مہنگائی کا طوفان: عام آدمی کی برداشت کی حد کہاں ختم ہوگی؟

مہنگائی کا طوفان: عام آدمی کی برداشت کی حد کہاں ختم ہوگی؟
غلام مصطفیٰ جمالی
پاکستان اس وقت ایسے معاشی دور سے گزر رہا ہے جہاں مہنگائی صرف ایک معاشی مسئلہ نہیں رہی بلکہ ایک سماجی، نفسیاتی اور انسانی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ روزمرہ استعمال کی اشیائے خورونوش سے لے کر بجلی، گیس، ایندھن، ادویات، تعلیم اور ٹرانسپورٹ تک تقریباً ہر شعبے میں قیمتوں میں مسلسل اضافہ عوام کی زندگی کو دشوار بنا رہا ہے۔ متوسط اور کم آمدنی والے طبقات سب سے زیادہ متاثر ہیں، کیونکہ ان کی آمدنی وہیں کی وہیں کھڑی ہے جبکہ اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے حالات میں عام شہری کے ذہن میں یہ سوال شدت سے جنم لے رہا ہے کہ آخر اس کی برداشت کی حد کہاں ختم ہوگی؟۔
مہنگائی کے اثرات صرف بازار تک محدود نہیں رہتے بلکہ یہ پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ جب گھر کا سربراہ اپنی محدود آمدنی میں بچوں کی تعلیم، علاج، خوراک اور دیگر ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہو جاتا ہے تو اس کے اثرات خاندان کے ہر فرد پر مرتب ہوتے ہیں۔ ذہنی دبا، گھریلو تنازعات، بے یقینی اور مستقبل کا خوف ایسے مسائل ہیں جو معاشی مشکلات کے ساتھ ساتھ بڑھتے چلے جاتے ہیں۔
پاکستان کی معیشت گزشتہ کئی برسوں سے مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔ بیرونی قرضے، درآمدات پر انحصار، روپے کی قدر میں اتار چڑھائو، توانائی کے بڑھتے ہوئے اخراجات، ٹیکس نظام کی خامیاں اور پیداواری شعبے کی کمزوری نے مہنگائی کے مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ جب پیداوار کم اور اخراجات زیادہ ہوں تو اس کا براہِ راست اثر قیمتوں پر پڑتا ہے، جس کا بوجھ آخرکار عوام کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔
عالمی حالات بھی پاکستان کی معیشت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ، عالمی تجارتی کشیدگی، سپلائی چین میں رکاوٹیں اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث زرعی پیداوار میں کمی جیسے عوامل بھی مہنگائی میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ اندرونی سطح پر مثر منصوبہ بندی، شفاف حکمرانی اور بروقت فیصلوں کے ذریعے ان اثرات کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
ملک میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ عام آدمی کی قوتِ خرید کو مسلسل کم کر رہا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب متوسط طبقہ اپنی ضروریات کسی نہ کسی طرح پوری کر لیتا تھا، لیکن آج وہ بھی شدید معاشی دبائو کا شکار ہے۔ تنخواہ دار طبقہ مہینے کے آغاز میں بجٹ بناتا ہے مگر چند ہی دنوں میں تمام حساب کتاب بگڑ جاتا ہے۔ بچوں کی فیس، کرایہ مکان، بجلی و گیس کے بل اور روزمرہ اخراجات پورے کرنا ایک مشکل امتحان بنتا جا رہا ہے۔
مہنگائی کا سب سے زیادہ نقصان غریب مزدور اور دیہاڑی دار طبقے کو ہوتا ہے۔ روزانہ کی اجرت میں معمولی اضافہ بھی قیمتوں میں ہونے والے تیز اضافے کا مقابلہ نہیں کر پاتا۔ نتیجتاً لاکھوں خاندان اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ غذائی قلت، بچوں میں کمزور نشوونما اور صحت کے مسائل اسی معاشی دبا کا نتیجہ ہیں۔
تاجر برادری اور صنعتیں بھی اس صورتحال سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتیں۔ خام مال مہنگا ہونے سے پیداواری لاگت بڑھتی ہے، جس کا اثر مصنوعات کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔ فروخت میں کمی، کاروباری سرگرمیوں میں سست روی اور سرمایہ کاری میں کمی سے روزگار کے نئے مواقع پیدا نہیں ہو پاتے۔ یوں مہنگائی اور بے روزگاری ایک دوسرے کو مزید تقویت دیتی ہیں۔
ایسے حالات میں حکومت کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔ صرف وقتی اعلانات یا مختصر مدتی ریلیف پیکجز مسئلے کا مستقل حل نہیں ہو سکتے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ زراعت، صنعت، برآمدات اور توانائی کے شعبوں میں ایسی پالیسیاں اختیار کی جائیں جو معیشت کو مضبوط بنیاد فراہم کریں۔ ٹیکس نظام میں اصلاحات، غیر ضروری سرکاری اخراجات میں کمی، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف موثر کارروائی، اور مقامی پیداوار کی حوصلہ افزائی مہنگائی پر قابو پانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ سماجی تحفظ کے پروگراموں کو مزید موثر اور شفاف بنانا بھی ضروری ہے تاکہ واقعی مستحق افراد تک امداد پہنچ سکے۔ صرف اعداد و شمار میں بہتری دکھانا کافی نہیں، بلکہ عوام کو اپنی زندگی میں حقیقی بہتری محسوس ہونی چاہیے۔ جب تک عام آدمی کے چولہے میں آسانی سے آگ نہیں جلتی، اس وقت تک معاشی ترقی کے دعوے ادھورے رہیں گے۔
یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ معاشی استحکام صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ نجی شعبے، کاروباری طبقے اور شہریوں کی بھی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ٹیکس ادا کرنے کی ثقافت، وسائل کے درست استعمال، مقامی مصنوعات کی حوصلہ افزائی اور قومی مفاد کو ترجیح دینے سے بھی معیشت مضبوط ہو سکتی ہے۔
پاکستان کے پاس قدرتی وسائل، نوجوان آبادی اور زرعی صلاحیت کی صورت میں بے شمار امکانات موجود ہیں۔ اگر ان وسائل کو موثر منصوبہ بندی، سیاسی استحکام، شفاف حکمرانی اور معاشی اصلاحات کے ذریعے بروئے کار لایا جائے تو ملک نہ صرف مہنگائی کے بحران پر قابو پا سکتا ہے بلکہ پائیدار ترقی کی راہ پر بھی گامزن ہو سکتا ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ معاشی فیصلے وقتی سیاسی مفادات کے بجائے قومی مفاد کو سامنے رکھ کر کیے جائیں۔ عوام کو صرف امید دلانے سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ انہیں عملی ریلیف فراہم کیا جائے۔ اگر مہنگائی پر قابو پانے کے لیے سنجیدہ، مربوط اور دیرپا اقدامات نہ کیے گئے تو عام آدمی کی برداشت کی حد مزید آزمائش میں پڑ جائے گی، جس کے اثرات صرف معیشت ہی نہیں بلکہ پورے معاشرے کے استحکام پر بھی مرتب ہوں گے۔ یہی وقت ہے کہ حکومت، ریاستی ادارے، کاروباری طبقہ اور عوام مل کر ایسے اقدامات کریں جو پاکستان کو معاشی استحکام، سماجی انصاف اور عوامی خوشحالی کی طرف لے جائیں۔





