پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کے احتجاج کا موازنہ

پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کے احتجاج کا موازنہ
نقارہ خلق
امتیاز عاصی
ملکی تاریخ کا یہ منفرد ماہ ہے جب ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت اور جماعت اسلامی کا احتجاج ایک ہی مہینے میں ہو رہا ہے۔ جماعت اسلامی ایک منظم جماعت جبکہ پی ٹی آئی بڑی سیاسی جماعت ہونے کے باوجود منتشر جماعت ہے۔ جماعت اسلامی کا فوکس عوام کو مہنگائی سے نجات دلانا ہے، پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کا مقصد بانی پی ٹی آئی کی رہائی مقصود ہے۔ یہ بھی مسلمہ حقیقت ہے حکومت کو جماعت اسلامی کے احتجاج سے کوئی خطرہ نہیں، لیکن پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے حکومت حد درجہ خائف ہے۔ کے پی کے میں غلیلوں سے مشق کیا کرائی ہے حکومت کی دوڑیں لگ گئی ہیں۔ تاہم یہ بات کسی حد تک حکومت کے کریڈٹ میں ضرور جاتی ہے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے قبل آزاد فضائوں میں پھرنے والے پی ٹی آئی رہنمائوں کی نظر بندی کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ باجی علیمہ خان اور اسد قیصر کی نظر بندی اس بات کی عکاس ہے حکومت 27ستمبر سے پہلے پہلے پی ٹی آئی کے چیدہ چیدہ رہنمائوں کو یقینی طورپر نظر بند کر دے گی، جس کے بعد لانگ مارچ کا جنون بہت حد تک کم ہو سکتا ہے۔ خبروں کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور اپوزیشن رہنما علامہ ناصر عباس کے درمیان ہونے والی ملاقات اور بات چیت سے یہ کہنا غلط نہیں ہوگا اگر حکومت پی ٹی آئی رہنمائوں کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت دے دے تو احتجاج موخر ہو سکتا ہے، اس بات چیت میں وفاقی وزیر داخلہ نے احتجاج ختم ہونے کی صورت میں دوبارہ نہ ہونے کی خواہش ظاہر کی۔ جہاں تک بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا معاملہ ہے، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے منصب سنبھالتے ہی وزیراعظم شہباز شریف سے فون پر عمران خان سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی تھی، تو وزیراعظم نے انہیں کہا تھا وہ پوچھ کر بتائیں گے۔ وزیراعظم کے اس جواب سے یہ بات واضح ہوگئی تھی کہ بانی سے ملاقات کی اجازت کا اختیار وزیراعظم کی بجائے کسی اور کے پاس ہے۔ ہم یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں اگر حکومت بانی پی ٹی آئی سے ان کی جماعت کے رہنمائوں اور ان کی بہنوں سے ملاقات کا انتظام کر دے تو کون سی قیامت آجائے گی۔ اگر وہ ملاقات کے بعد پریس کانفرنس بھی کر دیں تو کیا ان کے بیانات سے حکومت گر جائے گی؟۔ اس ناچیز کے خیال میں بعض حلقوں نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کو ذاتی انا کا مسئلہ بنا لیا ہے۔ چلیں عمران خان کی بہن عظمیٰ خان نے بھائی سے ملاقات کے بعد کوئی بیان دے دیا تھا تو کون سا آسمان گر گیا تھا۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے عمران خان کی ہمشیرہ کو ملاقات سے قبل یہ بات واضح کر دی گئی تھی وہ باہر آکر کوئی بیان نہیں دیں گی، لیکن کیا کیا جائے اگر بانی پی ٹی آئی کی بہن نے کوئی بات کہہ بھی دی تھی تو اسے اتنا سیریس نہیں لینا چاہیے تھا۔
