Column

وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کا دورہ سعودیہ

اداریہ۔۔

وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کا دورہ سعودیہ

پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات محض سفارتی روابط تک محدود نہیں بلکہ یہ مذہبی، تاریخی، ثقافتی اور اسٹریٹجک بنیادوں پر قائم ایک مضبوط شراکت داری ہیں۔ دونوں ممالک نے ہر مشکل گھڑی میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے اور وقت نے ثابت کیا ہے کہ یہ تعلقات وقتی مفادات کے بجائے باہمی اعتماد، احترام اور مشترکہ اقدار پر استوار ہیں۔ ایسے وقت میں جب مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال، جنگی خدشات اور طاقت کی نئی صف بندیوں کا سامنا کر رہا ہے، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا سعودی عرب کا سرکاری دورہ غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ یہ دورہ نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کا موقع فراہم کرتا ہے بلکہ خطے میں امن، استحکام اور باہمی تعاون کے فروغ کے لیے بھی ایک مثبت پیش رفت ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ اپنی خارجہ پالیسی میں سعودی عرب کو خصوصی اہمیت دی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، دفاعی، اقتصادی اور مذہبی روابط کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔ لاکھوں پاکستانی سعودی عرب میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری، تجارت اور دفاعی تعاون مسلسل فروغ پا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی خطے میں کوئی اہم پیش رفت ہوتی ہے تو اسلام آباد اور ریاض کے درمیان قریبی رابطے ناگزیر سمجھے جاتے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ اعلیٰ سطح کا وفد، جس میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف اور دیگر اہم شخصیات شامل ہیں، اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان اس دورے کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے۔ اس سے یہ پیغام بھی ملتا ہے کہ پاکستان اپنی سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان مکمل ہم آہنگی کے ساتھ قومی مفادات کا تحفظ اور علاقائی امن کے لیے موثر کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے۔ اس دورے کا سب سے اہم پہلو سعودی ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان سے ہونے والی ملاقات ہے۔ محمد بن سلمان کی قیادت میں سعودی عرب معاشی اصلاحات، علاقائی سفارت کاری اور عالمی سطح پر نئے کردار کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ ایک بہترین موقع ہے کہ وہ ان تبدیلیوں کا حصہ بنے، سعودی سرمایہ کاری کو مزید فروغ دے، توانائی، معدنیات، انفراسٹرکچر، زراعت، آئی ٹی اور دیگر شعبوں میں تعاون کو وسعت دے اور دونوں ممالک کے درمیان معاشی شراکت داری کو نئی جہت عطا کرے۔ تاہم اس دورے کی اہمیت صرف اقتصادی تعاون تک محدود نہیں۔ موجودہ علاقائی حالات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ مسلم ممالک اختلافات کے بجائے مکالمے، سفارت کاری اور باہمی تعاون کو فروغ دیں۔ پاکستان نے ہمیشہ تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات، تحمل اور سیاسی تدبر کی حمایت کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف بارہا اس عزم کا اظہار کر چکے ہیں کہ پاکستان خطے میں امن کے لیے اپنی مخلصانہ کوششیں جاری رکھے گا۔ یہ پالیسی نہ صرف پاکستان کے قومی مفاد سے ہم آہنگ ہے بلکہ پورے خطے کے استحکام کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ بحرِ احمر اور باب المندب کی حالیہ صورتحال، خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، عالمی تجارت کو درپیش خطرات اور مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال ایسے عوامل ہیں جن پر پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مسلسل مشاورت ضروری ہے۔ دونوں ممالک اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ کسی بھی نئی کشیدگی کا براہِ راست اثر عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی، تجارتی راستوں اور مسلم دنیا کے استحکام پر پڑ سکتا ہے۔ اسی لیے باہمی رابطے اور مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ایک نمایاں خصوصیت یہ رہی ہے کہ اس نے ہمیشہ تصادم کے بجائے مصالحت اور امن کو ترجیح دی ہے۔ حالیہ برسوں میں بھی پاکستان نے مختلف علاقائی تنازعات میں ذمے دارانہ سفارتی کردار ادا کیا ہے۔ عالمی برادری بھی پاکستان کی اس متوازن پالیسی کو سراہتی رہی ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ قریبی مشاورت اسی تسلسل کا حصہ ہے، جہاں دونوں ممالک نہ صرف اپنے دو طرفہ مفادات بلکہ پورے خطے کے امن اور استحکام کے لیے مشترکہ اقدامات پر غور کرتے ہیں۔ اس دورے کا ایک روحانی پہلو بھی نہایت اہم ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی عمرہ کی ادائیگی اور روضہ رسولؐ پر حاضری نہ صرف ان کے ذاتی جذبات کی عکاس ہے بلکہ پاکستانی عوام کی دلی وابستگی کی بھی نمائندگی کرتی ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں مذہبی رشتہ ہمیشہ ایک مضبوط بنیاد رہا ہے، جس نے ہر دور میں دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے قریب رکھا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ موجودہ عالمی حالات میں مضبوط سفارت کاری ہی قومی مفادات کے تحفظ کا سب سے موثر ذریعہ بن چکی ہے۔ اقتصادی ترقی، سرمایہ کاری، توانائی کا تحفظ، علاقائی استحکام اور عالمی سطح پر موثر کردار صرف اسی صورت ممکن ہے جب ممالک باہمی اعتماد اور تعاون کے ساتھ آگے بڑھیں۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتا ہوا رابطہ اسی مثبت سوچ کا مظہر ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس دورے کے نتائج کو صرف مشترکہ بیانات تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ سرمایہ کاری، تجارت، دفاع، ٹیکنالوجی، تعلیم، معدنیات اور انسانی وسائل کے شعبوں میں عملی پیش رفت کو یقینی بنایا جائے۔ دونوں ممالک کے درمیان طویل المدتی منصوبے نہ صرف اقتصادی خوشحالی کا ذریعہ بن سکتے ہیں بلکہ پورے خطے میں امن اور استحکام کے لیے بھی ایک مضبوط بنیاد فراہم کریں گے۔ آج جب دنیا نئی سیاسی اور معاشی صف بندیوں کے دور سے گزر رہی ہے، پاکستان اور سعودی عرب کی قیادت پر یہ اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے تاریخی تعلقات کو نئی ضروریات کے مطابق مزید مضبوط بنائیں۔ اگر یہ تعاون دانشمندانہ سفارت کاری، مشترکہ ترقیاتی منصوبوں اور امن کے لیے مخلصانہ کوششوں کے ساتھ آگے بڑھتا رہا تو نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورا خطہ اس کے مثبت ثمرات سے مستفید ہوگا۔ یہی وہ راستہ ہے جو پائیدار امن، مشترکہ خوشحالی اور مسلم دنیا کے روشن مستقبل کی ضمانت بن سکتا ہے۔

