Abdul Hanan Raja.Column

خوگر حمد کا گلہ، شیر ربانی کا صلہ اور مصلح امت

خوگر حمد کا گلہ، شیر ربانی کا صلہ اور مصلح امت
عبدالحنان راجہ
زمانہ تابعین کے معروف بزرگ بشر الحافی کا قول کہ ’’ ایک گروہ ہے وصال شدہ لوگوں کا، جن کے ذکر سے قلب زندہ ہو جاتے ہیں اور ایک گروہ زندہ لوگوں کا جن کی دید سے دل مردہ ہو جاتے ہیں ‘‘۔ شیر ربانی، حکیم الامت اور مصلح امت سید حسین الدین انہی خاصان حق میں شامل کہ بقول امام یوسف ہمدانی جن کے تذکرے پڑھ لینے سے غفلت و گمراہی دور اور ایمان و یقین کی دولت ہاتھ آتی ہے۔
غالبا واقعہ 1912ء کا کہ جب علامہ محمد اقبالؒ وزیر اعظم سر شفیع کی معیت میں عشق کی آگ بجھانے اور دل کی بے کلی دور کرنے شیر ربانی کے آستانے پہنچے۔ معاملہ معروف نظم شکوہ کے بعد بگڑا۔ الزام ! خوگر حمد کا اپنے مالک و مولا سے گلہ کا تھا۔ ظاہر بیں اسے بارگاہ ایزدی میں جسارت سمجھ رہے تھے تو اس پر شریعت کی گرفت لازم ، غلط شاید وہ بھی نہ تھے کہ ظاہر فتویٰ کا ہی متقاضی تھا مگر انہیں کیا معلوم کہ یہ انداز دلربائی تھا جو عبد اپنے معبود سے بصورت شکوہ کر رہا تھا۔ ایک عاشق زار جو امت محمدی کی زبوں حالی پر دل گرفتہ اور اسی لے میں خدائے لم یزل کی بارگاہ میں وہ کچھ کہہ بیٹھا جس کا یارا بڑوں بڑوں کو نہ تھا۔ نظم میں قوت بازوئے مسلم کا ذکر تو کہیں مسلمانوں کی معرکہ آرائیوں کا تذکرہ۔ غزوات اور فتوحات خیبر کا حوالہ تو کئی ہزار سال سے گرم آتش کدہ ایران کو ٹھنڈا کرنے والے مجاہدین کی بے جگری کا تذکرہ، شکوہ مین کفر کے مقابل مسلم مجاہدین کے لہو گرمانے والے حیرت انگیز واقعات کو اشعار کے قالب میں ڈھالا گیا تو کہیں بحر و بر اور فلک پوش چوٹیوں کی تسخیر کے قصے، پرچم توحید دنیا کے کونے کونے میں پہچانے کی بات تو یورپ کے کلیسائوں میں اللہ اکبر کی صدائوں کا ذکر کر کے دل ہار بیٹھے۔ تین صدیوں سے زبوں حالی، تفرقہ و انتشار اور کفر کی یلغار پر دل گرفتہ اقبال، عالم کفر پہ عنایات دیکھ کر ضبط کا دامن چھوڑ بیٹھے تھے اور دل گرفتہ بھی۔
پنجاب کے وزیر اعظم سر شفیع کے ہمراہ درویش خدا مست جسے دنیا شیر ربانی میاں شیر محمد شرقپوری کے نام سے جانتی ہے کے سامنے ہوش و خرد و قلب و نظر شکار کروانے پہنچ گئے، گویا شکاری خود شکار ہونے کو تیار، معاملہ بیان کیا تو شیر ربانی نے اپنے مخصوص پنجابی لہجے میں تاریخی الفاظ عطا کیے کہ ’’ یہی طعنہ زن آپ کی نظموں کی اپنے وعظوں میں تلاوت کریں گے‘‘۔
درویش کی نگاہ کی تاثیر تھی کہ اقبالؒ کی روح کو چین اور قلب کو سکون عطا ہوا۔ شیر ربانی کی بات کو سچ ہوتے سال نہیں چند ماہ ہی لگے۔ جواب شکوہ نے عبا و قبا جبہ و قبہ کے سب دامن چاک کیے تو ناقدین منہ چھپانے لگے۔ خوابیدہ مسلم دنیا کو اقبال نے جواب شکوہ میں اتنا جھنجھوڑا کہ ہوش و خرد ٹھکانے آنے لگے تو ہر درد دل یہی راگ گنگنانے لگا۔ جواب شکوہ ایسا مقبول ہوا کہ یہ درس گاہوں، آستانوں کا نصاب بنی تو واعظوں نے لہو گرمانے کے لیے اسے ازبر کیا۔ تنگی داماں شیر ربانی کے دیگر واقعات و کرامات کی اجازت نہیں دیتا ہاں اصلاح احوال کے لیے درویش کے چند فرمودات وارث شیر ربانی میاں جلیل احمد شرقپوری کی والدہ محترمہ کے چہلم کے موقع پر لکھے گئے اس مضمون میں بطور نصیحت پیش۔
