مجسٹریسی نظام کی بحالی وقت کی اشد ضرورت

مجسٹریسی نظام کی بحالی وقت کی اشد ضرورت
ضیاء الحق سرحدی
موجودہ وقت میں مجسٹریسی نظام کی غیر فعالیت سے جہاں ذخیرہ اندوزوں، تجاوزات اور مہنگائی مافیا کو کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔ وہیں انتظامیہ بھی پرائس کنٹرول کرنے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔ جب انگریز ہندوستان پر قابض ہوئے تو ایک ایسے سسٹم کی ضرورت محسوس کی گئی کہ مٹھی بھر افسران کے ذریعے پورے برصغیر کو آسانی و کامیابی کے ساتھ کنٹرول کیا جاسکے جس کی روشنی میں ایگزیکٹیو مجسٹریسی نظام رائج کیا گیا، اس نظام میں بہت سی خامیاں ضرور ہوں گی لیکن عشروں کی آزمائشوں نے اسے آزمودہ نظام بنا دیا۔ کہا جاتا ہے کہ صوبے کی سطح پر اگر ایگزیکٹیو مجسٹریسی کا نظام بحال کیا جائے تو گرانفروشی، ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کی صورتحال میں بہت حد تک بہتر آسکتی ہے۔ مجسٹریٹس کا کام صرف قیمتیں چیک کرنا نہیں ہوتا بلکہ یہ گڈ گورننس اور حکومت کی کارکردگی کو عوامی سطح تک پہنچانے میں ایک اہم پل کا کردار ادا کر سکے گا۔ موجودہ دور میں جہاں ملک میں ایک طرف پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے شہریوں کا جینا دوبھر ہوگیا ہے، وہیں مصنوعی طریقے سے پیدا کی گئی مہنگائی کو اگر قانون کے دائرے میں رہ کر حل کرنے کا سوچا جارہا ہے تو مجسٹریٹی نظام اس کیلئے بہت ضروری ہے۔ تاہم راتوں رات مجسٹریٹ سسٹم بحال کرنے سے بہتری کے عناصر نظر نہیں آئینگے، کیونکہ اس سسٹم کے خاتمہ سے کافی مسائل پیدا ہوئی جبکہ ڈی سی کا کردار بہت مضبوط تھا وہ نہ صرف ایک منتظم ہوا کرتا تھا بلکہ ریونیو کلیکٹر کے فرائض بھی انجام دیا کرتا تھا پھر بحیثیت ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اس کے پاس انتظامی اختیارات بھی ہوا کرتے تھے یوں امن و امان کنٹرول کرنا اس کی ذمہ داری ہوتی تھی۔
موجودہ دور میں امن و امان کی صورتحال کی بہتری شہری مسائل کے حل کیلئے اب مجسٹریسی نظام کو بحال کرنا ضروری ہے ڈی سی کو بااختیار بنانا ضروری ہے اس سے بے لگام پولیس بھی قابو میں آجائے گی۔ گورننس کنٹرول کرنے کیلئے بھی مجسٹریسی رول انتہائی ضروری ہے اگر مجسٹریٹس کے پاس عدالتی اختیارات تھے تو آئین اور قانون کے مطابق ہی تھے۔ مجسٹریل سسٹم کی بدولت اوور سائٹ کا نظام موجود تھا جب یہ نظام ختم ہوا تو گورننس خراب ہوتی چلی گئی۔ ظاہر ہے کہ جب قانون اور طاقت کا استعمال ٹھیک طریقہ سے نہ ہو تو گورننس خراب ہوتی جاتی ہے۔ چنانچہ آج مجسٹریٹس کا ہونا ضروری ہے، گورننس کی مضبوطی کیلئے یہ نظام ہونا چاہئے۔ سابقہ ادوار میں جب مجسٹریسی نظام نافذ العمل تھا تو اس کے دو بڑے فائدے تھے۔ یہ نظام جہاں ایک جانب تو مجسٹریٹ عدالتوں میں بیٹھ کر فیصلے کیا کرتے تھے تو وہی دوسری جانب انتظامی معاملات میں بھی اہم کردار ادا کیا کرتے تھے۔ جہاں جہاں کارروائی کے دوران امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوتا تو پولیس مجسٹریٹ کے ساتھ ساتھ رہتی اور پولیس اس کی ہدایات پر عملدرآمد کی پابند ہوا کرتی تھی۔ یہ نظام ایک پورے ضلعی نظام کو واضح کیا کرتا تھا جبکہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ہوتے تھے پھر سی آر پی کے تحت تھانہ مجسٹریٹ تھے، یہ افسر عدالتی اختیارات کے معاملہ میں ہائیکورٹ کو جواب دہ تھے، جبکہ انتظامی اختیارات کے معاملہ میں ڈپٹی کمشنر کے سامنے پابند تھے۔ ڈپٹی کمشنر پھر بھی ان سے پوچھ گچھ کر سکتا تھا۔
