مصلحت پسندی کیوں ؟

مصلحت پسندی کیوں ؟
تجمّل حسین ہاشمی
کئی سوال ہمارے ذہنوں کو منتشر کرتے ہیں، بنیادی سہولتوں سے محرومی کے ذمہ داروں کا احتساب کیوں ممکن نہیں۔ پاکستان کے قیام کا مقصد پاکیزہ ہے، لیکن پھر بھی ہمارے ہاں وہ کچھ ہو رہا ہے جس کی اسلام اور آئین بالکل بھی اجازت نہیں دیتا۔ استثنیٰ کا استعمال ذاتی خواہش بن چکا ہے، سڑکوں پر دوڑتی مہنگی گاڑیاں اور مہنگے ہوٹلوں پر رش ، شادیوں پر نوٹوں کی بارش، انسان خود کی حالت دیکھ کر نظام سے بدظن اور ذہنی مریض بن چکا ہے۔ دوسری طرف حکومتی قرضوں کی بھرمار، مہنگائی، بے روزگاری میں اضافے اور سوشل میڈیا پر منفی معلومات کی بھرمار مزید انسانی ذہنوں کو تقسیم کر رہی ہے، لوگ اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں، لیکن جمہوری یا آمریت دور میں کوئی بھی حل نہیں دے سکا۔
سیاسی لیڈروں کو مستقل حکمرانی چاہئے، نسل دار نسل قبضہ چاہئے۔ تسلسل حکمرانی اور کھلی آزادی چاہئے، نہ کوئی اپوزیشن ، نہ عدالتوں کی پوچھ گچھ، بس بادشاہت ہونی چاہئے۔ سیاسی مصلحت پسندی بے سب کچھ کھوکھلا کر دیا ہے۔ اب بات لڑائی جھگڑا اور اٹھائو، بند کرو تک پہنچ چکی ہے۔ ویسے سیاسی لیڈروں کو صوبوں پر بادشاہت کا پروانہ عرصہ سے مل چکا ہے اور وفاق میں سب جماعتیں مل بیٹھی ہیں۔ اپوزیشن میں دم باقی نہیں، اس کے باوجود بھی عوام زندہ دل ہیں، جو ابھی بھی حکمرانوں کے نعروں پر دھمال ڈال رہے ہیں۔ طاقتور شخصیات کو بھی ایسے ہی حکمران چاہئیں جو جھوٹے وعدے اور آسرے پر نظام چلائیں۔ ویسے طاقتور حلقوں سے لوگ ناراضی کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔ دشمن ممالک کو دن میں تارے دکھا دئیے، سب کچھ مینیج کر لیتے ہیں، بس غریبوں کو روزگار، بچوں کو سکول اور بنیادی حقوق و انصاف دینے میں ناکام یا خاموش کیوں؟۔ سونے پر سہاگہ جمہوری حکومتیں کبھی بھی خود کو ناکام نہیں کہتیں، ہمارے ہاں معاشی ناکامی کا ذمہ دار کوئی نہیں، سب پاک پانی سے نہائے ہوئے ہیں، پھر بھی معاشی ناکامی کا ذمہ دار عام آدمی ہے ؟ ٹیکس میں کمی کا الزام عام فرد پر ہے۔ معاشی مشکلات کا حل سیاسی جماعتوں کے پاس ہے لیکن کوئی حل کرنا نہیں چاہتا، اس کی بنیادی وجوہات کیا ہو سکتی ہیں ، اس پہلو کو ڈسکس کرنا انتہائی ضروری ہے، سب سے پہلے اس بات کو سمجھنا ضروری ہے کہ قیام پاکستان کے وقت ہمیں تقسیم میں جو حصہ ملنا تھا وہ نہیں ملا، دوسرے پاکستان صنعتی طور بہت کمزور تھا۔ قیام کے بعد سے خود کو زرعی ملک قرار دیا، صنعتی ترقی بھی نہ ہو سکی، اب ہم 1990ء کی دہائی کے بعد سے موٹی موٹی پلاننگ پر بات کرتے ہیں۔ آمر اور جمہور کا دور سب نے دیکھا ہے۔ موٹر وے اور سڑکوں کا جال بچھانے والی جماعت مسلم لیگ ن نے سڑکوں کی تعمیر سے منڈیوں تک رسائی دی، لیکن کسان کی ترقی کے لیے کوئی منصوبہ نہیں بنایا۔ آج بھی ملک 10ارب سے زیادہ کی اجناس امپورٹ کرتا ہے۔ تعلیمی نظام تباہ اور زرعی یونیورسٹیز کی کمی ہے، روڈ کی تعمیر کبھی بھی نسلوں کو آباد نہیں کر سکتی، جب تک انہیں تعلیم نہ دی جا سکے۔ مسلم لیگ ن نے منصوبے تو دئیے لیکن ان سے جوڑے دوسرے شعبہ زندگی پر توجہ نہیں دی۔ پیپلز پارٹی نے بھی وہی کام کیا جو اس مد مقابل جماعت نے کیا تھا۔ 2008ء میں ملک کو بجلی کی لوڈشیڈنگ کا بڑا مسئلہ تھا، پیپلز پارٹی نے رینٹل پاور پلانٹ خرید کر اپنی نا اہلی ثابت کی، اس کے بعد IPPs پراجیکٹ کھڑے کر کے قوم کے مستقبل کا سودا کیا گیا۔ جو قوم مہنگی بجلی کے بلوں کی صورت میں بھگت رہی ہے۔ تمام ادوار میں عوامی سہولتوں سے زیادہ ذاتی مفادات کیلئے قانون سازی کی گئی، یہی سلسلہ جاری و ساری ہے، یہ سلسلہ جاری رہا تو وقت قریب میں الیکشن برائے نام کے رہ جائیں گے۔
ایسی تنقید اور ہزاروں سوال روزانہ کی بنیاد پر اٹھائے جا رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود بھی حکومتوں اور سیاسی لیڈروں پر کوئی فرق نہیں پڑ رہا، گلگت بلتستان الیکشن میں ایک دوسرے پر تنقید کرنے والی جماعتیں چند گھنٹوں میں ساتھ بیٹھی تھیں، کئی سال ملکی مسائل پر بیانیہ بنایا جاتا رہا کہ کوئی ایک پارٹی ملکی معیشت کو ٹھیک نہیں کر سکتی، اب تو تمام سیاسی جماعتیں اتحادی ہیں، ماسوائے پاکستان تحریک انصاف۔ اپوزیشن کے حوالے سے وہ بھی کوئی سخت اقدام اٹھانے کے لیے تیار نہیں ہے، لوگ تھک چکے ہیں، لیکن حکومت اچھے کے نعرے لگا رہی ہے، بہتری کسی شعبہ میں نظر نہیں آ رہی۔ فی الحال بڑے بڑے معاشی تجزیہ نگار بھی مایوس نظر آ رہے ہیں، کہیں ٹھنڈی ہوا نظر نہیں آ رہی۔ دوسری طرف موسمی تبدیلی سے گرمی کی شدت میں اضافہ ہے، لیکن اس حوالے سے بھی ضلع کی انتظامیہ ٹھنڈے دفتروں میں بیٹھی ہے، 2015ء میں درجہ حرارت کے اضافے سے ضلع کی انتظامیہ اور صوبائی حکومتوں نے کوئی اقدامات نہیں کئے، شاید حکومتیں بھول گئی ہیں کہ کراچی میں 1500سے زائد افراد اور فلاحی تنظیموں کے مطابق 2000کے قریب لوگ ہیٹ سٹروک سے انتقال کر گئے تھے، آج تک نا اہل سرکار کو چارج نہیں کیا گیا۔ ناکامیوں کے ذمہ داروں کو کھلی آزادی دی گئی اور آج ملک کی حالت سب کے سامنے ہے، ٹیکس کا بوجھ، مہنگائی اور لاقانونیت کے شکار ہیں، سچ گوئی عذاب بن جاتی ہے۔




