Abdul Hanan Raja.Column

ناقابل فہم مطالبات اور پرتشدد احتجاج

ناقابل فہم مطالبات اور پرتشدد احتجاج
عبدالحنان راجہ
کشمیر کے تشخص کو کسی جھتے، گروہ یا تنظیم کے ایما دبایا اور نہ اہل پاکستان کی کشمیر سے جذباتی، نظریاتی، روحانی و قلبی وابستگی اور نفسیاتی عقیدت کو انتہا پسندانہ رویوں سے ختم جا سکتا ہے۔
ایکشن کمیٹی کے علم میں ہے کہ آزاد خطہ کی تزویراتی پوزیشن اور حساس نوعیت ریاست پاکستان اور خود اہل کشمیر کے لیے کتنی اہم ! مگر پھر بھی مطالبات پر بات چیت و انتخابی عمل سے انکار، سپریم کورٹ سے رائے سے بھی اتفاق نہیں اور نشستوں کے معاملہ پر ریفرنڈم سے بھی فرار ! یہ سب ناقابل فہم اور ایکشن کمیٹی کی حیثیت کو مشکوک بنانے کو کافی۔
حکومت آزاد کشمیر کے صبر کا پیمانہ لبریز کیوں ہوا ؟ ضبط کے بندھن کیوں ٹوٹے۔ ؟ کالعدم قرار دینے کی نوبت کیوں آئی۔ یقینا یہ ایسے سوال کہ جس کے پیچھے کئی محرکات ! کہ گزشتہ دو بار کے پرتشدد مظاہروں اور حکومت کے سرنڈر نے انہیں جری کر دیا۔ یہ سوال بھی ذہنوں میں کھٹکتا ہے کہ ستمبر 2023ء میں سادہ اور عوامی مطالبات کے ساتھ وجود میں آنے والی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو مقبولیت کس نے دلوائی، ہر آنے والے دن کے ساتھ مذاکرات کی فہرست طویل کیونکر اور ناقابل عمل تجاویز سامنے کیوں آتی گئیں؟۔ اور یہ اب کس جماعت و کن نظریات کے ہاتھوں یرغمال ؟ ان کا ایکس اکائونٹنٹ کہاں سے آپریٹ ہوتا ہے اور کون سا ملک ان کی پرتشدد سرگرمیوں سے براہ راست فائدہ اٹھانے کے درپے ؟
افسوس کہ یہ سوالات و خدشات اس خطہ کے باسیوں سے متعلق کہ جسے پاکستانی اپنی شہ رگ قرار دیتے ہیں۔ آزاد کشمیر تو ایسا پرامن خطہ کہ جہاں سے رہاست پاکستان کو ہمیشہ ٹھنڈی ہوائیں ہی ملیں اور اس کے خوددار راہنماوں و باسیوں نے ظلم و بربریت کے خلاف حریت کی داستانیں رقم کیں ان کے ہاتھ کبھی اپنے محسنوں پر نہ اٹھے یقینا ان شہیدوں کی روحیں بعض عناصر کی شرپسندی پر بے چین و مضطرب ہوں گی۔
پرپیچ پہاڑی علاقہ اور دور دراز وادیوں سے بہتے دریا جہاں اس کے حسن کو دوبالا کرتے ہیں وہیں یہ امن و آتشی اور محبت کا پیغام بھی لاتے ہیں جو اس بات کا ثبوت کہ پاکستانیوں اور کشمیریوں کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں۔ ریاست پاکستان 16لاکھ سے زیادہ کشمیریوں کی جائے پناہ کہ ہر عالمی فورم پر پاکستان کشمیریوں کی تنہا توانا آواز۔ مہاجرین مقیم پاکستان کے لیے اہل پاکستان نے دیدہ و دل فرش راہ کیے یہی وجہ کہ آج 16لاکھ سے زائد مہاجرین جموں و کشمیر مقیم پاکستان اہل پاکستان کے شکر گزار کہ اس نہ صرف دوہرے ووٹ کا حق بلکہ تعلیمی اداروں اور ملازمتوں میں کوٹہ اور مہاجرین مقیم پاکستان کو پاکستان کے انتخابی عمل میں بھی حصہ کا حق دیا۔ انہیں پاکستان کے ہر شہر، قصبہ اور گائوں میں رہنے کی آزادی اور ہر قسم کی جائیداد کی خرید و فروخت کا حق۔ جبکہ آزاد کشمیر کے زیر انتظام علاقہ میں کسی غیر ریاستی ( پاکستانی) فرد کو یہ حق حاصل نہیں مگر افسوس ان سب محبتوں رشتوں اور ناطوں کو انتہا پسند عناصر پس پشت ڈال کر کشمیری عوام کے تشخص کو پامال کرنے پر تلے ہیں۔