پاکستان کی اگر موجودہ صورتحال دیکھی جائے تو اگر اس کو فوری بحال کیا جائے تو اس سے موجودہ نظام میں کچھ نہ کچھ بہتری آسکتی ہے۔ آج اگر بدامنی کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل کرنا مقصود ہے تو سب سے پہلے نچلی سطح پر حکومتی عملداری کی بحالی ضروری ہے اور اس کیلئے مجسٹریسی نظام کو اب بحال کرنا ہی پڑے گا۔ لہٰذا مجسٹریسی نظام کی بحالی ضروری ہے تاہم شرط یہ ہے کہ پھر متعلقہ افسران کو ضروری اختیارات بھی دیئے جائیں، بصورت دیگر بے اختیار افسران سے بہتری کی امید رکھنا غلط ہوگا ۔ اس وقت وطن عزیز میں مہنگائی کے طوفان نے عام آدمی سے لے کر تنخواہ دار اور سفید پوش طبقے کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ سبزیاں، پھل اور مرغی بھی عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو گئی۔ پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی نے غریب آدمی کے لیے جسم و جاں کا رشتہ قائم رکھنا مشکل بنا دیا ہے۔
پاکستان میں مہنگائی میں اضافے کی ایک وجہ پٹرولیم مصنوعات کی بلند ترین قیمتیں ہیں، جس کا براہِ راست اثر نقل و حمل اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔ دوسرا بجلی کا نظام ہے، غریب بجلی کے بل ادا کرتے ہیں تو ان کے پاس کھانے کے لیے پیسے نہیں بچتے۔ تیسری بات حکومت کی ڈنگ ٹپائو پالیسیاں ہیں۔ مہنگائی کے ایشو پر جہاں وفاق ذمہ دار ہے وہاں صوبے بھی اپنی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتے، خصوصا روزمرہ استعمال کی اشیا کے نرخوں کو مستحکم رکھنا، تھوک مارکیٹوں وغیرہ کو ریگولرائز اور وہاں نگرانی کرنا اور فول پروف میکنزم بنانا صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے اور اس کے پاس اختیار بھی موجود ہیں، سبزی اور پھل منڈیوں، سلاٹر ہائوسز، مویشی منڈیوں، کولڈ سٹورز وغیرہ سب کا انتظام و انصرام صوبائی حکومتوں کا دائرہِ اختیار ہے۔ صوبوں میں پرائس کنٹرول کمیٹیاں بھی موجود ہیں لیکن اس کے باوجود ہر طرف بدنظمی اور لاقانونیت کا دور دورہ ہے، جس کی تمام تر ذمہ داری صوبائی حکومتوں اور ضلعی انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے۔ ضلعی انتظامیہ متعین کردہ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کے سلسلے میں روزانہ نرخ نامہ جاری کرتی ہیں لیکن اس پر عمل درآمد کرانے میں عملا بری طرح ناکام ثابت ہوتی ہیں۔ اگر کوئی شہری سرکاری نرخ نامے کے مطابق دام ادا کرنے کی ضد کرے تو اسے بھی انتہائی بدتمیزی کے ساتھ جواب ملتا ہے کہ وہیں سے خریداری کر لیں جہاں سے نرخ نامہ جاری کیا گیا ہے، یہ مسئلہ آج کا نہیں لوٹ مار اور ناجائز منافع خوری، ذخیرہ اندوزی کا یہ سلسلہ ہر دور میں جاری رہا ہے۔ پاکستان میں مہنگائی کی ایک اور بڑی وجہ کارٹلائزیشن ہے۔ مختلف کمپنیوں کا اپنا اپنا کارٹل ہے اور یہی کارٹل اپنی اشیا کی ایجنسی اور ریٹیل پرائس طے کرتے ہیں، اس ضمن میں حکومت محض تماشائی ہے، یہ کارٹلز اتنے طاقت ور ہیں کہ قوانین بھی مرضی کے بنوانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ ان کی ناجائز منافع خوری کو بھی قانونی تحفظ حاصل ہے جبکہ صارف بے بس اور مجبور ہے، ریاست اس کے حقوق کا تحفظ کرنے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار نہیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں عوام کو ریلیف فراہم کرنے اور عام آدمی کا معیارِ زندگی بلند کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے کے بجائے نعروں کے ذریعے عوام کی حالتِ زار میں نمایاں تبدیلی رونما ہونے، غربت اور بے روزگاری کو ختم کرنے کی طفل تسلیوں کا جو اہتمام کر رہی ہیں اس سے صورتِ حال میں بہتری کی کوئی امید نہیں، ان کا فرض ہے کہ وہ بنیادی ضرورت کی اشیا کی قیمتوں کو کم سے کم سطح پر رکھنے کے لیے تمام تر ممکنہ اقدامات کریں۔ عام آدمی کو بس اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے دو وقت کی روٹی کی ضرورت ہے جو اسے میسر نہیں، اگر یہی حالات رہے تو وہ وقت دور نہیں جب پورا مڈل کلاس طبقہ غریب طبقے کی فہرست میں شامل ہو جائے گا۔





