CM RizwanColumn

پولیس کی مجرمانہ غفلتیں

جگائے گا کون؟
پولیس کی مجرمانہ غفلتیں
تحریر سی ایم رضوان
ملک کے طول و عرض میں 79ویں یوم آزادی کا جشن منایا جا رہا ہے۔ افسوس کہ وطن عزیز کی سابقہ تمام تاریخ کی طرح ان دنوں میں بھی سندھ کے دارالحکومت کراچی میں پولیس کی نااہلی اور بدعنوانی کے چرچے عروج پر ہیں اور ہم سوال کناں ہیں کہ ہم ایک جمہوری ملک میں رہ رہے ہیں یا پولیس سٹیٹ میں۔ نوجوان تاجر میر رضا کا قتل کراچی شہر میں تاجر برادری کے عدم تحفظ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناکامی اور تفتیشی نظام کے سقم پر ایک سوالیہ نشان لگا رہا ہے۔ اس واقعے نے نہ صرف کراچی میں سٹریٹ کرائم اور ٹارگٹڈ کارروائیوں کی سنگینی کو نمایاں کیا ہے بلکہ پولیس کے روایتی رویے کو بھی بے نقاب کیا ہے۔ اب تک کی پوسٹ مارٹم رپورٹس سے یہ حقائق سامنے آئے ہیں کہ میر رضا کو کراچی میں مسلح افراد کی جانب سے نشانہ بنایا گیا۔ ابتدائی اطلاعات و شواہد کے مطابق حملہ آوروں نے ڈکیتی کی کوشش کے دوران یا ٹارگٹڈ طریقے سے ان پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر یا ہسپتال منتقل کیے جانے کے دوران دم توڑ گئے۔ اس واقعے کے فوراً بعد یہ بات واضح نہیں ہو سکی تھی کہ یہ سٹریٹ کرائم کا نتیجہ تھا یا اس کے پیچھے کوئی ذاتی و کاروباری رنجش تھی۔ واقعے کے بعد کراچی کی تاجر برادری میں شدید اشتعال پھیلا، احتجاجی مظاہرے کیے گئے، پولیس نے واقعے کی ایف آئی آر درج کر کے جائے وقوعہ سے سی سی ٹی وی فوٹیج اور جیو فینسنگ کا ڈیٹا جمع کیا۔ چند مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر تفتیش کا دعویٰ کیا۔ تاہم مرکزی ملزمان اور واقعے کے پسِ پردہ کار فرما اصل محرکات کو مکمل طور پر سامنے نہ لایا جا سکا ہے۔ مقتول کے لواحقین اور تاجر تنظیمیں پولیس کی اب تک کی کارکردگی سے غیر مطمئن ہیں اور کیس کی غیر جانبدارانہ و شفاف تفتیش کا مسلسل مطالبہ کر رہی ہیں۔ تکلیف دہ امر یہ ہے کہ اس کیس میں پولیس کا کردار روزِ اول سے ہی تنقید کی زد میں رہا ہے کہ اطلاع ملنے کے باوجود پولیس جائے وقوعہ پر تاخیر سے آئی اور ابتدائی اہم شواہد کو سائنسی انداز میں محفوظ نہ کیا تفتیشی عمل کی اس بنیادی کمزوری کے ساتھ ساتھ تفتیش میں لیت و لعل اور روایتی غفلت کا انداز اپنایا گیا اور سائنسی فارنزک اور جدید تفتیشی تقاضوں کو اپنانے کے بجائے تفتیش کا انحصار روایتی اور سطحی طریقوں پر رہا، جس سے ملزمان کو فرار ہونے اور شواہد مٹانے کا موقع ملا۔ اس پر مستزاد یہ کہ ابتدائی مرحلے میں پولیس کی جانب سے واقعے کو محض اتفاقی ڈکیتی قرار دے کر معاملے کو رفع دفع کرنے کی کوشش کی گئی، تاکہ انتظامی ناکامی اور امن و امان کی خراب صورت حال سے نظریں چرائی جا سکیں لیکن حقائق یہ ہیں کہ کراچی پولیس تاجر برادری کو تحفظ دینے میں مسلسل ناکام ہو رہی ہے اور یہاں تاجروں سے بھتہ خوری اور ڈکیتی کی وارداتیں مسلسل جاری ہیں، پولیس کی جانب سے موثر گشت اور جرائم پیشہ عناصر کیخلاف سخت اقدامات کی کمی نے مجرموں کے حوصلے بلند کیے ہیں۔ ان حالات میں میر رضا کا قتل صرف ایک فرد کا قتل نہیں بلکہ کراچی میں امن و امان کی مجموعی صورت حال اور پولیسنگ کے ڈھانچے کی ناکامی کا لہو رنگ عکس ہے جو کہ اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ جب تک پولیس کے نظام میں سیاسی مداخلت کا خاتمہ، تفتیشی شعبے کی جدید بنیادوں پر اصلاح اور عوام کے ساتھ تعاون کا شفاف فریم ورک قائم نہیں کیا جاتا، تب تک شہریوں کا قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اعتماد بحال ہونا دشوار ہے۔ تاہم آخری اطلاعات اس حوالے سے حوصلہ افزا ہیں کہ مقتول میر رضا کا ڈی این اے ٹیسٹ لیا جا رہا ہے۔
جشن آزادی کے ان دنوں میں لاہور پولیس کا ذکر بھی اضطراب اور عدم اطمینان کے تاثر سے خالی نہیں۔ جہاں ٹان شپ پولیس اسٹیشن میں دو لڑکیوں، آمنہ اور انمول، کی مبینہ طور پر پولیس کسٹڈی کے دوران پراسرار موت اور اس سے متعلق وائرل ویڈیوز کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ 4اگست 2026ء کو سہ پہر قریباً 3:11بجے ایک پولیس سب انسپکٹر ان دونوں لڑکیوں کو ٹائون شپ کے علاقے سے تحویل میں لے کر 3:26بجے تھانے پہنچا اور محرر کے حوالے کیا۔ شام 6:03بجے تھانے سے ریسکیو 1122کو اطلاع دی گئی کہ دونوں لڑکیوں کی طبیعت انتہائی خراب ہو چکی ہے۔ ریسکیو ٹیم کے پہنچنے پر ایک لڑکی دم توڑ چکی تھی جبکہ دوسری بے ہوش تھی۔ بعد میں جناح ہسپتال میں دوسری لڑکی کی بھی موت کی تصدیق کر دی گئی۔ مذکورہ تھانے کے سی سی ٹی وی کی وائرل فوٹیج میں دونوں لڑکیاں ( آمنہ اور انمول) بالکل ہوش و حواس میں محرر کے کمرے میں کرسیوں پر بیٹھی اور گفتگو کرتی نظر آتی ہیں۔ ایک اور وائرل ویڈیو میں پولیس اہلکار ان سے سوال جواب کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان ویڈیوز کے وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں یہ سوال اٹھایا گیا کہ تھانے لائے جانے کے وقت نارمل اور ہوش میں نظر آنے والی لڑکیاں محض 2سے 3گھنٹوں کے اندر کیسے فوت ہو گئیں۔ مقتولین کے لواحقین نے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں لڑکیوں کی موت پولیس تحویل میں تشدد کے باعث ہوئی جبکہ ایس ایس پی انویسٹی گیشن نے تشدد کے الزامات کو رد کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ دونوں لڑکیاں مبینہ طور پر منشیات کی عادی تھیں اور پولیس تحویل میں آنے سے پہلے استعمال کی گئی شدید منشیات کے اثر کے باعث بے ہوش ہو کر جاں بحق ہوئیں۔ دوسری طرف واقعے کی سنگینی اور عوام و ورثا کے احتجاج کے بعد ضابطہ فوجداری سی آر پی سی کی دفعہ 176کے تحت جوڈیشل مجسٹریٹ کی جانب سے جوڈیشل انکوائری کا حکم دیا گیا ہے۔ تحقیقاتی ٹیم تھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیجز، میڈیکل و پوسٹ مارٹم رپورٹس، اور 3:11سے 6:00بجے کے درمیانی وقت کے تمام شواہد کا جائزہ لے رہی ہے۔
اس واقعے کو بھی قانونی، انتظامی اور اخلاقی، تینوں بنیادوں پر پولیس کی شدید نااہلی، غفلت اور بد انتظامی قرار دیا جا سکتا ہے، قطع نظر اس کے کہ موت کی حتمی وجہ کیا سامنے آتی ہے۔ سردست قانونی کارروائی کا نہ ہونا، ڈیوٹی لاگ کی عدم موجودگی اور بغیر اندراج ان خواتین کو تحویل میں رکھنا بڑے سوالات کو جنم دیتا ہے۔ اگر پولیس کا موقف تسلیم بھی کر لیا جائے کہ لڑکیاں نشے کی حالت میں تھیں، تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انہیں کس قانون کے تحت اور بغیر کسی باقاعدہ لیڈی کسٹڈی، ایف آئی آر یا روزنامچے میں اندراج کے گھنٹوں تھانے میں بٹھائے رکھا گیا۔ خواتین کو تحویل میں لیتے وقت اور تھانے میں رکھنے کے دوران قانون کے مطابق لیڈی پولیس اہلکار کا ہونا لازمی ہے، جس کی خلاف ورزی کی گئی۔ دوسرا یہ کہ اگر وہ دونوں لڑکیاں منشیات کی زیادہ مقدار یا کسی طبی مسئلے کا شکار تھیں، تو تھانے لاتے ہی ان کا فوری طبی معائنہ کیوں نہیں کروایا گیا۔ ویڈیوز کے مطابق ہوش و حواس میں دکھائی دینے والی لڑکیوں کی حالت بگڑنے کے باوجود تقریباً ڈھائی سے تین گھنٹے تک انہیں ہسپتال منتقل کرنے کی بجائے تھانے کے کمرے میں بٹھائے رکھنا پولیس کی واضح نااہلی اور بے حسی کو ظاہر کرتا ہے۔ آئین اور قانونی ضوابط کے تحت، جب بھی کوئی شہری پولیس کی تحویل میں آتا ہے تو اس کی جان و مال اور صحت کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ پولیس افسران اور تھانے کے عملے پر ہوتی ہے۔ اگر کوئی شخص پولیس کی موجودگی میں زہر، منشیات یا تشدد سے فوت ہوتا ہے، تو یہ تحویل میں مجرمانہ غفلت کا زمرہ بنتا ہے۔ تھانے کے اندر سے سی سی ٹی وی یا موبائل فوٹیج کا لیک ہونا اور سوشل میڈیا پر وائرل ہونا بھی تھانے کی انتظامی بد نظمی کا ثبوت، پرائیویسی اور قانونی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ اگرچہ موت کی اصل طبی وجہ ( تشدد یا ڈرگ اوور ڈوز) کی حتمی تصدیق پوسٹ مارٹم اور فارنزک رپورٹ کے بعد ہی ہو گی، لیکن کسی شہری کو غیر قانونی طور پر تحویل میں رکھنا، طبی امداد فراہم نہ کرنا اور پولیس کی موجودگی میں ان کا فوت ہو جانا بذات خود پولیس نظام کی ناکامی اور بدانتظامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
کسی ملک کو بھی ’’ پولیس سٹیٹ‘‘ تب قرار دیا جاتا ہے جب وہاں ایک ایسا نظام رائج ہو جہاں ریاست کی تمام تر طاقت پولیس یا سکیورٹی اداروں کے ہاتھ میں ہو اور وہ بغیر کسی قانون، عدالت یا عوامی جواب دہی کے شہریوں پر بے لگام حکومت کریں۔ کراچی میں تاجر میر رضا کے قتل جیسے واقعات، پولیس کی نااہلی، کرپشن اور قانون کی عملداری کی شدید کمزوری کو ظاہر کرتے ہیں، گو کہ پاکستان میں آزاد عدلیہ کا وجود ہے۔ پولیس کے اختیارات کو چیلنج کرنے اور شہریوں کے بنیادی حقوق کی تحفظ کے لئے ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ موجود ہیں جو اکثر پولیس گردی یا غفلت پر نوٹسز لیتی ہیں مگر بعض اوقات ان کی عملداری مشکوک اور معدوم ہو جاتی ہے۔ وطن عزیز میں ایک فعال میڈیا، سوشل میڈیا اور سول سوسائٹی بھی موجود ہے جو میر رضا جیسے کیسز کو اٹھاتی ہے اور پولیس پر عوامی و اخلاقی دبا ڈالتی ہے لیکن اداروں کی روایتی غفلت اور بدعنوانی پھر بھی کام دکھا جاتی ہے۔ آئینِ پاکستان شہریوں کو بنیادی حقوق کی ضمانت دیتا ہے اور پولیس قانوناً آئین اور پارلیمان کے تابع ہے لیکن یہاں ریمنڈ ڈیوس جیسے مجرمان کی پذیرائی بھی اکثر دیکھنے کو ملتی ہے۔ اگرچہ پاکستان کا آئینی ڈھانچہ جمہوریت پر مبنی ہے، لیکن روزمرہ زندگی میں شہریوں کا جو واسطہ پولیس سے پڑتا ہے، اس میں پولیس سٹیٹ کی کئی خطرناک جھلکیاں نظر آتی ہیں۔ میر رضا کیس کی طرح اکثر واقعات میں پولیس خود مدعی، تفتیش کار اور بعض اوقات سائل بن جاتی ہے۔ جب ادارے کے اندر سزا و جزا کا موثر نظام نہ ہو تو پولیس خود کو قانون سے بالاتر سمجھنے لگتی ہے۔ ایک عام شہری کے لئے پولیس کا رویہ جارحانہ اور بے حس ہوتا ہے، جبکہ بااثر اور طاقتور طبقات کے سامنے پولیس اکثر بے بس دکھائی دیتی ہے۔ یہ دوہرا معیار ایک جابرانہ نظام کی نشانی ہے۔ برطانوی دور کا بنایا ہوا 1861ء کا نوآبادیاتی پولیسنگ نظام بنیادی طور پر عوام کی خدمت کے لئے نہیں بلکہ ’’ عوام کو قابو میں رکھنے ‘‘ اور حکومت وقت کے سیاسی مقاصد پورے کرنے کے لئے بنایا گیا تھا۔ وقت کے ساتھ اصلاحات نہ ہونے کی وجہ سے یہ رویہ آج بھی قائم ہے۔ دورانِ حراست تشدد اور شہریوں کو اٹھا لینا ایسے افعال ہیں جو جمہوریت کے بجائے ایک جابرانہ یا پولیس سٹیٹ کے طرزِ عمل سے مشابہت رکھتے ہیں۔ یہاں پولیس اتنی طاقتور ہے کہ عام شہری کو انصاف کے لئے تڑپا سکتی ہے۔ لیکن یہاں پولیس اتنی ناکام اور بے بس بھی ہے کہ مجرموں کو پکڑنے اور میر رضا جیسے تاجروں کو تحفظ دینے میں ناکام رہتی ہے۔ جب تک پولیس کی سیاسی وابستگی ختم، تفتیشی شعبہ جدید اور آزاد، اور ضابطہ اخلاق کی سخت پاسداری نہیں کروائی جاتی، تب تک عام شہری کے لئے ایک جمہوری سٹیٹ یا ایک پولیس سٹیٹ کے درمیان کا فرق صرف کاغذات تک ہی محدود رہے گا۔

جواب دیں

Back to top button