پاکستان میں مہاجرین کی نشتیں ختم کرنے کا مطلب بھارت کے مقبوضہ کشمیر پر ظالمانہ قبضہ کے بعد آبادیاتی تناسب کو بھارت کے حق میں کرنا ہی تو ہے۔ جس دن مہاجرین کے حق رائے دہی کا حق ختم، اسی دن بھارت ببانگ دہل اقوام متحدہ میں استصواب رائے کے مطالبہ میں شیر۔ پاکستان میں مقیم 4لاکھ 38ہزار 546ووٹرز دراصل مکمل کشمیر کے حصول تک اقوام متحدہ کی قراردادوں اور آئین کے تحت دیئے گئے استصواب رائے کے حق کے امین۔ ماضی میں سیکورٹی اہل کاروں کو قتل اور 650سے زائد کو تشدد کا نشانہ اور تضحیک آمیز سلوک کیا گیا جسے ریاست نے بوجوہ ہضم کیا اور اب پھر سیکورٹی اداروں کے اہل کاروں کا اغوا، ان کے عزائم کا پتہ دیتا ہے، جبکہ ان کے پاس مطالبات کی منظوری اور بات چیت کے لیے باعزت و باوقار طریقے موجود، ایکشن کمیٹی کو قانونی و آئینی مطالبات کی منظوری اور عوامی حق کو تسلیم کرانے کے لیے مختلف آپشن دئیے گئے۔ اولا انتخابی عمل کا حصہ، دوسرا مہاجرین کی 12نشستوں پر سپریم کورٹ آف آزاد کشمیر سے رہنمائی، ریفرنڈم اور پھر ایک موقع پر حکومت چھ نشستوں کی کمی آمادہ نظر آتی دکھائی دینے لگی۔ مگر اس کے باوجود ایکشن کمیٹی نے مذاکرات اور آئینی راستے کی بجائے پرتشدد اور دھمکی آمیز رویہ اختیار کر کے ان خدشات کو درست ثابت کیا جو عوام پاکستان سمیت لاکھوں پرامن کشمیریوں کے ذہنوں میں پنپ رہے تھے۔ یہ بات بھی قابل غور کہ گزشتہ سال کے لانگ مارچ کے دوران جلائو گھیرائو اور پرتشدد کارروائیوں پر گرفتار 26افراد میں سے بڑی اکثریت پنجاب و کے پی اور تعلق اپوزیشن کی بڑی جماعت سے، جس سے ایکشن کمیٹی پرامن جدوجہد سے بھٹک گئی۔ موجودہ احتجاج میں بھی ایکشن کمیٹی لاشوں کی متقاضی کہ جس بنا پر وہ ریاستی اداروں کے خلاف پراپیگنڈا مہم کو آگے بڑھانے کی متمنی۔ مگر اب ان کے عزائم اور عمل نے ثابت کیا کہ یہ اس رعایت کے مستحق نہ تھے۔
مہاجرین مقیم پاکستان، سیکورٹی اداروں حتی کہ پاکستان سے ان کے بعض شر پسند عناصر کی نفرت انگیز گفتگو ان کے مذموم مقاصد کو عیاں کرنے کو بہت۔
آزاد کشمیر کی پہلی بندوبست میں دو کے علاوہ سبھی ذمہ داران مہاجرین، پھر بابائے کشمیر چودھری غلام عباس اور حریت راہنما شہید مقبول بٹ مہاجر نمائندہ ہی تو تھے، کہ جن کے نام پر آج بھی دنیا بھر کے کشمیری اپنی فکری راہ متعین کرتے ہیں۔ پاکستانی عوام اپنا پیٹ کاٹ کر نہ صرف بجلی کی مد میں 10بلین کی سالانہ سبسڈی، پاکستان میں قیمت سے نصف نرخوں پر گندم اپنے کشمیری بھائیوں کے لیے اور پھر ہر سال 200ارب سے زائد ٹیکسسز سے جمع شدہ رقم کا تحفہ الگ، مگر چند انتہا پسند اس پہ بھی راضی نہ قانع۔
آزاد کشمیر سمیت پاکستان سے کرپشن یا پروٹوکول کلچر کا خاتمہ، گڈ گورننس، روزگار کے مواقع یہ ہر شہری کے دل کی آواز مگر مطالبات کی آڑ میں آزاد خطہ اور پاکستان کے خلاف زہر اگلنا دراصل 25کروڑ پاکستانیوں کی دل آزاری اور ان کے احسانات کی ناشکری۔
دستیاب معلومات کے مطابق اس شورش میں آزاد خطہ میں خودمختار کشمیر کا نعرہ اور کچھ حد تک پی ٹی آئی کے پرجوش کارکنان ملوث کہ گزشتہ دھرنے کے دوران گرفتار ہونے والوں کی بڑی اکثریت کا تعلق پنجاب اور کے پی سے تھا اور اب بھی پی ٹی آئی اکائونٹس ہی پراپیگنڈا مہم کو موثر بنا رہے ہیں۔ اہلیان کشمیر کے دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں اور دھڑکتے رہیں گے۔ مگر تشدد کو ہوا دینے والے عناصر یہ بھی سوچیں کہ اگر کسی دن کے پی کے اور پنجاب کے ایک ایک ڈویزن سے محض چند ہزار سر پھروں نے ایکشن کمیٹی جیسے انتہا پسندوں سے تنگ آ کر کشمیر جانے آنے کے راستے مسدود کر دئیے تو اہل کشمیر کا کیا بنے گا ! مگر الحمد للہ اہل پنجاب ہوں، کے پی، سندھ یا بلوچ ان کے دل بھی بڑے ہیں اور ظرف اعلیٰ۔

جواب دیں

Back to top button