یہ کیسی ترقی ہے

یہ کیسی ترقی ہے
شکیل امجد صادق
ایک ایسا ملک جہاں سرکاری ہسپتالوں کے دروازوں پر بیمار آدمی اپنی سانسوں کی خیر مناتا ہو، جہاں سرکاری سکولوں میں علم کے چراغ بجھتے جا رہے ہوں، جہاں یونیورسٹیاں سیاسی اکھاڑے اور بیروزگاری کی فیکٹریاں بن چکی ہوں، جہاں سٹیل ملز کے بھٹوں میں آگ نہیں بلکہ کرپشن کی راکھ پڑی ہو، جہاں پی آئی اے کی پروازوں سے زیادہ اس کے خساروں کی خبریں اڑتی ہوں، جہاں ریلوے کی پٹریوں پر ترقی نہیں بلکہ حادثے دوڑتے ہوں، جہاں ٹیکسٹائل، زراعت، بجلی، سی این جی اور پٹرول سب عوام کی پہنچ سے دور ہوتے جا رہے ہوں، وہاں حکمران پھر بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ ملک ترقی کر رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر یہ ترقی کہاں ہو رہی ہے؟ کس کے لیے ہو رہی ہے؟ اور کس قیمت پر ہو رہی ہے؟ یہ کیسا نظام ہے جس میں غریب کے بچوں کے لیے سکول بند اور امیروں کے کتوں کے لیے بیرونِ ملک علاج کے دروازے کھلی ہیں؟ ایک طرف عوام دو وقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں اور دوسری طرف حکمرانوں کے دستر خوانوں پر قوم کے خون سے خریدی گئی نعمتیں سجی ہوتی ہیں۔ قوم کو کفایت شعاری کے لیکچر دینے والے خود درجنوں گاڑیوں کے پروٹوکول میں سفر کرتے ہیں۔ عوام کو بجلی بچانے کا درس دینے والی ایوانوں کو دن رات جگمگاتے رکھتے ہیں۔ پٹرول مہنگا ہو تو عوام موٹر سائیکل کھڑی کر دیتے ہیں مگر حکمرانوں کے جہاز پھر بھی اڑتے رہتے ہیں۔ سرکاری ہسپتال ختم ہونے کا مطلب صرف ایک عمارت کا بند ہونا نہیں بلکہ غریب کے علاج کے حق کا قتل ہے۔ وہ غریب جو نجی ہسپتال کے ایک ٹیسٹ کی قیمت سن کر ہی آدھا مر جاتا ہے، اس کے لیے سرکاری ہسپتال آخری امید ہوتے ہیں۔ مگر افسوس! یہاں حکمرانوں نے علاج کو بھی کاروبار بنا دیا۔ دوائی مافیا الگ، ہسپتال مافیا الگ، اور ڈاکٹر تک سفارش اور رشوت کے شکنجے میں جکڑے ہوئے۔ مریض وارڈوں میں تڑپتے رہتے ہیں اور وزراء پریس کانفرنسوں میں کامیابی کے دعوے کرتے رہتے ہیں۔
سرکاری سکول ختم ہونے کا مطلب قوم کے مستقبل کو اندھیروں میں دھکیل دینا ہے۔ تعلیم کسی بھی قوم کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے مگر ہمارے ہاں تعلیم کو سب سے پہلے قربان کیا جاتا ہے۔ غریب کا بچہ سرکاری سکول میں ٹوٹی کرسی، بغیر پنکھے اور بغیر استاد کے بیٹھا رہتا ہے جبکہ اشرافیہ کے بچے بیرونِ ملک یونیورسٹیوں میں قوم کا سرمایہ اڑاتے ہیں۔ یہ دو نظامِ تعلیم دراصل دو قومیں پیدا کر رہے ہیں؛ ایک حکمرانی کے لیے اور دوسری غلامی کے لیے۔
