قرآن اور تاریخ عالم
قرآن اور تاریخ عالم
شہر خواب
صفدر علی حیدری
ڈاکٹر علی شریعتی کہتے ہیں: ’’ جب ہم قرآن پر نظر دوڑاتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ علومِ انسانی میں سب سے زیادہ اس کی توجہ تاریخ پر ہوتی ہے‘‘۔
یہ سچ ہے کہ قرآن تاریخ کی کتاب نہیں، لیکن تاریخ اس کے بیان کا ایک اہم وسیلہ ہے۔ وہ ماضی کے واقعات کو محض محفوظ کرنے کے لیے بیان نہیں کرتا بلکہ ان کے ذریعے انسان کو اپنے حال کا جائزہ لینے اور مستقبل کے بارے میں سوچنے کی دعوت دیتا ہے۔
قرآن کسی مورخ کی طرح تاریخ، مہینے، سال اور بادشاہوں کی مکمل تفصیل نہیں دیتا۔ اس کا اصل مقصد یہ بتانا ہے کہ کیا ہوا، کیوں ہوا اور اس سے انسان کو کیا سبق حاصل کرنا چاہیے۔
خود قرآن فرماتا ہے: ’’ بے شک ان کے قصوں میں عقل والوں کے لیے عبرت ہے‘‘۔
غور کیجیے، قرآن قصوں کا مقصد عبرت قرار دیتا ہے۔ وہ انسان کو ماضی میں لے جاتا ہے تاکہ وہ ماضی کے آئینے میں اپنے آپ کو دیکھ سکے۔
قرآن کئی مقامات پر کرداروں اور قوموں کے ناموں سے زیادہ ان کے اعمال اور رویوں کو اہمیت دیتا ہے۔
’’ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے رب نے عاد کے ساتھ کیا کیا، ارم جو ستونوں والی تھی‘‘۔
یہاں یہ بتانا مقصود ہے کہ ایک طاقتور قوم اپنے غرور اور سرکشی کے باعث کس طرح برے انجام کو پہنچی ۔
فرعون کا نام قرآن میں آتا ہے، لیکن یہاں اس کا کردار اجاگر کیا جاتا ہے ۔
’’ بے شک فرعون نے زمین میں سرکشی کی اور اس کے باشندوں کو گروہوں میں تقسیم کر دیا، ان میں سے ایک گروہ کو کمزور کرتا تھا‘‘ ۔
قرآن انسان کو کائنات کے آغاز تک لے جاتا ہے۔ آسمان و زمین کی تخلیق، رات اور دن کے نظام پر غور کی دعوت دے کر وہ انسان کو احساس دلاتا ہے کہ یہ کائنات بے مقصد نہیں۔
پھر قرآن انسان کے آغاز کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ آدم علیہ السلام کا واقعہ انسانی تاریخ کے بنیادی مرحلے کی نمائندگی کرتا ہے۔ آدمٌ کو علم عطا کیا گیا اور اختیار دیا گیا۔ یہی اختیار انسان کی عظمت بھی ہے اور آزمائش بھی۔ آدمٌ کے واقعے کے ساتھ ابلیس کا کردار سامنے آتا ہے۔ اس نے حکم کے مقابلے میں تکبر کیا اور سجدے سے انکار کر دیا۔ یوں انسانی تاریخ کے آغاز ہی میں ایک بنیادی اخلاقی مسئلہ سامنے آجاتا ہے: تکبر۔
آدمٌ کے بعد انسانی نسل پھیلتی ہے، معاشرے تشکیل پاتے ہیں اور مختلف قومیں وجود میں آتی ہیں۔ قرآن ان قوموں کے حالات بیان کرتا ہے، مگر مقصد صرف ان کا تاریخی تعارف نہیں بلکہ انسانی رویوں کی شناخت ہے۔
قومِ نوح کو حق کی دعوت دی گئی، مگر انکار بڑھتا گیا اور بالآخر طوفان آیا۔ عاد اور ثمود بھی طاقت اور وسائل رکھنے والی قومیں تھیں۔ انہوں نے بستیاں آباد کیں اور اپنے زمانے میں ترقی کی، لیکن ظاہری عظمت انہیں اخلاقی زوال سے نہ بچا سکی۔
یہاں قرآن تاریخ کا ایک بنیادی اصول ہمارے سامنے رکھتا ہے: تہذیب کی بلندی اخلاق کی بلندی کی ضمانت نہیں۔ ایک معاشرہ عمارتوں، وسائل اور علم و فن میں ترقی کر سکتا ہے، لیکن اگر اس کے اندر ظلم، تکبر اور ناانصافی جڑ پکڑ جائے تو اس کی ظاہری عظمت اسے تباہی سے نہیں بچا سکتی۔
فرعون کے پاس اقتدار، لشکر، دولت اور حکومت کا پورا نظام تھا، لیکن طاقت نے اسے عاجزی نہیں دی بلکہ غرور دیا۔ موسیٰ ٌ اس کے سامنے حق کی آواز بن کر آئے، مگر فرعون نے اپنی طاقت کو حق سمجھ لیا۔ بالآخر وہی اقتدار اسے نہ بچا سکا جس پر اسے سب سے زیادہ ناز تھا۔
یہاں قرآن ہمیں سمجھاتا ہے کہ اقتدار مستقل نہیں ہوتا۔ تخت بدلتے ہیں، سلطنتیں ختم ہوتی ہیں، لیکن ظلم اور عدل کے اصول اپنی جگہ قائم رہتے ہیں۔ قرآن جب تاریخ بیان کرتا ہے تو ایک عام مورخ سے آگے بڑھ جاتا ہے۔ مورخ پوچھتا ہے کیا ہوا؟۔ قرآن اس کے ساتھ یہ سوال بھی اٹھاتا ہے: کیوں ہوا؟۔ یہی قرآنی تاریخ کی اصل روح ہے۔