ہم پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کے احتجاج کی بات کر رہے تھے، جماعت اسلامی احتجاج سے قبل کوئی غیر ضروری بیانات دینے سے گریز کرتی ہے، جبکہ پی ٹی آئی رہنما سومنات کا مندر ڈھانے کی بات کریں گے تو قانون یقینی طور پر حرکت میں آئے گا۔ پی ٹی آئی رہنمائوں کو سانحہ ڈی چوک میں پیش آنے والے واقعات کو مدنظر رکھنا چاہیے، جن گھرانوں کے چشم و چراغ اس جہان سے چلے گئے ان پر کیا گزر رہی ہوگی۔ بلاشبہ ایک بھائی سے بہنوں کی محبت لازوال ہوتی ہے، بانی پی ٹی آئی کی بہنوں نے پارٹی رہنمائوں سے زیادہ عمران خان کی رہائی کے لئے جدوجہد کی، لیکن یہ بات ذہن میں رکھنی ضروری ہے ریاست سے ٹکرائو کسی کے لئے فائدہ مند نہیں ہوتا، بلکہ سیاسی رہنمائوں کی رہائی کے لئے قانونی جدوجہد واحد راستہ ہے۔ سوال ہے اگر پی ٹی آئی کا لانگ مارچ اسلام آباد آ بھی جائے تو کیا حکومت گر جائے گی؟۔ ہمیں یاد ہے بانی پی ٹی آئی نے نواز شریف حکومت کے خلاف وفاقی دارالحکومت میں طویل ترین دھرنا دیا تھا تو کیا حکومت گر گئی تھی؟۔ قارئین کو یاد ہوگا ہم نے اپنے گزشتہ کالموں اور وی لاگ میں واضح طور پر کہہ دیا تھا جے یو آئی لانگ مارچ میں پی ٹی آئی کا ساتھ نہیں دے گی۔
ہمارا ملک معاشی طور پر پہلے بہت کمزور ہے، سرمایہ کاری نام کی کوئی چیز نہیں، سیاسی افراتفری سے سرمایہ کار ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں، ایسے میں سیاست دانوں خصوصا اپوزیشن رہنمائوں کو بجائے اقتدار کی فکر کے ملک کی فکر ہونی چاہیے۔ اگر ملک ہے تو اقتدار بھی ہوگا، اگر ملک کو اللہ نہ کرے کچھ ہو جائے تو سیاست دان کیا کریں گے۔ بلوچستان اور کے پی کے حالات پر نظر رکھیں، وہاں کیا ہور ہا ہے۔ فورسز کے جوانوں اور افسروں کی آئے روز شہادتیں اس بات کی غماز ہیں دونوں صوبوں میں سب اچھا نہیں ہے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں پی ٹی آئی رہنمائوں کو جذبات کی لہر سے نکل کر سیاسی سرگرمیاں جاری رکھنی چاہئیں ۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو صوبے کے مسائل پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے۔ یہ کیا بات ہے ٹرکوں اور گاڑیوں پر لکھ دیا جائے وہ واپس نہیں جائیں گے۔ پاکستان کی تاریخ کا کوئی ایک واقعہ مجھے بتا دیا جائے جس میں کسی سیاسی جماعت کے لانگ مارچ اور دھرنے سے جیلوں میں بند لوگوں کو رہائی ملی ہو۔ ذوالفقار علی بھٹو نے شیخ مجیب الرحمان، ولی خان، سردار شیر باز مزاری اور سردار عطاء اللہ مینگل کو حیدر آباد ٹریبونل میں قید کیا تو حکومت ختم ہوتے ہی جنرل ضیاء الحق نے تمام اسیروں کو رہا کر دیا تھا۔ پی ٹی آئی رہنمائوں اور خاص طور پر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو جوش کی بجائے ہوش سے کام لینے کی اشد ضرورت ہے۔ پی ٹی آئی میں معروف ترین قانون دانوں کی اچھی خاصی ٹیم ہے، انہیں بانی پی ٹی آئی کی رہائی اور مقدمات کے خاتمے کے لئے عدالتوں سے رجوع کرنا چاہیے نہ کہ سڑکوں پر آنے سے عمران خان کو رہائی ملے گی۔





