ColumnQadir Khan

جب دوا بھی جنگی مال بن جائے

جب دوا بھی جنگی مال بن جائے
قادر خان یوسف زئی
تہران کی کسی گلی میں اگر آج آپ کسی فارمیسی کے باہر چند لمحے کھڑے ہو جائیں تو شاید آپ کو جنگ کا شور سنائی نہ دے، لیکن اس کے اثرات شیشیوں، پٹّیوں، نسخوں اور انتظار کرتی آنکھوں میں صاف دکھائی دیں گے۔ ایک ماں اپنے بچے کے بخار کے لیے دوا پوچھ رہی ہے، ایک بوڑھا شخص دل کی گولی کا متبادل ڈھونڈ رہا ہے، ایک مریض کینسر کے انجکشن کی قیمت سن کر خاموش ہو گیا ہے۔ باہر سے دیکھیں تو یہ صحت کا بحران لگتا ہے، مگر ذرا قریب جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ صرف طب کا نہیں، سیاست کا، معیشت کا، جنگ کا اور انسانی ضمیر کا بحران ہے۔ ایران میں آج مسئلہ صرف یہ نہیں کہ دوا کم پڑ گئی ہے، مسئلہ یہ ہے کہ انسان کی جان کو ایک بار پھر عالمی طاقتوں، علاقائی لڑائیوں اور داخلی نااہلی کے بیچ رکھ کر تولنا شروع کر دیا گیا ہے۔
ایران کے بارے میں ایک عمومی تاثر یہ رہا ہے کہ وہ پابندیوں کا عادی ہو چکا ہے، جیسے قومیں بھی انسانوں کی طرح درد سے مانوس ہو جاتی ہیں اور پھر انہیں تکلیف محسوس ہونا بند ہو جاتی ہے۔ مگر یہ مفروضہ ویسا ہی بے رحم ہے جیسے یہ کہنا کہ چونکہ کسی گھر میں برسوں سے غربت ہے، اس لیے اب بھوک مسئلہ نہیں رہی۔ حقیقت یہ ہے کہ ایران کی دوا سازی کی صنعت اپنی ضرورت کا تقریباً ستانوے فیصد حجم مقامی طور پر پیدا کرتی ہے، لیکن اس ایک جملے میں جو اطمینان پوشیدہ نظر آتا ہے، اس کے پیچھے ایک بڑا فریب چھپا ہے۔ دوا کی پیکنگ، فارمولا، کارخانہ اور لیبل اگرچہ اندرون ملک ہو سکتے ہیں، مگر خام مال، فعال کیمیکل اجزا، مخصوص مشینری اور کئی ضروری طبی سازوسامان اب بھی درآمدی زنجیر سے بندھے ہوئے ہیں۔ جب زرِ مبادلہ کم پڑ جائے، جب بیرونی لین دین پر پابندیاں لگ جائیں، جب بینکاری راستے بند ہو جائیں، تو مقامی پیداوار بھی آہستہ آہستہ ایک خوبصورت نعرہ بن جاتی ہے، قابلِ اعتماد نظام نہیں۔
یہی ایران کے ساتھ ہوا۔ اسے دو اعشاریہ دو ارب امریکی ڈالر کے قریب زرِ مبادلہ درکار تھا تاکہ دوا سازی کے لیے لازمی خام مواد اور طبی اشیا کی درآمد برقرار رہتی، اب حساب بہت سیدھا ہے۔ جب خام مال کم آئے گا تو پیداواری رفتار گرے گی، جب پیداوار گرے گی تو قلت بڑھے گی، جب قلت بڑھے گی تو قیمت اوپر جائے گی، اور جب قیمت اوپر جائے گی تو بیماری صرف جسم میں نہیں، معاشرے میں پھیلنا شروع ہو جائے گی۔ اس وقت بتایا جا رہا ہے کہ آٹھ سو کے قریب ادویات مختلف درجوں کی کمی یا عدم دستیابی کا شکار ہیں۔ یہ کوئی ایک عدد نہیں، یہ آٹھ سو دروازے ہیں جو مریضوں کے منہ پر بند ہو رہے ہیں۔
پھر اس پر جنگ کی راکھ بھی آ گری۔ فضائی حملوں نے چالیس سے زیادہ دوا ساز اور طبی کمپنیوں کو نقصان پہنچایا۔ یہ نقصان صرف عمارتوں کا نہیں ہوتا۔ ایک فیکٹری پر حملہ ہو تو ساتھ میں سپلائی چین ٹوٹتی ہے، اسٹوریج خراب ہوتا ہے، کولڈ چین متاثر ہوتی ہے، لیبارٹری ریکارڈ ضائع ہوتے ہیں، انجینئر اور ٹیکنیشن بے گھر ہوتے ہیں، اعتماد کا نظام بیٹھ جاتا ہے۔ جنگ جب اسپتال تک پہنچتی ہے تو وہ صرف اینٹ نہیں توڑتی، وہ نظامِ علاج کی ہڈی توڑ دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران میں دوا کی کمی اب محض پابندیوں یا افراطِ زر کا مسئلہ نہیں رہی، یہ ایک مرکب بحران بن چکی ہے، جس میں ہر نیا دھچکا پہلے سے زخمی جسم پر لگتا ہے۔