اگر کوئی شخص کسی قدیم شہر کے کھنڈرات دیکھ کر صرف یہ کہے کہ یہاں کبھی ایک عظیم تہذیب آباد تھی تو اس نے تاریخ کا صرف ظاہری حصہ دیکھا۔ قرآن اسے آگے لے جاتا ہے۔ وہ پوچھتا ہے: یہ تہذیب کیسے بنی؟، طاقتور لوگوں کا رویہ کیا تھا؟، کمزوروں کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟، عدل غالب تھا یا ظلم؟۔
قدیم تہذیبوں کے کھنڈرات انسان سے خاموش زبان میں گفتگو کرتے ہیں۔ جن لوگوں نے عظیم عمارتیں بنائیں، انہیں یقین تھا کہ ان کی دنیا ہمیشہ قائم رہے گی، مگر وقت نے ثابت کر دیا کہ انسان کی بنائی ہوئی کوئی چیز ہمیشہ قائم نہیں رہتی۔
محل باقی رہ سکتا ہے، بادشاہ نہیں۔ شہر باقی رہ سکتا ہے، باشندے نہیں۔ عمارت باقی رہ سکتی ہے، مگر تہذیب مٹ سکتی ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں قرآن کی تاریخ ہمارے موجودہ زمانے سے جڑ جاتی ہے۔
قرآن میں فرعون صرف ایک قدیم بادشاہ نہیں بلکہ ہر اس ذہنیت کی علامت ہے جو اقتدار حاصل کرکے خود کو اخلاق اور قانون سے بالاتر سمجھنے لگتی ہے۔ عاد اور ثمود میں ہر وہ معاشرہ اپنا عکس دیکھ سکتا ہے جو طاقت، دولت اور ترقی کو زندگی کا آخری مقصد سمجھ لیتا ہے۔ قومِ نوح میں ہر وہ انسان اپنے لیے تنبیہ دیکھ سکتا ہے جو حق واضح ہوجانے کے باوجود مسلسل انکار کرتا رہے۔
اسی لیے قرآن کی تاریخ ماضی میں بند نہیں رہتی۔ وہ ہر دور میں دوبارہ زندہ ہوجاتی ہے اور انسان سے سوال کرتی ہے: تمہیں طاقت ملے تو تم کیا کرو گے؟، دولت ملے تو تمہارا رویہ کیا ہوگا؟، اقتدار ملے تو کیا تم انصاف کرو گے؟، علم ملے تو کیا تم عاجزی اختیار کرو گے؟۔
قرآن کا تاریخی شعور ہمیں ماضی پر صرف فخر کرنا نہیں سکھاتا بلکہ اپنے حال کا احتساب بھی سکھاتا ہے۔
ہم اکثر تاریخ کو فاتحین، بادشاہوں، جنگوں اور محلات کے ذریعے یاد کرتے ہیں، لیکن قرآن ہمیں تاریخ کا دوسرا رخ دکھاتا ہے۔ وہ کمزوروں، مظلوموں، متکبروں اور ظالموں کے انجام کو بھی سامنے رکھتا ہے۔
اس اعتبار سے تاریخ کا سب سے بڑا فائدہ معلومات میں اضافہ نہیں بلکہ شعور کی بیداری ہے۔
ماضی گزر گیا، لیکن اس کے اصول نہیں گزرے۔ ظلم آج بھی ظلم ہے۔ تکبر آج بھی انسان کو گراتا ہے۔ ناانصافی آج بھی معاشروں کو اندر سے کھوکھلا کرتی ہے اور اقتدار کا غرور آج بھی تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔
الغرض قرآن ہمیں ماضی میں لے جاتا ہے تاکہ ہم حال میں خود کو پہچان سکیں۔ وہ کھنڈرات دکھاتا ہے تاکہ ہم اپنی عمارتوں کے انجام کو سمجھیں۔ وہ طاقتور قوموں کا زوال دکھاتا ہے تاکہ ہم اپنی طاقت کے نشے سے بچیں۔ وہ ظالموں کا انجام سناتا ہے تاکہ ہم ظلم سے دور رہیں۔
انسان کی اصل عظمت دولت، اقتدار اور عمارتوں میں نہیں بلکہ حق، عدل، کردار اور بندگی میں ہے۔
تاریخ ہمیں صرف یہ نہیں بتاتی کہ کون آیا اور کون چلا گیا۔ قرآن اس سے بڑا سوال اٹھاتا ہے:
وہ کیوں آئے، کیسے جئے، کیا بنے اور کیوں مٹ گئے؟۔
اور پھر یہی سوال ہمارے سامنے رکھ دیتا ہے: اگر ہم نے ان کی غلطیاں دہرائیں تو ہمارا انجام ان سے مختلف کیسے ہو گا؟ ۔ قرآن کا تاریخی شعور ہمیں بتاتا ہے کہ تاریخ صرف گزرے ہوئے زمانوں کی داستان نہیں بلکہ انسان کے کردار کا آئینہ ہے۔ قوموں کا عروج و زوال ہمیں خبردار کرتا ہے کہ طاقت، دولت اور اقتدار عارضی ہیں، جب کہ عدل، کردار اور حق کی بنیادیں دیرپا ہوتی ہیں۔ قرآن ماضی کے واقعات اس لیے سناتا ہے کہ ہم اپنے حال کا احتساب کریں اور اپنے مستقبل کو بہتر بنائیں۔
مگر حکیم اسلام مولا علیؓ فرماتے ہیں: ’’ عبرت کے مقامات بہت ہیں، مگر عبرت حاصل کرنے والے بہت کم ہیں‘‘۔