میاں شیر محمد شرقپوری اپنے تلامذہ کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے کہ ’’ شیطان انسان کے بدن میں خون کی طرح دوڑتا ہے، اس لیے بھوک اور پیاس سے شیطان کا راستہ تنگ کرو‘‘۔ ایک موقع پر فرماتے ہیں کہ چھ آدمی 6عیوب کے باعث جہنم کا ایندھن ہوں گے۔ 1، عرب تعصب اور عداوت کے باعث۔ 2، رئیس تکبر کے سبب۔ 3، سوداگر بددیانتی کی وجہ سے۔ 4، حاکم اپنے ظلم کے باعث۔ 5، عوام اپنے جہل اور 6، عالم حسد کی وجہ سے۔
ایک شخص میاں صاحب کے پاس آیا تو پوچھا حضرت خیر ہے؟۔ آپ نے جواب دیا کہ اگر نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں ملا تو خیر پی خیر ۔ علم و معرفت اور طریقت و شریعت کے سرخیل خانوادہ کے بطل جلیل میاں جلیل شرقپوری بتا رہے تھے کہ شیر ربانی شریعت کے اتنے پابند کہ چہرے پر سنت رسول کے بغیر کسی کو پہلی صف میں اجازت نہ تھی۔ بعض مریدین چلہ کشی کی اجازت مانگتے تو فرماتے کہ اتباع سنت ہمارے لیے کافی ہے۔ پابند شریعت شہسوار طریقت درویش منش صوفی باصفا ماہ اگست میں پیر کے روز خالق حقیقی کے ہاں پیش ہو گئے۔ آپ کے شیخ بابا امیر الدین کہتے تھے کہ اگر میرے رب نے مجھ سے پوچھا کہ کیا لائے ہو تو میں شیر محمد کو پیش کر دوں گا۔
گزشتہ دنوں علم و معرفت کا ایک اور آفتاب غروب ہوا کہ جس نے علم کے نور اور عمل کی خوشبو سے ایک عالم کو منور کیا۔ علمی، روحانی اور فکری گھرانے کے چشم و چراغ جمعیت علمائے پاکستان کے سرپرست پیر سید حسین الدین شاہ جو اپنی کریمانہ، مشفقانہ اور صلح جو مزاج کے باوصف مصلح امت ٹھہرے رخصت کیا ہوئے علم و عرفاں کا چراغ گل ہوا۔ نامور محدث کہ جن کے تلامذہ ہزاروں میں، وہ گفتار کے نہیں کردار کے غازی اور اقبال کے مرد مومن کی تمام خوبیاں بدرجہ اتم ان میں موجود۔ خوش نصیبوں نے ان کی صحبت پائی اور خوش بختوں نے تحصیل علم کیا۔ ان کے برادر اصغر علامہ پیر سید ضیاء الحق شاہ سے ہماری دوسری نسل کا تعلق ایسا کہ والد گرامی مخدوم اہل سنت حاجی محمد دین کا جنازہ بھی پیر سید ضیاء الحق نے پڑھایا۔ میت کو آبائی علاقہ سلطان پور لے جاتے ہوئے جگہ جگہ وارث باب الحکمت کا استقبال ہوا۔ اس خطہ کے نامور عالم دین صاحبزادہ منیر عالم ہزاروی اپنی مادر علمی جامعہ رضویہ کے اساتذہ و طلبا کے ہمراہ تپتی دھوپ میں اپنے شیخ و استاذ علامہ پیر عبدالقادر کے مربی و ہم عصر کی میت کا استقبال کرنے موجود رہے۔ عقیدت و محبت کا سیلاب تھا کہ ایمبولینس سرخ پھولوں سے ڈھک گئی۔ ہزاروں کے اجتماع نے سید حسین الدین شاہ کو آہوں، سسکیوں اور دعائوں میں رخصت کیا۔
خدا تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
اور سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
الوداع مصلح امت الوداع۔

جواب دیں

Back to top button