سانجھ اور بانجھ

سانجھ اور بانجھ
محمد ناصر اقبال خان
کیا ہمارا ریاستی نظام واقعی ناکام یا ناکام سے زیادہ بدنام ہے، کیا یہ بوسیدہ اور سربریدہ نظام اس قدر نحیف و ناتواں ہے جو ایک فرد واحد کے چند فقروں سے زمین بوس ہوجائے گا۔ نظام کے ناکام ہونے میں تو کوئی ابہام نہیں تاہم نیت اور صلاحیت دونوں سے محروم نظام برداروں کی ہوشربا مراعات ، تعیشات اور ناقص ترجیحات کے بھاری بوجھ نے بھی اس کی ناکامی اور بدنامی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اگر حکمران بلدیاتی نظام کی وساطت سے قومی وسائل کی عوام کے ساتھ ’’ سانجھ ‘‘ کرتے تو شاید یہ ’’ بانجھ‘‘ نہ ہوتا۔ نظام کی لگام اپنے ہاتھوں میں تھام کراس کے ناکام ہونے کی دہائی دینا بلکہ اس کی رسوائی پر مہر ثبت کرنا ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ جس طرح خود اشرافیہ کا ہر اوّل دستہ ہوتے ہوئے شہباز شریف کبھی کبھار’’ اشرافیہ‘‘ پر تنقید کرتے رہے ہیں اس طرح ہمارے ریاستی نظام کے نقاد محسن نقوی کا شمار بھی اس نظام سے فیض یاب ہونیوالی اشرافیہ میں ہوتا ہے۔ آپ نے کئی بار دیکھا ہوگا، اگر کوئی جیب تراش یا چور بدقسمتی سے جائے واردات پر گرفت میں آجائے تو مشتعل ہجوم میں سے کوئی ایک مخصوص فرد اس کو زدوکوب کرتے ہوئے مقامی تھانہ کے سپرد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اسے اپنے ساتھ لے جاتا ہے، جو فرد چور کو بظاہر مارتا لیکن اسے مشعل ہجوم سے بچاتا ہے ، وہ حقیقت میں دونوں ساتھی ہوتے ہیں۔ سات دہائیوں کے دوران ہمارے ریاستی اور سیاسی نظام میں بیشتر سیاستدانوں نے اپنے ہم عصروں کو چور، غدار اور سکیورٹی رسک کہا اور ایک دوسرے کے احتساب کا دعویٰ کیا لیکن آج تک نیب نے کسی سے ایک ٹیڈی پیسہ تک برآمد نہیں کیا۔ قومی چوروں کیخلاف نیب کی مداخلت کیلئے پچاس کروڑ کرپشن کی حد مقرر کرنا مذاق کے سوا کچھ نہیں۔ ایک طرف بریڈ چور شہری یا رشوت خور سرکاری اہلکار کو تو فوری گرفتار کرلیا جاتا ہے، لیکن دوسری طرف اگر اشرافیہ کلب کا کوئی بااثر ممبر انچاس کروڑ کی کرپشن میں ملوث ہو تو نیب اسے اپنی گرفت میں نہیں لے سکتا۔ میں اپنے موضوع کی طرف واپس آتا ہوں ، اگر محض نظام ناکام ہے تو پھر محسن نقوی نے ہنوز وزارت کیوں نہیں چھوڑی، موصوف بدستور اس ناکام نظام کا حصہ کیوں ہیں۔
محسن نقوی کوایک اچھے پیغام رساں کی حیثیت سے ایوان صدر بھی آناجانا پڑتا ہے، ان کا نظام کی ناکامی بارے بیان بھی درحقیقت ایک پیغام تھا، جہاں پیغام پہنچا وہاں بے چینی اور بے یقینی تو پیدا ہوئی ہے، تاہم یہ ابہام اور اضطراب ہماری مقروض ریاست، پراگندہ سیاست اور نیم مردہ معیشت کیلئے ہرگز سودمند نہیں۔ محسن نقوی کے نظام بارے پیغام نے ملک میں کئی طرح کی افواہوں کو جنم دیا ہے۔ ہماری سیاست کے کئی رنگ ہیں، اس میں ہر بات کا دوہرا مفہوم ہوتا ہے۔ سیاست میں بسااوقات دشمن تو درکنار اپنے حامیوں یا حواریوں کے ساتھ بھی سودے بازی ، ڈیل اور ڈھیل کیلئے بیان بازی کا سہارا لیا جاتا ہے۔ ماضی میں بھی سیاسی پارٹیز کوایک دوسرے کیخلاف اپنی وفاداریاں پیش کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ مسلم لیگ ( ن) نے حکومت تو بنا لی تاہم اس دن سے اب تک شریف برادران اپنی سیاست اور ساکھ بچا نے کیلئے کئی طرح کے چیلنجز کا سامنا کرر ہے ہیں۔ وارث شاہ نے کہا تھا ،’’ وارث مان نہ کر وارثاں دا…ربّ بے وارث کر ماردا ای ‘‘۔ ہر بار یار لوگ کام نہیں آتے، یاد ہے ناں پرویز مشرف کی چھتری کے باوجود قاف لیگ بھی ہار گئی تھی۔
