دھوئیں کے بغیر نشہ: پاکستان میں نکوٹین کا بڑھتا چیلنج

دھوئیں کے بغیر نشہ: پاکستان میں نکوٹین کا بڑھتا چیلنج
تحریر: بلال ظفر سولنگی
نکوٹین کا عادی بننے کے لیے اب کسی نوجوان کا سگریٹ سلگانا ضروری نہیں رہا۔ ایک چھوٹا سا نکوٹین پاچ یا جیب میں آسانی سے سما جانے والا ایک چھوٹا ویپ سگریٹ کے دھوئیں کی بو یا روایتی سگریٹ نوشی کی واضح علامات کے بغیر کسی نوجوان کو نکوٹین کی لت میں مبتلا کر سکتا ہے، والدین اور اساتذہ کے لیے یہ ایک نیا چیلنج ہے کہ جب کوئی نوجوان بظاہر سگریٹ نوشی نہیں کر رہا ہو تو اس میں نکوٹین کے استعمال کی عادت کو کیسے پہچانا جائے؟پاکستان ایک ایسے وقت میں نکوٹین کے اس نئے دور میں داخل ہو رہا ہے جب تمباکو کی صنعت روایتی سگریٹ سے آگے بڑھ رہی ہے۔ الیکٹرانک سگریٹ، ڈسپوزایبل ویپس اور نکوٹین پائوچز کو جدید، آسان اور ’’ دھوئیں سے پاک‘‘ متبادل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ لیکن دھواں ختم ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ نکوٹین کی لت بھی ختم ہو گئی ہے۔
29 جولائی 2026ء کو امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن کے ایک طبی جریدہ جامع سائیکیٹری میں شائع ہونے والی ایک حالیہ تحقیق، ویپ استعمال کرنے والے نوجوانوں میں نکوٹین کے بڑھتے ہوئے استعمال کے حوالے سے اہم تشویش سامنے لائی ہے۔ ’’ ٹرینڈز ان یورین کوٹینین امنگ ایڈولیسینٹ وہو ویپ نکوٹین ‘‘ کے عنوان سے ہونے والی اس تحقیق میں 2023 ء سے 2025ء کے دوران امریکا میں ایسے نوعمر افراد کے یورین کے نمونوں کا جائزہ لیا گیا جو نکوٹین ویپ استعمال کرتے تھے اور نشہ آور اشیا کے استعمال سے متعلق علاج حاصل کر رہے تھے۔ محققین نے خاص طور پر 2024ء کے آخر کے بعدیورین ( پیشاب) میں کوٹینین کی مقدار میں نمایاں اضافہ دیکھا۔ کوٹینین نکوٹین کے جسم میں داخل ہونے کے بعد بننے والا بنیادی مادہ ہے اور اسے جسم میں نکوٹین کی مقدار جانچنے کے لیے حیاتیاتی علامت کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
یہ تحقیق پاکستان کے لیے بھی ایک اہم سوال اٹھاتی ہے: جب نکوٹین کی زیادہ مقدار رکھنے والی نئی مصنوعات نوجوانوں کے لیے زیادہ آسانی سے دستیاب ہو رہی ہیں تو کیا ہم یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ہمارے اپنے نوجوانوں کی صحت پر کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں؟۔
حال ہی میں کراچی میں سیکنڈری اسکول کے اساتذہ کے ساتھ تمباکونوشی کی روک تھام کے حوالے سے ایک آگاہی سیشن کے دوران مجھے ایک ایسا واقعہ سننے کو ملا جس نے ظاہر کیا کہ ویپنگ کو کس قدر آسانی سے غلط سمجھا جا رہا ہے، اساتذہ نے بتایا کہ انہوں نے ایک طالب علم سے ویپ برآمد کرکے ضبط کیا اور اس کے والدین کو اطلاع دی۔ لیکن والدین نے اسے کوئی سنجیدہ مسئلہ نہیں سمجھا، ان کا کہنا تھا کہ یہ تو صرف فلیورڈ پروڈکٹ ہے اور انہوں نے اساتذہ سے اسے اپنے بچے کو واپس کرنے کا مطالبہ کیا۔
یہ بظاہر ایک معمولی ردعمل ایک بہت بڑے مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے۔ بہت سے والدین شاید یہ نہیں جانتے کہ ایک رنگین اور فلیورڈ ویپ میں نکوٹین موجود ہو سکتا ہے اور یہ نکوٹین کی لت کا باعث بن سکتا ہے۔ نوجوانوں کے لیے جو چیز محض ایک بے ضرر ذائقے کے طور پر نظر آتی ہے، وہ نکوٹین کی لت کا آغاز ہو سکتی ہے۔ اسی لیے والدین اور اساتذہ کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ فلیورڈ کا مطلب بے ضرر نہیں اور دھوئیں سے پاک ہونے کا مطلب نشے سے پاک ہونا نہیں۔
پاکستان میں نکوٹین کی مارکیٹ تبدیل ہونے کے شواہد بھی موجود ہیں۔نکوٹین اینڈ توباکو ریسرچ میں پاکستان میں تمباکو کی فروخت کی جگہوں پر نکوٹین پاچ کی موجودگی اور مارکیٹنگ کے عنوان سے مشائع ہونے والی ایک تحقیق نے پاکستان میں نکوٹین پائوچز کی دستیابی اور مارکیٹنگ کا جائزہ لیتی ہے۔ اس تحقیق میں اگست 2023ء میں چاروں صوبوں کے نو اضلاع میں تمباکو فروخت کرنے والے 711مقامات کا جائزہ لیا گیا۔ نکوٹین پائوچز 56مقامات، یعنی 7.9 فیصد، پر دستیاب پائے گئے۔ یہ مصنوعات چاروں صوبوں اور نو میں سے آٹھ اضلاع میں موجود تھیں، جبکہ شہری علاقوں میں ان کی دستیابی اور مصنوعات کی اقسام زیادہ پائی گئیں۔
