Column

نیا انتظامی نقشہ یا وفاقی ڈھانچے کی نئی کشمکش؟

نیا انتظامی نقشہ یا وفاقی ڈھانچے کی نئی کشمکش؟
تحریر: رفیع صحرائی
پاکستان میں انتظامی ڈھانچے کی تبدیلی، صوبوں کی تقسیمِ اختیارات اور مرکز و وفاقی اکائیوں کے درمیان طاقت کے توازن کا مسئلہ ہمیشہ سے ایک حساس اور پیچیدہ سیاسی موضوع رہا ہے۔ کبھی پنجاب کو تین صوبوں اور سندھ کو دو صوبوں میں تقسیم کرنے کی بات ہوتی ہے تو کبھی کراچی کو الگ صوبہ بنانے کا ذکر ہوتا ہے۔ آج کل اسلام آباد کو نیا یونٹ بنانے کی باتیں بھی زیرِ گردش ہیں۔ اب یہ اطلاعات سامنے آ رہی ہیں کہ ملک کے موجودہ 149اضلاع کو 27انتظامی یونٹس میں تبدیل کرنے کے لیے ایک نیا منصوبہ تیار کیا جا چکا ہے۔ یہ منصوبہ دراصل جنرل ضیاء الحق کے دور کے ’’ انصاری فارمولے‘‘ اور جنرل پرویز مشرف کے زمانے میں جنرل تنویر نقوی کے تیار کردہ ماڈل کا ایک نیا امتزاج بتایا جا رہا ہے۔ اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان ایک بار پھر اپنے وفاقی ڈھانچے کی ایسی تشکیل کی طرف بڑھ رہا ہے جو ملکی سیاست، آئینی نظام، صوبائی خودمختاری اور قومی وحدت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
اس منصوبے کی بنیادی روح یہ ہے کہ موجودہ صوبائی ڈھانچے کی جگہ نسبتاً چھوٹے مگر طاقتور انتظامی یونٹ قائم کیے جائیں جن کے سربراہ وزیر اعلیٰ کے بجائے ’’ چیف ایگزیکٹو‘‘ ہوں گے۔ انہیں مالیاتی خودمختاری، ٹیکس لگانے کے اختیارات، ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی اور مقامی معیشت کے انتظام کی مکمل ذمہ داری حاصل ہو گی۔ بظاہر اس تصور کو انتظامی بہتری، گورننس میں سہولت اور وساءل کی منصفانہ تقسیم کے نام پر پیش کیا جا رہا ہے، مگر اس کے پس منظر میں کئی سیاسی اور اسٹریٹجک عوامل کارفرما دکھائی دیتے ہیں۔
سب سے پہلے اگر پاکستان پیپلز پارٹی کے ممکنہ ردعمل کا جائزہ لیا جائے تو یہ کہنا مشکل نہیں کہ پیپلز پارٹی اس منصوبے کی شدید مخالفت کری گی۔ اس کی بنیادی وجہ صرف سندھ یا کراچی نہیں بلکہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے ذریعے حاصل ہونے والی صوبائی خودمختاری ہے۔ پیپلز پارٹی گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے اٹھارہویں ترمیم کو اپنی سب سے بڑی سیاسی کامیابی قرار دیتی رہی ہے۔ کراچی کو وفاق کے زیر انتظام دینے یا صوبائی اختیارات کو محدود کرنے کی کسی بھی کوشش کو پیپلز پارٹی ’’ وفاق پر شب خون‘‘ اور ’’ صوبائی حقوق پر حملہ‘‘ قرار دے سکتی ہے۔ خاص طور پر سندھ میں یہ بیانیہ زور پکڑے گا کہ کراچی سندھ کی معاشی شہ رگ ہے اور اسے وفاق کے ماتحت لانا دراصل صوبے کی سیاسی و مالی طاقت کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔ بلاول بھٹو زرداری اور سندھ کی قیادت غالباً اس معاملے کو وفاقی پارلیمان سے لے کر سڑکوں تک بھرپور انداز میں اٹھائیں گے۔