شذرہ۔۔

دہشتگردی کیخلاف فیصلہ کن جدوجہد

بلوچستان کے اضلاع واشک اور مستونگ میں سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیوں کے دوران 12دہشت گردوں کا ہلاک ہونا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے ناسور کے خلاف اپنی جنگ پوری سنجیدگی اور عزم کے ساتھ جاری رکھے ہوئے ہے۔ انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر بروقت اور مثر کارروائیاں نہ صرف سیکیورٹی اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا مظہر ہیں بلکہ یہ بھی ظاہر کرتی ہیں کہ ریاست دشمن عناصر کو کسی صورت کھلی چھوٹ دینے کے لیے تیار نہیں۔ بلوچستان ایک حساس صوبہ ہے جہاں بیرونی سرپرستی میں سرگرم دہشت گرد گروہ امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ ایسے حالات میں بروقت انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز دہشت گردوں کے عزائم ناکام بنانے میں انتہائی موثر ثابت ہوتے ہیں۔ حالیہ کارروائیوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کیے جانا بھی اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ صرف فوری خطرات ہی نہیں بلکہ ان کے نیٹ ورک کو بھی کمزور کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔اس سے بھی انکار ممکن نہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف فوجی کارروائیوں سے مکمل طور پر نہیں جیتی جا سکتی۔ اس کے ساتھ ساتھ عوامی تعاون، موثر انٹیلی جنس نظام، سرحدی نگرانی، نوجوانوں کو انتہاپسندی سے محفوظ رکھنے کے اقدامات اور ترقیاتی منصوبوں کی رفتار بھی اتنی ہی اہم ہے۔ خاص طور پر بلوچستان جیسے وسیع اور پسماندہ علاقوں میں روزگار، تعلیم اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی دیرپا امن کے لیے ناگزیر ہے۔ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے گزشتہ کئی برسوں کے دوران دہشت گردی کے خلاف بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان قربانیوں کی بدولت ملک میں امن و امان کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی، تاہم دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے مسلسل چوکنا رہنا ضروری ہے۔ دشمن عناصر جب بھی سر اٹھانے کی کوشش کریں، انہیں قانون اور ریاستی طاقت کے ذریعے موثر جواب دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ حالیہ کامیاب کارروائیاں حوصلہ افزا ضرور ہیں، مگر انہیں ایک مسلسل حکمت عملی کا حصہ بنانا ہوگا۔ ریاست، سیکیورٹی اداروں اور عوام کے درمیان اعتماد اور تعاون ہی وہ طاقت ہے جو دہشت گردی کے ہر منصوبے کو ناکام بنا سکتی ہے۔ اگر یہی عزم برقرار رہا تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان دہشت گردی کے اس عفریت سے مکمل طور پر نجات حاصل کر کے پائیدار امن، ترقی اور استحکام کی منزل کی طرف مزید مضبوطی سے گامزن ہوگا۔

جواب دیں

Back to top button