ColumnRoshan Lal

معاشی بدحالی کی وجہ محض بدعنوانی؟

معاشی بدحالی کی وجہ محض بدعنوانی؟
روشن لعل
معاشی بدحالی ہماری ریاست کے اندر اس حد تک سرایت کر چکی ہے کہ چاہے کوئی بھی سیاسی جماعت یا سیاسی رہنما حالات بہتر ہونے کے چاہے جتنے بھی سبز باغ دکھائے ہمیں معاشی خوشحالی کا امکان دور دور تک کہیں نظر نہیں آتا۔ مبینہ طور پر خاص عمل دخل اور خاص انتظامات کے تحت یہاں مختلف جماعتوں کی جتنی بھی حکومتیں قائم ہوئیں انہوں نے عوام کو یہ باور کرانے کی کامیاب کوشش کی کہ ہماری معاشی بد حالی کی وجہ صرف اور صرف بد عنوانی ہے۔ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ کسی قوم کے لیے بدعنوانی سے بڑا ناسور کچھ اور نہیں ہو سکتا۔ اس بات پر یقین کے باوجود یہ حقیقت جھٹلائی نہیں جاسکتی کہ یہاں ایسے ملک بھی موجود ہیں جہاں بد عنوانی اور معاشی ترقی کی مثالیں ایک ساتھ نظر آتی رہیں۔ براعظم ایشیا میں مشرق بعید اور شمال مشرق میں واقع وہ ممالک جنہیں اب ایشین ٹائیگر کہا جاتا ہے، کبھی تیسری دنیا کے ممالک میں شمار ہوا کرتے تھے۔ یہ ممالک وہ ہیں جہاں معاشی ترقی کا سفر تو پاکستان سے بھی بعد میں شروع ہوا مگر وہاں بد عنوانی کے واقعات کے باوجود یہ سفر کبھی رکا ہوا نظر نہیں آیا۔ ان ممالک میں خاص طور پر جنوبی کوریا، تھائی لینڈ، ملائشیا، انڈونیشیا،سنگا پور اور تائیوان وغیرہ کا نام لیا جاسکتا ہے۔
ان ملکوں میں سے جنوبی کوریا کی معاشی ترقی کو مثالی قرار دیا جاتا ہے۔ جہاں تک جنوبی کوریا میں کرپشن کی بات ہے تو وہا ں آئے روز اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کے کرپشن سکینڈل سامنے آتے رہتے ہیں۔ چند برس قبل، کرپشن سکینڈلز میں جنوبی کوریا کی خاتون صدر پارک گوان ہائی کا پہلے بدعنوانی کے الزامات کے تحت مواخذہ ہوا اور پھر عدالت نے اپریل 2018ء میں انہیں 24سال قید کی سزا سنائی۔ 2015ء میں جنوبی کوریا کے وزیر اعظم لی وان کو بدعنوانی کے الزامات کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا۔ 2009ء میں مشہور زمانہ سام سنگ کرپشن کیس کے الزامات ثابت ہونے پر سابق کورین صدر مایونگ باک کو بھی 24برس قید کی سزا ہوئی تھی۔ تھائی لینڈ کا سابق ڈپٹی پرائم منسٹر پراوٹ وونگ سووان ، جس نے 2014ء کی فوجی بغاوت میں سرگرم کردار ادا کیا تھا ، بعد ازاں بدعنوانی کے بد ترین الزامات کی زد میں آیا۔ تھائی لینڈ کے ریاستی اہلکاروں کا رولس رائس کمپنی سے لاکھوں ڈالر رشوت لینے کا سکینڈل پوری دنیا میں مشہور ہوا۔ بدعنوانیوں کا یہ سلسلہ وہاں کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ ملائشیا میں 1980ء کی دہائی کے بعد بدعنوانیوں کے 10بڑے سکینڈل سامنے آچکے ہیں۔ ملائیشیا کے سابق وزیر اعظم نجیب رزاق پر بدعنوانی کے الزامات کے تحت ایک سے زائد مقدمات قائم کیے گئے ۔ 1999ء میں ملائیشیا کے سابق ڈپٹی پرائم منسٹر اور موجودہ وزیر اعظم، انور ابراہیم کو بد عنوانی کے الزامات کے تحت سزا سنائی گئی تھی۔ انڈونیشیا میں بھی بدعنوانیوں کے بڑے بڑے سیکنڈل سامنے آچکے ہیں۔ اس ملک کی تاریخ کے دوسرے صدر سوہارتو کے32سالہ دور حکومت کے ساتھ بدعنوانیوں کی کئی کہانیاں جڑی ہوئی ہیں۔ ویسے تو سنگا پور کا شمار دنیا کے ان ملکوں میں ہوتا ہے جہاں بد عنوانی کی سطح سب سے کم تصور کی جاتی ہے مگر اس ملک میں گذشتوں برسوں میں ظاہر ہونیوالے کرپشن کے پانچ بڑے سکینڈلز پر نظر ڈالی جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ وہاں تقریباً ہر شعبہ زندگی میں کرپشن کا عنصر موجود ہے۔ سنگا پور کے انسداد کرپشن کے ایک ادارے کے سربراہ ایڈون یو ای کو سرکاری فنڈ میں 1.76ملین ڈالر کی ہیرا پھیری کا الزام ثابت ہونے پر 10برس قید کی سزا سنائی گئی۔ وزارت خارجہ کے پروٹو کول چیف لی چنگ ہوای کو قومی خزانے کو 89000ڈالر کا نقصان پہنچانے کے جرم میں 15مہینوں کی سزا ہوئی۔ سول ڈیفنس فورس کے چیف پیٹر لم کو سرکاری ٹھیکوں کے حصول میں منظور نظر افراد کو سہولت بہم پہنچانے کے الزام کے تحت 6ماہ کی سزا سنائی گئی۔ نیشنل پارک بورڈ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر برنارڈ لم یونگ سون کو بدعنوانی کے کیسوں میں جان بوجھ کر غلط معلومات فراہم کرنے کے الزام میں 10برس قید کی سزا دی گئی۔ نیشنل یونیورسٹی سنگا پور کے پروفیسر ٹے سن ہانگ کو طالب علموں کو اعلیٰ گریڈ دینے کے عوض تحفے وصول کرنے اور طالبات کو جنسی تعلقات پر مجبور کرنے کا جرم ثابت ہونے پر 5 ماہ کی سزا ہوئی۔ اسی طرح تائیوان میں بھی صدر تک کے عہدے پر فائز افراد اور ان کے اہل خانہ بد ترین ب عنوانیوں میں ملوث پائے گئے۔ یہاں مشرق بعید اور شمال مشرق میں واقع جن ممالک کا ذکر نہیں بھی کیا گیا وہاں بھی کرپشن کی نئی اور پرانی کئی کہانیوں کے شواہد موجود ہیں۔
آخر کیا وجہ ہے کہ کرپشن کے باوجود یہ ممالک اپنی مثال آپ معاشی ترقی سے ہمکنار ہوتے رہے، مگر کرپشن نے ہم پر اس قدر اثر کیا کہ ہمیں معاشی طور پر مفلوج ملک کا باسی تصور کیا جانے لگا۔ اصل میں مذکورہ ایشین ٹائیگر ملکوں اور پاکستان میں بنیادی فرق افغانستان میں امریکی مفادات کے تحت 1970ء اور1980ء کی دہائی میں مذہب کے نام پر لڑی جانے والی جنگ کا ہے۔ مذکورہ ملکوں میں کوئی ایک بھی ملک ایسا نہیں جو پاکستان کی طرح افغان جنگ میں ملوث رہا ہو۔ 1950ء اور 1960ء دہائی تک تیسری دنیا میں شمار ہونیوالے ان ممالک میں معاشی ترقی کا آغاز اس وقت ہوا جب ملٹی نیشنل کمپنیوں نے سستی محنت کے حصول، خام مال تک براہ راست رسائی اور اشیائے صرف کی ممکنہ منڈی کے قریب ترین علاقوں میں صنعتی پیداوار کی پالیسی کے تحت وہاں سرمایہ کاری کی۔ ان ملکوں کی طرح پاکستان میں بھی یہ تمام خصوصیات موجود تھیں مگر ان خصوصیات کے ساتھ ساتھ پاکستان بالواسطہ یا بلاواسطہ اس وقت کی ایک سپر پاور کے ایما پر دوسری سپر پاور کے خلاف جنگ میں بھی مصروف تھا۔ کوئی بھی سرمایہ کار میدان جنگ بنا دیئے گئے ملک میں سرمایہ کاری کر کے اپنا سرمایہ ڈبونے کا خطرہ کیسے مول لے سکتا ہے۔ لہذا جب ماضی میں ہم سے بھی پسماندہ تصور کیے جانے والے ممالک معاشی طور پر ایشین ٹائیگر بن رہے تھے اس وقت ہمارے سروں پر افغان جہاد کا بھوت سوار تھا۔ جہاد کے نام پر لڑی جانے والی جنگ میں حصہ لے کر جو کچھ ہم نے کھویا اور بیرونی سرمایہ کاروں کو اپنی طرف راغب کر کے مشرق بعید کے ملکوں نے جو سمیٹا وہ اب کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ ایشین ٹائیگر قرار دیئے گئے ملک تو بیرونی سرمایہ کاری کے بل پر اپنی برآمدات بڑھا کر اور زرمبادلہ کما کر اپنے اثاثوں میں اضافہ کرتے رہے مگر جن عناصر کو ہم نے اپنا اثاثہ قرار دیا تھا انہوں نے بعد ازاں دہشت گرد بن کر ہمیں اس حد تک کھوکھلا کیا کہ بیرونی سرمایہ کار ہمارے نام سے بھی گھبرانے لگے۔ آج بھی بیرونی دنیا ہماری ترجیحات کے متعلق شکوک و شبہات کا شکار ہے۔ ایسا کیوں نہ ہو جب ہمارا ملک کو ایک ایسی تجربہ گاہ بنا دیا گیا ہو جہاں ہماری بدحالی کی واضح نظر آنے والی وجوہات کو نظر انداز کر کے مسلسل ایسے تجربات کیے جارہے ہوں جن کی کامیابی کا کسی کو رتی برابر یقین نہ ہو۔

جواب دیں

Back to top button