مسلم لیگ ( ن) کا معاملہ نسبتاً پیچیدہ ہو گا۔ ماضی میں پنجاب کی سیاست ہمیشہ اس جماعت کی اصل طاقت رہی ہے۔ اگر انتظامی یونٹس کے قیام سے پنجاب کی موجودہ سیاسی مرکزیت متاثر ہوتی ہے تو مسلم لیگ نون کے لیے اس منصوبے کی مکمل حمایت آسان نہیں ہو گی۔ تاہم چونکہ موجودہ سیاسی حالات میں اسٹیبلشمنٹ اور مسلم لیگ نون کے تعلقات ماضی کے مقابلے میں نسبتاً مختلف نوعیت کے سمجھے جاتے ہیں، اس لیے پارٹی کھلی مزاحمت کے بجائے ’’ مشروط حمایت‘‘ یا ’’ آئینی اتفاق رائے‘‘ کی بات کر سکتی ہے۔ مگر یہاں اصل سوال میاں محمد نواز شریف کے سیاسی فلسفے کا ہے جو ہمیشہ ووٹ کو عزت دو، پارلیمانی بالادستی اور صوبائی خودمختاری کے گرد گھومتا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میثاقِ جمہوریت کی روح کو سامنے رکھا جائے تو مسلم لیگ نون کے لیے اس منصوبے کی غیر مشروط تائید سیاسی طور پر آسان نہیں ہو گی۔ نواز شریف منجھے ہوئے سیاست دان ہیں۔ ان کی مشروط تائید بھی ان شرائط پر ہو گی جنہیں پورا کرنا ناممکن نہیں تو انتہائی مشکل ضرور ہو گا۔
یہاں میثاقِ جمہوریت کا ذکر بھی ناگزیر ہے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف نے 2006ء میں جس میثاقِ جمہوریت پر دستخط کیے تھے اس کی بنیادی روح یہ تھی کہ ملک میں بار بار کے غیر جمہوری تجربات، مرکزیت پسند سوچ اور آئینی مداخلتوں کا راستہ روکا جائے۔ اسی میثاق کی بنیاد پر بعد ازاں اٹھارہویں ترمیم سامنے آئی جس نے صوبائی خودمختاری کو مضبوط کیا۔ اگر آج ایک مرتبہ پھر مرکز کو مضبوط بنانے کے نام پر صوبائی اختیارات محدود کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو یہ دراصل میثاقِ جمہوریت کی روح سے انحراف تصور ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی حلقوں میں یہ سوال شدت سے اٹھے گا کہ کیا وہی جماعتیں، جنہوں نے صوبائی خودمختاری کے لیے جدوجہد کی، اب اس کے برعکس کسی نئے انتظامی تجربے کی حمایت کر سکیں گی؟
دیگر سیاسی اور قوم پرست جماعتوں کا ردعمل بھی غالباً سخت ہو گا۔ سندھ کی قوم پرست جماعتیں کراچی کو وفاق کے سپرد کرنے کے تصور کو ’’ سندھ تقسیم منصوبہ‘‘ قرار دے سکتی ہیں۔ بلوچستان میں قوم پرست حلقے گوادر کو وفاقی انتظام میں دینے کی مخالفت کریں گے کیونکہ وہاں پہلے ہی احساس محرومی موجود ہے۔ حالانکہ وفاق کا یہ دعویٰ ہے کہ گوادر کو چونکہ اس نے خریدا ہے لہٰذا یہ وفاق کا حصہ ہے۔ خیبر پختونخوا میں بھی یہ تاثر پیدا ہو سکتا ہے کہ انتظامی یونٹس کے نام پر تاریخی و ثقافتی شناختوں کو کمزور کیا جا رہا ہے۔ مذہبی اور علاقائی جماعتیں بھی اسے ایک نئے ’’ ون یونٹ‘‘ کی شکل قرار دے سکتی ہیں۔
اگر اس منصوبے کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا جائے تو اس کے دو رخ سامنے آتے ہیں۔ ایک رائے یہ ہے کہ چھوٹے انتظامی یونٹس گورننس کو بہتر بنا سکتے ہیں، وسائل نچلی سطح تک منتقل ہو سکتے ہیں، بیوروکریسی زیادہ فعال ہو سکتی ہے اور مقامی ترقیاتی منصوبوں میں رفتار آ سکتی ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں انتظامی اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی نے مثبت نتائج دئیے ہیں۔ مگر پاکستان کا مسئلہ صرف انتظامی نہیں بلکہ سیاسی، لسانی، تاریخی اور وفاقی نوعیت کا بھی ہے۔ یہاں ہر انتظامی تبدیلی کو طاقت کی نئی تقسیم کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی نئے انتظامی ماڈل کو صرف گورننس کے پیمانے پر نہیں پرکھا جا سکتا۔ یہاں تو محض سیاسی مفادات کی خاطر کالا باغ ڈیم جیسے اہم ملکی مفاد کے منصوبے کو متنازعہ بنا کر کامیاب نہیں ہونے دیا گیا۔
صوبوں کی انتظامی تقسیم کا منصوبہ ماضی میں کامیاب کیوں نہ ہو سکا؟ اس کی سب سے بڑی وجہ سیاسی مزاحمت، صوبائی مفادات اور وفاقی عدم اعتماد تھا۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں سیاسی جواز کی کمی تھی جبکہ مشرف دور میں ضلعی نظام اگرچہ متعارف کرایا گیا مگر اسے سیاسی جماعتوں کی مکمل حمایت حاصل نہ ہو سکی۔ چودھری برادران اور دیگر سیاسی قوتوں نے پنجاب کی طاقت تقسیم ہونے کے خدشے کے باعث اس منصوبے کی راہ میں رکاوٹ ڈالی۔ بعد ازاں اٹھارہویں ترمیم نے صوبوں کو مزید مضبوط بنا دیا اور مرکز کے لیے اختیارات واپس لینا تقریباً ناممکن ہو گیا۔
اصل سوال یہ ہے کہ آج دوبارہ اس منصوبے کی ضرورت کیوں محسوس کی جا رہی ہے؟ بظاہر اس کے پس پردہ دو بڑی خواہشات کارفرما دکھائی دیتی ہیں۔ پہلی یہ کہ مرکز ایک مرتبہ پھر مضبوط اور بااختیار ہو تاکہ قومی سطح کے فیصلوں پر صوبائی مزاحمت کم ہو سکے۔ دوسری یہ کہ بڑے صوبوں خصوصاً سندھ اور پنجاب کی سیاسی مرکزیت کو محدود کیا جائے تاکہ طاقت نسبتاً چھوٹی اکائیوں میں تقسیم ہو سکے۔ بعض حلقے اسے سکیورٹی، معاشی منصوبہ بندی اور وسائل کی مرکزی نگرانی کے تناظر میں بھی دیکھتے ہیں، خصوصاً کراچی اور گوادر جیسے اسٹریٹجک شہروں کے حوالے سے یہ سوچ موجود ہے۔
تاہم زمینی حقیقت یہی ہے کہ پاکستان اس وقت شدید سیاسی تقسیم، معاشی دبائو اور آئینی کشمکش کے دور سے گزر رہا ہے۔ ایسے ماحول میں اتنی بڑی انتظامی اور آئینی تبدیلی کے لیے نہ صرف پارلیمانی اتفاق رائے درکار ہو گا بلکہ عوامی قبولیت بھی ضروری ہو گی۔ صرف طاقت یا انتظامی جواز کی بنیاد پر اس نوعیت کے فیصلے دیرپا کامیابی حاصل نہیں کر سکتے۔ البتہ اس سے انتشار پیدا ہونے کے امکانات موجود ہیں۔ پاکستان کی تاریخ یہ سبق دیتی ہے کہ وفاق کو مضبوط کرنے کا راستہ صوبوں کو کمزور کرنے سے نہیں بلکہ اعتماد، آئینی توازن اور سیاسی ہم آہنگی سے گزرتا ہے۔ اس لیے غالب امکان یہی ہے کہ اگر یہ منصوبہ واقعی زیر غور ہے تو اسے شدید سیاسی مزاحمت، آئینی رکاوٹوں اور صوبائی ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ گزشتہ چالیس برس سے یہ منصوبہ بار بار زیر بحث آنے کے باوجود عملی شکل اختیار نہیں کر سکا۔ مستقبل میں بھی اس کی کامیابی کا انحصار صرف انتظامی منطق پر نہیں بلکہ اس بات پر ہو گا کہ کیا ریاست سیاسی قوتوں کو اعتماد میں لے کر ایک متفقہ قومی بیانیہ تشکیل دے سکتی ہے یا نہیں۔ بصورت دیگر یہ منصوبہ بھی پاکستان کی سیاسی تاریخ کے بے شمار تجربات کی طرح فائلوں اور مباحثوں تک محدود رہ سکتا ہے۔

جواب دیں

Back to top button