ہمارے ملک میں رائج نظام ناکام سے زیادہ بدنام ہوگیا ہے، جس طرح آج تک کوئی خواجہ سرا ماں یا باپ نہیں بنا اس طرح اشرافیہ کا بنایا بانجھ نظام عام عوام کو ڈیلیور نہیں کر سکتا۔ یاد رکھیں! جس نظام پر’’ آدھا تیتر آدھا بٹیر ‘‘ کا محاورہ صادق آئے وہ قیامت کی سحر تک کامیاب نہیں ہوسکتا ۔ تخت اسلام آباد کی خاطر اسلامی ریاست کو تختہ مشق بنانیوالے نام نہاد تجربہ کار’’ نورتن‘‘ ریاستی نظام سے زیادہ ناکام اور ناپسندیدہ ہیں۔ تاہم راقم کے نزدیک محض نظام کو ناکام کہنا ’’ ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا ‘‘ کے مصداق ہے۔ جس کو اقتدار ’’ پلیٹ ‘‘ میں پیش کیا جاءے وہ کایا نہیں’’ پلٹ ‘‘ سکتا۔ دھونس دھاندلی والی سرکار عوام کے ساتھ رومانس نہیں کر سکتی۔ ایک طرف ارباب اقتدار کے ساتھ ’’ ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا‘‘ کا معاملہ درپیش ہے، جبکہ دوسری طرف سوشل میڈیا پر چند کوڑیوں کیلئے باپ اپنی بیٹیوں اور شوہر اپنی بیویوں کو’’ نچا‘‘ اور قوم کو ’’ نیچا‘‘ دکھا رہے ہیں، یہ نچار شہرت کی ہوس سے دوچار ہیں، شہرت کے مرض نے انہیں خود غرض بنا دیا ہے، سو یہ لوگ اب اپنے خاندان کے ساتھ ساتھ قومی حمیت کا جنازہ اٹھانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے، جبکہ ہماری اسلامی ریاست ان عصمت فروشوں کیخلاف راست اقدام کرنے کی بجائے شہر خموشاں کی طرح خاموش بلکہ مدہوش ہے۔ پاکستان میں رائج پارلیمانی جمہوری نظام ہمارے ہمسایہ ملک سمیت دنیا کے متعدد ملکوں میں کامیاب ہے، کیونکہ وہاں کوئی’’ نظام بردار ‘‘ ریاستی’’ نظام‘‘ سے زیادہ طاقتور نہیں ہوسکتا۔ ہمارے ہاں نظام کا انتظام و انصرام کسی ’’ نظام دین‘‘ کے ہاتھوں میں ہونا اہم نہیں بلکہ ’’ نظام‘‘ میں ’’ دین‘‘ ہونا ازبس ضروری ہے۔ اگر ہمارے ملک میں دین کا نظام ہوتا تو آج نناوے فیصد سیاستدان ایوانوں کی بجائے زندانوں میں، جبکہ پی آئی اے سمیت ریاست کے منفعت بخش ادارے ناکام اور نیلام نہ ہوتے۔ دین کا نظام یعنی نظام خلافت ہماری ریاست اور سیاست میں سنجیدہ قیادت کے فقدان اور ہر سیاسی و سماجی بحران کا واحد اور یقینی حل ہے۔ دین فطرت یعنی دین رحمت میں دانائی اور نظام کی توانائی کا راز پنہاں ہے۔ جو اسلامی ریاست انتقامی سیاست میں پڑ جائے وہاں کوئی نظام دوام نہیں پا سکتا۔ تاریخ کے اوراق گواہ ہیں دنیا بھر میں آدھا تیتر آدھا بٹیر کا نمائندہ نظام ماضی میں کامیاب ہوا نہ آئندہ ہوگا۔
میں مسلم لیگ ( ن) کے مرکزی رہنما سینیٹر چودھری محمد جعفر اقبال کی پاکستان میں صدارتی نظام والی تجویز سے سو فیصد متفق ہوں، پاکستان میں نظام خلافت سے ملتا جلتا نظام صدارت آزمایا جائے۔ کیونکہ پارلیمانی جمہوریت درحقیقت مراعات اور تعیشات کا دوسرا نام ہے اور ہماری مقروض ریاست مزید اس کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتی ۔
یاد رکھیں! دنیا میں ہر وہ نظام ناکام اور بدنام ہوگا جہاں شخصی حکومت ہوگی، جہاں ون مین شو اور جہاں’’ شعور‘‘ پر’’ شور‘‘ کا ’’ ملبہ‘‘ اور’’ غلبہ‘‘ ہوگا۔ ہمارے ہاں ایک فرد واحد نے نظام کے ناکام جبکہ گڈ گورننس کیلئے بیسیوں صوبوں کا قیام ناگزیر ہونے کی بحث’’ چھیڑ ‘‘ دی ہے، لیکن نظام سے’’ چھیڑ چھاڑ‘‘ اور اس کی’’ چیر پھاڑ‘‘ کرنیوالے کرداروں اور ان کے سہولت کاروں کے بارے میں کوئی بات نہیں کر رہا۔ کبھی آپ نے سنا ہے کسی شاہراہ پر کار ایکسیڈنٹ کی صورت میں ڈرائیور کو گرفتار کرنے کی بجائے کار کو سرکاری تحویل میں لیا جائے، دنیا بھر میں ہوائی جہاز کریش ہوتے ہیں لیکن کسی ملک میں فضائی سروس کو ناکام نہیں کہا جاتا۔ یاد رکھیں! جس طرح کسی ڈرائیور کی نااہلی اور ناکامی کا ملبہ کار پر نہیں گرایا جاسکتا، اس طرح ہم پائلٹ کی غلطی یا موسم کی بے رحمی کا بوجھ جہاز پر نہیں ڈال سکتے۔ باربار ایکسیڈنٹ کی صورت میں گاڑی نہیں ڈرائیور تبدیل کیا جاتا ہے۔ پاکستان کو گڈگورننس کیلئے مزید بیسیوں ’’ صوبوں‘‘ نہیں بلکہ کرپشن فری قومی’’ منصوبوں‘‘ اور بااختیار بلدیاتی نمائندوں کی ضرورت ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں تو کوئی سگنل فری منصوبہ بھی کرپشن فری منصوبہ نہیں ہوتا۔ بیشتر ارکان قومی و صوبائی اسمبلی جو بظاہر جمہوریت کے زبردست حامی ہیں لیکن انہیں بھی اپنے اختیارات اور ترقیاتی فنڈز میں بلدیات کی صورت میں مقامی نمائندگان کی شراکت یا مسابقت برداشت نہیں۔ مقروض ملک میں مزید صوبوں کے قیام کے نام پر عوام کو ان کے بنیادی حقوق سے مزید محروم کرنا ان بے چاروں کے ساتھ زیادتی ہوگی۔ جس طرح محکمہ پولیس میں آپریشن ونگ اور انویسٹی گیشن ونگ کے باوجود عوام انصاف سے محروم ہیں، تاہم آفیسرز کی سیٹیں بڑھ جانے سے قومی معیشت پر مزید بوجھ پڑگیا ہے، اس طرح مزید بیسیوں صوبوں کے قیام سے حکمران اشرافیہ کے بچوں، بھانجوں، بھتیجوں اور ان کے حواریوں میں وزارتوں اور عہدوں کی بندر بانٹ ہوگی، جبکہ ماضی کی طرح مستقبل میں بھی عوام کو ووٹ کی پرچی پر مہر لگانے کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔
یاد رکھیں! اگر’’ منتظم‘‘ میں نیت ، اہلیت اور صلاحیت ہوگی ’’ نظام‘‘ پر عوام کا اعتماد بحال ہوجائے گا۔ میں پھر کہتا ہوں ہمیں بیسیوں صوبوں کی ضرورت نہیں، چشم تصور سے اس شوہر کو دیکھیں جو اپنی چار بیویوں اور ان میں سے گیارہ بچوں کی بنیادی اور غذائی ضروریات کیلئے بار بار سود پر قرض اٹھا رہا ہے، کیا اس مقروض کو مزید دس سے بارہ شادیاں اور بیسیوں بچے پیدا کرنے کا مشورہ دینا درست ہوگا۔ سردست تو اس بیچارے کیلئے سود کے بوجھ سے نجات کا خیال بھی بے سود ہے۔ جو بے چارہ اپنی چار بیویوں کے ساتھ انصاف نہیں کر سکتا وہ مزید بیگمات اور بیسیوں بچوں کی ضروریات اور خواہشات کس طرح پوری کرے گا۔ راقم کی ناقص رائے میں مقروض ملک کی مفلوج معیشت مجوزہ بیسیوں صوبوں کی آڑ میں بیسیوں گورنرز، وزرائے اعلیٰ، وزیروں، مشیروں سمیت سرکاری حکام کی بھاری مراعات اور ہر صوبائی منتظم اعلیٰ کیلئے گیارہ، گیارہ ارب کے جہازوں کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتی۔ پاکستان کے ریاستی نظام کے دوام اور استحکام کیلئے شخصی فرامین کی بجائے آئین کی سپر میسی یقینی بنائی جائے، اس اقدام سے یقینا جہاں گورننس بہتر ہوگی وہاں عام آدمی کا مورال اور معیار زندگی بھی بلند ہوگا۔ مجوزہ صوبوں کے قیام سے موروثیت، صوبائیت، لسانیت ، منافرت اور نفرت مزید بڑھ جائے گی۔ کسی مخصوص جماعت کی سیاست کمزور یا کنٹرول کرنے اور قومی سیاست میں نقب لگانے سے ریاست کی مضبوطی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ نئے صوبوں کے گورنرز، وزرائے اعلیٰ ، وزراء بھی یقینا پرانے گورنرز، وزرائے اعلیٰ اور وزراء کے بچے، بھانجے اور بھتیجے ہوں گے، جبکہ بیچارے عام آدمی کا اضطراب اور احساس محرومی مزید بڑھ جائے گا۔





