کراچی کو وفاق کے سپرد کرنے کا مطالبہ کیوں؟

کراچی کو وفاق کے سپرد کرنے کا مطالبہ کیوں؟
روشن لعل
ایم کیو ایم کا کوئی لیڈر جونہی کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کا مطالبہ کرتا ہے ، میڈیا پر اسے ایسے کوریج دی جاتی ہے جیسے یہ مطالبہ اچانک پہلی مرتبہ عوام کے سامنے پیش کیا گیا ہو۔ اس قسم کا مطالبہ کرنے والوں کی پیروی میں ہمارا میڈیا اکثر یہ باور کراتا رہتا ہے کہ سندھ میں گزشتہ 18برس سے موجود پیپلز پارٹی کی حکومت نے کراچی کو جان بوجھ اتنا برباد کر دیا ہے کہ اب اس کی بربادی ختم کرنے کا صرف یہی راستہ ہے کہ یہ شہر سندھ سے الگ کر کے وفاق کے سپرد کر دیا جائے۔ جن لوگوں کو گزشتہ اٹھارہ برس سے کراچی کو سندھ سے الگ کر کے وفاق کے سپرد کرنے کا سبق پڑھایا جارہا ہے ان کی اکثریت کو شاید علم نہیں کہ اس سبق کی عمر اٹھارہ برس نہیں بلکہ پاکستان کی کل عمر کے برابر ہے۔
پاکستان بننے کے فوراً بعد سندھ میں قطعاً پیپلز پارٹی نام کی کسی سیاسی جماعت کی حکومت نہیں تھی۔ پاکستان بننے سے پہلے ہی روشنیوں کے شہر کا خطاب پانے والے کراچی میں انگریزوں کے کیے گئے ترقیاتی کاموں کا معیار یہ تھا کہ مشرقی و مغربی پاکستان کا کوئی بھی علاقہ شہری سہولتوں میں اس کے ہم پلہ قرار نہیں دیا جاسکتا تھا۔ قصہ مختصر یہ کہ آج کل لاہور اور کراچی کے ترقیاتی کاموں کا من چاہا موازنہ کرتے ہوئے جن باتوں کا پراپیگنڈا کر کے کراچی کو سندھ سے الگ کرنے یا براہ راست وفاق کے ماتحت کرنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے، قیام پاکستان کے وقت ایسی باتوں کو کراچی کے ساتھ جوڑنا ہرگز ممکن نہیں تھا۔ ان دنوں لاہور، کراچی کے مقابلے میں ایک عام شہر تھا،مگر پھر بھی لاہور کو وفاق کے حوالے کرنے کا مطالبہ کرنے کی بجائے، اپنی مثال آپ کراچی کو حکومت سندھ سے چھین کر براہ راست وفاقی حکومت کے ماتحت کرنے کے لیے سازشوں کے جال بننا شروع کر دیئے گئے تھے۔
انگریزوں نے1839ء میں کراچی پر قبضہ کیا مگر 1843ء میں پورے سندھ کو فتح کر نے کے بعد1847ء میں اسے بمبئی پریذیڈنسی کا حصہ بنا دیا۔ انگریزوں نے سندھ میں پیدا ہونے والی کپاس ، بحری جہازوں کے ذریعے برطانیہ تک پہنچانے کے لیے 1857ء میں کراچی کی بندرگاہ کو فعال کیا ۔ بعد ازاں 1869ء میں نہر سویز کھلنے کے بعد جب تجارتی بحری جہاز بحیرہ روم سے بحیرہ احمر کے راستے بحیرہ عرب میں داخل ہونا شروع ہوئے تو کراچی صرف ہندوستان نہیں بلکہ پوری دنیا کی اہم تجارتی بندرگاہ بن گیا ۔ کراچی سندھ میں تھا اور سندھ بمبئی پریذیڈنسی کا حصہ تھا ، لہذا کراچی بندرگاہ سے حاصل ہونے والا ریونیو، سندھ کی بجائے بمبئی پریڈیڈنسی کے خزانے میں جاتا تھا۔ سندھ کے وسائل بمبئی پریذیڈنسی کے تصرف میں جانے کی مخالفت کرتے ہوئے سندھیوں نے سندھ کو بمبئی سے الگ کرنے کی تحریک چلائی ۔ طویل عرصہ تک چلنے والی اس تحریک کے نتیجے میں انگریزوں نے اپریل 1936ء میں سندھ کو بمبئی سے الگ کیا۔ سندھ کے بمبئی سے الگ ہونے سے قبل کراچی پورٹ سے حاصل کردہ ریونیو کے کچھ حصے کوتو انگریزوں نے شہر میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے استعمال کیا مگر اس ریونیو کا بڑا حصہ اندرون سندھ کی بجائے بمبئی شہر کی ترقی پر خرچ ہوتا رہا۔ سندھیوں نے زبردست تحریک چلا کر جس سپرٹ کے تحت سندھ کو بمبئی سے الگ کروایا تھا شاید اسی سپرٹ کو مد نظر رکھ کر قرارداد لاہور کے ذریعے سندھیوں کو باور کرایا گیا کہ اگر وہ پاکستان کا حصہ بنیں گے تو انہیں صرف کراچی پورٹ جیسے اپنے وسائل کے استعمال پر خود مختاری حاصل نہیں ہو گی بلکہ ان کا اپنی خود مختاری کو آزادی میں تبدیل کرنے کا حق بھی محفوظ رہے گا۔ قرارداد لاہور میں صوبوں کے ساتھ جو وعدے کیے گئے تھے ان کو پاکستان بننے کے فوراً بعد فراموش کر کے سندھیوں کو کراچی سے دستبردار کرنے کی ایسی کوششیں شروع کر دی گئیں جو انگریزوں نے بھی نہیں کی تھیں۔ پاکستان بننے کے بعد جب سندھ کے وزیر اعلیٰ ایوب کھوڑو نے کراچی سے دستبردار ہونے سے انکار کیا تو ان کی حکومت ختم کردی گئی۔ بعد ازاں ، وہ سندھ جو کراچی سے دستبردار ہونے کے لیے تیار نہیں تھا اس کی الگ شناخت ختم کر کے اسے ون یونٹ میں ضم کردیا گیا۔ ون یونٹ کے دوران کراچی عملاً وفاق کے زیر انتظام رہا۔ ون یونٹ کا خاتمہ جولائی 1970ء میں یحییٰ خان کے مارشل لا کے دوران ہوا۔ ون یونٹ کے خاتمہ اور سندھ کی صوبائی حیثیت بحال ہونے کے بعد وہاں 1972ء میں پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہوئی جو ضیاء کے مارشل لا نافذ کرنے سے پہلے جولائی 1977ء تک قائم رہی۔ انگریز دور میں کراچی کے روشنیوں کا شہر ہونے کی جو شناخت بنی تھی وہ ضیاء مارشل لا کے نفاذ سے پہلے تک جاری رہی۔
حقیقت میں کراچی کے روشنیوں کا شہر بنے رہنے اور اندھیروں کا شہر بننے کی طرف گامزن ہونے کی حد جولائی 1977 ء ہے۔ اس ناقابل تردید حقیقت کو فراموش کر کے، کراچی میں اندھیرے چھانے کا تمام تر الزام سندھ میں پیپلز پارٹی کی گزشتہ اٹھارہ سال سے جاری حکومت پر عائد کر دیا جاتا ہے۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کی جاری حکومت کا آغاز 2008 ء میں ہوا۔ 2008ء میں کراچی کی میئر شپ ( نظامت) ایم کیو ایم کے مصطفیٰ کمال کے پاس تھی۔ مصطفیٰ کمال سے قبل، جماعت اسلامی کے نعمت اللہ خان کراچی کے ناظم رہے۔ نعمت اللہ خان کی نظامت کے دوران جنرل ( ر ) پرویز مشرف نے کراچی میں ترقیاتی کاموں کے لیے 29بلین روپے پیکیج کا اعلان کرنے کے بعد 22بلین روپے کے فنڈز فراہم کیے۔ وفاق کی طرف سے کراچی کے لیے فنڈز جاری کرنے کا سلسلہ مصطفیٰ کمال کے ناظم بننے کے بعد بھی جاری رہا۔ مصطفیٰ کمال مشرف کا اقتدار ختم ہونے کے بعد 2010ء تک کراچی کے ناظم رہے ۔ جماعت اسلامی کے نعمت اللہ خان اور ایم کیو ایم کے مصطفیٰ کمال نے کراچی میں اربوں روپے کے فنڈز سے جو کام کروائے ان کا معیار یہ تھا کہ پیپلز پارٹی کا سندھ میں جاری اقتدار شروع ہونے سے ایک برس قبل 2007ء میں ہونے والی بارشوں سے کراچی میں ویسے ہی حالات پیدا ہوئے تھے جو پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں بعد ازاں 2009ء ، 2020ء ، 2022ء اور 2025ء کی شدید بارشوں کے دوران دیکھنے میں آئے ۔ یہ بات کوئی راز نہیں کہ جن لوگوں کی دور نظامت ( میئر شپ) میں کراچی شدید بارشوں کے دوران ڈوبتا رہا وہ بھی پیپلز پارٹی کی کراچی میں میئر شپ کے دوران شہر کے ڈوبنے پر کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کا مطالبہ کرنے میں پیش پیش ہوتے ہیں۔ کراچی میں عوام کے لیے تسلی بخش ترقیاتی کام نہ اس وقت ہوئے، جب نعمت اللہ اور مصطفیٰ کمال نے اس شہر پر اربوں روپے کے فنڈز خرچ کیے اور نہ ہی اب پیپلز پارٹی کے دور حکومت اور مرتضیٰ وہاب کی حالیہ میئر شپ کے دوران ہو رہے ہیں۔
اس وقت مذکورہ حقائق کو مد نظر رکھ کر یہ غور کرنے کی ضرورت ہے کہ کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کے اس مطالبے کی جڑیں اصل میں کہاں پیوستہ ہیں، جس پر صرف ان سیاسی جماعتوں کی حکومتوں کے دوران زور دیا جاتا ہے جو قرارداد لاہور کے مطابق اپنے صوبائی حقوق کے تحفظ کی بات کرتی ہیں۔





