یہ دن لوگوں میں باری باری بدلتے رہتے ہیں اور تا کہ اللہ ایمان والوں کو جان لے اور تم میں سے بعضوں کو شہید کرے اور اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا، اس آیت کا نزول غزوہ احد اور غزوہ بدر کا موازنہ ہی نہیں کرنا تھا بلکہ مسلمانوں کو باور کروانا تھا کہ اللہ کے نزدیک یہ کوئی بڑی بات نہیں کہ وہ جسے چاہے فتح عطا کرے یا جسے چاہے شکست سے دوچار کرے۔ علاوہ ازیں، اس سے مراد یہ بھی تھی کہ اللہ کے دین میں پورے کے پورے داخل ہو جائے اور احکام الٰہی و اطاعت رسولؐ کی بھرپور پیروی کرو وگرنہ اللہ کے لئے کوئی مشکل نہیں کہ تمہارے مخالفین خواہ وہ کلمہ گو نہ بھی ہوں، لیکن اپنے معاملات میں ٹھیک ہوں تو اللہ رب العزت انہیں فتح سے ہمکنار کر سکتا ہے کہ وہ بھی اسی کی مخلوق ہیں مگر اللہ کے دین سے بھٹکے ہوئے ہیں۔ ویسے بھی حقیقت یہی ہے کہ جب تک خیر و شر کے درمیان موازنہ و مقابلہ نہ ہو، انسان کی عقل سلیم کا امتحان ہی نہیں ہو سکتا کہ جب اسے دنیاوی آسائشیں با آسانی دستیاب ہوں مگر اللہ کے احکامات کی بجا آوری میں ان سے دستبرداری ہی دراصل بندگی ہے، کفر و شرک میں مبتلا اللہ کی مخلوق بھی اگر اللہ کے احکامات کی پیروی، کسی بھی رنگ میں کرتی ہے خواہ ان کو انسانی عقل سے بنائے گئے ایسے قوانین کی شکل دے دے کہ جس میں انسانیت موجود ہو، انسانوں کے حقوق کا تحفظ ہو، باہمی تفاوت نظر نہ آئے، معاشرے کے ہر فرد کو مساوی حقوق میسر ہوں، عدل و انصاف ہو تو اللہ رب العزت کو اس سے فرق نہیں پڑتا کہ آیا وہ اللہ کے دین میں شامل ہیں یا نہیں، ان خصوصیات کی بنا پر اللہ کریم ایسی قوموں کو فتح یاب کرنے سے قطعا نہیں ہچکچاتا، اور اسی کا ذکر سورہ آل عمران کی آیت 140میں کیا گیا ہے۔
دور حاضر میں اللہ کے کلمہ توحید کے پروانوں کی جو حالت اس وقت ہے، بلکہ گزشتہ ایک صدی سے مسلم جس حالت زار سے دوچار ہے، وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ آزادی کے نام پر امت محمدیہ کی وحدت کا جو شیرازہ بکھیرا گیا تھا، نفاق کا جو بیج بویا گیا تھا، نفرت کی جو آگ بھڑکائی گئی تھی، مسالک کی جو دیواریں اٹھائی گئی تھیں، جو خلیج بھائیوں کے درمیان پیدا کی گئی تھی، اس کو قائم اور برقرار رکھنے کے لئے جو سازشیں رچائی گئی تھیں، آج مسلمانوں کے سامنے اپنی پوری ہولناکیوں کے ساتھ سامنے آ چکی ہیں۔ غزہ کے نہتے مسلمانوں پر جس طرح آتش و آہنگ، گولہ و بارود کی برسات کی جاتی رہی ہے، کیسے لبنان میں مسلمانوں کو تہ تیغ کیا جارہا ہے، کس طرح شام میں خانہ جنگی کروائی گئی ہے، کیسے عراق کو طوق غلامی پہنایا گیا ہے، کس طرح لیبیا میں خانہ جنگی جاری ہے، کیسے سوڈان میں فسادات کی آگ جلا رکھی ہے، کیسے افغانستان میں خون کی ہولی کھیلی گئی ہے، ان تمام مسلم ممالک میں مرحلہ وار جنگیں مسلط کی گئی، خانہ جنگی کروائی گئی اور اپنے اقتدار و اثر و رسوخ کو قائم رکھا گیا ہے جبکہ کسی دوسرے مسلم ملک کو یہ اجازت نہیں تھی کہ وہ اپنے مسلم بھائیوں کی مدد کے لئے آگے بڑھ سکے، جبکہ ان مسلم ممالک پر جارحیت کا ارتکاب کرتے ہوئے یہ انتظام ضرور کیا گیا کہ نیٹو کی چھتری تلے، غیر مسلم ممالک کی افواج اس میں پوری طرح شامل ہوں۔ البتہ ایران کے حوالے سے امریکہ و اس کے حواریوں سے ایک بہت بڑی غلطی ضرور ہوئی کہ ایران کی عسکری دفاعی صلاحیت کا کماحقہ اندازہ لگانے میں ناکام رہے تو دوسری طرف ایک صدی سے مغرب کی گھناؤنی و مذموم سازشوں کا شکار رہنے کے بعد، ایران کے پڑوسی ممالک کو ان سازشوں کا بخوبی ادراک ہو چکا تھا کہ مسلمان ممالک کو اکیلے اکیلے کس طرح تباہ و برباد کیا جارہا ہے اور کیسے ان کے وسائل ہڑپ کئے جارہے ہیں۔ امریکہ، ایران جنگ کے حوالے سے متعدد بار اس امر کا اظہار کر چکا ہوں کہ اس جنگ کے دوران ایک طرف ایران نے خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا، جس کا حق نہ صرف ایران بلکہ ہر مجروح ملک و قوم کو اقوام متحدہ کے تحت حاصل ہے جبکہ جارح ملک امریکہ و اسرائیل کی لاکھ کوششوں، فالس فلیگ آپریشن کے باوجود مملکت سعودی عرب نے ایسے کسی بھی موقع پر فوری جوابی کارروائی یا فوری رد عمل دینے سے گریز ہی نہیں کیا بلکہ بعد ازاں ان سازشوں کے بے نقاب ہونے پر، امریکہ کو اپنے فوجی اڈے کسی دوسرے مقام پر منتقل کرنے کے لئے واضح طور پر کہہ دیا اور مجبورا امریکہ کو اپنے فوجی اڈے سعودی عرب سے منتقل کرنے پڑے۔ جبکہ اس سے قبل ہی گزشتہ برس ستمبر میں سعودی عرب پاکستان کے ساتھ ایک ایسے دفاعی معاہدے میں داخل ہو چکا تھا کہ جس کے تحت دونوں ممالک کا دفاع ایک دوسرے سے ایسے منسلک ہو چکا تھا کہ ایک ملک پر جارحیت، دوسرے ملک پر جارحیت تصور ہوگی۔ یہ معاہدہ اس وقت سامنے آیا تھا کہ جب پاکستان چند ماہ قبل، قریبا چار ماہ قبل، اپنے ازلی دشمن کے ناپاک عزائم کو بری طرح دھول چٹا چکا تھا اور دنیا میں اپنی عسکری صلاحیت کی ایسی دھاک بٹھا چکا تھا کہ جس نے کسی حد تک 1971ء کا داغ دھو دیا تھا۔ اس کے باوجود، تاریخ انتہائی ظالم ہے، جو وقت کے ساتھ ساتھ، ان حقائق کو، کلنک کے اس ٹیکے کو بہرطور اپنے سینے میں محفوظ رکھے ہوئے ہے، یہ داغ آج بھی پاکستان کے ماتھے پر لگا ہے کہ تاریخ اسلامی میں اسلامی فوجوں کے ہتھیار پھینکنے کی مثال کہیں نہیں ملتی، میری ذاتی نظر میں یہ داغ اسی صورت مٹ سکتا ہے کہ مستقبل میں دشمن کو مکمل طور پر گھٹنوں پر لے آیا جائے، وگرنہ یہ داغ پاکستان کا پیچھا نہیں چھوڑے گا۔ تب اپنی تحریر جو 21ستمبر2025بعنوان ’’ یکجہتی کی جانب پہلا قدم‘‘ لکھا تھا کہ ’’ حالات کے جبر اور بقاء کی فکر، اس وقت پورے عالم اسلام کو شدید تر ہے، جبکہ پورے عالم اسلام میں اس وقت پاکستان وہ واحد ملک ہے، جس نے حالیہ دنوں میں اپنی عسکری دھاک بخوبی بٹھائی ہے اور اپنے ازلی دشمن اور اسرائیل کے فرسٹ کزن کو جو دھول چٹائی ہے، اس نے پاکستان کو نہ صرف عالم اسلام بلکہ پوری دنیا میں عزت و احترام سے نوازا ہے۔ گو کہ پاکستان کے معاشی حالات و دیگر امور میں پیش رفت بہت زیادہ قابل ستائش ہرگز نہیں لیکن عسکری قابلیت و اہلیت و جذبہ، اسے دیگر تمام مسلم ممالک سے ممتاز کر چکا ہے اور یہ حقیقت ہے کہ اس وقت پاکستان عسکری حوالے سے ایک انتہائی معتبر نام بن چکا ہے۔ گو کہ اس وقت پورا عالم اسلام شدید ترین خطرات میں گھرا ہوا ہے اور ہر مسلم ریاست کو اپنی بقاء کی فکر ہے بالخصوص پاکستان اپنے جغرافیائی محل وقوع کے باعث پوری دنیا کی نظروں میں کھٹکتا ہے لیکن افواج پاکستان کی پیشہ ورانہ مہارت، اہلیت و قابلیت کے باعث دنیا اس سے پنجہ آزمائی سے قبل بہت بار سوچنے پر مجبور ہو گی البتہ اس کی طاقت کو کمزور کرنے کے لئی، یا اس کی اہلیت کو جانچنے، پرکھنے کے لئے بھارت و اسرائیل کے توسط سے پراکسی جنگ کا امکان بہرحال موجود ہے۔ رہی بات مشرق وسطی کے دفاع کی، تو اس میں بالخصوص سعودی عرب کے ساتھ پاکستان اور پاکستانیوں کی وابستگی ایک طے شدہ امر ہے اور اس سے بہرطور کسی کو کوئی انکار نہیں، ماضی میں بھی پاکستان نے ’’ حرمین شریفین‘‘ کی حفاظت محدود اور مخصوص حالات میں کی ہے اور آئندہ بھی ہر پاکستانی ان مقدس مقامات کی حفاظت کو اپنے لئے سعادت ہی سمجھے گا، اس پس منظر میں سعودی عرب کے ساتھ حالیہ ہونے والے تاریخی معاہدے کی اہمیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ معاہدہ، یہ سہولت، صرف ایک اسلامی مملکت کے لئے ہونی چاہئے؟ یا اس معاہدے کو اس طرح محدود رکھ کر کیا ہم حدیث نبویؐ کے منکر نہیں ہو رہے؟ تاہم میری نظر میں حالات کا جبر اور بقاء کی فکر ہر ریاست کو ہوتی ہے اور یہی جبر و فکر، جلد یا بدیر ، اس معاہدے کی توسیع کا سبب بنے گا اور اس حالیہ معاہدے کو ’’ مسلم یکجہتی کی جانب پہلا قدم‘‘ ہی تصور کیا جائے گا کہ موجودہ عالمی حالات کا تقاضہ یہی ہے کہ بالآخر امت مسلمہ کو متحد ہو کر ہی کروسیڈ وار کے خلاف بروئے کار آنا ہو گا‘‘۔ درحقیقت امت مسلمہ کی ساخت و ہیئت کی ترکیب ہی ایسی ہے کہ اسے سوائے متحد ہونے کہ کوئی دوسری چیز بچا نہیں سکتی اور اس وقت حالات کے جبر اور بقاء کی فکر نے تیسری ریاست ترکیہ کو بھی اس معاہدے کا حصہ بنا دیا ہے، دیگر مسلم ریاستیں بھی اس کا حصہ بنیں گی، گو کہ ایسے معاہدوں کی شرائط، قبل از وقت، کم ہی منظر عام پر آتی ہیں البتہ ایک امید پیدا ہورہی ہے کہ مسلم ممالک کم از کم متحد ہونے اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے کی جانب بڑھ رہے ہیں بعینہ جیسے اقبالؒ نے کہا تھا کہ
اپنی ملت پہ قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمیؐ
اس خاص ترکیب کے آثار نمودار ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔







