Column

قومی بچت بھی خطے کے ممالک سے کم

تھرڈ امپائر
قومی بچت بھی خطے کے ممالک سے کم
تحریر: محمد ناصر شریف
قومی بچت کسی بھی ملک کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ لوگ اپنی آمدنی کا ایک حصہ محفوظ رکھیں اور غیر ضروری اخراجات سے بچتے ہوئے مستقبل کے لیے رقم جمع کریں۔ قومی بچت نہ صرف افراد کے لیے فائدہ مند ہوتی ہے بلکہ پورے ملک کی معیشت کو بھی مضبوط بناتی ہے۔ کسی بھی ملک کی ترقی کا انحصار اس کی معیشت پر ہوتا ہے، اور مضبوط معیشت کے لیے سرمایہ ضروری ہے۔ جب لوگ اپنی رقوم قومی بچت اسکیموں، بینکوں یا دیگر مالی اداروں میں جمع کرواتے ہیں تو حکومت ان وسائل کو ترقیاتی منصوبوں، صنعتوں، تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے استعمال کرتی ہے۔ اس طرح قومی بچت ملک کی اقتصادی ترقی میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ پاکستان میں قومی بچت کے فروغ کے لیے مختلف اسکیمیں متعارف کرائی گئی ہیں، جن میں سیونگ سرٹیفکیٹس، بہبود اسکیمیں اور دیگر سرمایہ کاری کے ذرائع شامل ہیں۔ ان اسکیموں کا مقصد عوام کو بچت کی ترغیب دینا اور ان کے مستقبل کو محفوظ بنانا ہے۔ قومی بچت افراد کو مالی مشکلات سے نمٹنے میں بھی مدد دیتی ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی آمدنی کا کچھ حصہ باقاعدگی سے بچائے تو وہ مشکل وقت میں دوسروں کا محتاج نہیں بنتا۔ اس کے علاوہ بچت سے انسان میں ذمہ داری، نظم و ضبط اور مستقبل کی منصوبہ بندی کی عادت پیدا ہوتی ہے۔ آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ قومی بچت ایک مضبوط، خوشحال اور ترقی یافتہ ملک کی بنیاد ہے۔
اب آتے ہیں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس کی پاکستان کی مقامی بچت سے متعلق پالیسی رپورٹ پر جس کے مطابق پاکستان میں مجموعی قومی بچت 1992ء میں جی ڈی پی کے 17.4فیصد سے کم ہو کر 2024ء میں صرف 6.4فیصد رہ گئی ہے، جو خطے کے تمام ممالک کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے، جبکہ گزشتہ 3برسوں کی پاکستان کی اوسط قومی بچت جی ڈی پی کا صرف 10.9فیصد ہے جبکہ اسی عرصے میں بنگلہ دیش نے 21فیصد، بھارت نے 28فیصد سے زائد اور ویتنام نے 30فیصد جی ڈی پی کے برابر بچت کی ۔ گزشتہ تین عشروں کے دوران بیرونی ادائیگیوں کے توازن کے بحران اور آئی ایم ایف پروگرام کے پیچھے ایک ہی بنیادی خرابی کارفرما رہی ہے، ایک ایسا ملک جس نے بتدریج بچت کرنا چھوڑ دی اور اب اپنے مستقبل کی مالی ضروریات بیرونی قرضوں کے ذریعے پوری کرنے پر مجبور ہے، رپورٹ کے مطابق قومی آمدنی کا 93.6فیصد حصہ صرف کھپت پر خرچ ہو رہا ہے، جبکہ افراطِ زر اکثر بینکوں کی جمع شدہ رقوم پر ملنے والے منافع سے زیادہ رہی ہے، جس کے باعث رسمی بچت ایک یقینی مالی نقصان بن چکی ہے، اس صورتحال میں گھرانے نقد رقم جمع کرنے، سونا خریدنے اور جائیداد میں سرمایہ کاری کو ترجیح دیتے ہیں، جو نہ تو صنعتوں کے قیام میں مدد دیتے ہیں اور نہ ہی روزگار پیدا کرتے ہیں، یہ خالصتاً منفی بچت کی حیثیت اختیار کر چکی ۔ وفاقی حکومت نے مالی سال 2026۔27کے لیے قومی بچت کا ہدف مجموعی ملکی پیداوار ( جی ڈی پی) کے 14.3فیصد مقرر کیا ہے جب کہ سرمایہ کاری کے 15فیصد تک پہنچنے کی پیش گوئی کی گئی جو بچت اور سرمایہ کاری کے درمیان فرق میں کمی کی نشاندہی کرتی ہے جسے محدود بیرونی مالیاتی آمدن سے پورا کیا جائے گا۔
قومی بچت کسی بھی ملک کی معاشی ترقی اور استحکام کی بنیاد سمجھی جاتی ہے۔ جب ایک قوم اپنی آمدنی کا ایک حصہ بچاتی ہے تو وہ سرمایہ ملک کی ترقی، صنعتی منصوبوں، کاروبار، تعلیم، صحت اور دیگر اہم شعبوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن اگر قومی بچت کی شرح کم ہو جائے تو اس کے سنگین اثرات نہ صرف معیشت بلکہ عام شہریوں کی زندگی پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ قومی بچت میں کمی کسی بھی ملک کے لیے معاشی کمزوری اور عدم استحکام کا باعث بن سکتی ہے۔