تحقیق کے نتائج اس وقت مزید اہم ہو جاتے ہیں جب ان مصنوعات کی نوعیت کو دیکھا جائے۔ سروے کیے گئے مقامات پر دستیاب نکوٹین پاچز میں VELOکا حصہ قریباً 85فیصد تھا۔ محققین نے مختلف ذائقوں اور مختلف مقدار میں نکوٹین کی موجودگی والی مصنوعات کی دستیابی کی نشاندہی کرتے ہوئے خبردار کیا کہ نسبتاً کم قیمت پر ایسی مصنوعات کی دستیابی نوجوانوں، بالخصوص کم عمر افراد، کے لیے انہیں پرکشش بنا سکتی ہے۔ تحقیق میں مضبوط ضابطہ کاری اور مسلسل نگرانی کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔
یہ صورتحال عالمی تمباکو صنعت میں آنے والی ایک بڑی تبدیلی کا حصہ ہے۔ برٹش امریکن ٹوبیکو نے VELOنکوٹین پائوچز اور VUSEویپنگ مصنوعات کو اپنی اس حکمت عملی کا اہم حصہ بنایا ہے جسے وہ اسموک لیس ورلڈ یعنی دھوئیں سے پاک دنیا قرار دیتی ہے۔ اسی طرح فلپ مورس انٹرنیشنل نے بھی اسموک فری پرا ڈکٹس کو اپنی کاروباری حکمت عملی کا مرکزی حصہ بنایا ہے، جس میں ZYNنکوٹین پائوچز اور روایتی سگریٹ کے دیگر متبادل شامل ہیں۔ دونوں کمپنیاں اس تبدیلی کو بنیادی طور پر سگریٹ نوش افراد کے لیے متبادل مصنوعات کی فراہمی کے طور پر پیش کرتی ہیں۔
تمباکو انڈسٹری کی جانب سے نئی نکوٹین مصنوعات کو Harm Reductionکے طور پر پیش کرنے کے دعوے کو نکوٹین کی لت سے بچائو کے بنیادی عوامی صحت کے مقصد پر حاوی نہیں ہونے دینا چاہیے۔ ویپس اور نکوٹین پائوچز کو سگریٹ کے متبادل کے طور پر پیش کرنے سے یہ تاثر پیدا ہو سکتا ہے کہ یہ مصنوعات محفوظ یا قابلِ ترجیح انتخاب ہیں، خصوصاً ان افراد کے لیے جنہوں نے کبھی سگریٹ نوشی نہیں کی۔ تمباکو کنٹرول کے نقط نظر سے ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ نکوٹین کے استعمال کی ابتدا کو روکا جائے، نہ کہ نکوٹین کے استعمال کی نئی شکلوں کو معمول کا حصہ بنا دیا جائے۔
یہیں اس مسئلے کا انسانی پہلو مزید اہم ہو جاتا ہے، سگریٹ کے دھوئیں کی بو کپڑوں اور کمرے میں محسوس ہو سکتی ہے، جبکہ ویپ جیب میں آسانی سے چھپایا جا سکتا ہے، نکوٹین پائوچ دھوئیں، راکھ یا کسی نمایاں بو کے بغیر خاموشی سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ایسے میں والدین یہ سمجھ سکتے ہیں کہ اگر ان کا بچہ سگریٹ نہیں پیتا تو وہ نکوٹین بھی استعمال نہیں کر رہا۔ اسکولوں اور کالجوں میں اساتذہ کو بھی اسی چیلنج کا سامنا ہے۔
پاکستان کو اس بدلتی ہوئی صورتحال کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔ اسکولوں، کالجوں اور جامعات میں جامع تمباکو اور نکوٹین فری پالیسیاں نافذ کی جانی چاہئیں جن میں سگریٹ، ویپنگ مصنوعات، ہیٹڈ ٹوبیکو مصنوعات اور نکوٹین پائوچز شامل ہوں۔
اس کے ساتھ ساتھ پاکستان میں قومی سطح پر تحقیق کی فوری ضرورت ہے۔ ملک میں نوجوانوں میں ویپنگ اور نکوٹین پائوچز کے استعمال کے بارے میں اعداد و شمار جمع کیے جانے چاہئیں، جن میں یہ معلوم کیا جائے کہ نوجوان یہ مصنوعات کتنی مرتبہ استعمال کرتے ہیں، ان میں نکوٹین کی کتنی مقدار ہوتی ہے، آیا وہ انہیں سگریٹ کے ساتھ بھی استعمال کرتے ہیں اور سوشل میڈیا، انفلوئنسرز، آن لائن فروخت کنندگان اور دکانوں پر مصنوعات کی نمائش ان کے رویوں اور رجحانات کو کس طرح متاثر کرتی ہے۔
پاکستان میں تمباکو نوشی کی روک تھام کو اب صرف سگریٹ نوشی کے خلاف مہم تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے نکوٹین کی لت سے بچا کی ایک وسیع تر کوشش میں تبدیل ہونا ہوگا۔ نئی مصنوعات کے ساتھ ضابطہ کاری کو بھی تبدیل ہونا چاہیے، جبکہ آگاہی مہمات کو آج کے نوجوانوں کی زبان اور ان کے ذرائع ابلاغ کے مطابق بنایا جانا چاہیے۔ پاکستان کی عوامی صحت کا مقصد ایک ایسے مستقبل کا قیام ہونا چاہیے جہاں آنے والی نسل کسی بھی شکل میں نکوٹین پر انحصار نہ کرے۔