اور پھر ایک اور کربناک پہلو ہے جس پر کم بات ہوتی ہے۔ فارمیسیوں اور بیمہ اداروں کے درمیان واجبات کا بوجھ۔ جب بیمہ کمپنیاں ادائیگیاں وقت پر نہ کریں تو فارمیسی کس پیسے سے مہنگی دوا خریدے گی، وہ کس بنیاد پر مریض کو ادھار دے گی، وہ کس اعتماد سے اسٹاک بھروائے گی۔ ایران میں یہ قرض سینکڑوں ملین امریکی ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ بس حسابی کھاتہ گڑبڑا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دوا کی دکان ایک تجارتی یونٹ میں بدل گئی ہے جہاں انسان پہلے مریض ہوتا ہے، پھر صارف، اور آخر میں قرض کا اندراج بن جاتا ہے۔
یہ سوال یہاں لازماً اٹھتا ہے کہ آخر ذمہ دار کون ہے۔ کیا سارا الزام صرف امریکی پابندیوں پر ڈال دینا کافی ہے؟ کیا صرف اسرائیلی یا امریکی حملوں کو کوس کر تصویر مکمل ہو جاتی ہے؟ نہیں، درحقیقت ایسا بھی نہیں ہے۔ اگر صحت عامہ کو ہمیشہ قومی وقار کے نعرے کے پیچھے کھڑا رکھا جائے، اگر معیشت کو سیاسی مہم جوئی کے تابع کر دیا جائے، اگر نظام اتنا غیر شفاف ہو جائے کہ مسئلہ سامنے ہو مگر ذمہ داری دھند میں چھپی رہے، تو پھر بیرونی پابندی ایک چنگاری بنتی ہے اور اندرونی کمزوری سوکھی گھاس۔ آگ دونوں سے لگتی ہے۔
لیکن یہ سچ مان لینے سے دوسرا سچ کم نہیں ہوتا کہ پابندیوں کا اخلاقی جواز اس لمحے ٹوٹ جاتا ہے جب وہ دوا، علاج اور مریض کے بیچ آ کھڑی ہوں۔ دنیا کے طاقتور ممالک اکثر کہتے ہیں کہ ہماری پابندیاں حکومت کو نشانہ بناتی ہیں، عوام کو نہیں۔ یہ فقرہ اب اتنا دہرایا جا چکا ہے کہ اس کی سفارتی چمک تو باقی ہے، اخلاقی ساکھ نہیں۔ اگر بینکاری نظام پر ایسی قدغن ہو کہ کاغذ پر دی گئی انسانی استثنا بھی عملی طور پر ناکارہ ہو جائے، اگر کمپنیوں کو اس قدر قانونی اور مالی خوف ہو کہ وہ ادویات کی تجارت سے بھی پیچھے ہٹ جائیں، اگر ایک کینسر مریض کو صرف اس لیے دوا نہ ملے کہ عالمی نظام نے اسے ’’ رسک‘‘ قرار دے دیا ہے، تو پھر یہ کہنا کہ ہم نے عوام کو نشانہ نہیں بنایا، محض لفظی صفائی ہے۔ مریض کے گھر میں دلیل نہیں، دوا چاہیے ہوتی ہے۔
ایران کا المیہ یہ بھی ہے کہ وہاں ریاست اور معاشرہ دونوں مسلسل بقا کی نفسیات میں جی رہے ہیں۔ جب ایک ملک برسوں یہ سنتا رہے کہ وہ گھرا ہوا ہے، اس کے خلاف سازش ہے، اس پر پابندیاں ہیں، اس کے دشمن دروازے پر ہیں، تو آہستہ آہستہ ساری پالیسی ’’ ایمرجنسی موڈ‘‘ میں منتقل ہو جاتی ہے۔ اس ماحول میں ہسپتال بھی قومی بیانیے کا حصہ بن جاتا ہے، دوا بھی مزاحمت کی علامت بن جاتی ہے، اور مریض بھی ایک خاموش سپاہی سمجھا جانے لگتا ہے۔ لیکن بیمار جسم نعرے سے ٹھیک نہیں ہوتا۔ اسے انسولین چاہیے، اینٹی بایوٹک چاہیے، کیموتھراپی چاہیے، ڈائلیسس کٹ چاہیے، دل کی دوا چاہیے۔
قوم پرستی درد کم نہیں کرتی، صرف اس کی تشریح بدل دیتی ہے۔ یہاں مسئلہ صرف ایران کا بھی نہیں۔ جب دنیا کسی ملک کے ساتھ اس مقام تک پہنچ جائے کہ اس کی جغرافیائی سیاست وہاں کے بچوں کے شربت، بوڑھوں کی بلڈ پریشر گولی اور کینسر مریضوں کے انجکشن پر اثر انداز ہونے لگے، تو سمجھ لینا چاہیے کہ بین الاقوامی نظام میں کہیں نہ کہیں انسان سب سے آخری ترجیح بن چکا ہے۔ ہم نے جنگ کو جدید، پابندیوں کو مہذب، اور دبائو کو سفارتی کہہ کر اپنے ضمیر کو بہت آسانی سے مطمئن کر لیا ہے۔ حالانکہ موت اگر خاموشی سے نسخے کے کاغذ پر اترے تو وہ بھی اتنی ہی حقیقی ہوتی ہے جتنی بارود سے۔

جواب دیں

Back to top button