Column

برطانوی قانون، سکھوں کی کرپان اور امریکی نائب صدر کی تنقید

برطانوی قانون، سکھوں کی کرپان اور امریکی نائب صدر کی تنقید
نذیر احمد سندھو
برطانیہ میں مذہبی شعارات کو اہمیت دی گئی اور قانونی تحفظ دیا گیا مگر مختلف مذاہب کے ماننے والوں نے مذہبی شعارات کو جرائم کی اوٹ کے طور بھی استعمال کیا۔ اور اس میں کسی بھی مذہب کو استثنیٰ نہیں۔ پچھلے سال برطانیہ میں ایک رونگٹے کھڑے کر دینے ولا واقعہ ہوا جس پر امریکی صدر جے ڈی وینس نے بھی تنقید کی۔ برطانیہ کے وزراء نے کہا گو واقعہ اندوہناک ہے مگر کسی بھی ملک کو یہ حق حاصل نہیں وہ ہمیں تہذیب اور قانون سکھائے، جے ڈی وینس کی تنقید ہماری اندرونی معاملات میں مداخلت ہے ہمارا معاشرہ جمہوری ہے اور قانونی تقاضوں کے مطابق ہر قسم کے ایشوز حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ہمیں کسی کے مشورے کی ضرورت نہیں۔جے ڈی وینس نے کہا مقتول نو واک کی موت اس طرح ہوئی تھی جیسے ایک تہذیب مرتی ہے۔ ٹرمپ ایرانیوں کو کہہ رہا اگر معاملات ہماری مرضی سے سیٹل نہ ہوئے تو اتنا شدید حملہ کریں گے یہ ایک صدیوں پرانی تہذیب کی موت ہو گی۔ جے ڈی وینس نے کہا نو واک کے قتل کی وجہ مہاجرین کی یلغار اور مقامی برطانوی عوام کا احتجاج تھا۔ نائب صدر کو تہذیبوں کی بڑی فکر اور صدر ٹرمپ تہذیبوں کو مٹانے کی بات کرتے ہیں۔ دونوں مل کر ایک نقطے پر تو متفق ہو جائیں ، تہذیبوں کو مٹانا ہے یا بچانا ہے۔ منگل کو سائوتھمپٹن برطانیہ میں مظاہرے اس وقت پُر تشدد ہو گئے جب 18سالہ نوجوان نو واک کے قتل کے واقعہ کی باڈی کیم فوٹیج سامنے آئی، یہ فوٹیج قاتل وکرم کو21سال سزا کے ساتھ سامنے آئی جس پر مقامی گوروں نے سخت احتجاج کیا۔3دسمبر2025ء کی رات نوجوان طالب علم ہنری نو واک سائوتھمپٹن شہر میں رات دوستوں کے ساتھ وقت گزارنے کے بعدتنہا پیدل گھر جا رہا تھا کہ راستے میں 23سالہ سکھ نوجوان وکرم ڈگوانے نو واک کو چاقو کے وار کرکے قتل کر دیا اور پولیس کو جھوٹا بیان دیا وہ نسل پرستانہ حملے کا شکار بنا ہے۔ وکرم نے کپڑوں کے نیچے کرپان ( خنجر) پہنی ہوئی تھی جس کا جواز اس نے پولیس کو دیا میں سکھ ہوں کرپان ہمارے مذہب کا حصہ ہے اور برطانوی قانون ہمیں کرپان ساتھ رکھنے کی اجازت دیتا ہے مگر جس خنجر سے اس نے نو واک کو قتل کیا تھا وہ ایک اور چاقو ہے جس کا بلیڈ کرپان سے بھی بڑا ہے۔ اس سے پہلے میں برطانوی قانون اور پولیس کے ظالمانہ اور احمقانہ رویے پر بات کروں میں پہلے سکھ مذہب کے مذہبی شعائر پر لکھنا چاہوں گا۔ ہر مذہب کی طرح بابا گرو نانک کے فالورز کو بھی ابتدائی ایام میں ہندوئوں اور دیگر مذاہب سے مزاحمت، تشدد اور ظلم و ستم کا سامنا کرنا پڑا ۔ گورو نانک نے ذاتی تحفظ کے لیے اپنے فالورز سکھوں کو ان شعائر کو اپنانے کا حکم دیا۔ سر پر بڑے بال، بڑی داڑھی مونچھیں اور جسم کے کسی بھی حصے سے بال نہ منڈوانے کا حکم دیا، اپنے نام کے ساتھ سنگھ یعنی شیر لکھنے کا کہا اور ہر وقت اپنے پاس کرپان چھوٹی تلوار رکھنے کی تلقین کی اور اس طرح درج ذیل مذہبی شعائر سکھ مذہب کا لازمی حصہ بن گئے۔ کیس، کرپان، کچھا، کڑا ابتدائی طور پر پرسنل دفاع کے لیے اپنائے گئے تھے، مستقل سکھ مذہب کا لازمی جزو بن گئے۔ بڑے بالوں، بڑی داڑھی سے کمزور سکھ بھی شیر نظر آنے لگے اور کرپان کی موجودگی میں مخالفین ان سے ڈرنے لگے، جسے سکھ مذہب کا معجزہ مانا گیا اور گورو نانک کے پیروکاروں میں اضافے کا موجب بنا۔ برطانیہ سمیت جب پورے یورپ میں صنعتی دور کا آغاز ہوا تو دنیا بھر سے لوگ برطانیہ اور دیگر ممالک میں روزگار کیلیے آئے اور ساتھ اپنے اپنے مذاہب بھی لائے۔ برطانیہ سمیت سب یورپی ممالک نے تمام مذاہب کے شعائر اپنانے اور عبادت گاہیں بنانے اور تحفظ دینے کے لیے قوانین بنائے۔ سکھ مذہب کے ماننے والوں کا کرپان مذہب کا حصہ قرار دے کر سکھوں کو کرپان اپنے لباس کے اندر چھپا کر رکھنے کی اجازت دے دی، جو اب مسئلہ بنا ہوا ہے۔ قوانین بنانے والوں کو اس کا پسِ منظر جاننا اور سمجھنا چاہیے تھا اور کرپان کو مذہب کا حصہ ماننے کی بجائے ہتھیار کے طور سمجھنا چاہیے تھا۔ وکرم ڈگوا کے گھر کی جب پولیس نے تلاشی لی تو آلہ قتل سمیت اس کے گھر سے 20ہتھیار ملے ۔ اب آتے ہیں برطانوی پولیس کے احمقانہ رویے کی طرف۔ پولیس بر وقت پہنچ گئی مگر وہ قاتل کو مظلوم اور مقتول کو ملزم سمجھتی رہی۔ قاتل کو تحفظ فراہم کرتی رہی اور مقتول کو الٹا لٹا کر ہتھکڑیاں لگائیں۔ کیمرہ فوٹیج کے مطابق مقتول نو واک بتاتا رہا مجھے خنجر مارا ہے میں شدید زخمی ہوں، مجھے سانس نہیں آ رہی، مگر پولیس والے اسے غلط بیانی سمجھتے رہے، اور پولیس کو اس کے زخم نظر ہی نہیں آئے، اور نہ ہی اسے بر وقت ہسپتال پہنچایا۔ اس دوران قاتل کی والدہ بھی پہنچ گئی اور قاتل نے بڑی ہوشیاری سے خنجر والدہ کو دے دیا، جو بعد میں گھر کی تلاشی سے دیگر 20ہتھیاروں کے ساتھ برآمد ہوا۔ برطانیہ کی پولیس کی بڑی اچھی شہرت تھی، لوگ پیار سے پولیس کو بوبی کہتے ہیں، مگر یہاں پولیس کا کردار نہایت احمقانہ نظر آیا، جس کا کیمرہ فوٹیج سے اظہار ہوتا ہے۔ امکان یہی ہے پولیس سمجھی ہو مقامی گورے نوجوان نے آبادکار فیملی کے نوجوان پر حملہ کیا، جو اکثر ہوتا ہے، کیونکہ بے روزگاری ہے اور گورے مقامی آبادکاروں اور ان کی نسل، جو یہیں پیدا ہوئی، سب کو گوروں کے وسائل پر ناجائز حصہ دار مانتے ہیں، اور انہیں اپنے اپنے ممالک واپس جانے کا مطالبہ کرتے ہیں، مگر پھر بھی پولیس کو ایک تجربہ کار سیکیورٹی کا کردار ادا کرنا چاہیے تھا، اور مقتول کی بات پر رحمانہ توجہ دینی چاہیے تھی، بر وقت ہسپتال پہنچانا چاہیے تھا اور زندگی بچانے کی کوشش کرنی چاہیے تھی۔ قاتل وکرم ڈگوا کو 21سال سزا ہوئی، بیٹے کا خنجر چھپانے کے جرم میں والدہ کو سزا ہو نا باقی ہے۔ سزا چونکہ دن رات گنی جاتی ہے، کچھ چھٹیاں وغیرہ بھی شامل کرکے وکرم 10سال بعد جیل سے باہر ہو گا۔33سال کا وکرم ممکن ہے جیل سے باہر آ کر کرپان کو کسی اور طریقے استعمال کرے، مگر نو واک کی زندگی ہمیشہ کیلئے ختم، جبکہ مقتول اور قاتل کی کوئی شناسائی نہیں تھی، نہ ہی دشمنی، اور نہ ہی قتل کی وجہ۔ یورپ نے سزائے موت ختم کرکے اچھا نہیں کیا، قاتل کو سزائے موت ملنی چاہیے۔ وکرم کو سزا کے بعد اٹارنی نے میڈیا کو بتایا نو واک کی میڈیکل رپورٹ کے مطابق نو واک کا زخم بہت گہرا تھا، پولیس جتنی بھی کوشش کرتی نو واک کو بچایا نہیں جا سکتا تھا۔ یہ اٹارنی کی پولیس گردی ہے، اور پولیس کی ناجائز حمایت ہے۔ میں پھر کہوں گا وکرم کو سزائے موت ہونی چاہیے تھی، اور کرپان کو مذہب کا حصہ نہیں، ایک ہتھیار کے طور دیکھنا چاہیے۔

جواب دیں

Back to top button