قومی بچت کم ہونے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ ملک میں سرمایہ کاری کے مواقع محدود ہو جاتے ہیں۔ جب لوگوں کے پاس بچت کم ہو اور مالی اداروں میں سرمایہ جمع نہ ہو تو صنعتوں، کاروبار اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے مطلوبہ سرمایہ دستیاب نہیں رہتا۔ اس سے نئے کاروبار قائم ہونے کی رفتار سست ہو جاتی ہے اور صنعتی ترقی متاثر ہوتی ہے۔ نتیجتاً معیشت کی ترقی کی رفتار کم ہونے لگتی ہے۔
قومی بچت میں کمی حکومت کو بیرونی قرضوں پر زیادہ انحصار کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ جب ملک کے اندر سرمایہ کم ہو تو حکومت ترقیاتی منصوبوں، بنیادی سہولیات اور مالی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے دوسرے ممالک یا عالمی مالیاتی اداروں سے قرض لیتی ہے۔ اس سے نہ صرف قومی قرضوں میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ سود کی ادائیگی کا بوجھ بھی بڑھ جاتا ہے، جس کا اثر براہِ راست عوام پر پڑتا ہے۔
اس کے علاوہ، قومی بچت کم ہونے سے بے روزگاری میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ چونکہ سرمایہ کاری کم ہوتی ہے، اس لیے نئی صنعتیں اور کاروباری ادارے قائم نہیں ہو پاتے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ روزگار کے مواقع محدود ہو جاتے ہیں اور نوجوانوں کو ملازمتیں حاصل کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ بے روزگاری غربت، جرائم اور سماجی مسائل کو بھی جنم دے سکتی ہے۔
قومی بچت میں کمی مہنگائی کے مسائل کو بھی بڑھا سکتی ہے۔ جب ملک کی معیشت کمزور ہو اور پیداوار متاثر ہو تو اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھنے لگتی ہیں۔ عوام کی قوتِ خرید کم ہو جاتی ہے اور متوسط اور غریب طبقہ شدید مالی مشکلات کا شکار ہو جاتا ہے۔
مزید یہ کہ قومی بچت کم ہونے کی صورت میں حکومت کے پاس ہنگامی حالات، قدرتی آفات یا معاشی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے مناسب وسائل موجود نہیں ہوتے۔ ایسے حالات میں ملک کو فوری امداد یا قرضوں کی ضرورت پیش آتی ہے، جس سے معاشی خودمختاری متاثر ہوسکتی ہے۔
قومی بچت میں کمی ایک اور اہم نقصان یہ پہنچاتی ہے کہ ملک بیرونی سرمایہ کاری پر حد سے زیادہ انحصار کرنے لگتا ہے۔ اگر بیرونی سرمایہ کار کسی وجہ سے سرمایہ واپس لے جائیں تو معیشت شدید بحران کا شکار ہوسکتی ہے۔ اس لیے مضبوط قومی بچت کسی بھی ملک کی خود انحصاری کے لیے بے حد ضروری ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ قومی بچت میں کمی کسی بھی قوم کی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن سکتی ہے۔ یہ معاشی ترقی کو سست، بے روزگاری کو زیادہ، مہنگائی کو شدید اور قرضوں کو بڑھا دیتی ہے۔ اس لیے حکومت اور عوام دونوں کی ذمہ داری ہے کہ بچت کی رجحان کو فروغ دیں، فضول خرچی سے بچیں اور قومی معیشت کو مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کریں، کیونکہ مضبوط قومی بچت ہی ایک خوشحال اور مستحکم ملک کی ضمانت ہے۔
اب یہ سوال ہوتا ہے ملکی معاشی صورتحال ، مہنگائی اور بے روزگاری کیدور میں بچت کی جائے تو کیسے کی جائے، بجلی و گیس کے بل، لوڈشیڈنگ کی وجہ سے متبادل ایندھن کے حصول جو کہ اضافی بوجھ ہوتا ہے۔ ایران اسرائیل جنگ کی وجہ سے پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ اور اس کے بعد اشیائے ضروریہ کی ہر چیز کا مہنگا ہونا ، ملک کا متوسط طبقہ مٹ چکا ہے اب یا تو اس ملک میں امیر ہیں یا پھر غریب۔ حکمرانوں کے غیر دانشمندانہ فیصلوں کی وجہ سے ٹیکسوں کا بوجھ ایک ہی طبقے پر منتقل کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے قومی بچت میں اضافہ نہ ہونے سے ایک نیا بحران جنم لے سکتا ہے۔
لہذا موجودہ صورت حال میں ضروری ہے کہ حکومت قومی بچت اسکیموں میں بعض اصلاحات متعارف کروائے اور عوام کو اس جانب سرمایہ کاری کیلئے راغب کرنے کی غرض سے منافع میں اضافے کی حکمت عملی کے ساتھ ساتھ شہریوں کو قومی بچت کے فوائد سے وقتاً فوقتاً آگاہ کرتی رہے، تاکہ عوام الناس قومی ترقی میں اپنا بہتر کردار ادا کرنے کے قابل ہوسکیں، ورنہ گلوبل ولیج کی مثل موجودہ دنیا کے کسی دوسرے حصے میں ہونے والے مسائل سے محفوظ رہنا اور آمدن و اخراجات میں عدم توازن عوامی معیشت کیلئے بڑے نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔

جواب دیں

Back to top button