جب یونیورسٹیاں تباہ ہوتی ہیں تو صرف عمارتیں ویران نہیں ہوتیں بلکہ قوم کا شعور مر جاتا ہے۔ نوجوان ڈگریاں ہاتھ میں لیے دربدر پھرتے ہیں۔ میرٹ دفن ہو چکا ہے، سفارش زندہ ہے۔ قابلیت بے وقعت اور تعلقات قیمتی ہو چکے ہیں۔ نوجوان کے پاس یا تو ملک چھوڑنے کا راستہ ہے یا پھر مایوسی کا۔ یہی وجہ ہے کہ ذہین دماغ اس ملک سے بھاگ رہے ہیں کیونکہ یہاں ان کے خوابوں کی کوئی قیمت نہیں۔ سٹیل ملز، ریلوے، پی آئی اے اور قومی ادارے صرف ادارے نہیں تھے بلکہ ریاست کی معیشت کی بنیاد تھے۔ مگر یہاں ہر حکومت نے ان اداروں کو اپنی جاگیر سمجھ کر لوٹا۔ بھرتیاں میرٹ پر نہیں بلکہ سیاسی وفاداری پر ہوئیں۔ خزانے عوام کے لیے خالی اور حکمرانوں کے لیے بھرے رہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ قومی ادارے خسارے میں گئے اور پھر انہی حکمرانوں نے کہا کہ یہ ادارے قوم پر بوجھ ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ادارے بوجھ بن گئے مگر حکمران کبھی بوجھ نہیں بنے۔
زراعت تباہ ہونے کا مطلب ہے بھوک کا پھیل جانا۔ کسان کھاد، بیج، پانی اور بجلی کے بحران میں پس گیا۔ جس ملک کی معیشت کبھی زراعت پر کھڑی تھی آج وہی ملک آٹا درآمد کرتا ہے۔ کسان خودکشی کر رہا ہے اور حکمران زرعی کانفرنسوں میں تصویریں بنوا رہے ہیں۔ بجلی مہنگی، گیس ناپید، سی این جی بند اور پٹرول عوام کی پہنچ سے باہر ہو چکا ہے۔ ایک مزدور آدھی کمائی صرف سفر پر خرچ کر دیتا ہے۔ یہ کون سی ترقی ہے جس میں انسان جیتے جی مر رہا ہے؟
اصل مسئلہ صرف نااہلی نہیں بلکہ بے حسی ہے۔ حکمران عوام کے مسائل محسوس ہی نہیں کرتے کیونکہ ان کے بچے کبھی سرکاری سکول نہیں گئے، ان کی مائیں کبھی سرکاری ہسپتال کی لائن میں نہیں لگیں، ان کے گھروں کے چولہے کبھی گیس بند ہونے سے ٹھنڈے نہیں ہوئے۔ انہیں کیا معلوم کہ بجلی کا بل بھرنے کے لیے ایک غریب ماں اپنے زیور بیچ دیتی ہے؟ انہیں کیا خبر کہ نوجوان نوکری نہ ملنے پر کس اذیت سے گزرتا ہے؟
یہ ملک وسائل کی کمی کا شکار نہیں بلکہ دیانت کی کمی کا شکار ہے۔ یہاں مسئلہ خزانے کا نہیں، نیت کا ہے۔ قوم ٹیکس دے، قربانی دے، صبر کرے، مگر بدلے میں اسے کیا ملتا ہے؟ مہنگائی، بے روزگاری، ذلت اور جھوٹے وعدے۔ ہر حکومت آتی ہے اور پچھلی حکومت کو چور کہتی ہے، پھر خود اس سے بڑے کارنامے دکھا دیتی ہے۔ عوام صرف نعروں کے درمیان پس رہی ہے۔ اگر یہی حالات رہے تو پھر ترقی کے خواب صرف اشتہارات میں نظر آئیں گے۔ قومیں سڑکوں، پلوں اور بلند عمارتوں سے نہیں بلکہ تعلیم، انصاف، صحت اور دیانت سے ترقی کرتی ہیں۔ جب ریاست غریب کے لیے ماں بننے کے بجائے سوتیلی ماں بن جائے تو پھر وہاں نفرت، مایوسی اور انتشار جنم لیتا ہے۔
وقت آ گیا ہے کہ قوم سوال کرے۔ یہ پوچھے کہ آخر کب تک؟ کب تک عوام قربانی دیتی رہے گی اور اشرافیہ عیاشی کرتی رہے گی؟ کب تک غریب کا بچہ اندھیرے میں اور امیر کا بچہ روشنی میں رہے گا؟ کب تک ادارے تباہ اور محلات آباد رہیں گے؟ اگر ریاست نے اپنی ترجیحات درست نہ کیں تو تاریخ گواہ ہے کہ قومیں صرف جنگوں سے نہیں، حکمرانوں کی بے حسی سے بھی تباہ ہو جاتی ہیں۔





